Explore the Beauty of Pakistan

Explore the Beauty of Pakistan Pakistan is a wonderful and amazingly beautiful country. Join us to explore the unexplored areas of t We just need to explore its natural beauty.
(357)

You r requested to share your own Photos, Videos, Links and experiences of visit to different places.suggest somethingwww.facebook.com/adeel.sher1

16/05/2026

مجھے یاد ھے تارڑ صاحب کی ہنزہ میں سیاحت سے سال پہلے میں ہنزہ میں موجود تھا ، اسکے بعد جب ہنزہ داستان مارکیٹ میں آئ بٹالہ کالونی مدنی مسجد کے سامنے والی لائبریری والے انکل سے کہ دیا تھا کہ سب سے پہلے میں نے پڑھنی ھے اور پھر اسکو بار بار پڑھ پڑھ کر اپنے پہلے سفر کی یادیں تازہ کیا کرتا تھا ، کیا انداز بیاں اور کیا خوبصورت منظر کشی ۔ قاری کو ہر قدم ساتھ اپنے ساتھ انگیج رکھنے کا فن بلاشبہ اس لاہوریے پر ختم ھے ، آج چالیس سال بعد اس قدر روانی اور اس قدر خوبصورتی کیساتھ سفر نامہ کوئ اور نہیں لکھ سکا

پاکستان کے شمال علاقوں اپر تارڑ صاحب کے سفر ناموں کی چھاپ اس قدر گہری ھے کہ جب بھی گلگت بلتستان میں سیاحت کی بات ہوگی تو تارڑ صاحب کا نام سر فہرست کا ھوگا ۔ آج ٹک ٹاک سوشل میڈیا اور بہترین ذرائع آمد و رفت کی موجودگی میں شاید کوئ یہ احساس نہ کر پائے کہ اس دور میں سفر کرنا مشکل تھا ، آج کے کے ایچ سے سفر کرنے والے کانوں کو ھاتھ لگاتے ہوئے دوبارہ اس روڈ سے سفر نہ کرنے کی قسمیں کھاتے ہوئے جاتے اور پھر واپس آتے ہیں ۔ تو اسی کی دہائی میں یہ کس قدر مشکل ہوگا ؟ چھ گھنٹے میں راولپنڈی سے مانسہرہ اور مانسہرہ سے بشام ، رستے میں اگر لینڈ سلائیڈنگ ( جی ہاں بٹاگرام کے پاس ) ہو گئ تو دو تین گھنٹے اور لگ جاتے ۔ پھر بشام سے کوہستان چلاس کا سفر ۔ اف ۔ پھر شام کو لیٹ گلگت پہنچنا ۔ یہ بذات خود ایک الگ داستان ایک الگ کہانی ہوتی تھی

پھر اگلا دن گلگت کے بازاروں میں گھومنا یا سستانا یا صبح نو بجے ہنزہ کیلئے نکلنے والی ہائ ایس سے سفر بھی ایک ناقابل فراموش ہوتا تھا اور اگر دنیور پر لینڈ سلائیڈ ھو گئ تو دو چار گھنٹے اور لیٹ

اب سوچیں یہ سب سے آسان رستوں کی کہانی ھے تو استور تریشنگ کرمبر ، اسکردو روڈ پر سفر کرنا کیسا ہوتا ہوگا ۔ اسکردو روڈ پر سفر آج سے پانچ پہلے بھی اس قدر کمر توڑ ہوتا تھا کہ لوگ اسے بائیکر ہی نہیں سمجھتے تھے جو اسکردو روڈ پر سفر نہ کر چکا ہو ۔ اور مستنصر صاحب اس دور میں ان رستوں پر سفر کر رہے تھے جب نوے فیصد پاکستانیوں کیلئے کوہ مری ہی پہاڑ تھا

آج جب وہ اسکردو میں ہیں تو انکی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیدنی ہے بالکل۔ایسے جیسے کوئ بچہ واپس اپنی ماں کی آغوش میں آگیا ہو ۔

انجوائے یور ٹرپ مستنصر چاچا

31/03/2026

جھال سے سلیمی چوک فیصل آباد

30/03/2026

عدل جہانگیری کے لئے مشہور ہندوستان کا مغل بادشاہ جہانگیر 1627ء میں کشمیر سے واپسی پر راجوڑی کے مقام پر وفات پا گیا۔ اس کی بیوی ملکہ نورجہاں نے شاہی حکیم کو حکم دیا کہ شہنشاہ کو میں لاہور میں دفن کروں گی چنانچہ حکیم نے شہنشاہ کے بدن میں نشتر لگا کر اسے کھولا اور مردہ بدن کے وہ حصے نکال لئے جو دو چار دن میں گل سڑ جاتے ہیں۔ ان حصوں کو وہیں دفن کر دیا گیا اور وہاں آج بھی جہانگیر کے بدن کے کچھ حصے دفن ہیں اور ان پر ایک یادگار بنی ہے۔ جہانگیر کی میت لاہور لائی گئی اور یہاں اسے دفن کر دیا گیا۔ نورجہاں کو اپنے بھائی آصف جاہ سے بہت پیار تھا۔ یہ آصف جاہ تاج محل والی ممتاز محل کا باپ تھا۔ جب آصف جاہ فوت ہوا تو نورجہاں نے اسے بھی جہانگیر کے مقبرے سے متصل دفن کیا اور جب وہ خود بہتر سال کی عمر میں فوت ہوئی تو وصیت کے مطابق اپنے بھائی کے برابر میں دفن کی گئی۔ نورجہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم بھی اپنی ماں کی قبر کے برابر میں دفن ہوئی۔ چنانچہ یہ چاروں
1- جہانگیر ہندوستان کا بادشاہ
2- اس کا برادر نسبتی آصف جاہ
3- اس کی بیوی نورجہاں
4- نورجہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم (نورجہاں کے پہلے شوہر سے تھی)
شروع میں وفات کے بعد ایک ہی وسیع و عریض جگہ پر باغات میں گھرے مختلف احاطوں میں مدفون تھے۔ جب برصغیر میں ریل گاڑی کی پٹڑی بچھائی گئی تو انگریز نے مغل تاریخی ورثے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ان مقبروں کے درمیان ریل کی پٹری بچھا دی یوں نورجہاں اپنے خاوند اور بھائی سے کٹ گئی۔ ان کے مقابر کے درمیان میں سے ریل گاڑیاں دھواں اڑاتی چھک چھک کرتی گزرنے لگیں۔ سکھوں کے ہاتھوں بربادی کے بعد سے ان مقابر کی حالت بہت بری تھی۔ ملکہ نورجہاں کا مقبرہ تو کھنڈر نما عمارت رہ گئی تھی جس میں چمگادڑوں کا بسیرا تھا اور دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں تھا اور لوگ جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اب محکمہ آثار قدیمہ کی توجہ سے نورجہاں کا مقبرہ پھر سے اپنے اصلی شاندار مغل طرز تعمیر و منقش روپ میں واپس آ رہا ہے۔ مقبرے کے گرد باغ کو بھی نکھارا گیا ہے اور ایک چار دیواری اس کا احاطہ کر رہی ہے۔ مقبرے کے نیچے ایک تہہ خانے میں ملکہ نورجہاں اور اس کی بیٹی کی قبریں ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ نورجہاں اور لاڈلی بیگم کے صندوق نما تابوت دفن نہیں کئے گئے تھے بلکہ تہہ خانے میں زنجیروں سے معلق کر دیے گئے تھے۔ تہہ خانے کے کونے میں آہنی کنڈے نصب کبھی ہم نے دیکھے تھے جن سے وہ تابوت باندھے گئے تھے۔

30/03/2026

اکبری سرائے شاہدرہ لاھور
Akbari saraye
Shahdara Lahore
Near Jahangir's Tomb

28/03/2026
28/03/2026

Jahangir's Tomb
Lahore

28/03/2026

فیصل آباد کی راتیں
وڈیو میں رات نو بجے ستھرا پنجاب کا ورکر نظر آئے گا
دن رات کام

28/03/2026

مقبرہ جہانگیر سےبواپسی پر ۔ ایسا بادشاہ جو اپنے عدل اور انصاف کی وجہ سے آج بھی نیک نام ھے

شاہدرہ لاھور

04/02/2026

جھال والا چوک فیصل آباد

17/12/2025

اتنی جیکٹس نارتھ فیس نے نہیں بنائی ہونگی جتنی برانڈ نیوجیکٹس لوکل مارکیٹ میں بک رہی ہیں، نارتھ فیس اسٹیکر لگا کر جعلی مال بیچا جا رہا ہے

04/12/2025

کوہ نور مارکیٹ
سنہری شام

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Explore the Beauty of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Explore the Beauty of Pakistan:

Share