Beautiful Pakistan

Beautiful Pakistan ® Official Public Page █║▌│█│║▌║││█║▌│║█║▌ Beautiful Pakistan Public Page ®
(432)

Pakistan Zindabad
14/08/2025

Pakistan Zindabad

پرانے زمانے کا فریج جو بجلی کے بغیر چلتا تھا۔
25/07/2025

پرانے زمانے کا فریج جو بجلی کے بغیر چلتا تھا۔

"رنگ باز لاہوری"کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟چلیئے آپکو بتاتے ہیں!شہنشاہ اکبر اور شاہ جہ...
18/07/2025

"رنگ باز لاہوری"
کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور والوں کو *"رنگ باز"* کیوں کہتے ہیں؟

چلیئے آپکو بتاتے ہیں!

شہنشاہ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی تھا۔ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی منڈی قائم کی۔
یہ منڈی اکبر کے نام پر *اکبری منڈی* اور اس سے ملحق علاقہ *رنگ محل* کہلایا۔ لاہور کے مضافاتی علاقے موجودہ *ساہیوال* میں میلوں نیل کے پودے تھے۔ اسی نسبت سے اسے آج بھی *نیلی بار* کہتے ہیں. لوگ نیل کے پودوں کا عرق نکالتے، بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکاتے، اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں۔ پھر ٹوکریوں اور بوریوں میں بھر کر اکبری منڈی پہنچ کر بکتیں۔

پھر یہ وہاں سے بمبئی اور کولکتہ کے فرانسیسی اور اطالوی تاجر انہیں خرید لیتے۔ بحری جہازوں میں بھر کر یہ نیل اٹلی کے ساحلی شہر *جینوا* پہنچ جاتا۔ یہ سویٹزرلینڈ کا شہر Geneva نہیں بلکہ اٹلی کا قدیم شہر Genova ھے۔جینووا نامی شہر فرانسیسی شہر *نیم*، کے قریب تھا۔ نیم شہر *ڈی نیم* بھی کہلاتا ہے جہاں ہزاروں کھڈیاں لگی تھیں۔ ان پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا جو *سرج* کہلاتا تھا۔ کپڑا بن کر پھر جینووا پہنچتا جہاں گورے اس پر لاہوری نیل کا رنگ چڑھاتے، کپڑا نیلا ہو جاتا تھا. پھر یہ کپڑا درزیوں کے پاس پہنچتا، درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پتلونیں سیتے. وہ پتلونیں بعد ازاں جینووا شہر کی وجہ سے *جینز* کہلانے لگیں۔

جینز پتلونیں دنیا بھر میں مشہور ہو گئیں۔ ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو بھی *ڈی نیم* کہنا شروع کر دیا۔ ڈی نیم آہستہ آہستہ *’’ڈینم‘‘* بن گیا۔ جبکہ جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہو کر ڈینم جینز بن گئے۔

جینز کے تین عناصر تھے،
1۔ ڈی نیم کا کپڑا،
2۔ لاہور کا نیل اور
3۔ جینوا کے درزی۔
مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو جینز نہ بن سکتی تھی۔ اگر بنتی بھی تو کم از کم نیلی نہ ہوتی. جینز کا نیلا پن لاہور کی بدولت تھا۔ آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا۔ گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے۔ یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا۔

فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ڈچ نیل خریدنے کے لئے ہندوستان آتے تھے۔ برطانوی افیون پینے کے لئے آتے تھے مگر پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا۔ لیکن یہ بہت بعد کی باتیں ہیں۔ ابھی اس دور کی بات ہے جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا۔ تب یہ پاک و ہند میں لاہوری یا انڈیگو کہلاتا تھا۔ یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جینوا پہنچتا، جینز کا حصہ بن کر ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔

پھر لاہور کے نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا تو یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا۔ یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔ نیل لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی *رنگ باز* ہیں۔ لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا۔

ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی. فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا۔ جیسے پتنگ بنانے والے پتنگ باز، کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز اور اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے *رنگ باز* ہو گئے۔ چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو *’’رنگ باز‘‘* کہنے لگے۔ اس زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا *لاہور رنگ باز* ہو گیا اور یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ھے۔

درج ذیل میں حوالہ جات اور ماخذ دیے جا رہے ہیں جو (نیل، لاہور کی رنگ سازی، اکبری منڈی، اور انڈیگو کی برآمدات وغیرہ) سے متعلق ہیں۔

1. William Foster, The English Factories in India 1618–1669, Oxford University Press.
ولیم فوسٹر کی یہ کتاب انگریز تاجروں کی ہندوستان میں موجودگی اور تجارت کی ابتدائی دستاویزی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس میں لاہور اور دیگر مغلیہ شہروں میں انڈیگو (نیل) کی تجارت کا بار بار ذکر ملتا ہے۔

2. Irfan Habib, An Atlas of the Mughal Empire, Oxford University Press, 1982.
عرفان حبیب کی اس مستند کتاب میں مغلیہ دور کے تجارتی مراکز اور صنعتوں کی نقشہ جاتی تفصیل دی گئی ہے، جن میں لاہور، ملتان اور کمالیہ کی نیل کی پیداوار اور برآمد کا ذکر شامل ہے۔

3. Muzaffar Alam, The Crisis of Empire in Mughal North India, Oxford University Press.
مظفر عالم کی تحقیق کے مطابق لاہور، دہلی، آگرہ، اور بنگال انڈیگو اور ٹیکسٹائل کے بڑے مراکز تھے۔ اس میں نیل کی برآمدات اور مقامی صنعت کا بھی تجزیہ موجود ہے۔

4. Jean-Baptiste Tavernier, Travels in India, 1676
فرانسیسی سیاح ٹاورنیئر نے اپنے سفرنامے میں مغلیہ ہندوستان کی نیل، کھدر، اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے، خاص طور پر لاہور کے رنگ سازوں اور نیل کی برآمد کا۔

5. Sir Thomas Roe’s Embassy to the Mughal Court (1615–1619).
سر تھامس رو کی مغلیہ دربار میں سفارتی رپورٹ میں انگریز تاجروں کے نیل اور کپڑے کی تجارت سے متعلق اہم معلومات شامل ہیں۔ لاہور کا بطور نیل کی منڈی ذکر موجود ہے۔

6. Richard M. Eaton, The Rise of Islam and the Bengal Frontier, 1204–1760, University of California Press.
اگرچہ یہ کتاب بنیادی طور پر بنگال پر ہے، مگر انڈیگو انڈسٹری کے جنوبی ایشیا میں پھیلاؤ، اور مغل سلطنت میں نیل کے اہم تجارتی مراکز (لاہور، ملتان، بنگال) کا ذکر اس میں تفصیل سے موجود ہے۔

7. Punjab District Gazetteers (British India), Lahore District, 1904.
برطانوی دور کے پنجاب گزٹیئر میں لاہور کی انڈیگو رنگ سازی، بازارِ اکبری، رنگ محل اور نیل کی مقامی صنعت کا واضح ذکر ملتا ہے۔

یہ تاریخی تصویر مشہور کراچی بیکری کی ہے، جو غالباً 1950 یا 1960 کی دہائی میں حیدرآباد دكن ، بھارت میں اس کے ابتدائی سالو...
28/05/2025

یہ تاریخی تصویر مشہور کراچی بیکری کی ہے، جو غالباً 1950 یا 1960 کی دہائی میں حیدرآباد دكن ، بھارت میں اس کے ابتدائی سالوں کے دوران لی گئی تھی
کراچی بیکری 1953 میں حیدرآباد، بھارت میں قائم ہوئی، جسے خانچند رمنانی نامی ایک سندھی ہندو مہاجر نے شروع کیا، جو تقسیمِ ہند 1947 کے دوران کراچی (اب پاکستان) سے ہجرت کر کے بھارت آئے تھے۔
اس بیکری کا نام "کراچی" اس شہر کے لیے ایک یادگار خراجِ عقیدت کے طور پر رکھا گیا تھا، جو بانی کا آبائی شہر تھا۔
کراچی بیکری جلد ہی تقسیم سے متاثرہ ہزاروں سندھی مہاجرین کے لیے ایک ثقافتی پل بن گئی، جو پرانی یادوں اور نئی زندگیوں کے بیچ جُڑاؤ کا ذریعہ بنی۔
کراچی بیکری نہ صرف اپنی مشہور فروٹ بسکٹ اور کیک کے لیے جانی جاتی ہے، بلکہ یہ تقسیم کے دور کی ہجرت، حوصلے اور نئی شروعات کی علامت بھی ہے۔

وقت کے ساتھ، کراچی بیکری ایک قومی سطح کا برانڈ بن چکی ہے، لیکن حیدرآباد میں اس کی اصل دکان آج بھی ایک تاریخی ورثے کے طور پر قائم ہے۔
یہ تصویر صرف ایک دکان کی نہیں، بلکہ یہ تقسیم کے دور کی میراث، مہاجرین کی جدوجہد، اور برصغیر کے ثقافتی تسلسل کی ایک زندہ علامت ہے۔
لیکن افسوس حال ہی میں کراچی بیکری کو ایک پُرتشدد ہجوم نے نشانہ بنایا، صرف اس وجہ سے کہ اس کا نام "کراچی" ہے۔ شمس آباد برانچ کے سائن بورڈ کو نقصان پہنچایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ بیکری اپنا نام تبدیل کرے۔
یہ نام صرف ایک یادگار ہے ایک بچھڑی ہوئی مٹی کی خوشبو، نہ کہ کسی سیاسی وابستگی کی علامت۔

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔دن میں اسکول جاتے تھے...
23/05/2025

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔

گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.

پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔

تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔

وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔

ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔

اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"

کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟

پنجابی / دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ :1- چیت/چیتر (بہار کا موسم)2- بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، ملا جلا) 3- جیٹھ...
16/05/2025

پنجابی / دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ :
1- چیت/چیتر (بہار کا موسم)
2- بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، ملا جلا)
3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ)
4- ہاڑ/اساڑھ/آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز)
5- ساون/ساؤن/وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون)
6۔ بھادوں/بھادروں/بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں)
7- اسُو/اسوج/آسی (معتدل)
8- کاتک/کَتا/کاتئے (ہلکی سردی)
9۔ مگھر/منگر (سرد)
10۔ پوہ (سخت سردی)
11- ماگھ/مانہہ/کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند)
12- پھاگن/پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا آغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کو پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

1: 14 جنوری۔۔۔۔۔۔۔ یکم ماگھ
2: 13 فروری۔۔۔۔۔۔۔ یکم پھاگن
3: 14 مارچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم چیت
4: 14 اپریل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم بیساکھ
5: 14 مئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم جیٹھ
6: 15 جون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم ہاڑ
7: 17 جولائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم ساون
8: 16 اگست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم بھادروں
9 : 16 ستمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم اسوج
10: 17 اکتوبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم کاتک
11: 16 نومبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم مگھر
12: 16 دسمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم پوہ

پنجابی دیسی کیلنڈر میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے. ان پہروں کے نام درج ذیل ہیں ۔
1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

6۔ کفتاں ویلا:
رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

7۔ ادھ رات ویلا:
رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

8۔ سرگی/اسور ویلا:
صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت ۔۔۔

Muslim Bus Service - Awan Bus Service - Peshawar to Sargodha - Sargodha to Peshawarسرگودھا سے پشاور براستہ اٹک - مسلم بس...
17/04/2025

Muslim Bus Service - Awan Bus Service - Peshawar to Sargodha - Sargodha to Peshawar

سرگودھا سے پشاور براستہ اٹک - مسلم بس سروس و اعوان بس سروس

ستر ، اسی اور نوے ( شاید اس سے پہلے بھی ) کی دہائی میں سرگودھا سے پشاور براستہ اٹک یہ دو بس سروس چلتی تھیں اور انکی بسیں یہ تصویر والی بیڈفورڈ ہوتی تھیں . سفید بونٹ والی اعوان بس اور نیلے بونٹ والی مسلم بس . اعوان بس سروس تو کافی پہلے ختم ہو گئی تھی اور مسلم بس سروس والے آہستہ آہستہ منی بس ( مزدا بس ) پے شفٹ ہو گئے

پتا نہیں آجکل اس روٹ پے مسلم ہے یا نہیں کیونکہ موٹروے اور سی پیک کے بعد کافی روٹ ختم ہو گئے ورنہ ایک دور میں پشاور سے اٹک اور اٹک سے پشاور لوگوں کا پہلا انتخاب مسلم اور اعوان بس ہی تھے . خصوصی طور پے انکا ٹائم پے چلنا اور پہنچنا ( بغیر سواری کی تعداد کی پرواہ کے ) اور عید وغیرہ پے بھی موجود ہونا لوگوں میں کافی مقبول تھا

سرگودھا سے پشاور براستہ اٹک
پشاور سے سرگودھا براستہ اٹک

Sargodha to Peshawar via Attock
Peshawar to Sargodha via Attock
Muslim Bus Service
Awan Bus Service
Pakistani Old Buses
Pakistani Bus Art

01/04/2025

پاکستانی خوبصورت اور باصلاحیت لوگ ہیں ۔۔ راہ جاتے ایک دوسرے کے ساتھ دل کے بھید کھولنے والے کچھ لمحات کیمرے نے ریکارڈ کر لئے ۔ ۔ 25 سیکنڈز کے بعد گانے والے صاحب نے کمال کر دیا ۔۔ اور محبت کے سفر کو چند مختصر لمحات میں بیان کر دیا ۔۔
بشکریہ محمود اسلم صاحب
عماد میر صاحب کے اندر یہ چھپا ٹیلنٹ میں پہلے نہیں دیکھ پایا ہم دونوں ماضی میں کچھ وقت اکٹھے ساتھ پڑھتے رہے ہیں

اسلامی طریقے سے چاند دیکھنے کیلئے بنائی گئی مسجد جو سندھ میں موجُود ہے ۔سندھ کے قدیم شہر محراب پُور کے علاقے ہالانی گیا ...
30/03/2025

اسلامی طریقے سے چاند دیکھنے کیلئے بنائی گئی مسجد جو سندھ میں موجُود ہے ۔

سندھ کے قدیم شہر محراب پُور کے علاقے ہالانی گیا تو وہاں ایک قدیم مسجد جسے غلام عبد النبی کلہوڑو نے 350 سال پہلے تعمیر کروایا تھا اِس کے محراب میں دائیں اور بائیں جانب دو چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں پرانے دور میں اُن کھڑکیوں سے ایک میں 29 کا چاند اور دُوسری کھڑکی سے 30 کا چاند دیکھا جاتا تھا کہتے ہیں کہ جیسے ہی مغرب کے وقت آپ اُن کھڑکیوں کی سیدھ میں دیکھیں گے تو فوراً چاند دکھائی دینے لگتا ہے ، آپ کو اپنی نظر بھٹکانے کی ضرُورت نہیں ہوتی ۔
اُسی دو چھوٹے محرابوں کی وجہ سے اُس مسجد کو محراب والی مسجد کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔

تازہ ترین صُورت حال کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کے سینکڑوں ملازمین کا سالانہ خرچہ کروڑوں روپے ہوتا ہے۔ ( منقول(

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beautiful Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share