Travel to the Nature in Pakistan

Travel to the Nature in Pakistan We provide Luxurious Services in affordable Prices. Let's Travel To The Nature in Pakistan ����

Plan Customized Trips with Us, Take a break from hectic routines and Go to the Lovely Places to Make your Trip Memorable.

ایون گاؤں، ضلع چترال۔۔۔🌿🏞The beautiful Ayun village of   💕🔸️   valley is situated between  Town and  .Located 12 km sout...
01/08/2021

ایون گاؤں، ضلع چترال۔۔۔🌿🏞

The beautiful Ayun village of 💕

🔸️ valley is situated between
Town and .
Located 12 km south of the town of Chitral. It is located on the Chitral River at its confluence with the River.

🔸️Beyond Ayun valley is Bamburet , it is one of the three valleys.

🔸️Bamburet is nearly two-hour journey from Chitral. Locals trace their roots to the Great and .

   ,      ❤️🇵🇰
30/07/2021

, ❤️🇵🇰

  .
30/07/2021

.

 ...   .
29/07/2021

... .

رتی گلی جھیل، نیلم ویلی، آزاد کشمیر۔۔🏞🌿The     lake of     💞  Lake is an   glacial lake which is located in   Valley,   ...
28/07/2021

رتی گلی جھیل، نیلم ویلی، آزاد کشمیر۔۔🏞🌿

The lake of 💞

Lake is an glacial lake which is located in Valley, , . The is located at an of 12,130 feet (3,700 m). The lake is fed by the surrounding of the .

The Sleeping King ...From RattiGalli Lake, AJK, Pakistan !
28/07/2021

The Sleeping King ...

From RattiGalli Lake, AJK, Pakistan !


A unique perspectiveNARAN CITY and LAKE SAIFF UL MALOOK in one frameJuly 2021
27/07/2021

A unique perspective
NARAN CITY and LAKE SAIFF UL MALOOK in one frame
July 2021

  نیلم ویلی کا آخری علاقہ ہے۔اس سے آگے دیوسائی اور انڈیا کا مقبوضہ کشمیر ہے۔تاؤبٹ وہ مقام ہے جہاں سے دریائے کشن گنگا پاک...
11/05/2021

نیلم ویلی کا آخری علاقہ ہے۔اس سے آگے دیوسائی اور انڈیا کا مقبوضہ کشمیر ہے۔تاؤبٹ وہ مقام ہے جہاں سے دریائے کشن گنگا پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا ہے۔۔
پاکستان میں داخل ہونے کے بعد کشن گنگا دریائے نیلم کہلاتا ہے۔۔
کیل سے تاؤبٹ جیپ میں تقریباً 3 گھنٹے لگتے ہیں۔۔۔۔اگرچہ بہت خطرناک اونچے نیچے موڑ والا راستہ ہے۔۔۔
جیسا رستہ ہے میرے خیال میں بس جیپ کے ذریعے ہی اس جنت نظیر وادی تک پہنچاجا سکتا ہے۔ مظفرآباد سے تاﺅبٹ تک ایک طویل سفر ہے جو دس سے بارہ گھنٹے تک لے سکتا ہے۔۔۔۔۔
شاردہ وادی نیلم کا سیاحتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام ہے۔مظفرآباد کے علاوہ کاغان سے بھی جیپ کے ذریعے براستہ درہ نوری نار شاردہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ دور دراز سے آنے والے سیاحوں کے لئے شاردہ میں قیام کی ہر ممکن سہولت دستیاب ہے۔۔۔۔یہاں سے وادی نیلم کے تمام علاقوں بشمول تاﺅ بٹ تک با آسانی بہنچا جا سکتا ہے۔۔۔
شاردہ سے کیل کے راستے تاﺅ بٹ تک پانچ سے چھ گھنٹے لگ ہی جاتے ہیں۔۔۔یہ تمام رستہ دریائے نیلم کے کنارے اور گھنے جنگلات سے بھرپور ہے۔۔۔۔۔موسم خوشگوار اور جگہ جگہ پہاڑی ندیاں نالے اور ان گنت آبشاریں ہر لمحہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ رکھتی ہیں۔ وادی نیلم کا اصل حسن کیل سے آگے شروع ہوتا ہے۔۔ یہاں جنگلات ناقابل بیان حد تک گھنے ہیں۔ راستے کے ساتھ متعدد آبشاریں پھوار اڑاتی ہیں اور گہرائی میں بہنے والا دریائے نیلم بہت شفاف ہے۔۔۔کیل اور تاؤبٹ کے درمیان جان وئی، سرداری اور ہلمت ہیں۔۔
تاﺅ بٹ پہنچ کردریائے نیلم قدرے دور ہو جاتا ہے۔ اس کی جگہ ایک شفاف ندی اور اس کے پس منظر میں گہرے سبز جنگلات والی بلندیاں ماحول پر چھائی ہوئی ہیں۔ ندی پر بنائے گئے لکڑی کے ایک خوبصورت پل سے دریائے نیلم کے کنارے پہنچنے کے لئے چند منٹ کا فاصلہ ہے جو پیدل طے ہوتا ہے۔۔۔۔لکڑی کے چند گھروں، کھیتوں اور کچے راستے سے ہوتے ہوئے دریائے نیلم تک یہ ایک آسان فاصلہ ہے۔۔۔ رنگا رنگ پھولوں اور گھاس کے قالین سے مزین کہیں ہموار اور کہیں اونچے نیچے میدان کی شکل میں دریا کا یہ کنارا کیمپنگ اور آرام کے لئے بہترین جگہ ہے۔۔۔۔ اعصاب کو سکون اور دل و دماغ کو ترتازہ کر دینے والی ہواﺅں، دریا کے پانی کی مترنم آوازوں اورپرندوں کی چہچہاہٹوں کے ساتھ آلودگی سے دور تاﺅ بٹ میں انسانی محسوسات پر چھا جانے والی تمام خصوصیات موجود ہیں۔۔

نیلم ویلی جانے کیلے متبادل راستہ۔ویسے تو نیلم ویلی جانے کیلے ایک ہی راستہ ہے جسے نیلم ویلی روڈ کہتے ہیں مظفرآباد سے شروع...
11/05/2021

نیلم ویلی جانے کیلے متبادل راستہ۔
ویسے تو نیلم ویلی جانے کیلے ایک ہی راستہ ہے جسے نیلم ویلی روڈ کہتے ہیں مظفرآباد سے شروع ہوکر تاوبٹ تک جاتی ہے لیکن آج میں اپکو ایک متبادل راستے کی سیر کرواتا ہوں
مظفرآباد سے جب آپ نیلم کی جانب سفر شروع کرتے ہیں تو دیولیاں کے مقام سے ایک پکی روڈ بائیں جانب مڑ جاتی ہے جس پر مچھیارہ نیشنل پارک کا بورڈ بھی لگا ہوا یہ روڈ دراصل دفاعی روڈ ہے اور فائرنگ کے دوران متبادل راستے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے پہلے اس روڈ کی حالت کافی خراب تھی اور سفر کرنے کے قابل نہیں تھی لیکن اب یہ روڈ مکمل تعمیر ہوچکی ہے اور کارپٹٹڈ روڈ ہے ۔ تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ اس روڈ پر سفر شروع کرتے ہیں تو کچھ ہی دیر میں آپ کو محسوس ہونے لگتا ہیکہ آپ ایک دوسری جنت میں داخل ہوچکے ہیں ۔
اس روڈ پر خوبصورت وادیاں ، گھنے جنگلات ، ٹھنڈے چشمے ، آبشاریں بلند چوٹیاں اور ایک جھیل بھی واقع ہے جسے سر کہتے ہیں ۔
جب آپ ٹاپ پر پہنچتے ہیں تو سامنے چنچ پہاڑی ہے اور گھنا جنگل ہے جہاں تمام قسم کی جنگلی حیات دانگیر جنگلی مرغ ،مرغ زریں ریچھ اور اس طرح کی ساری جنگلی حیات موجود ہیں ۔ اوپر ٹاپ پر پہنچنے کے بعد دوسری جانب سے نیچے اترنے سے پہلے گلی اتی ہے جس سے پیر پنجال کی بیشتر چوٹیوں کا نظارا کیا جاسکتا ہے ۔
گوگل دھوپ نامی چوٹی جس کی بلندی 11 ہزار فٹ سے زیادہ یے اس روڈ پر ہے اور چوٹی پر جانے کیلے جیپ کا راستہ بھی ہے ۔
ڈبراں گاوں ایسا ہی ایک گاوں ہے جیسے اڑنگ کیل
جب آپ ڈبراں سے نیچے اترتے ہیں تو لیسواہ کٹھیاں گاوں اتا ہے جو اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے بل کھاتی روڈ گھروں کے درمیان سے گزرتی ہے۔
اس کے بعد لیسوا گاوں اتا ہے جہاں بازار ہے اور ضرورت زندگی کی چیزیں دستیاب ہیں۔ لیسواہ گاوں میں دو بڑی آبشاریں ہیں جس کے لیے اپکو جیپ پر اور کچھ پیدل سفر کرنا پڑتا ہے ان کا نام ۔پجا آبشار اور بیکڑی آبشار ہے ۔لیسواہ گاوں کے اوپر ایک چوٹی ہے جسے کھوئی کی مالی کہتے ہیں اس کو بھی آپ وزٹ کر سکتے ہیں جس کی بلندی فلوقت نامعلوم ہے اسی طرح اس 52 کلومیٹر کے روٹ پر آپ بے شمار سیاحتی مقامات کو وزٹ کر سکتے ہیں ۔
52 کلومیٹر کے بعد یہ روڈ دوبارہ مین روڈ سے مل جاتی ہے جس مقام کو زیرو پوائنٹ کہتے ہیں ۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Travel to the Nature in Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category