M.M. Tours & Travels Pakistan

M.M. Tours & Travels Pakistan Pakistan is a wonderful and amazingly beautiful country. Join us to explore the unexplored areas of

تاوبٹ ۔۔۔ وادیٔ نیلم کا آخری گاؤں، مگر خوبصورتی کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کشمیر کی وادیوں، گھنے چیڑ ک...
24/06/2026

تاوبٹ ۔۔۔ وادیٔ نیلم کا آخری گاؤں، مگر خوبصورتی کی ابتدا یہاں سے ہوتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کشمیر کی وادیوں، گھنے چیڑ کے جنگلات، بادلوں سے ڈھکے پہاڑوں اور بہتے دریا کا حسین امتزاج فوراً دل موہ لیتا ہے۔
یہی وہ تاریخی اور سحر انگیز جگہ ہے جہاں دریائے کشن گنگا پاکستان میں داخل ہو کر دریائے نیلم کا روپ دھار لیتا ہے

مانکیالہ اسٹوپا ، راول پنڈی اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما بدھ اشوکا دی گریٹ سے بہت پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے جس مذہب ک...
29/05/2026

مانکیالہ اسٹوپا ، راول پنڈی
اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما بدھ اشوکا دی گریٹ سے بہت پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے جس مذہب کو متعارف کرایا وہ بدھ مت یا بدھ ازم کے نام سے جانا گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سوا لاکھ لاشوں پر کھڑے ہو کر اشوکا ظلم و ستم سے توبہ نہ کرتا تو بدھ مت کو وہ ترویج حاصل نہ ہو پاتی جو آج حاصل ہے۔ بدھ مت کا زیادہ تر پھیلاؤ اشوکا کے عہد میں ہوا۔ اس نے اپنی پوری سلطنت جو اس وقت ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں پر مشتمل تھی، نے نہ صرف بدھ کے فرمودات کو پہنچایا بلکہ پتھروں پر اپنے فرمودات کنندہ کر کے مختلف جگہوں پر لگائے جو سراسر مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مشتمل تھے۔ اس نے ٹیکسلا اور اپنی سلطنت کے کونے کونے میں اسٹوپا تعمیر کروائے جن میں کسی میں بدھا کی خاک تھی تو کسی میں بدھا کی باقیات تھیں۔ کسی میں اس کی ہڈیاں تھیں اور کسی میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور موجود تھی جو بدھ سے منسوب تھی۔ اشوکا کے بعد آنے والے جتنے بادشاہ بھی تھے انہوں نے بھی اس روش کو جاری رکھا اور بدھ مت کی ترویج کے لیے وہ کام کرتے رہے۔
راول پنڈی سے کوئی پچیس یا تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جگہ مانکیالہ ہے۔ یہاں ایک اسٹوپا بنا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا سے کچھ ماہرین نے پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ مل کر اس کی کھدائی کی ۔ مقامی طور پر اسے توپ مانکیالہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اسٹوپا کی تعمیر مہاتما بدھ کی ایک پہلی زندگی کے واقعے کی یاد میں رکھی گئی ہے جس میں انھوں نے شیر کے سات بچوں کے پیٹ بھرنے کے لیے اپنے جسم کا کچھ حصہ یا پھر تمام جسم قربان کر دیا تھا۔ یہاں میں یہ بات واضح کر دوں کہ یہ ایک افسانوی بات ہے بالکل اسی طرح جیسے ہندوؤں کے مندروں، مسلمانوں کے درباروں یا سمادھیوں کے ساتھ جو افسانے منسوب کیے جاتے ہیں اسی طرح مانکیالہ سٹوپا کے ساتھ بھی یہ افسانہ منسوب کیا گیا کہ بدھا نے اپنے پچھلے جنم میں شیر کے سات بھوکے بچوں کا پیٹ بھرا۔ ہر مذہب میں اس طرح کی روایات، افسانے یا عقیدے پائے جاتے ہیں۔ روایت کے مطابق اس کی تعمیر کنشک کے دور حکمرانی 128 سے 191 عیسوی کے درمیان کی گئی تھی۔ ایک دوسرے نظریے کے مطابق اسٹوپا کا شمار ان 84 اسٹوپوں میں ہوتا ہے جو اشوکا کے دور میں بدھا کی راکھ کو دفنانے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ یہ اسٹوپا دیکھنے میں پتھروں کا ڈھیر محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے قارئین کو شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ ہر اسٹوپا میں بدھا کی کوئی نہ کوئی یادگار ضرور رکھی جاتی تھی۔ بیشتر جگہوں پر تو بدھا کی راکھ تھی جو اشوکا نے تقسیم کروائی اور وہ رکھی گئی۔ اس اسٹوپا کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ان 84 اسٹوپوں میں سے ایک ہے جن میں بدھا کی راکھ دفن کی گئی تھی۔
ماؤنٹ ایسٹوارٹ الیقین سٹون Mountstuart Elphinstone جو کہ افغانستان میں پہلے برطانوی نمائندے تھے 1808 میں انہوں نے اسے دریافت کیا اور پہلی مرتبہ اسٹوپا کی بحالی 1896 میں کی تھی۔ مانکیالہ گاؤں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ گاؤں راجہ مان یا مانک نے آباد کیا تھا اور یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گاؤں انڈو سیتھین بادشاہ مانی گل نے آباد کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ مانک پور، مانک نگر اور بلاآخر منکیالہ ہو گیا۔ جنرل وینچورا جو کہ رنجیت سنگھ کی فوج میں ایک فرانسیسی افسر تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے مانکیالہ اسٹوپا پر کھدائی کی اور حیران کن بات یہ ہے کہ رنجیت سنگھ کے جو افسران تھے ظاہر ہے جنرل وینچورا ایک خالص فوجی آدمی تھا لیکن میرا خیال ہے کہ اسے آثار کی کچھ سمجھ بوجھ تھی، اسی لیے اس نے سب سے پہلے اس کی کھدائی کی۔ کہتے ہیں کہ یہ کھدائی 22.25 میٹر گہرے کنویں کی شکل میں کی گئی تھی جو اسٹوپا کے بالکل وسط میں کھودا گیا تھا۔ اسٹوپا کی بالائی سطح سے تین میٹر کی گہرائی میں لوہے کا ایک ڈبہ ملا جس میں سونے کا ایک اور چھوٹا ڈبہ تھا جس کے ڈھکن پر خوب صورت کام کیا گیا تھا۔ اس سونے کے ڈبے میں دیگر اشیاء کے علاوہ عبداللہ ابن حزین کا چاندی کا ایک سکہ، قنوج کے حکمران یا سوورمن کا چاندی کا ایک سکہ اور مزید دو سکے جن پر سونے دیوتا کی شبیہہ تھی، ملے تھے۔ دوسرا دفینہ 13.7 میٹر سے لے کر 19.5 میٹر تک کی کھدائی کے دوران ملا تھا جس میں سونے اور تانبے کی اشیاء کے علاوہ ساسانی دور کے تین سکے ملے جن کے ساتھ کشان حکمرانوں کے سکے بھی شامل تھے۔ اوپر سے 22.25 میٹر کی گہرائی پر تانبے کا ڈبہ ملا جس میں ایک اور سونے کا ڈبہ موجود تھا۔ اس سونے کے ڈبے میں کشان حکمرانوں، ہیوشکا اور کنشکا کے ادوار کے ایک سونے اور پانچ تانبے کے سکے ملے تھے۔ مانکیالہ سے ملنے والے یہ تمام نوادرات برٹش میوزیم میں نمائش کیے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انگریزوں نے یہاں سے جو کچھ نکالا وہ اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے برٹش میوزیم لندن میں اسے نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے اوپر ایک زمانے میں جانے کا راستہ بھی تھا، سیڑھیاں بھی بنی ہوئی تھیں لیکن اب وہ راستے نہیں ہیں۔ دیکھنے میں یہ پتھروں کے ڈھیڑ ہی ہیں لیکن جیسے ہندو مندر بناتے ہیں، اسی طرح بدھ ازم کے لوگوں کے لیے نہایت مقدس مانا جاتا ہے۔
اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ 151 یا 120 عیسوی اس میں اسے بنایا گیا تھا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو کم از کم دو ہزار سال بنے ہوئے ہو چکے ہیں۔ افسانے اپنی جگہ لیکن بہرحال یہ بدھ مت کا مذہبی مقام ہے۔ یہاں آ کر وہ پوجا پاٹ کرتے تھے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ جیسے ہندو اپنے دیوتاؤں کو مانتے ہیں یا ان کی پوجا پاٹ کرتے ہیں تو بدھ مت کو ماننے والے لوگ بدھ کو بطور دیوتا اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ بدھ کی تعلیمات کو اپنے لیے ایک روشنی تصور کرتے ہیں اور ان تعلیمات پر ہی اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے یہاں بدھ دیوتا نہیں ہے بلکہ وہ اس کی تعلیمات کو روشنی تصور کرتے ہیں اس لیے اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ بدھا بطور دیوتا پوجا جاتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بدھا ان کا ایک رہبر تو ہو سکتا ہے جس نے انہیں نروان کا راستہ دکھایا لیکن بدھا ان کا دیوتا نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی میں بتا دوں کہ ہندوؤں کی نسبت بدھ مت میں جو خدا کا تصور پیش کیا گیا وہ مسلمانوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔
مانکیالہ میں بیماریوں اور مصیبتوں سے نجات کا سلسلہ صدیوں سے جاری رہا۔ کبھی مانکیالہ کا موسم سدا بہار ہوتا تھا جہاں کئی چھوٹے اسٹوپے، سینکڑوں زیارتیں، زائرین اور بخشوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ آندھی ضروری نہیں کالی ہو۔ گندھارا کو سفید آندھی نے آ لیا۔ وحشی لوگوں نے تہذیب کی ہر علامت راکھ کر دی۔ رہی سہی کسر باقی کے حملہ آوروں نے نکال دی۔ 1808 میں انگریزوں نے افغانستان کے لیے اپنا پہلا سفارت کار قابل روانہ کیا۔ سفر سے واپسی پر انھوں نے ٹیکسلا کی طرح کا ایک شہر دیکھا۔ اس نے اپنے بندے چاروں طرف دوڑے مگر گنبد کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ انھوں اس کی پیمائشیں کیں، مختلف سلوں، آرائشی پتھروں، دیواری ستونوں تک کی جزئیات لکھ ڈالیں۔ عمارت کا خاکہ تیار کروایا لیکن ہم سفروں نے جب اسے یونانی شاہکار قرار دیا تو عمارت کا سارا حسن گہنا گیا۔ رنجیت سنگھ کے ایک انجنئیر کو 1834 میں پتھر میں بند تین تکونی تابوت ملے۔ جس میں کشنان عہد کے سونے، چاندی اور کانسی کے سکے تھے۔ انہوں نے منکیالہ کہ 14 ٹیلوں کی کھدائی کی۔ پہلے یہ بھی خیال ظاہر کیا گیا کہ منکیالہ ہی قدیم ٹیکسلا ہے اور یہ گنبد زیادہ سے زیادہ کسی قدیم بادشاہ کی یادگار یا کسی فتح کی نشانی ہے۔ علاقے کے مسلمان اسے افغان جنگ کی یادگار بتاتے ہیں جبکہ ہندو تبرک کے طور پر اپنے بیٹوں کے بالوں کی پہلی کٹائی یہاں کراتے تھے۔ 1862، 1863 اور 1878 میں تین مرتبہ چھ مربع میل پر پھیلی باقیات کو چھانا گیا تو پتہ چلا کہ دیواری ستون کا مصالحہ یونان سے لایا گیا۔ 73 فٹ کی گہرائی سے کانسی کی ایک ڈبیہ بھی ملی جس کے اندر ایک اور ڈبیا تھی جس میں کشنان عہد کے پانچ کانسی کے سکے تھے۔ آخری مرتبہ بحالی کا کام 1891 میں ہوا۔ بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ کشنان حکمرانوں کا مقدس مقام تھا۔ یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر سلطان سارنگ خان اپنے 16 بیٹوں کے ساتھ مارا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دورِ آتش پرستہ میں کسی ہندو راجہ کی ارتھی جلائی گئی تھی، یہ اسی کی یادگار ہے۔
سوات، خیبر پختون خواہ اور پنجاب یہ تین علاقے پاکستان کے ایسے ہیں جہاں اسٹوپے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سندھ میں موہنجو داڑو کے عین وسط میں ایک اسٹوپا بنا ہوا ہے لیکن اس کا موہنجوڈارو شہر سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی موہنجوڈارو کے جو لوگ تھے وہ کسی اور مذہب کے پوجا کرتے تھے اور پھر وہ شہر ختم ہو گیا۔ کہتے ہیں یہ شہر سات دفعہ اجڑا، سات دفعہ آباد ہوا لیکن جب وہ ساتویں دفعہ آباد ہوا تو اس وقت یہاں عبادت کے لیے ایک اسٹوپا بھی تعمیر کرایا جو آج موہنجوڈارو کی عالمی سطح پر پہچان ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ موہنجوڈارو کبھی بدھ مت کا پیروکار نہیں رہا۔ چھٹی دفعہ اجڑنے کے بعد جب یہ شہر آباد ہوا تو یہاں بدھ مت کے پیروکار تھے۔ اس اسٹوپا کا ان کھنڈرات سے کوئی تعلق نہیں جو کھنڈرات زمین کے نیچے سے دریافت ہوئے ہیں۔ تخت بہائی کے کھنڈرات بہت بہتر حالت میں ہیں۔ سوات میں کم از کم 91 جگہ ایسی ہیں جو بدھ مت سے منسوب ہیں۔ چٹانیں ہیں جن پر بدھا کے فرمودات لکھے ہوئے ہیں۔ بدھ مت کے زائرین کوریا، چین، جاپان سمیت مختلف ممالک سے آتے ہیں اور وہاں آج بھی اپنے رسومات ادا کرتے ہیں۔

Neelam River passing through Dowarian.
28/05/2026

Neelam River passing through Dowarian.

28/05/2026
31/08/2020

Hussaini bridge

15/05/2020

Chitral Cricket Ground
14/05/2020

Chitral Cricket Ground

14/05/2020

توجہ اور رائے درکار ہے!

مجھے امید ہے آپ سب نے پاکستان میں بننے والی پانچوں موٹرویز کا سفر کیا ہوگا یا کم از کم لاہور سے اسلام آباد کی موٹروے کا سفر تو کیا ہی ہوگا.

کبھی آپ نے غور کیا کہ موٹروے کے دونوں طرف جو باؤنڈری کے اندر زمین ہے اس پہ سفیدہ لگا ہوا ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس سفیدے کا کیا فائدہ ہے.

انتہائی زرخیز زمین ہے پھر سفیدہ لگانے کی بات کچھ سمجھ نہیں آتی.

اگر موٹر وے "ون "جو پشاور سے اسلام باد تک ہے اس کے گرد آڑو, زیتون, انار, کالی مرچ, اور سیب وغیرہ کے پودے لگا دیے جائیں جن کے لئے وہاں کی آب و ہوا ساز گار ہے تو کتنی خوبصورتی ہوگی اور کتنا زیادہ فروٹ بھی حاصل ہوجائے گا.

اسی طرح موٹروے" ٹو" پہ اسلام آباد سے کلر کہار تک صنوبر اور لوکاٹ بڑا زبردست ہو سکتا....

لِلہ سے لے کر بھیرہ تک بیری کا درخت بہت کامیاب ہے.....

اسی پہ بھیرہ سے لے کر پنڈی بھٹیاں تک مسمی, کنو, سنگترہ اور گریٹ فروٹ بہت کامیاب ریے گا.

پنڈی بھٹیاں سے لاہور تک امرود, فالسہ, لیچی, انگور اور جامن بہترین پرورش پا سکتے.

موٹروے" تھری" پہ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور موٹروے "فور" پہ لاہور سے عبدالحکیم اور فیصل آباد سے عبدالحکیم پہ بھی امرود, آم, جامن, فالسہ ,بیری اور شہتوت وغیرہ کامیاب پودے رہیں گے.

موٹروے" فائیو "ملتان سے سکھر پہ بھی بہت اعلٰی اقسام کےکھجور اور آم کے درخت لگائے جا سکتے, جیسے کہ آپ کو پتہ ہوگا آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور اس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں لہذا اس پہ یہ ساری اقسام لگائی جا سکتی ہیں.

اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی ان پھل دار پودوں کی نگہداشت کون کرے گا تو اس کے لئے مالی بھی رکھے جا سکتے ہیں, یا پھر باغات ٹھیکے پر دئیے جا سکتے ہیں اس طرح ملک پہ بوجھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ پھل دار درخت گورنمنٹ کو منافع دیں گے. اور ہزاروں لوگوں کو روز گار ملے گا.

اور مزید برآں پھل پورے ملک میں سستا ھو جائے گا اور پھر حکومت اسے ایکسپورٹ بھی کر سکتی ھے۔

اگر یہ بات پسند آئے تو پلیز اس کو زیادہ سے زیادہ شئر کریں تاکہ حکمرانوں تک یہ آواز پہنچ سکے.

میری مدد کریں زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کسی ذمہ دار تک پہنچ سکے ۔
شکریہ۔.....

Kalakot swat کالاکوٹ
14/05/2020

Kalakot swat کالاکوٹ

Baboon Top AJK
13/05/2020

Baboon Top AJK

Address

B-7, Hotel Royal Garden, Off. Lawrence Road
Lahore
54000

Telephone

+923144380191

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.M. Tours & Travels Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category