وحشت

وحشت A travel And Tour Agency

07/11/2018

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا
یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا

گرفتار وفا رونے کا کوئی ایک موسم رکھ
جو نالہ روز بہہ نکلے وہ برساتی نہیں ہوتا

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

تمہیں دل میں جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے
جو مرکز میں ٹھہر جائے مضافاتی نہیں ہوتا

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

افضل خان

05/11/2018

کیوں دیا دل اس بت کمسن کو ایسے وقت میں

دل سی شے جس کے لیے بس اک کھلونا ہے ابھی

ایسی یادوں میں گھرے ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں

اور کتنا وقت ان یادوں میں کھونا ہے ابھی

منیر نیازی

05/11/2018

شہر والوں کو کیا خبر کہ کوئی
کونسے موسموں میں زندہ ہے
کہوں نہ دنیا میں اپنی ہو وہ مگن
اس نے کب آسمان دیکھا ہے
صغیر ملال

05/11/2018

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم
ذوالفقار عادل

02/09/2017
25/08/2017

خواہشات تو سبھی کے دل میں ہوتی ہیں سب ان کی تکمیل چاہتے ہیں ۔لیکن دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ ان تک رسائی کے لیے کون سا راستہ جاتا ہے ۔ اسی راستے کے انتخاب میں تو انسان کا پتہ چلتا ہے ۔ اسی راستے میں انسان کی بڑائی یا اس کا چھوٹا پن چھپا ہے ۔ پتہ چلتا ہے کہ وہ سونے کا ہے یا پیتل کا ۔ ہیرو بھی ہیروئن تک پہنچنا چاہتا ہے اور ویلن بھی ۔صرف راستے کے انتخاب سے ایک ہیرو ٹھہرتا ہے اور دوسرا ویلن ۔
#آپا بانو قدسیہ *فٹ پاتھ کی گھاس" سےاقتباس

بشکریہ : حلقہ اہل ذوق
11/08/2017

بشکریہ : حلقہ اہل ذوق

21/07/2017

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی
کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں
شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول
اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں
پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی
ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں
یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن
پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں
اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑاتی ہے ہوا
منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں
کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ
سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں
ہیں.
سلیم کوثر

27/05/2017

لہجے کو نرم رکھ کے سخن کر ،یہ دشت ہے
وحشی سے بد تمیزی نہ کر ،مار کھائے گا
علی زریون

06/02/2017

جانے کیا واقعہ ہے ہونے کو
جی بہت چاہتا ہے رونے کو
-جون ایلیا

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when وحشت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to وحشت:

Share

Category