26/05/2026
دیوسائی کے وسیع میدانوں میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں پہنچ کر انسان کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔ اس جگہ کو کالا پانی کہا جاتا ہے۔ یہ مقام Deosai Plains کے اندر واقع ہے اور زیادہ تر لوگ اس راستے سے گزرتے ہیں جو Skardu کو دیوسائی کے میدانوں سے جوڑتا ہے۔
کالا پانی دراصل ایک چھوٹا سا دریا اور چشموں کا سلسلہ ہے۔ اس پانی کا رنگ دور سے کچھ گہرا اور سیاہ سا دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے مقامی لوگوں نے اسے کالا پانی کہنا شروع کر دیا۔ حقیقت میں پانی بالکل صاف اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ اردگرد کی سیاہ مٹی، پتھروں اور گہرے سایوں کی وجہ سے ایسا نظر آتا ہے۔
جب گرمیوں میں برف پگھلتی ہے تو دیوسائی کے میدانوں میں بے شمار چھوٹے دریا اور نالے بہنے لگتے ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ کالا پانی بھی ہے۔ اس کے کناروں پر نرم سبز گھاس ہوتی ہے۔ دور دور تک پھیلے میدان، ٹھنڈی ہوا اور خاموش فضا ایک عجیب سا سکون پیدا کرتی ہے۔ بعض اوقات یہاں جنگلی پھول بھی کھلے ہوتے ہیں اور ان کے رنگ اس سنسان وادی میں زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔
مسافر جب اس مقام پر رکتے ہیں تو عموماً کچھ دیر کے لیے گاڑی سے اتر کر پانی کے کنارے بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھوتی ہے، اوپر نیلا آسمان ہوتا ہے اور چاروں طرف دیوسائی کی خاموش وسعت۔ اس لمحے انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت اپنے راز آہستہ آہستہ کھول رہی ہو۔
کالا پانی کا علاقہ جنگلی حیات کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ دیوسائی میں کبھی کبھار ہمالیائی بھورا ریچھ بھی دیکھا جاتا ہے، اسی لیے مسافروں کو احتیاط کے ساتھ سفر کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس پورے خطے کو Deosai National Park کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں قدرتی حسن اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔
اگر کوئی شخص دیوسائی کا سفر کرے تو کالا پانی اس کے راستے کی ایک خاموش مگر یادگار منزل بن جاتا ہے۔ یہاں کی خاموشی، ٹھنڈا پانی اور چاروں طرف پھیلی قدرت کی شان انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کتنی وسیع اور حیران کن ہے۔
Travel With Zayn