AW Travel and Tour Agency

AW Travel and Tour Agency حج و عمرہ کی ادائیگی اور بیرونِ ممالک کے سفر کے لئے آج ھ?

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے گیارہویں جماعت کی عمرانیات کی کتاب پر قابل اعتراض مواد کی بنیاد پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ایم ڈی پ...
23/11/2022

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے گیارہویں جماعت کی عمرانیات کی کتاب پر قابل اعتراض مواد کی بنیاد پر پابندی عائد کر دی ہے ۔

ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر فاروق منظور کے جاری کردہ بیان کے مطابق انہوں نے گیارہویں جماعت کی عمرانیات کی کتاب پر قابل اعتراض مواد کی بنیاد پر پابندی عائد کرتے ہوئے پبلشر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ پرائیوٹ پبلشر کو این او سی کے بغیر عمرانیات کی کتاب چھاپنے پر شوکاز جاری کیا گیا۔

کتاب میں معاشرتی تبدیلی میں رکاوٹ بننے والے عناصر سے متعلق قابل اعتراض مواد تھا۔ اس کے علاوہ عمرانیات پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ پنجاب بورڈ کی ٹیمیں مارکیٹ سے کتابیں اٹھا رہی ہیں۔

25/08/2022

عمران خان کے ملعون سلمان رشدی کے بارے میں واضح خیالات۔ اتنا واضح موقف صرف ایک سچا مسلمان ہی دے سکتا ہے

11/08/2021

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11 اگست 2021ء - محمد علی ) پاکستانی عازمین کو سمندری راستے سے سعودی عرب بھیجنے کی اطلاعات سے متعلق وفاقی حکومت نے وضاحت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ پاکستان سے بحری جہاز کے ذریعے سعودی عرب حجاج کرام اور عمرہ زائرین کو بھجوانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
دوسری جانب سعودی مملکت نے غیر ملکی زائرین کے لیے ویزوں کا اجراء شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ 2 روز کے دوران سینکڑوں ہزاروں غیر ملکی معتمرین سعودی مملکت پہنچ گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حج و عمرہ ٹور آپریٹرز عمرہ زائرین کا استقبال شروع کر چکے۔ ماہانہ عمرہ زائرین کی گنجائش 20 لاکھ تک بڑھائی جائے گی۔جس کے نتیجے میں سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
عمرہ زائرین کی لاکھوں میں آمد سے ہوٹلز، ریسٹورنٹس، زائرین کی قیام گاہوں اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار چمک اُٹھے گا۔ اس کے علاوہ مدینہ اور مکہ کے بازاروں میں بھی خرید و فروخت بڑھ جائے گی۔ جس سے دکانداروں کی کمائی ماضی کی طرح بہتر ہو جائے گا۔ یکم محرم الحرام سے 130عمرہ کمپنیوں اور اداروں نے عمرہ زائرین کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے عمرہ زائرین کو منظم رکھنے، سماجی فاصلے کی پابندی کروانے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مقامی مردوں اور خواتین پر مشتمل رضاکاروں اور ملازمین کو تربیت دی گئی ہے۔
یہ عملہ عمرہ زائرین کو ایئرپورٹس، ہوٹلز اور دیگر مقامات سے مسجد الحرام تک لانے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ انہیں دیگر مذہبی و سیاحتی مقامات کی سیر بھی کرائی جائے گا۔ موجودہ عمرہ سیزن کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے نزدیکی ہوٹلز میں زائرین کی گنجائش میں 60 فیصد تک مقرر کی گئی ہے۔ تمام ہوٹلز میں صفائی ستھرائی، سینی ٹائزیشن ، سماجی فاصلے کی پابندی کو ممکن بنایا جائے گا اور عمرہ زائرین کا ٹمپریچر چیک کرنے کا معقول انتظام ہوگا۔

14/03/2021

سعودی عرب میں ملازمت کا نیا قانون اتوار سے نافذ العمل ہوگیا ہے جس کے بعد کفالت کا نظام کردیاگیا۔ مملکت میں اس وقت کم وبیش 8.44 ملین غیر ملکی کام کر رہے ہیں جو براہ راست نئے قانون سے مستفید ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے قانون کے نفاذ کے بعدسعودی عرب میں کام کرنیو الے غیر ملکیوں کو مختلف سہولتیں فراہم کی جائیں گی جن میں ملازمت کی تبدیلی کا اختیار بھی شامل ہے۔
نئے قانون میں غیر ملکی کارکن کو ایک کمپنی سے دوسری کمپنی کے یہاں ملازمت کی اجازت کیلیے شرائط مقرر کی گئی ہیں۔غیر ملکی کارکن پہلے آجر کے یہاں سے دوسرے آجر کے ہاں ملازمت کا مجاز ہے بشرطیکہ نیا آجر ملازمت دینے کے لیے تیار ہو۔ غیر ملکی کارکن موجودہ آجر کی منظوری کے بغیر ملازمت کا مصدقہ معاہدہ ختم ہونے پر دوسرے آجر کے پاس ملازمت کا حق دار ہے۔

ملازمت کا نیا نظام سہ نکاتی ہے اور اس کے چار بڑے مقاصد ہیں۔ اس میں آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ، لیبر مارکیٹ میں لچکدار ماحول پیدا کرنا، لیبر مارکیٹ کو مزید پر کشش بنانا اور آجر اور اجیر کے تعلقات کے سلسلے میں ملازمت کے معاہدے کی اہمیت کو منوانا اور اسے مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔وزارت افرادی قوت لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مد نظر رکھ کر نئے قوانین و ضوابط تیار کر رہی ہے۔محنتانوں کا تحفظ، ملازمت کے معاہدوں کی توثیق اور پیشہ وارانہ صحت وسلامتی کا فروغ اسی کا حصہ ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کو جدید بنانے کی طرف قدم ہے۔

04/12/2020
04/12/2020
23/11/2020

پاکستان میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کو وطن سے باہر رہنے والوں کی زندگی خوشنما لگتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں عمومی طور پر یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بھلے تعلیم ہو یا روزگار زیادہ تر نوجوان اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان سے باہر چلے جائیں۔ اگر اس ضمن میں خواتین کی بات کی جائے تو بھی یہ شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
پہلے زیادہ تر وہی خواتین ملک سے باہر جا پاتی تھیں، جن کے شوہر یا سسرال وہاں مقیم ہوں، اب بہت سی نوجوان لڑکیاں تعلیم اور روزگار کی غرض سے بھی پاکستان سے باہر جا رہی ہیں۔ یوں تو روزگار کے سلسلے میں بہت سے لوگ عرب ممالک کا رخ کرتے ہیں لیکن نئی نسل کا عمومی رجحان امریکا، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی طرف ہے۔
ان ممالک میں نہ صرف تعلیم اور روزگار کے خاطر خواہ مواقع ہیں بلکہ کچھ برس گزارنے کے بعد پاسپورٹ بھی ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ممالک میں زندگی اتنی ہی گلزار ہے، جتنی دور سے دکھائی دیتی ہے؟ تو جواب سادہ سا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک مشین کی طرح سارے کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں، ٹوائلٹ صاف کرنے سے لے کر روٹی تک خود بنانا پڑتی ہے، شاپنگ سے لے کر گھر کے سارے چھوٹے موٹے کام خود نمٹانا پڑتے ہیں۔ اگر آپ تنہا ہیں اور بیمار ہو گئے ہیں تو بھی خود ہی سب کچھ کرنا ہے، کوئی بھائی نہیں ہے، کوئی بہن نہیں ہے اور کوئی ماں قریب نہیں ہے، جو آپ کا خیال رکھے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک پیسے درختوں سے لگے ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں رہنے والی میری دوست سارہ افتخار زر پیشےکے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں لیکن آسٹریلیا آ کر انہیں اپنے کیرئیر کے حوالے سے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک دن مجھے بتا رہی تھیں کہ آسٹریلیا میں عام درجے تک کی نوکریوں کے لیے بھی خاصی کوشش اور محنت کرنا پڑتی ہے۔

اگر انہیں اس بات کا پہلے سے علم ہوتا تو ضرور یہ تگ و دو پاکستان میں ہی شروع کر دیتیں۔ سارہ افتخار زر کو حلال کھانے کا مسئلہ ایک عرصے تک درپیش رہا لیکن اب انہوں نے متعدد جگہیں ڈھونڈ لی ہیں۔
یہاں ایک اور امر بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ان ممالک میں رہائش ایک اہم مسئلہ ہے۔ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں مقیم مریم شفقت گورایہ، جو تعلیم کے سلسلے میں وہاں موجود ہیں، نے بتایا کہ جرمنی کے کسی بھی بڑے شہر میں آ کر رہنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ گھر ڈھونڈنے میں دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

لہذا پہلے ایک عبوری جگہ کا انتظام ضروری ہے، جہاں رہ کر آپ اپنے لیے مستقل گھر ڈھونڈ سکیں۔ مریم شفقت گورایہ نے گھر کی یاد کے بارے میں بھی بات کی کہ شروع کے چند ماہ ان کے لیے آسان نہ تھے، ہر موڑ پر گھر والے یاد آتے تھے۔
جیسا کہ پاکستانی کمیونٹی پوری دنیا میں مقیم ہے تو یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ نئے آنے والوں کو اپنے ارد گرد بسنے والے ہم وطنوں سے کوئی مدد ملتی ہے؟ بہت سے دوستوں کو تو ان کے دوست ہی سنبھالتے ہیں اور ان کی ہر لحاظ سے مدد بھی کرتے ہیں لیکن کینیڈا میں مقیم صائمہ شاہین نے مجھے بتایا کہ بعض اوقات اصل مشکلات اپنی کمیونٹی کی طرف سے ہی آتی ہیں۔

انسان پاکستان سے یہ سہانے سپنے دیکھ کر آتا ہے کہ کینیڈا میں زندگی سہل ہو گی لیکن یہاں آ کر علم ہوتا ہے کہ حالات یکسر مختلف ہیں، دل میں خوابوں کے محل سجا کر آنا بیوقوفی ہے۔
تاہم میری زیادہ تر پاکستانی خواتین دوستوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان ممالک میں انہیں تحفظ اور سکون کی فضا میسر ہے،کوئی ان کو چھیڑنے یا گھورنے والا نہیں تھا۔
جیسا کہ ان ممالک میں سسٹم مضبوط ہیں ان کو سیٹل ہونے میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔ ان ممالک میں سوشل پریشر کے بھی وہ مسائل نہیں، جیسے پاکستان میں ہیں۔ پاکستان سے آنے والی نوجوان لڑکیوں کے لیے میرا یہی پیغام ہے کہ آنے سے پہلے اپنا ہوم ورک اچھی طرح مکمل کریں۔ خوابوں کی دنیا میں نہ رہیں اور خود کو مضبوط رکھیں۔
یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر جگہ کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔
جہاں ان ممالک میں زندگی میں آگے بڑھنے اور انسانی حقوق کی حفاظت کے زیادہ مواقع ہیں، وہیں یہاں خود کو سیٹل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اس کے لیے جی کڑا کرنا پڑتا ہے، ذہنی اور جسمانی دونوں طرح خود کو مضبوط رکھنا پڑتا ہے کہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ خود ہی کرنا ہے۔ بہرحال جو حالات کی اس بھٹی سے خود کو کندن بنا کر نکال پائیں، یہ ممالک ان خواتین کے لیے ایک 'خوشگوار‘ زندگی کے ضامن ہیں

𝙐𝙢𝙧𝙖𝙝 𝙈𝙪𝙗𝙖𝙧𝙖𝙠
21/11/2020

𝙐𝙢𝙧𝙖𝙝 𝙈𝙪𝙗𝙖𝙧𝙖𝙠

03/10/2020

اُمتِ مُسلمہ کے لیے مبارک گھڑی آ گئی ہے۔ مکہ معظمہ میں کل اتوار سے عمرہ کے مناسک کی ادائی کا آغاز ہو رہا ہے۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ عمرہ زائرین کو مناسکِ عمرہ کے لیے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا جائے گا۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ زائرین اس وقت میں عمرہ کیسے کر پائیں گے اور وقت کی کیا تقسیم ہو گی۔
اس حوالے سے حرمین انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ طواف کے لیے مطاف کعبہ میں دو ٹریک تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک ٹریک پر ایک وقت میں 100 زائرین طواف کی سعادت حاصل کریں گے۔ یہ گروپ پندرہ منٹ میں سات چکر لگائے گا۔ اس طرح ایک گھنٹے میں 400 زائرین طواف کریں گے۔ اگلے مرحلے میں ایک اور ٹریک کا اضافہ کیا جائے گا جس میں 150 زائرین کو ایک وقت میں طواف کی اجازت ہوگی۔
اس طرح ایک گھنٹے میں 600 زائرین عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے۔ یوں 10 گھنٹے کے طواف کے دورانیے کے دوران چھ ہزار زائرین عمرہ ادا کرسکیں گے۔مسجد حرام کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمرہ زائرین کی آمد سے قبل مسجد حرام کے اندرونی اور بیرونی مقامات کی 10 بار اور ٹوائلٹس کی چھ بار صفائی کی جاتی ہے۔ مسجد حرام کے تمام داخلی خارجی راستوں، دروازوں، صحن، فرش، برقی زینوں، پنکھوں اور دیگر تمام ضروری اشیا اور مقامات کو سینٹائرز کی مدد سے دن میں 9 بار صاف کیا جائے گا اور مسجد حرام میں چوبیس گھنٹوں کے دوران تین بار عطر چھڑکا جائے گا۔
مسجد حرام میں آنے والے معتمرین کی طبی جانچ کے لیے جدید ترین آلات، تھرما کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ معتمرین میں کسی قسم کی وبائی اثرات کا بروقت پتا چلا کہ دیگر متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جائے-
مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔3 اکتوبر2020ء)

29/09/2020

(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔29 ستمبر2020ء) سعودی عرب کی جانب سے 4 اکتوبر 2020ء کو عمرہ کی زیارت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چھ ماہ سے زائد عرصہ سے عمرہ کی سعادت سے محروم افراد نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں روزانہ چھ ہزار افرادکو عمرے کی اجازت دی جائے گی، جو سعودی عرب میں ہی مقیم ہیں۔ مکہ مکرمہ گورنریٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کہ اعتمرنا ایپ کے ذریعے 16 ہزار افراد نے عمرے کے لیے اندراج کرایا ہے۔
10 روز کی بکنگ مکمل ہوگئی ہے۔اُردو نیوز کے مطابق مکہ ریجن گورنریٹ نے ٹوئٹر پر بیان میں عمرہ زائرین کو اطمینان دلایا ہے کہ ہر دن مسجد الحرام کو دس بار سینیٹائز کیا جائے گا۔ ہر عمرہ گروپ کی آمد اور واپسی پر سینیٹائزنگ ہوگی۔ عمرے کے لیے آنے والوں میں آب زمزم کی بوتلیں تقسیم کی جائیں گی. جبکہ وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
خانہ کعبہ کے اطراف قائم رکاوٹ کے باہر سے ہی طواف کیا جائے گا۔ عمرہ کے دوران سپیشلسٹ میڈیکل ٹیمیں موجود ہوں گی۔ کسی بھی معتمر میں کورونا وائرس کی علامتیں ظاہر ہونے کی صورت میں اسے دیگر زائرین سے الگ تھلگ کرنے کا انتظام بھی کرلیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سپیشل روم بنائے گئے ہیں۔ دونوں مقدس مساجد کی انتظامیہ کے سربراہ اعلی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے ایگزیکٹیو فیلڈ ٹیم قائم کی ہے۔ یہ انتظامیہ کے تمام اداروں کی نمائندہ ہے۔ اخبار 24 کے مطابق وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد بنتن نے بھی تصدیق کردی ہے کہ شروع کے دس روز کی بکنگ مکمل ہوچکی ہے۔ 16 ہزار افراد کو ابتدائی دس روز میں عمرہ ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا-

28/09/2020

مکہ مکرمہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔28 ستمبر2020ء) کروڑوں مسلمان عمرہ ادائیگی کیلئے بے تاب، چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں افراد نے عمرے کے لیے اندراج کروا لیا، 10 روز کی بکنگ مکمل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس خدشات کے باعث کئی ماہ سے عمرے کی سعادت حاصل کرنے سے محروم کروڑوں مسلمان اب پابندی کے خاتمے کے بعد عمرہ ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے بذریعہ موبائل ایپ عمرہ ادائیگی کی بکنگ کا آغاز کیے جانے کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی 10 روز کی بکنگ مکمل ہوگئی۔ بتایا گیا ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں 16 ہزار افراد نے عمرہ ادائیگی کیلئے بکنگ کروا لی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ عمرہ ادائیگی کا باقاعدہ آغاز 4 اکتوبر سے ہوگا۔ پہلا مرحلہ 4 اکتوبر 2020 سے شروع ہو رہا ہے جس کے تحت ہر روز 6 ہزار افراد عمرہ اد کریں گے۔ ان افراد کو ایک ایک ہزار کے گروپ میں تقسیم کر کے عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہر گروپ کو تین گھنٹے کے اندر اندر مناسکِ عمرہ مکمل کرنے ہوں گے، جس کے بعد دوسرے گروپ کی باری آئے گی۔ پہلے مرحلے میں سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن اور مقامی افراد کو عمرہ کی اجازت ہو گی۔ اس حوالے سے اہم شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ وزیر حج و عمرہ نے کہا ہے کہ 18 سے 65 برس تک کے افراد کو عمرہ اجازت نامے جاری ہوں گے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے وزیر حج و عمرہ نے کہا کہ ’عمرہ اجازت نامے 18 سے 65 برس کے افراد کو جاری ہوں گے اس کے لئے کوئی فیس نہیں ہو گی۔ انہو ں نے کہا کہ سعودی قیادت کی ہدایات کے مطابق ہنگامی صحت حالات میں عمرہ ادا کرنے والوں کو تمام سہولتیں مہیا کی جائیں۔سعودی وزیر حج کا کہنا تھا کہ مسجد الحرام میں جانے کے لیے اعتمرنا نامی ایپ پر بکنگ ضروری ہوگی۔
اس کے بغیر کسی بھی شخص کو حرم شریف میں جانے نہیں دیا جائے گا۔ ہمارا مقصد عمرہ زائرین اور مسلمانوں کی صحت و سلامتی کا تحفظ ہے۔ اسے ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ بیرونی حاجیوں کی آمد اور واپسی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے سپیشل ٹریک قائم کیا ہے۔ وزارت صحت نے ایسے ممالک کی فہرست جاری کردی ہے جن کے باشندے عمرہ ادا کرنے کے لیے آ سکیں گے۔

06/08/2020

حج کے کامیاب انعقاد کے بعد عمرہ ادائیگی کی اجازت دینے کے حوالے سے سعودی حکومت کا اہم اعلان، جلد عمرہ سیزن کی تیاریاں بھی شروع کر دی جائیں گی-

Address

Fota Road Kunri Pak Sindh
Kunri
69160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AW Travel and Tour Agency posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category