04/08/2026
🌹 *حضرت عبداللہ بن مبارکؒ* ایک مرتبہ پانی پینے کے لیے سبیل پر پہنچے۔ لوگوں نے انہیں پہچانا نہیں، ہجوم میں دھکے بھی دیے اور عام لوگوں کی طرح ان کے ساتھ برتاؤ کیا۔ وہاں سے نکل کر فرمانے لگے:
*"زندگی تو بس یہی ہے!"*
یعنی اصل زندگی وہ ہے جس میں انسان اللہ کے ہاں معزز ہو، نہ کہ لوگوں کی نگاہوں میں۔ نہ اس کی خاطر راستے خالی کیے جائیں، نہ تعظیم کے دروازے کھلیں، نہ شہرت اس کا سرمایہ بنے۔
🌹اسی لیے *سفیان ثوریؒ* فرمایا کرتے تھے:
*"میری آرزو ہے کہ میں لوگوں کو پہچانوں، مگر لوگ مجھے نہ پہچانیں۔"*
*(موسوعة ابن أبي الدنيا، 6/529)*
🕯️*تدبر:*
آج کا دور پہچانے جانے، مشہور ہونے اور تعریف سمیٹنے کا دور ہے، جبکہ سلف صالحین کی تمنا اس کے برعکس تھی۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ *ان کا رب انہیں پہچانے، چاہے دنیا انہیں نہ پہچانے۔*
اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا معیار شہرت نہیں، بلکہ *اخلاص* ہے۔کتنے ہی لوگ دنیا میں گمنام ہوتے ہیں مگر آسمانوں میں ان کا ذکر ہوتا ہے، اور کتنے ہی لوگ دنیا میں مشہور ہوتے ہیں مگر اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہیں۔
🌷*اللهم ارزقنا الإخلاص في القول والعمل،واجعل أعمالنا خالصةً لوجهك الكريم.آمين.*