15/05/2026
وقت کی چند ساعتیں تارڑ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔! تب میری عمر بیس سال سے کم ہوگی ۔۔تارڑ صاحب کے تمام سفر نامے ، شمال کے سفر ، اندلس کے قصے ، پیار کا پہلا شہر کی پاسکل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دیس ہوئے پردیس اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔
ایک دیوانگی تھی ، ایک عشق تھا ایک جنون تھا ۔۔۔
تارڑ صاحب کی تحریروں کے بعد راتوں کو خواب بھی انہی وادیوں کے آیا کرتے تھے ۔۔
2000 کے بعد والی نسل شاید اس بابے کو جانتی بھی نہ ہو ۔۔لیکن تصویر میں نظر انیوالا یہ بابا پاکستان نہیں بلکہ معلوم دنیا کے ایک بڑے حصے کا باباء سیاحت ہے ۔۔۔
لیکن اس بابے کی سیاحت میں نہ ٹک ٹاک تھی نہ فیس بک ، نہ انسٹا گرام اور نہ ہی یو ٹیوب ۔۔۔لیکن پھر بھی اس بابے کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں آج بھی موجود ہیں ۔۔
لائبریریوں کا دور ہوتا تھا ۔۔ہر گلی محلے میں لائیبریری اور لائیبریری میں تارڑ صاحب کا ریک ہونا لازم و ملزوم ہوا کرتے تھے ۔۔
بعض اوقات ایک ایک مہینہ تک ان کی کتاب کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔۔۔
چھ چھ کتب کا سیٹ آتا اور ایک بھی نہ ملتی ۔۔۔
مجھے آج بھی یاد ہے شاید 1986 یا 1987 میں ہندوستانی اداکار امیتابھ بچن کی شہنشاہ فلم آئ تھی جس کا کیسٹ اس وقت پچاس اور سو روپے کرایہ پر بھی نہ ملتا تھا ۔۔۔
لیکن ہمارا بابا اس سے پہلے ہی کھڑکی توڑ چلا آرہا تھا ۔۔۔
کاش بابے کو پتہ ہوتا کہ آنے والی دہائیوں میں سیاحت بربادی کا سبب بنے گی تو بابا کبھی اتنی بڑی تحریک کا موجب نہ بنتا ۔۔۔
روزانہ صبح سکول سے لیٹ ہوکر ماؤں کی گالیاں اور سکول جاکر استانیوں کے الٹے ہاتھ پر ڈنڈے ۔۔۔لیکن اسی کی دہائی کے بچے یہ گالیاں شوق سے سنتے اور ڈنڈے خوش دلی سے کھاتے ۔۔۔
وجہ صرف ایک تھی بابا جی کی محبت ۔۔۔
آج بیس سال بعد تارڑ صاحب کو دوبارہ سکردو کی فضاؤں میں دیکھ کر بے اختیار آنکھیں بھیک گئیں ۔۔
یہ آنسو دکھ کے بھی نہ تھے ۔۔۔
نہ ہی خوشی کے ۔۔۔
شاید ان آنسوؤں اور ان کیفیات کے لیے اردو زبان میں کوئ لفظ موجود نہ ہو ۔۔
شاید کسی زبان میں موجود نہ ہو ۔۔۔
فقط یہی ۔۔۔
وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔۔!
نوید اشرف خان copy..