13/07/2026
چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کروڑ پکا گیا تھا۔ واپسی پر لودھراں کی طرف آتے ہوئے بستی درزی والا کے قریب دو درختوں کے نیچے ایک چھوٹی سی ریڑھی، ساتھ ایک کمرے کی سادہ سی دکان اور تندور سے نکلتی ہوئی گرم گرم روٹیوں کی خوشبو نے ہمیں روک لیا۔
بھائی کافی پریشان تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کروڑ پکا سے تازہ چکن خرید کر لاتے ہیں، خود اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں، پھر اپنی والدہ کو دیتے ہیں، جو کئی گھنٹے محنت سے گھر میں دیگی چکن قورمہ تیار کرتی ہیں۔
بھائی نے افسوس سے کہا، “لوگ بڑے بڑے ریسٹورنٹس میں 1500 سے 1700 روپے کلو قورمہ خوشی سے کھا لیتے ہیں، لیکن میری والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا خالص دیگی چکن قورمہ، جو صرف 700 روپے فی کلو ہے، اسے چکھنے کے لیے بھی نہیں رکتے۔”
یہ بات سن کر دل اداس ہو گیا۔ ہم نے فوراً آدھا کلو دیگی چکن قورمہ لیا، صرف 350 روپے کا، اور ساتھ تندور کی فریش گرم گرم روٹیاں، صرف 15 روپے فی روٹی۔
پہلا نوالہ کھاتے ہی ایسا لگا جیسے برسوں بعد گاؤں میں ماں کے ہاتھ کا کھانا کھایا ہو۔ ایسا خالص ذائقہ کہ ہم دونوں انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔
اگر آپ کبھی کروڑ پکا سے لودھراں کی طرف سفر کریں اور بستی درزی والا سے گزریں، تو دو درختوں کے نیچے کھڑے ان محنتی بھائی کے ہاتھ کا دیگی چکن قورمہ ضرور آزمائیں۔
کبھی کبھی بہترین ذائقہ کسی مہنگے ریسٹورنٹ میں نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی ریڑھی پر، ایک ماں کی محبت اور ایک بیٹے کی محنت میں ملتا ہے۔ ❤