Saher Al-Mashriq

Saher Al-Mashriq We are Pakistan based Travel / Tourism and HR Consultancy firm. We are also opearating in UAE as a Tr

پرویز ونڈال صاحب کی نظر میں ہڑپہ: ایک عظیم، پُرامن اور نظرانداز تہذیبلاہور کے شاہی قلعہ میں واقع اکبری محل قطب خانہ اینڈ...
09/05/2026

پرویز ونڈال صاحب کی نظر میں ہڑپہ: ایک عظیم، پُرامن اور نظرانداز تہذیب
لاہور کے شاہی قلعہ میں واقع اکبری محل قطب خانہ اینڈ آرکائیوز میں چند روز قبل ہڑپہ تہذیب کے تناظر میں لاہور کے تاریخی اور تہذیبی ماخذ پر ایک نہایت فکر انگیز نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ اس نشست میں معروف محقق اور ماہرِ آثارِ قدیمہ پرویز ونڈال نے گفتگو کرتے ہوئے نہ صرف ہڑپہ تہذیب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی بلکہ برصغیر کی علمی، تہذیبی اور معاشی تاریخ کے کئی ایسے پہلو سامنے رکھے جن پر آج سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ نشست محض تاریخ کا بیان نہیں تھی بلکہ اپنے علمی وجود، تہذیبی شناخت اور تاریخی شعور پر غور و فکر کی دعوت بھی تھی۔
ہڑپہ تہذیب، جسے دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں شمار کیا جاتا ہے، محض کھنڈرات، اینٹوں یا برتنوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فکری اور سماجی نظام کی نمائندہ تہذیب تھی۔ وادیٔ سندھ تہذیب کے لوگ منظم شہری زندگی، تجارت، صفائی، منصوبہ بندی اور برداشت جیسے اوصاف سے مزین تھے۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ کی گلیاں آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ہزاروں سال قبل یہاں ایک ایسی سوسائٹی موجود تھی جو نظم و ضبط، تہذیب اور انسان دوستی میں اپنے وقت سے بہت آگے تھی۔
نشست کے دوران ایک نہایت اہم جغرافیائی اور تجارتی پہلو بھی زیرِ بحث آیا، جس نے وادیٔ سندھ اور موجودہ پاکستان کے خطے کی تاریخی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے میں مدد دی۔ پرویز ونڈال صاحب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ برصغیر خصوصاً وادیٔ سندھ کا خطہ قدیم زمانے سے عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا، اور اس کی بنیادی وجہ اس خطے کا قدرتی جغرافیہ تھا۔ بحیرۂ عرب سے لے کر شمالی پنجاب تک تقریباً بارہ سو کلومیٹر کا وسیع میدان ایسا تھا جہاں تجارت اور سفر کے لیے کوئی بڑی قدرتی رکاوٹ جیسے بلند پہاڑی سلسلے، دشوار گزار چٹانی علاقے یا گھنے جنگلات حائل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ خطہ قدیم دنیا کے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کراچی کے ساحلی علاقوں سے اندرونِ ملک سفر محض زمینی قافلوں تک محدود نہیں تھا بلکہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا ایک مربوط آبی نظام بھی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔ سمندری ہواؤں کے رخ اور موسمی دباؤ کی مدد سے بحیرۂ عرب سے جہاز اور کشتیاں نسبتاً آسانی سے شمال کی جانب سفر کر سکتی تھیں، جبکہ واپسی میں دریائی بہاؤ جنوب کی سمت سامان کی ترسیل کو سہل بناتا تھا۔ گویا قدرتی جغرافیہ، موسمی ہوائیں اور دریائی نظام مل کر اس خطے کو ایک فطری تجارتی راہداری میں تبدیل کر دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وادیٔ سندھ تہذیب محض ایک زرعی یا شہری تہذیب نہیں تھی بلکہ ایک متحرک تجارتی معیشت بھی رکھتی تھی، جس کے روابط میسوپوٹیمیا، خلیجی علاقوں اور وسط ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ نکتہ اس تصور کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ ہڑپہ تہذیب کی ترقی محض اتفاقی نہیں تھی بلکہ اس کے پسِ پشت ایک نہایت موزوں جغرافیہ، قدرتی وسائل، آبی گزرگاہیں اور منظم تجارتی ڈھانچہ موجود تھا۔
اسی تناظر میں پرویز ونڈال صاحب نے برصغیر کی معاشی طاقت کے حوالے سے ایک نہایت اہم تاریخی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ آج امریکہ دنیا کی مجموعی معیشت یا عالمی جی ڈی پی میں تقریباً پچیس فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ مغلیہ دور میں برصغیر کا عالمی تجارت اور معیشت میں حصہ تقریباً سینتیس فیصد تھا۔ یہ محض ایک عددی تقابل نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ برصغیر کبھی دنیا کے خوشحال ترین اور معاشی طور پر مضبوط ترین خطوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی زراعت، صنعت، دستکاری، ٹیکسٹائل، دھات کاری اور بین الاقوامی تجارت نے اسے عالمی معیشت کا مرکز بنا رکھا تھا۔
انہوں نے نہایت معنی خیز انداز میں کہا کہ فرنگی اس خطے میں کسی خیر خواہی یا تہذیب سکھانے کے جذبے کے تحت نہیں آئے تھے بلکہ اس سرزمین کی دولت، وسائل اور معاشی طاقت انہیں یہاں کھینچ لائی تھی۔ دنیا کی استعماری قوتیں ہمیشہ انہی خطوں کا رخ کرتی ہیں جہاں وسائل، تجارت اور دولت موجود ہو۔ کوئی طاقت بھوک اور افلاس میں ڈوبے ہوئے معاشروں پر اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے سمندر عبور نہیں کرتی۔ برصغیر کی خوشحالی ہی دراصل استعمار کی توجہ کا اصل مرکز تھی، اور یہی خوشحالی بعد ازاں نوآبادیاتی استحصال کا سبب بنی۔
پرویز ونڈال صاحب نے دورانِ گفتگو ایک نہایت تلخ مگر حقیقت پر مبنی نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ برصغیر کے محققین کو اپنی تحقیق منوانے کے لیے مغرب کی سند درکار ہوتی ہے۔ اگر یہی تحقیق کسی مغربی ادارے یا اسکالر کے نام سے سامنے آئے تو فوراً اسے علمی وقعت حاصل ہو جاتی ہے، مگر مقامی محققین کی برسوں کی محنت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ یہ صرف علمی ناانصافی نہیں بلکہ ایک فکری غلامی کی علامت بھی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے اپنے ادارے بھی اسی ذہنی غلامی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان بھی اکثر اپنی جامعات اور مقامی محققین کی نسبت غیر ملکی جامعات کی ڈگریوں اور تحقیقی حوالوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف مقامی تحقیق کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ نوجوان محققین میں احساسِ کمتری بھی پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ ہڑپہ، ٹیکسلا، گندھارا اور لاہور جیسے خطے خود ایک زندہ علمی سرمایہ ہیں۔ یہاں کی مٹی میں ہزاروں برس کی تہذیب دفن ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی زمین کے علم پر یقین کرنے کے بجائے بیرونی تصدیق کے منتظر رہتے ہیں۔ علمی خود اعتمادی کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب تک ہم اپنے محققین اور اداروں پر اعتماد نہیں کریں گے، تب تک فکری آزادی ممکن نہیں۔
نشست کا ایک اور اہم پہلو برصغیر کی قدیم تہذیبوں کے امن پسند مزاج سے متعلق تھا۔ پرویز ونڈال صاحب نے کہا کہ ہڑپہ تہذیب میں قتل و غارت کے شواہد نہایت کم ملتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ میں جنگی ہتھیاروں، قلعہ بندیوں یا اجتماعی تباہی کے آثار بہت محدود ہیں۔ اس کے برعکس تجارت، رہائش، نکاسیٔ آب، اناج کے ذخائر اور دستکاری کے شواہد زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس خطے کے لوگ تجارت پیشہ، روادار اور پُرامن مزاج رکھتے تھے۔ وہ طاقت کے اظہار کے بجائے باہمی تعاون اور شہری نظم پر یقین رکھتے تھے۔
آج جب دنیا تشدد، مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، ہڑپہ تہذیب ہمیں ایک مختلف راستہ دکھاتی ہے۔ یہ تہذیب ہمیں بتاتی ہے کہ معاشروں کی اصل ترقی جنگوں سے نہیں بلکہ علم، تجارت، برداشت اور اجتماعی نظم سے ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود ہڑپہ آج بھی دنیا کے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز ہے۔
لاہور، جو خود صدیوں کی تہذیبی پرتوں پر کھڑا ایک شہر ہے، ہڑپہ تہذیب کے اس فکری تسلسل کا اہم حصہ محسوس ہوتا ہے۔ شاہی قلعہ کی فصیلوں میں بیٹھ کر جب ہڑپہ کا ذکر ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ماضی حال سے مکالمہ کر رہا ہو۔ یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ہماری اصل طاقت ہماری تہذیب، تاریخ اور علمی ورثے میں پوشیدہ ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنی مٹی کے علم کو پہچانیں، اپنے محققین کی قدر کریں اور اپنی تاریخ کو دوسروں کی آنکھ سے نہیں بلکہ اپنی بصیرت سے دیکھنا سیکھیں۔

عاطف اکرام
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور

سیاسی نظم سے فکری انتشار تک: ایک تربیتی نشست کا جائزہمیں نے چند روز قبل ایک سیاسی جماعت کے ماہانہ تربیتی پروگرام میں شرک...
11/01/2026

سیاسی نظم سے فکری انتشار تک: ایک تربیتی نشست کا جائزہ
میں نے چند روز قبل ایک سیاسی جماعت کے ماہانہ تربیتی پروگرام میں شرکت کی، جس میں جماعت کے اعلیٰ عہدیدار بطور مہمانِ خصوصی شریک تھے۔ اس نشست نے ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا کہ سیاسی جماعتوں کے تربیتی انداز، فکری سمت اور تنظیمی ڈھانچے کو محض وابستگی کے بجائے مشاہدے اور تجزیے کی بنیاد پر دیکھا جائے۔
سیاسی شعور کسی ایک لمحے یا تجربے میں تشکیل نہیں پاتا بلکہ وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزر کر پختہ ہوتا ہے۔ خاندانی ماحول ابتدائی تعارف فراہم کرتا ہے، تعلیمی دور سوال کرنے اور سننے کی عادت ڈالتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں مختلف سیاسی رویّوں اور جماعتی طرزِ عمل کا سامنا انسان کو موازنہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی موازنہ فکری پختگی کا اصل ذریعہ بنتا ہے۔
اسی تقابلی تناظر میں جب مختلف سیاسی جماعتوں کے نظم، بیانیے اور تربیتی ڈھانچوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔ بعض جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں فکر افراد کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، جبکہ اس جماعت میں تنظیمی نظم، نظریاتی تسلسل اور کارکن کی فکری تربیت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں نظم محض اطاعت کا نام نہیں بلکہ شعور، مکالمے اور اصولوں کی پاسداری سے جڑا ہوا ہے، جو اسے دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتا ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی قاری کے ذہن میں اس تحریر کو پڑھتے ہوئے کسی مخصوص جماعت کا نام آتا ہے تو یہ اس کے حسنِ ظرف کی دلیل ہے کہ اس نے بھی ان خوبیوں کو اس جماعت میں محسوس کیا۔ تاہم میرا مقصد ہرگز اس جماعت کا قصیدہ پڑھنا نہیں بلکہ اس تربیتی نشست میں ایک نہایت قابلِ احترام اعلیٰ عہدیدار کی تقریر میں موجود بعض ایسے نکات کی نشاندہی کرنا ہے جو میرے نزدیک تربیت کے بجائے فکری انتشار اور گمراہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
میں نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں اسی جماعت کے اس وقت کے قائدین اور عہدیداران کو تاریخ، سیاست اور ریاستی امور پر نہایت جامع، متوازن اور حقیقت پسندانہ گفتگو کرتے دیکھا ہے۔ اسی پس منظر میں حالیہ تقریر میں بعض نکات خاص طور پر توجہ طلب تھے۔
مثال کے طور پر مقرر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایوب خان نے کراچی کے بجائے اسلام آباد کو دارالحکومت بنا کر دانستہ طور پر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ مؤقف تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حقیقت یہ ہے کہ دارالحکومت کی منتقلی کے پسِ منظر میں کئی عملی اور انتظامی عوامل کارفرما تھے۔ کراچی ایک گنجان، تجارتی اور بندرگاہی شہر بن چکا تھا جہاں حکومتی امور، سفارتی سرگرمیوں اور ریاستی مہمان داری میں مشکلات درپیش تھیں۔ ایک دارالحکومت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نسبتاً پُرسکون، محفوظ اور انتظامی طور پر موزوں ہو۔ مزید یہ کہ راولپنڈی کے قریب ایک نئے دارالحکومت کا قیام دفاعی اور انتظامی ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری سمجھا گیا۔ ان تمام عوامل کو نظرانداز کر کے اس فیصلے کو محض کسی سازش سے جوڑ دینا تاریخ کو نعروں میں قید کرنے کے مترادف ہے۔
اسی تقریر میں کچھ مخصوص سیاسی بیانیے کی اصطلاحات مثلاً “جعلی اسمبلی”، “جعلی الیکشن” اور “فارم 47” کا بار بار استعمال کیا گیا۔ میرا اس پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ کسی سنجیدہ اصلاحی یا فکری بیانیے کو جنم نہیں دیتے بلکہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا طرزِ عمل معاشرے کو نظام سے متنفر کرتا ہے، اور بالآخر وہی صورتِ حال پیدا کرتا ہے جو ایک دور میں عوامی لیگ کے طرزِ سیاست میں دیکھی گئی، جہاں جماعتی مقاصد کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی اور ملکی یکجہتی کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی تناظر میں میرا ان سے سوال یہ تھا کہ جب ایوب خان کے دور میں عوامی لیگ کی انتخابی کامیابی کو متنازع بنانے کے لیے بعض امیدواروں کو نااہل قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا تو آپ کی جماعت نے اپنے امیدوار میدان میں کیوں اتارے؟ اس سوال کے جواب میں نہ صرف اس واقعے سے انکار کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں۔ بعد ازاں، ان کی تسلی کے لیے میں نے مستند تاریخی کتب کے حوالے اور امیدواروں کے نام واٹس ایپ پر ارسال کیے۔ اگرچہ انہوں نے یہ مواد دیکھا، مگر کسی قسم کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ ان کے رویے سے واضح تھا کہ وہ اس گفتگو کو آگے بڑھانا نہیں چاہتے۔
میں چونکہ زمانۂ طالب علمی سے سوال کرنے کا عادی رہا ہوں، اس لیے مجھے ہمیشہ تسلی بخش جواب کی تلاش رہی ہے۔ جہاں رہنمائی ملی وہاں احسان مند رہا، اور یہی فکری جستجو آئندہ بھی جاری رہے گی۔
میرا مقصد یہ نکتہ بھی واضح کرنا تھا کہ جن اداروں کو ہم عموماً سیاسی مداخلت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اکثر مواقع پر وہ سیاست دانوں کی باہمی ضد، عدم برداشت اور اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی و سماجی بحران کو سنبھالنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پہلی آئین ساز اسمبلی کی ناکامی، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شدید اختلاف، ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کا رویہ اور اقتدار کی ضد، یہ سب وہ عوامل تھے جنہوں نے ریاستی نظام کو کمزور کیا۔ تقریباً ہر دور میں ہمیں اسی نوعیت کی کہانیاں ملتی ہیں۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض ادوار میں مداخلت بلا جواز بھی ہوئی، خصوصاً ان مواقع پر جب ملک معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا تھا مگر ذاتی یا گروہی اختلافات کو بنیاد بنا کر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ایسے ادوار پر تنقید نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے، تاہم تمام مداخلتوں کو یکساں انداز میں دیکھنا تاریخی دیانت کے خلاف ہے۔
اسی گفتگو کے دوران مقرر نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ جب ایوب خان نے محمد علی جناحؒ سے ریاست پر حکومت کرنے کے حوالے سے بات کی تو قائداعظمؒ نے انہیں ڈانٹا اور واضح کیا کہ حکومت عوام کی ہو گی، فردِ واحد کی نہیں۔ بلاشبہ یہ واقعہ جمہوری اصولوں کی ایک روشن مثال ہے، مگر اس کے ساتھ ایک اہم حقیقت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ محمد علی جناحؒ اپنی غیر معمولی سیاسی قوت اور عوامی تائید کے باوجود خود یہ اعتراف کر چکے تھے کہ پاکستان کے قیام کے لیے انہیں بعض مواقع پر “کھوٹے سکوں” سے بھی کام لینا پڑا۔ یہ اعتراف کمزوری نہیں بلکہ عملی سیاست کی حقیقت پسندی کی علامت تھا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عظیم قیادت بھی عملی سیاست میں اس مجبوری کو تسلیم کرتی ہے تو ہم آج ہر اختلاف رکھنے والے کو محض “کھوٹا سکہ” کہہ کر مکمل طور پر مسترد کیوں کر دیتے ہیں؟ اور پھر جب سیاسی نظام شدید بحران کا شکار ہو جاتا ہے اور کوئی ادارہ مجبوری کے تحت مداخلت کرتا ہے تو وہی کھوٹے اور کھرے سکے اچانک ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ اس وقت کیوں اکٹھے ہو جاتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس سے پہلے کیوں اکٹھے نہیں ہوتے؟
حقیقت یہ ہے کہ مسلسل نفی، تضحیک اور “ہم بمقابلہ وہ” کے بیانیے نے سیاست میں مفاہمت کی گنجائش ختم کر دی ہے۔ اگر سیاست دان ابتدا ہی میں لچک، برداشت اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں تو نہ کھوٹے سکوں کو غیر ضروری اہمیت ملے اور نہ ہی کھرے سکوں کو بعد ازاں مجبوری میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے۔
آخر میں اس بحث کا نچوڑ یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنان کی تربیت گمراہ کن نظریات، جذباتی نعروں اور مبالغہ آمیز بیانیوں پر نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سوچ، دلیل کے ساتھ اختلاف اور فکری دیانت پر کرنی چاہیے۔ اختلاف کی بنیاد محض یہ نہیں ہونی چاہیے کہ سامنے والی جماعت کون سی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہونا اپنی جماعت کے کسی فیصلے میں کیا خامی یا بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
ایک بالغ سیاسی کارکن وہ ہوتا ہے جو اپنی جماعت کے ہر فیصلے کو اندھا دھند درست نہ سمجھے بلکہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر کسی پالیسی یا فیصلے پر تنقید کی گئی ہو اور بعد ازاں وہی جماعت اس پر نظرِ ثانی کر کے بہتر فیصلہ کر لے، تو اس مثبت تبدیلی کو سراہنا سیاسی بلوغت کی علامت ہے، نہ کہ کمزوری۔ ایسی صورت میں تنقید کو ختم کر دینا ہی فکری دیانت کا تقاضا ہوتا ہے۔
تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، تذلیل نہیں۔ اختلاف کا ہدف بہتری ہونا چاہیے، تصادم نہیں۔ جب سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کو یہ سکھائیں گی کہ اختلاف دشمنی نہیں بلکہ فہم کا ذریعہ ہے، اور یہ کہ درست قدم اٹھانے پر مخالف یا اپنی جماعت کی تعریف کرنا اخلاقی طاقت کی علامت ہے، تو وہی کارکن ایک صحت مند سیاسی کلچر کو جنم دیں گے۔
اگر ہم واقعی ایک مستحکم، باوقار اور جمہوری ریاست کے خواہاں ہیں تو ہمیں ایسے سیاسی کارکن درکار ہیں جو نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں، جو اختلاف کو فساد نہیں بلکہ فہم سمجھتے ہوں، اور جو اپنی جماعت سے وابستگی کے باوجود حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہی طرزِ فکر جماعتوں کو دیرپا وقار اور ریاست کو حقیقی استحکام فراہم کر سکتا ہے۔

The Crisis of Public Hospitals, Private Clinics, and Human ConductA young child of a close relative of mine fell ill. On...
03/01/2026

The Crisis of Public Hospitals, Private Clinics, and Human Conduct

A young child of a close relative of mine fell ill. On the surface, our country has some of the most modern public hospitals, equipped with expensive machinery, vast buildings, and all the necessary facilities. Yet despite this, public trust in these institutions continues to decline. The root cause of this mistrust is neither a lack of resources nor a shortage of medical knowledge; it lies in the staff’s attitude and the disorderly nature of the system.

For this reason, the child’s parents initially chose a private hospital instead of a public one. There, a relatively ordinary but influential doctor examined the child and, within a few days, recommended surgery. Eventually, after much insistence, the child was taken to a large public hospital. As a government officer, I too believed that treatment there would be better, safer, and more organized. Unfortunately, the outcome was deeply disappointing.

The same senior and experienced doctors who do not even bother to properly examine patients in public hospitals indirectly or sometimes quite openly push patients and their families toward their private clinics. At times, they cite overcrowding; at other times, they warn that treatment in public hospitals will take too long, files will circulate endlessly, and problems will multiply. Then, conveniently, a solution is offered: the private clinic, where “everything happens quickly,” albeit in exchange for hefty fees.

This raises some fundamental questions. The most important one is this: why do these senior doctors who undoubtedly hold influential decision-making positions within public hospitals not improve the treatment processes in their own institutions? If the same doctors can see patients, make diagnoses, and decide on treatment within hours at their private clinics, why is this efficiency impossible in public hospitals?

The truth is that the problem of public hospitals is not a lack of resources, but a lack of administrative will, clear priorities, and effective oversight. If senior doctors genuinely wished to, they could establish an efficient system: initial patient screening, proper triage to clearly distinguish between urgent and non-urgent cases, a time-based appointment system in outpatient departments, the elimination of unnecessary referrals and endless file movements, and clearly defined timelines for diagnostic tests. Junior doctors could be empowered with trust and limited decision-making authority, while senior doctors ensured their presence and supervision within public hospitals instead of lending their “name” only to private clinics. If all this is possible in the private sector, why should it be impossible in the public system?

Even more distressing than all of this, however, is the unethical and humiliating behavior often encountered. It must be said openly that complaints about a doctor’s rude and disrespectful attitude should not be directed only at governments, policies, or systems, but also at the parents who raised a child without teaching them how to speak politely to a patient, a father, or a mother. Manners, ethics, and kindness cannot be taught through government notifications; these values are instilled at home. When a highly educated, degree-holding professional forgets basic humanity while speaking to a patient, it reflects not merely professional failure, but a deep deficiency in upbringing.

Another serious question also arises: can money earned through such practices truly be considered lawful or ethical? When the helplessness of a desperate father, the fear of a mother, and the suffering of an innocent child are turned into a business model, it ceases to be a profession and becomes exploitation.

The most painful aspect is that those with resources somehow manage to reach private clinics. But what about the person who has no money, no connections, and no voice? Where does he go? He is left entirely at the mercy of public hospitals, where along with treatment for his illness, he often receives mental distress, humiliation, and further complications free of cost.

We frequently blame the system, but the reality is that systems are made up of people. When people become indifferent, even the most advanced machinery, magnificent buildings, and multi-billion-rupee projects lose all meaning.

The real question is this: as a society, can we not teach our children to be human beings before making them doctors? Can we not make them understand that a patient is not just a file or a case number, but a living, breathing human being? Or will we truly have to introduce separate courses in universities to teach basic manners, ethics, and empathy?

This question is not directed at doctors alone; it is for all of us. Because if we fail to hold such behavior accountable today, tomorrow we ourselves may be standing in the same line, silent, helpless, and powerless.

Atif Ikram

سرکاری ہسپتال، نجی کلینک اور انسانی رویّے کا بحرانمیرے ایک قریبی رشتہ دار کا کمسن بچہ ایک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ بظاہر...
29/12/2025

سرکاری ہسپتال، نجی کلینک اور انسانی رویّے کا بحران

میرے ایک قریبی رشتہ دار کا کمسن بچہ ایک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ بظاہر ملک میں جدید ترین سرکاری ہسپتال موجود ہیں، جہاں مہنگی مشینری، وسیع عمارات اور سہولیات کی کوئی کمی نہیں، مگر اس کے باوجود عوام کا ان اداروں پر اعتماد مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس عدم اعتماد کی بنیادی وجہ نہ وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی طبی علم کی، بلکہ عملے کا رویہ اور نظام کی بدنظمی ہے۔

اسی وجہ سے بچے کے والدین نے ابتدا میں سرکاری ہسپتال کا رخ کرنے کے بجائے ایک نجی ہسپتال میں علاج کروایا۔ وہاں ایک معمولی مگر بااثر ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور چند دن بعد آپریشن کا مشورہ دے دیا۔ بالآخر اصرار پر بچے کو ایک بڑے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔ بحیثیت سرکاری افسر میرا بھی یہی خیال تھا کہ یہاں بہتر، محفوظ اور منظم علاج ممکن ہوگا، مگر نتیجہ انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔

وہی سینئر اور تجربہ کار ڈاکٹر، جو سرکاری ہسپتال میں مریض کو دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے، مریض کے لواحقین کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے نجی کلینک آنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہاں بہت رش ہے، کبھی یہ باور کروایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں علاج میں بہت وقت لگے گا، فائلیں گھومیں گی، مسائل بڑھیں گے۔ اور پھر حل کے طور پر نجی کلینک پیش کیا جاتا ہے، جہاں “سب کچھ جلدی” ہو جاتا ہے، البتہ بھاری بھرکم فیس کے عوض۔

یہاں چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ سینئر ڈاکٹر صاحبان، جو یقیناً سرکاری ہسپتالوں میں فیصلہ سازی کے اختیار رکھنے والی اہم پوزیشنز پر فائز ہوتے ہیں، وہ اپنے ہی اداروں میں علاج کے طریقۂ کار کو بہتر کیوں نہیں بناتے؟ اگر وہی ڈاکٹر نجی کلینک میں محدود وقت میں مریض دیکھ سکتے ہیں، فوری تشخیص کر سکتے ہیں اور چند گھنٹوں میں علاج کا فیصلہ کر سکتے ہیں تو یہی کارکردگی سرکاری ہسپتال میں کیوں ممکن نہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی نیت، ترجیحات اور نگرانی کے فقدان کا ہے۔ اگر سینئر ڈاکٹر چاہیں تو ایک ایسا مؤثر نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں مریضوں کی ابتدائی اسکریننگ ہو، ٹرائی ایج کے اصول کے تحت فوری اور غیر فوری مریضوں کی واضح درجہ بندی کی جائے، او پی ڈی میں وقت کے مطابق اپائنٹمنٹ سسٹم متعارف ہو، غیر ضروری ریفرلز اور فائلوں کے چکر ختم کیے جائیں، اور ٹیسٹوں کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر ہو۔ جونیئر ڈاکٹروں کو اعتماد اور محدود فیصلہ سازی کا اختیار دیا جائے اور سینئر ڈاکٹر محض نجی کلینک کے “نام” کے بجائے سرکاری ہسپتال میں اپنی موجودگی اور نگرانی کو یقینی بنائیں۔ اگر نجی شعبے میں یہ سب ممکن ہے تو سرکاری نظام میں ناممکن کیوں؟

لیکن اس تمام بحث سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو غیر اخلاقی اور تحقیر آمیز رویہ ہے۔ یہاں یہ بات کھل کر کہنی چاہیے کہ ڈاکٹر کے بدتمیز اور غیر شائستہ رویے کا شکوہ صرف کسی حکومت، پالیسی یا نظام سے نہیں بلکہ اس کے والدین سے بھی ہونا چاہیے جنہوں نے اپنے بچے کی ایسی تربیت کی کہ اسے کسی مریض، کسی والد یا کسی ماں سے شائستگی سے بات کرنے کا سلیقہ ہی نہ آ سکا۔ تمیز، اخلاق اور نرم گفتاری کوئی سرکاری نوٹیفکیشن سکھا نہیں سکتا؛ یہ وہ قدریں ہیں جو گھر میں سکھائی جاتی ہیں۔ اگر ایک پڑھا لکھا، ڈگری یافتہ انسان مریض سے بات کرتے ہوئے انسانیت بھول جائے تو یہ اس کی پیشہ ورانہ ناکامی سے زیادہ تربیتی کمی کی علامت ہے۔

یہاں ایک اور نہایت سنجیدہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا اس طریقے سے کمائی جانے والی رقم واقعی حلال کہلانے کی مستحق ہے؟ جب کسی مجبور باپ کی بے بسی، کسی ماں کے خوف اور کسی معصوم بچے کی تکلیف کو کاروبار بنا لیا جائے تو یہ محض پیشہ نہیں رہتا، یہ استحصال بن جاتا ہے۔

اور سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ جو وسائل رکھتے ہیں، وہ تو کسی نہ کسی طرح نجی کلینک پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر وہ شخص جس کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ سفارش اور نہ ہی آواز، وہ کہاں جائے؟ وہ تو سرکاری ہسپتال کے رحم و کرم پر ہے، جہاں ایک بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت، تضحیک اور مزید پیچیدگیاں بھی مفت ملتی ہیں۔

ہم اکثر نظام کو کوستے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نظام انسانوں سے بنتا ہے۔ اگر انسان ہی بے حس ہو جائیں تو جدید مشینری، شاندار عمارات اور اربوں روپے کے منصوبے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت معاشرہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے سے پہلے انسان بنانا نہیں سکھا سکتے؟ کیا انہیں یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ مریض محض ایک فائل یا کیس نمبر نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے؟ یا پھر واقعی ہمیں یونیورسٹیوں میں تمیز، اخلاق اور ہمدردی کے لیے الگ سے کورس متعارف کروانا پڑے گا؟

یہ سوال صرف ڈاکٹروں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے اس رویّے کا محاسبہ نہ کیا تو کل ہم خود بھی اسی قطار میں کھڑے ہوں گے خاموش، مجبور اور بے بس۔
عاطف اکرام

محترم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ(جنت کے مکین)السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہاے بابائے قوم!ہمیں کامل یقین ہے کہ آپ اللہ ...
24/12/2025

محترم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ
(جنت کے مکین)

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اے بابائے قوم!
ہمیں کامل یقین ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت سے جنت کے کسی باغ کے مکین ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات مزید بلند فرمائے، آمین۔ آج آپ کی سالگرہ کے پُرمسرت موقع پر ہم آپ کو جنت کے اعلیٰ مقام سے مخاطب کر رہے ہیں۔ یہ خط محض الفاظ نہیں بلکہ ایک قوم کے دل کی آواز ہے، جو اپنے محسنِ اعظم کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ آپ کی جدوجہد، قربانیاں اور بصیرت رائیگاں نہیں گئیں۔

قائدِ اعظم!
آپ کی انتھک محنت، غیر متزلزل عزم اور بے مثال قیادت کے نتیجے میں حاصل ہونے والا یہ اسلامی وطن آج بھی قائم و دائم ہے۔ تاریخ کے کڑے امتحانات، اندرونی و بیرونی چیلنجز اور وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان نہ صرف زندہ ہے بلکہ بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا دیا ہوا وطن آج دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہے۔ محدود وسائل کے باوجود ہم نے اپنی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا اور بڑی عالمی طاقتوں کے مقابل کھڑے ہونے کی صلاحیت حاصل کی۔

قائدِ محترم!
یہ بھی عرض ہے کہ پاکستان کے عوام مجموعی طور پر ایک باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ مشکلات موجود ہیں، مگر قوم محنتی، باہمت اور پُرامید ہے۔ نظام میں رفتہ رفتہ بہتری آ رہی ہے، ادارے سیکھ رہے ہیں اور قومی شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چند عناصر ذاتی مفادات کی بنیاد پر مایوسی پھیلانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور ملک مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

قائدِ اعظم!
یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں، آپ کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ یہاں گرجا گھروں، مندروں اور دیگر عبادت گاہوں میں عبادت کی آزادی حاصل ہے، اقلیتوں کو آئینی تحفظ میسر ہے، وہ قومی زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور ریاستی اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ اس ریاستی فلسفے کا عملی اظہار ہے جس کی بنیاد آپ نے رکھی تھی کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے، اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر پاکستان تمام شہریوں کو بلا امتیاز برابر سمجھے گی، ان کے جان و مال، عقیدے اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست خود ادا کرے گی۔

اس کے برعکس، جیسا کہ آپ نے قیامِ پاکستان سے قبل واضح طور پر اندیشہ ظاہر کیا تھا، ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں آج اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو آئے روز امتیازی قوانین، مذہبی پابندیوں اور شدید سماجی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری، جن میں سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں، وہاں ایک غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ آپ کا پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود انہیں آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور ریاستی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

قائدِ اعظم!
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک کے مقابلے میں سماجی ہم آہنگی، مضبوط خاندانی اقدار اور باہمی رواداری کے اعتبار سے بہتر مقام رکھتا ہے۔ ہماری شناخت محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے وہی نظریہ جس کی بنیاد آپ نے ایمان، اتحاد اور نظم پر رکھی تھی۔

آخر میں، ہم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ یہ قوم آپ کے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ہماری رفتار مطلوبہ حد تک نہیں، مگر سمت وہی ہے جو آپ نے متعین کی تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی، اسلامی اور باوقار ریاست بنا سکیں۔

آپ کی سالگرہ کے موقع پر پوری قوم آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، ان شاء اللہ۔
آپ کا ممنون
ؑعاطف اکرام

History, Shame and PrideIn our society, history is too often presented not as a tool for understanding, but as a mechani...
23/12/2025

History, Shame and Pride
In our society, history is too often presented not as a tool for understanding, but as a mechanism for inculcating a sense of collective guilt. The Muslim periods of the Subcontinent, particularly the Mughal era, are frequently depicted as a prolonged narrative of decadence, decline and administrative incompetence. Students are led to believe that excessive luxury among these rulers paved the way for colonial subjugation. This enforced belief leaves the younger generation apologising for its past instead of appreciating its historical achievements.

Is the same standard applied to other nations? Are British students encouraged to feel a sense of shame for the East India Company’s worldwide plunder, mass violence and systematic appropriation of resources? Or are they instead presented with a narrative that frames their economy as strengthened through such plunder, without cultivating a collective sense of guilt over state‑sponsored violence and expropriation? In practice, history in the West is taught not through the lens of collective culpability, but in terms of state continuity, institutional power and national identity. While imperial atrocities may be acknowledged, they are rarely allowed to generate a sustained sense of inferiority.

The East India Company was not merely a commercial enterprise; it constituted one of the most systematically exploitative forces in history. It gained access to regions under the guise of trade, negotiated agreements with local rulers, and subsequently used these agreements to acquire political authority, economic resources, and cultural assets. In the Subcontinent, its initial entry was framed as commerce, yet the ultimate outcome was political domination, economic disruption, and cultural expropriation. Regrettably, these complexities are often simplified or marginalised in contemporary curricula.

It is an established fact that the East India Company, followed by the British Raj, systematically transferred the Subcontinent’s cultural and material heritage, artefacts, manuscripts, precious stones and other treasures, to Europe. Today, these items are prominently displayed in museums across London and other European capitals. They are designated as part of the “world heritage,” yet critical reflection on the mechanisms of their acquisition is rarely encouraged. The tragedy lies in the fact that, rather than interrogating this historical plunder, we position our own history as a source of collective shame.

One of the most emblematic symbols of this exploitative history is the Koh-i-Noor diamond, which for centuries epitomised political authority and economic significance in the Subcontinent. Through conquest and colonial administration, it was transferred to the British royal treasury, where it remains preserved as part of the crown’s collection. There is no visible collective remorse in British historical discourse regarding its possession; rather, it is presented with pride, despite its provenance being inseparable from colonial appropriation.

Conversely, even monumental achievements such as the Taj Mahal are often interpreted in a defensive or diminutive manner. Students are frequently told that the structure represents the squandering of immense wealth for personal romantic attachment. Such a narrative is historically reductive and educationally misleading. The Taj Mahal is, in reality, a seventeenth‑century exemplar of engineering ingenuity, mathematical precision, aesthetic sophistication, and state planning. Architectural masterpieces of this scale emerge not from individual sentiment alone, but from robust economic structures, efficient administration, and collective intellectual capacity.

Had the Mughal Empire truly been defined solely by indulgence and administrative weakness, such architectural and institutional accomplishments would not have been possible, nor would a system of governance spanning centuries have endured. The Taj Mahal, the Badshahi Mosque, the Red Fort, and the Shalimar Gardens constitute not merely constructions, but manifestations of civilisational confidence and strategic state vision. Advanced civilisations do not apologise for their monumental achievements; they incorporate them into their national identity.

Depicting every historical accomplishment with an apologetic framework is not merely an academic shortcoming, but a reflection of intellectual subordination. Colonial rule instilled the notion that local populations were inherently unfit for governance, thereby legitimising foreign domination. Regrettably, even after political independence, this narrative has often been perpetuated uncritically.

The objective of historical study is neither to obscure failures nor to feel undue shame for successes. A balanced historiography is one that presents both achievements and shortcomings with analytical rigor. Nations are constructed not on the basis of guilt, but through confidence, critical awareness, and a coherent sense of identity.

Contemporary education must therefore emphasise that the Taj Mahal is not merely a romantic symbol, but a testament to the intellectual, artistic and administrative sophistication of the Mughal era; and that the East India Company was not a neutral commercial actor, but an instrument of systematic exploitation, the legacies of which continue to be visible in global museums and royal treasuries.

The question is not whether our history contained weaknesses. The central issue is why we continue to place our past perpetually under the lens of shame. Only by confronting this question with intellectual honesty can we take the initial step toward genuine historical and cognitive emancipation.

I have always admired and sought to highlight the architectural and administrative achievements that reflect the intellectual capabilities of local rulers, whether Hindu, Muslim, or Sikh. These regimes consistently demonstrated governance that was responsive to the needs of their populations, in stark contrast to British rule, which prioritised state domination over the welfare of the people. The legacies of this extractive, state-centred approach employed by the British continue to shape the structures and practices of governance in the subcontinent today.

Atif Ikram

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923011434444

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saher Al-Mashriq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saher Al-Mashriq:

Share

Category