07/01/2026
🏹 سلطان صلاح الدین ایوبیؒ
عدل، جہاد اور انسانیت کی روشن مثال
تاریخ اسلام میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو صرف فتوحات کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، عدل اور رحم دلی کی بنا پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ انہی عظیم ناموں میں ایک نام سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا ہے — فاتحِ بیت المقدس، مگر دل کا نہایت نرم انسان۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ 1137ء میں تکریت (عراق) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام یوسف بن ایوب تھا۔ آپ کے والد نجم الدین ایوب اور چچا شیرکوہ بہترین سپہ سالار تھے۔ اگرچہ آپ کی پرورش جنگی ماحول میں ہوئی، مگر آپ کی تربیت قرآن، علم، اخلاق اور دین کے سائے میں ہوئی۔
صلاح الدین ایوبیؒ بچپن ہی سے خاموش، متواضع، عبادت گزار اور انصاف پسند تھے۔ وہ صرف تلوار کے ماہر نہیں تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی امین تھے۔ قرآن سے گہرا تعلق رکھتے، علماء کی صحبت کو پسند کرتے اور راتوں کو اللہ کے حضور عاجزی سے دعا میں گزار دیتے۔
آپ کی ازدواجی زندگی سادگی اور تقویٰ کی مثال تھی۔ اگرچہ سلطان تھے مگر عیش و عشرت سے دور رہے۔ سادہ لباس، سادہ کھانا اور اللہ کا ذکر ان کے گھر کا معمول تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف اقتدار نہیں بلکہ دین کی سربلندی تھا۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی جنگیں ذاتی نہیں تھیں بلکہ ظلم کے خلاف اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے تھیں۔ 1187ء میں ہونے والی جنگِ حطین تاریخ کا وہ موڑ ثابت ہوئی جس نے حالات بدل دیے۔ حکمت، صبر اور اتحاد کے ذریعے مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی اور بیت المقدس آزاد ہوا۔
فتح کے بعد جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو قتلِ عام نہیں کیا۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو امان دی، عبادت گاہوں کو تحفظ دیا۔ یہی وہ شہر تھا جہاں صلیبیوں نے مسلمانوں کا خون بہایا تھا، مگر اسلامی فتح نے انسانیت کی مثال قائم کی۔
عدل و انصاف سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی پہچان تھا۔ ان کے دربار میں امیر اور غریب برابر تھے۔ ایک عام شہری کے مقدمے پر سلطان خود عدالت میں پیش ہوئے۔ یہی حقیقی اسلامی حکمرانی تھی۔
حتیٰ کہ دشمن بھی ان کے اخلاق کے معترف تھے۔ رچرڈ شیر دل کے بیمار ہونے پر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اپنا ذاتی طبیب اور دوائیں بھجوائیں۔ یہ جنگ نہیں بلکہ اعلیٰ انسانیت تھی۔
1193ء میں دمشق میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا انتقال ہوا۔ جب ان کا خزانہ کھولا گیا تو چند سکے نکلے، کفن کے لیے بھی رقم پوری نہ تھی۔ وہ سلطان جو آدھی دنیا کا حکمران تھا، آج بھی یہ سبق دے گیا کہ اصل دولت اقتدار نہیں بلکہ کردار ہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ہیرو ہیں۔ وہ تلوار سے نہیں، عدل سے جیتتے تھے۔ نفرت کے مقابلے میں رحم کو ترجیح دیتے تھے۔
اگر آج کے حکمران سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے عدل، تقویٰ اور اخلاص کا ایک حصہ بھی اپنا لیں تو دنیا بدل سکتی ہے۔