Centre For Integrated Mountain Research - CIMR, P.U, Lhr.

Centre For Integrated Mountain Research - CIMR, P.U, Lhr. Academic institute, University of the Punjab, ambitious towards the research and development of the

The Centre has been established on 25, December, 1987 to address the demands of integrated sustainable research and development of mountainous areas of Pakistan. For this purpose, major objectives of the Centre are to serve as:-

A documentation centre on integrated mountain research and development based on systematic exchange of knowledge and experiences;
Focal point for mobilization, conduct, a

nd coordination of applied and problem-solving community- oriented integrated research;
An innovative base for training on skills applicable in integrated mountain research and development;
A consultative centre to provide expert services on integrated mountain research and development. A forum for specific attention to highlands- lowlands interaction zones and ultimately extending to Plain areas.

Today, the Punjab University, Centre for Integrated Mountain Research (CIMR) organized a seminar on the International Da...
13/10/2025

Today, the Punjab University, Centre for Integrated Mountain Research (CIMR) organized a seminar on the International Day for Disaster Risk Reduction under the global theme:
“Fund Resilience, Not Disasters”
The event brought together experts, scholars, and students to discuss the importance of investing in resilience to minimize the impacts of disasters and promote sustainable recovery. The distinguished speakers were Prof. Dr. Safdar Ali Shirazi former Director CIMR and former Head of the Geography Departmemt of the Punjab University, Dr. Akif Rahim, Climate Change & Adaptation Specialist, International Water Management Institute (IWMI), Lahore and a representative of the Freshwater Programs, WWF Pakistan, Lahore. Both speakers shared valuable insights on water resource management, climate adaptation, and the need for proactive disaster risk reduction policies in Pakistan. The session was attended by faculty members, researchers, and students who actively engaged in an interactive discussion, emphasizing the crucial role of science, policy, and community resilience. Prof. Dr. Safdar Ali Shirazi former Director CIMR and former Head of the Geography Departmemt of the Punjab University also shared his views about changing climates and need to adopt nature bases solutions (NbS) in Pakistan to address the issue. Prof. Dr. Saima Siddiqui, Director CIMR, thanked the guest speakers and participants for their active engagement and emphasized the role of research institutions in promoting climate resilience and disaster risk reduction. The seminar concluded with an interactive Q&A session, followed by a group photo and networking among participants.

27/08/2025
Memories!                                                                                            Group Photo with th...
27/08/2025

Memories! Group Photo with the students during field work in April,2018.
Suspension bridge leading to village Sum over Siran River, Mansehra-Khyber Pakhtunkhwa.

ADMISSION OPENPh.D Geo-environmental Conservation and Sustainable Development
31/07/2024

ADMISSION OPEN
Ph.D Geo-environmental Conservation and Sustainable Development

The CIMR  ALUMNI wish congratulations and welcome to Prof. Dr. Saima Siddiqui as the new Director of Centre for Integrat...
27/10/2023

The CIMR ALUMNI wish congratulations and welcome to Prof. Dr. Saima Siddiqui as the new Director of Centre for Integrated Mountain research.
Prof. Dr. Saima Siddiqui obtained her Ph.D. degree in Earth System Sciences (ESS): Environment, Resources and Cultural Heritage from the Department of Chemical and Geological Sciences, University of Modena and Reggio Emilia, Italy. She has won two international awards, i.e. IAG/AIG Young Geomorphologist award in 2009, from International Association of Geomorphologists (IAG) in Australia and Giannino Bassetti Foundation award in 2012, in Italy. She was member of organizing committee of 3rd AIGeo National Conference held in September 13-18, 2009 in Modena, Italy. She organized the first ever Convocation of Department of Geography in March, 2020. Besides her teaching activities to the degree courses, she is also involved in various research activities and is a member of several National and International Scientific Associations. She is expert in physical and environmental geography, tectonic geomorphology, geomorphological and seismic hazards assessment, Disaster Management and application of GIS and Remote Sensing techniques in Earth Surface and Landform Processes. She has published more than 45 research articles in HEC recognized National and International and Impact Factor Journals. She is a hardworking, competent and honest professional. We expect that she will work hard by using her abilities, National and International experience and expertise, for the development of this department, improvement and enhancent of the quality of education and welfare of the students of this department.

مون سون کیا ہے ؟ موسم گرما  میں جب سورج خط سرطان پر چلتا ہے تو equator کا لو پریشر زون خط سرطان شمال طرف shift ہو جاتا ہ...
04/05/2023

مون سون کیا ہے ؟

موسم گرما میں جب سورج خط سرطان پر چلتا ہے تو equator کا لو پریشر زون خط سرطان شمال طرف shift ہو جاتا ہے۔ اور intertropical convergence zone یعنی ITCZ جس کو مون سون ٹرف بھی کہتے ہیں وہ بھی equator کے اداسی سے نقل مکانی کرکے خطہ سرطان یعنی انڈیا اور پاکستان کی طرف آ جاتا ہے کیونکہ اب لو پریشر وہاں ہیں۔ پھر جنوبی trade winds خط استوا equator کراس کرکے سمندروں سے گزرتی شمال کی طرف آکر شمالی trade winds جس کو tropical easterlies بھی کہتے ہیں سے ٹکرا کر ITCZ بناتی ہیں۔ جنوب مغربی مونسون کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ ایک بحیرہ عرب مونسون دوسرا Bay of Bengal مونسون۔ سمندوں پر چلتی نم آلود southerly trade winds جن کو (مونسون) کہتے ہیں subcontinent میں بارشوں کا سبب بنتی ہیں۔ بحیرہ عرب مونسون یکم جون سے سب سے پہلے کیرالہ انڈیا سے بارش شروع کرتی ہیں۔ پھر آگے آگے 15 جولائی تک سارا انڈیا cover کر لیتی ہیں۔ پاکستان میں 30 جون تک مونسون ہوائیں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ خلیج بنگال کا مونسون زیادہ تر شمال مشرق انڈیا اور بنگلادیش پر شدید بارشیں برساتا ہے۔ مونسون میگھالیہ انڈیا میں اوسط 11850 mm برستا ہے۔ 1985 میں 26000 mm برسا تھا۔ 70فیصد مونسون جنوبی اور مشرقی انڈیا پر برستا ہے 30 فیصد مغربی انڈیا اور پاکستان میں برساتا ہے۔ پاکستان میں چترال اور GB کے سوا ہر جگہ مونسون اثر رکھتا ہے۔ مونسون اگر کسی WD سسٹم سے مل جائے تو تباھی مچا دیتا ہے۔ جنوب مغربی مونسون کےعلاوہ شمال مشرقی مونسون بھی بنتا ہے جو بلکل الٹ ہوتا ہے آکتوبر سے فروری تک مشرقی انڈیا بالخصوص تامل ناڈو سے برستا جنوب طرف جاتا ہے جب جنوب مغربی مونسون واپسی کا سفر شروع کرتا ہے ستمبر کے آخر میں۔ستمبر کے آخر میں جو اچانک BOB میں tropical سائکلون بنتے ہیں وہ شمال مشرق مونسون تک winds کیوجہ ہوتا ہے۔ مونسون سیزن پر بالخصوص El Nino/La Nina اور IOD+/- اور Tibetan high پریشر کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ MJO فیز بھی بوسٹر کا کام کرتا ہے۔ انہی فیکٹرز کی study کرکے مونسون کو predict کیا جاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان میں مونسون کے علاوہ winter میں westerlies (WD) کیوجہ بارشیں ہوتی ہیں انشاللہ اب ہم اگلی اپڈیٹ میں بتائے گے کہ مون سون میں بنگال میں ہی کیوں زیادہ لو پریشر بنتا ہے اس کے بعد ہم مون سون کی تفصیلی اپڈیٹ دے گے مون سون 2023 میں کیسا جائے گا منگل والے دن انشاللہ تمام ویدر ایکسپرٹس سے مون سون 2023 سے متعلق رائے لے کر ہم اپنی تفصیلی اپڈیٹ دے گے شکریہ،، احسن ولید

انا للہ وانا الیہ راجعونگورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال آج موٹر وے پر...
13/03/2023

انا للہ وانا الیہ راجعون

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال آج موٹر وے پر کار حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو اور مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد کمال لاہور سے فیصل آباد جا رہے تھے کہ ساہیانوالہ کے قریب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال موقع پر ہی دم توڑ گئے ، جبکہ ان کے ڈرائیور شدید زخمی ہو گئے ، جنہیں الائیڈ ہسپتال فیصل آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال شماریات کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پر مانے جانے والے اسکالر تھے۔

انہوں نے یونیورسٹی آف ایکسیٹر، ڈیون، یونائیٹڈ کنگڈم (یو کے) سے اپلائیڈ بائیو اسٹیٹسٹکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انہیں تدریس، تحقیق اور انتظامیہ کا 30 سال سے زیادہ کا تجربہ تھا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ڈین، ڈائریکٹر، پرنسپل اور پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے آپریشن ریسرچ سینٹر اور شماریاتی ڈیٹا بینک سمیت بہت سے ادارے اور مراکز تیار کیے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہد کمال نے پنجاب یونیورسٹی میں کئی ماسٹر ڈگری پروگرام شروع کئے۔ وہ دو کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ان کے تحقیقاتی مکالے اور مضامین معروف قومی اور بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر بہت سے ریسرچ اسکالرز کی نگرانی بھی کی۔ انہوں نے 24 جولائی 2019 کو جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کو بطور وائس چانسلر (وی سی) جوائن کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

04/09/2022
04/09/2022
14/07/2022

ملاکنڈ پیڈیا

ہندوکش کی وجہ تسمیہ.
ہندوکش کو ماضی میں مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔ ارسطو نے اس کو "ارناسوس” کہا تو سکندر اعظم کی یونانی افواج نے اس کو "انڈین کاؤکیسس” کا نام دیا۔ 1334ء میں ایک مسلمان سیاح ابن بطوطہ نے اس کو ہندوکش کے نام سے موسوم کیا اور اس کا پس منظر یہ بتایا کہ راستے کی سختی اور سردی کی وجہ سے ان پہاڑوں میں وہ ہندو غلام بڑی تعداد میں موت کے گھاٹ اتر گئے تھے جن کو ہندوستان سے وسط ایشیا کے علاقوں کی طرف غلام بنا کر لے جایا جارہا تھا۔ ہندوکش کے
معنی ہیں ہندووں کو مارنے والا اور یہ نام اب تک رائج ہے۔ یہ پاکستان کے چترال، دیر، سوات اور آگے نکل کر افغانستان کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ چترال اور ہندوکش پامیر کے مجمع الجبال کے مغربی کونے سے نکل کر مغرب اور جنوب میں چترال کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس کا مرکزی سلسلہ بروغیل سے شروغ ہوکر دوراہ کے مقام پر افغانستان میں جا نکلتا ہے۔ بروغیل میں اس کی اونچائی کم ہے لیکن آگے اس کی بلندی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی چوٹیاں 6000 میٹر سے 8500 میٹر تک اور اس سے بھی زیادہ بلندی پر واقع ہیں۔ یہ مرکزی سلسلہ چترال کو واخان اور زیباک سے جدا کرتا ہے اور واٹر شیڈ سرحد کا کام دیتا ہے۔

مرکزی سلسلے کے علاوہ یہ کئی ایک شاخوں میں منقسم ہے جو مندرجہ ذیل ہیں،
1۔قاقلشٹ شاخ: مرکزی سلسلہ جب بروغیل سے جنوب مغرب کی طرف درہ کان خون تک آتا ہے تو یہاں اس سے ایک شاخ جنوب مغرب کی طرف نکل کر تحصیل مستوج اور تحصیل تورکھوہ کے درمیان سے گزر کر قاق لشٹ کے مقام پر میدان میں تبدیل ہوتی ہے اور دریائے مستوج اور دریائے تورکھو کے سنگھم پر آکر ختم ہوتی ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا 100 کلو میٹر اور مختلف مقامات پر پہاڑوں کی بلندی 5000 میٹر سے 5200 میٹر تک ہے۔
2۔ تریچ ملکھو شاخ: یہ شاخ تریچ میر کی چوٹی (7690 میٹر) کی شمال کی طرف مرکزی سلسلے سے نکلتی ہے اور جنوب کی طرف آکر شمال کی طرف مڑتی ہوئی موڑکہو اور تریچ کی وادیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے اور دریائے تورکھو اور دریائے تریچ کے مقامِ اتصال پر آکر ختم ہوتی ہے۔ اس کی ایک اور شاخ بروم ریری سے جنوب مغرب کی طرف مڑتی ہے اور دریائے مستوج کی دائیں طرف کے دیہات اور اوژور ویلی کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہوئی دریائے مستوج اور دریائے لوٹکھو کے سنگھم ہر آکر ختم ہوتی ہے۔

3۔ ارکاری لٹکہو شاخ: یہ شاخ مرکزی سلسلے سے نکلتی ہے اور جنوب مشرق کی طرف ارکاری اور لٹکہو کی وادیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ اس کی لمبائی 33 کلومیٹر اور پہاڑوں کی بلندی 1208میٹر سے 1765 میٹر تک ہے۔
4۔ نورستان لٹکہو شاخ: درہِ دوراہ سے چند کلومیٹر جنوب کی طرف یہ شاخ مرکزی سلسلے سے نکل کر لٹکہوہ اور نورستان کی وادیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے اس کی لمبائی تقریبا 181 کلومیٹر اور پہاڑوں کی اونچائی 465 میٹر سے 1672 میٹر سے 1672 میٹر تک ہے۔

ارسون کے مقام پر ایک اور شاخ اس سے ملتی ہے اور آگے دریائے چترال اور دریائے بشگال کے سنگھم پر آکر ختم ہوتی ہے۔
5۔ موشابار یا شندور شاخ: وادی بروغیل کے مشرق میں جو طویل اور بلند شاخ کوہ ہندوکش سے جنوب مغرب کی طرف نکلتی ہے اسے موشابار یا شندور کا نام دیا گیا ہے۔ یہ شاخ مستوج آکر جنوب کی طرف مڑتی ہے اور شندور پہنچ کر ایک اور شاخ ہندوراج میں ضم ہوتی ہے۔
6۔ ہندوراج شاخ: یہ ہندوکش ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے جسے کرنل ٹینر نے ہندوراج کا نام دیا۔ اونچی پہاڑوں کا یہ سلسلہ مستوج میں دریائے لاسپور کے جنوب سے شروع ہوتا ہے اور یہاں سے جنوب کی طرف
شندور کے مقام پر شندور شاخ اس سے آکر ملتی ہے اور
پھر تسلسل کے ساتھ آگے نکل کر چترال کو پنچکوڑہ کوہستان، دیر اور براول سے جدا کرتی ہے۔
شروع میں اس کی بلندی 6706 میٹر ہے جو جنوب کی طرف کم ہوتے ہوئی لواری پہاڑ پر 4268 میٹر رہ جاتی ہے۔
شکریہ.

01/03/2022

OGSA DINNER AND GENERAL BODY MEETING,2022

Address

University Of The Punjab
Lahore
54590

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Centre For Integrated Mountain Research - CIMR, P.U, Lhr. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Centre For Integrated Mountain Research - CIMR, P.U, Lhr.:

Share