09/05/2026
پرویز ونڈال صاحب کی نظر میں ہڑپہ: ایک عظیم، پُرامن اور نظرانداز تہذیب
لاہور کے شاہی قلعہ میں واقع اکبری محل قطب خانہ اینڈ آرکائیوز میں چند روز قبل ہڑپہ تہذیب کے تناظر میں لاہور کے تاریخی اور تہذیبی ماخذ پر ایک نہایت فکر انگیز نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ اس نشست میں معروف محقق اور ماہرِ آثارِ قدیمہ پرویز ونڈال نے گفتگو کرتے ہوئے نہ صرف ہڑپہ تہذیب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی بلکہ برصغیر کی علمی، تہذیبی اور معاشی تاریخ کے کئی ایسے پہلو سامنے رکھے جن پر آج سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہ نشست محض تاریخ کا بیان نہیں تھی بلکہ اپنے علمی وجود، تہذیبی شناخت اور تاریخی شعور پر غور و فکر کی دعوت بھی تھی۔
ہڑپہ تہذیب، جسے دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں شمار کیا جاتا ہے، محض کھنڈرات، اینٹوں یا برتنوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل فکری اور سماجی نظام کی نمائندہ تہذیب تھی۔ وادیٔ سندھ تہذیب کے لوگ منظم شہری زندگی، تجارت، صفائی، منصوبہ بندی اور برداشت جیسے اوصاف سے مزین تھے۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ کی گلیاں آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ہزاروں سال قبل یہاں ایک ایسی سوسائٹی موجود تھی جو نظم و ضبط، تہذیب اور انسان دوستی میں اپنے وقت سے بہت آگے تھی۔
نشست کے دوران ایک نہایت اہم جغرافیائی اور تجارتی پہلو بھی زیرِ بحث آیا، جس نے وادیٔ سندھ اور موجودہ پاکستان کے خطے کی تاریخی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے میں مدد دی۔ پرویز ونڈال صاحب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ برصغیر خصوصاً وادیٔ سندھ کا خطہ قدیم زمانے سے عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا، اور اس کی بنیادی وجہ اس خطے کا قدرتی جغرافیہ تھا۔ بحیرۂ عرب سے لے کر شمالی پنجاب تک تقریباً بارہ سو کلومیٹر کا وسیع میدان ایسا تھا جہاں تجارت اور سفر کے لیے کوئی بڑی قدرتی رکاوٹ جیسے بلند پہاڑی سلسلے، دشوار گزار چٹانی علاقے یا گھنے جنگلات حائل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ خطہ قدیم دنیا کے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کراچی کے ساحلی علاقوں سے اندرونِ ملک سفر محض زمینی قافلوں تک محدود نہیں تھا بلکہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا ایک مربوط آبی نظام بھی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔ سمندری ہواؤں کے رخ اور موسمی دباؤ کی مدد سے بحیرۂ عرب سے جہاز اور کشتیاں نسبتاً آسانی سے شمال کی جانب سفر کر سکتی تھیں، جبکہ واپسی میں دریائی بہاؤ جنوب کی سمت سامان کی ترسیل کو سہل بناتا تھا۔ گویا قدرتی جغرافیہ، موسمی ہوائیں اور دریائی نظام مل کر اس خطے کو ایک فطری تجارتی راہداری میں تبدیل کر دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وادیٔ سندھ تہذیب محض ایک زرعی یا شہری تہذیب نہیں تھی بلکہ ایک متحرک تجارتی معیشت بھی رکھتی تھی، جس کے روابط میسوپوٹیمیا، خلیجی علاقوں اور وسط ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ نکتہ اس تصور کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ ہڑپہ تہذیب کی ترقی محض اتفاقی نہیں تھی بلکہ اس کے پسِ پشت ایک نہایت موزوں جغرافیہ، قدرتی وسائل، آبی گزرگاہیں اور منظم تجارتی ڈھانچہ موجود تھا۔
اسی تناظر میں پرویز ونڈال صاحب نے برصغیر کی معاشی طاقت کے حوالے سے ایک نہایت اہم تاریخی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ آج امریکہ دنیا کی مجموعی معیشت یا عالمی جی ڈی پی میں تقریباً پچیس فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ مغلیہ دور میں برصغیر کا عالمی تجارت اور معیشت میں حصہ تقریباً سینتیس فیصد تھا۔ یہ محض ایک عددی تقابل نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ برصغیر کبھی دنیا کے خوشحال ترین اور معاشی طور پر مضبوط ترین خطوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی زراعت، صنعت، دستکاری، ٹیکسٹائل، دھات کاری اور بین الاقوامی تجارت نے اسے عالمی معیشت کا مرکز بنا رکھا تھا۔
انہوں نے نہایت معنی خیز انداز میں کہا کہ فرنگی اس خطے میں کسی خیر خواہی یا تہذیب سکھانے کے جذبے کے تحت نہیں آئے تھے بلکہ اس سرزمین کی دولت، وسائل اور معاشی طاقت انہیں یہاں کھینچ لائی تھی۔ دنیا کی استعماری قوتیں ہمیشہ انہی خطوں کا رخ کرتی ہیں جہاں وسائل، تجارت اور دولت موجود ہو۔ کوئی طاقت بھوک اور افلاس میں ڈوبے ہوئے معاشروں پر اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے سمندر عبور نہیں کرتی۔ برصغیر کی خوشحالی ہی دراصل استعمار کی توجہ کا اصل مرکز تھی، اور یہی خوشحالی بعد ازاں نوآبادیاتی استحصال کا سبب بنی۔
پرویز ونڈال صاحب نے دورانِ گفتگو ایک نہایت تلخ مگر حقیقت پر مبنی نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ برصغیر کے محققین کو اپنی تحقیق منوانے کے لیے مغرب کی سند درکار ہوتی ہے۔ اگر یہی تحقیق کسی مغربی ادارے یا اسکالر کے نام سے سامنے آئے تو فوراً اسے علمی وقعت حاصل ہو جاتی ہے، مگر مقامی محققین کی برسوں کی محنت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ یہ صرف علمی ناانصافی نہیں بلکہ ایک فکری غلامی کی علامت بھی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے اپنے ادارے بھی اسی ذہنی غلامی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان بھی اکثر اپنی جامعات اور مقامی محققین کی نسبت غیر ملکی جامعات کی ڈگریوں اور تحقیقی حوالوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف مقامی تحقیق کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ نوجوان محققین میں احساسِ کمتری بھی پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ ہڑپہ، ٹیکسلا، گندھارا اور لاہور جیسے خطے خود ایک زندہ علمی سرمایہ ہیں۔ یہاں کی مٹی میں ہزاروں برس کی تہذیب دفن ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی زمین کے علم پر یقین کرنے کے بجائے بیرونی تصدیق کے منتظر رہتے ہیں۔ علمی خود اعتمادی کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، اور جب تک ہم اپنے محققین اور اداروں پر اعتماد نہیں کریں گے، تب تک فکری آزادی ممکن نہیں۔
نشست کا ایک اور اہم پہلو برصغیر کی قدیم تہذیبوں کے امن پسند مزاج سے متعلق تھا۔ پرویز ونڈال صاحب نے کہا کہ ہڑپہ تہذیب میں قتل و غارت کے شواہد نہایت کم ملتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ میں جنگی ہتھیاروں، قلعہ بندیوں یا اجتماعی تباہی کے آثار بہت محدود ہیں۔ اس کے برعکس تجارت، رہائش، نکاسیٔ آب، اناج کے ذخائر اور دستکاری کے شواہد زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس خطے کے لوگ تجارت پیشہ، روادار اور پُرامن مزاج رکھتے تھے۔ وہ طاقت کے اظہار کے بجائے باہمی تعاون اور شہری نظم پر یقین رکھتے تھے۔
آج جب دنیا تشدد، مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، ہڑپہ تہذیب ہمیں ایک مختلف راستہ دکھاتی ہے۔ یہ تہذیب ہمیں بتاتی ہے کہ معاشروں کی اصل ترقی جنگوں سے نہیں بلکہ علم، تجارت، برداشت اور اجتماعی نظم سے ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود ہڑپہ آج بھی دنیا کے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز ہے۔
لاہور، جو خود صدیوں کی تہذیبی پرتوں پر کھڑا ایک شہر ہے، ہڑپہ تہذیب کے اس فکری تسلسل کا اہم حصہ محسوس ہوتا ہے۔ شاہی قلعہ کی فصیلوں میں بیٹھ کر جب ہڑپہ کا ذکر ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ماضی حال سے مکالمہ کر رہا ہو۔ یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ ہماری اصل طاقت ہماری تہذیب، تاریخ اور علمی ورثے میں پوشیدہ ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنی مٹی کے علم کو پہچانیں، اپنے محققین کی قدر کریں اور اپنی تاریخ کو دوسروں کی آنکھ سے نہیں بلکہ اپنی بصیرت سے دیکھنا سیکھیں۔
عاطف اکرام
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور