16/05/2026
مجھے یاد ھے تارڑ صاحب کی ہنزہ میں سیاحت سے سال پہلے میں ہنزہ میں موجود تھا ، اسکے بعد جب ہنزہ داستان مارکیٹ میں آئ بٹالہ کالونی مدنی مسجد کے سامنے والی لائبریری والے انکل سے کہ دیا تھا کہ سب سے پہلے میں نے پڑھنی ھے اور پھر اسکو بار بار پڑھ پڑھ کر اپنے پہلے سفر کی یادیں تازہ کیا کرتا تھا ، کیا انداز بیاں اور کیا خوبصورت منظر کشی ۔ قاری کو ہر قدم ساتھ اپنے ساتھ انگیج رکھنے کا فن بلاشبہ اس لاہوریے پر ختم ھے ، آج چالیس سال بعد اس قدر روانی اور اس قدر خوبصورتی کیساتھ سفر نامہ کوئ اور نہیں لکھ سکا
پاکستان کے شمال علاقوں اپر تارڑ صاحب کے سفر ناموں کی چھاپ اس قدر گہری ھے کہ جب بھی گلگت بلتستان میں سیاحت کی بات ہوگی تو تارڑ صاحب کا نام سر فہرست کا ھوگا ۔ آج ٹک ٹاک سوشل میڈیا اور بہترین ذرائع آمد و رفت کی موجودگی میں شاید کوئ یہ احساس نہ کر پائے کہ اس دور میں سفر کرنا مشکل تھا ، آج کے کے ایچ سے سفر کرنے والے کانوں کو ھاتھ لگاتے ہوئے دوبارہ اس روڈ سے سفر نہ کرنے کی قسمیں کھاتے ہوئے جاتے اور پھر واپس آتے ہیں ۔ تو اسی کی دہائی میں یہ کس قدر مشکل ہوگا ؟ چھ گھنٹے میں راولپنڈی سے مانسہرہ اور مانسہرہ سے بشام ، رستے میں اگر لینڈ سلائیڈنگ ( جی ہاں بٹاگرام کے پاس ) ہو گئ تو دو تین گھنٹے اور لگ جاتے ۔ پھر بشام سے کوہستان چلاس کا سفر ۔ اف ۔ پھر شام کو لیٹ گلگت پہنچنا ۔ یہ بذات خود ایک الگ داستان ایک الگ کہانی ہوتی تھی
پھر اگلا دن گلگت کے بازاروں میں گھومنا یا سستانا یا صبح نو بجے ہنزہ کیلئے نکلنے والی ہائ ایس سے سفر بھی ایک ناقابل فراموش ہوتا تھا اور اگر دنیور پر لینڈ سلائیڈ ھو گئ تو دو چار گھنٹے اور لیٹ
اب سوچیں یہ سب سے آسان رستوں کی کہانی ھے تو استور تریشنگ کرمبر ، اسکردو روڈ پر سفر کرنا کیسا ہوتا ہوگا ۔ اسکردو روڈ پر سفر آج سے پانچ پہلے بھی اس قدر کمر توڑ ہوتا تھا کہ لوگ اسے بائیکر ہی نہیں سمجھتے تھے جو اسکردو روڈ پر سفر نہ کر چکا ہو ۔ اور مستنصر صاحب اس دور میں ان رستوں پر سفر کر رہے تھے جب نوے فیصد پاکستانیوں کیلئے کوہ مری ہی پہاڑ تھا
آج جب وہ اسکردو میں ہیں تو انکی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیدنی ہے بالکل۔ایسے جیسے کوئ بچہ واپس اپنی ماں کی آغوش میں آگیا ہو ۔
انجوائے یور ٹرپ مستنصر چاچا