30/10/2024
اینٹارکٹیکا؟ — جی نہیں، پاکستان
اگرچہ پاکستان ایک گرم مرطوب ملک تصور ہوتا ہے مگر پھر بھی حیرت انگیز طور پر دنیا میں انٹارکٹیکا کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز پاکستان میں ہیں، تقریباً 7 ہزار 253۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا میں 7 ہزار میٹرز سے بلند چوٹیاں صرف جنوبی ایشیا میں ہیں، اور ان میں 112 چوٹیاں صرف اکیلے پاکستان میں ہیں۔ ان میں 5 چوٹیاں 8 ہزار میٹرز سے بلند ہیں۔ پاکستان بے شک ایک گرم ملک ہے مگر یہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 75 ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جانتے ہیں کہاں؟
پاکستان میں تقریباً 700, گلیشیئرز ہیں، جو زیادہ تر کشمیر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ گلیشیئرز غیر قطبی علاقوں میں دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں شامل ہیں اور ملک کے آبی وسائل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
1. گلیشیئرز کی تعداد: پاکستان میں تقریباً 7,000 گلیشیئرز پائے جاتے ہیں، جو کہ دنیا کے کسی بھی غیر قطبی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ بنیادی طور پر قراقرم، ہمالیہ، اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہیں، لیکن "7,253" کی مخصوص تعداد ممکنہ طور پر مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے، کیونکہ درست اعداد و شمار بدلتے رہتے ہیں۔
2. بلند چوٹیاں: دنیا میں 7,000 میٹر سے بلند تمام چوٹیاں جنوبی ایشیا (پاکستان، بھارت، نیپال، اور چین) میں واقع ہیں۔ پاکستان میں 100 سے زیادہ 7,000 میٹر سے بلند چوٹیاں ہیں، اور ان میں سے 5 چوٹیاں 8,000 میٹر سے بلند ہیں:
کے ٹو (8,611 میٹر)
نانگا پربت (8,126 میٹر)
گاشر برم I (8,080 میٹر)
براڈ پیک (8,051 میٹر)
گاشر برم II (8,035 میٹر)
3. انتہائی درجہ حرارت: پاکستان میں ریکارڈ شدہ کم ترین درجہ حرارت اسکردو کے قریب یا سیاحتی مقام سیاچن گلیشیئر پر ہوتا ہے، جہاں درجہ حرارت سردیوں میں -50 °C سے بھی نیچے جا سکتا ہے۔
یہ تفصیلات پاکستان کے قدرتی تنوع اور جغرافیائی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں، اور واضح کرتی ہیں کہ پاکستان نہ صرف گرم مرطوب خطوں پر مشتمل ہے بلکہ دنیا کے بلند اور برفانی علاقوں کا بھی حامل ہے