Archaeological Tours Company of Pakistan ATCP

Archaeological Tours Company of Pakistan ATCP ATCP primary aim is to Educate the whole community regarding Archaeological sites and their impotenc

13/07/2026

چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کروڑ پکا گیا تھا۔ واپسی پر لودھراں کی طرف آتے ہوئے بستی درزی والا کے قریب دو درختوں کے نیچے ایک چھوٹی سی ریڑھی، ساتھ ایک کمرے کی سادہ سی دکان اور تندور سے نکلتی ہوئی گرم گرم روٹیوں کی خوشبو نے ہمیں روک لیا۔

بھائی کافی پریشان تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کروڑ پکا سے تازہ چکن خرید کر لاتے ہیں، خود اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں، پھر اپنی والدہ کو دیتے ہیں، جو کئی گھنٹے محنت سے گھر میں دیگی چکن قورمہ تیار کرتی ہیں۔

بھائی نے افسوس سے کہا، “لوگ بڑے بڑے ریسٹورنٹس میں 1500 سے 1700 روپے کلو قورمہ خوشی سے کھا لیتے ہیں، لیکن میری والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا خالص دیگی چکن قورمہ، جو صرف 700 روپے فی کلو ہے، اسے چکھنے کے لیے بھی نہیں رکتے۔”

یہ بات سن کر دل اداس ہو گیا۔ ہم نے فوراً آدھا کلو دیگی چکن قورمہ لیا، صرف 350 روپے کا، اور ساتھ تندور کی فریش گرم گرم روٹیاں، صرف 15 روپے فی روٹی۔

پہلا نوالہ کھاتے ہی ایسا لگا جیسے برسوں بعد گاؤں میں ماں کے ہاتھ کا کھانا کھایا ہو۔ ایسا خالص ذائقہ کہ ہم دونوں انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔

اگر آپ کبھی کروڑ پکا سے لودھراں کی طرف سفر کریں اور بستی درزی والا سے گزریں، تو دو درختوں کے نیچے کھڑے ان محنتی بھائی کے ہاتھ کا دیگی چکن قورمہ ضرور آزمائیں۔

کبھی کبھی بہترین ذائقہ کسی مہنگے ریسٹورنٹ میں نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی ریڑھی پر، ایک ماں کی محبت اور ایک بیٹے کی محنت میں ملتا ہے۔ ❤

Dr. Richard Meadow (1946-2026). It is with real sadness that I report the passing away of Dr. Richard H. Meadow, Directo...
13/07/2026

Dr. Richard Meadow (1946-2026). It is with real sadness that I report the passing away of Dr. Richard H. Meadow, Director of the Zooarcheaology Laboratory at the Peabody Museum of Anthropology and Ethnology at Harvard University.

28/06/2026
08/04/2026
سندھہ میں موجود آثارِ قدیمہ کا محسنتحریر: آصف رضا موریو Asif Raza Morioجان مارشل ہماری تہذیب و تاریخ کا ایک مسیحا تھا جس...
19/11/2025

سندھہ میں موجود آثارِ قدیمہ کا محسن
تحریر: آصف رضا موریو Asif Raza Morio
جان مارشل ہماری تہذیب و تاریخ کا ایک مسیحا تھا جس نے ہمارے اتہاسی، تہذیبی اور تمدنی ورثوں اور ملکیتوں کو نہ صرف اپنی شب و روز محنتوں سے دنیا بھر کے سامنے لاکر تاریخی پس منظر میں ہمیں عزتمند اور معتبر بنایا بلکہ سالہاسال تک ان ورثوں کی حفاظت کی جنہیں آج ہم، ہمارے لوگ، ہمارے افسران اور ہماری نسلیں اپنے ہاتھوں سے تباھہ و بربار کرہی ہیں۔
سر جان ہبرٹ مارشل کا جنم 19 مارچ 1876ع میں چیسٹر، انگلینڈ میں ہوا۔ اس نے ایتھنز برٹش اسکول ، ڈولوچ کالیج ،کنگز کالج اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ 1902 میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے جان مارشل کو برطانوی ہندوستان میں آثار قدیمہ کے محکمے کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا۔ مارشل نے اس براعظم میں آثار قدیمہ کے نقطہ نظر کو جدید بنا کر قدیم یادگاروں اور نوادرات کی فہرست سازی اور تحفظ کا ایک پروگرام متعارف کرواکر اس نے آرکیالوجی سروے آف انڈیا کو نہ صرف باقاعدگی سے منظم کیا بلکہ اس کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی۔ اس کام کی شروعات اس نے ہندوستان بھر میں موجود مذہبی عمارات، مجسموں، پینٹنگز اور دیگر قدیم باقیات کو بچاکر محفوظ کرنے سے کی جن میں سے بیشتر ایک طویل عرصے سے نظر انداز کئے جانے کے باعث نزع کے عالم میں تھے۔ اس کی انتھک محنت، منصوبہ بندی اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان بھر میں پائی جانے والی قدیم تاریخی نوعیت رکھنے والی عمارتوں، چیزوں وغیرہ کی مرمت کرکے انہیں بڑی حد تک محفوظ کیا گیا۔
جان مارشل نے 1920ع سے 1928ع تک کی دہائی میں ہندستان کے بیشتر علاقوں میں بڑے پیمانے پر کھدائیاں کروائیں خاص طور پر دیا رام ساہنی کے ساتھہ ہڑپہ والے مقام پر (1921ع سے) اور مہیں جو داڑو (1922ع سے) جیسے عظیم، پرانے اور تاریخی شہروں اور ان کی ثقافتوں کے چہروں سے مٹی کی تہیں ہٹا کر ان کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر کے سامنے لایا جو 2600 سے 1750 قبل مسیح قدیم سندھو ماتھری کی شاندار آبادیاں ہوا کرتی تھیں۔ مارشل کے اس شاندار کارنامے کی تفصیل 20 ستمبر 1924ع کو السٹریٹڈ لندن نیوز میں شائع ہوئی تو دنیا سندھو ماتھری کی قدیم تہذیب کی جدیدیت اور ایجادات پر حیران رھہ گئی۔ دنیا بھر کے بیشمار اسکالرز نے مہیں جو دڑہ سے نکلنے والے نوادرات کے تقابلی جائزے سے سندھو ماتھری کی تہذیب کو قدامت اور ترقی یافتہ ہونے کے پسمنظر میں میسوپوٹیمیا میں سمیری اور مصری تہذیبوں سے جوڑا۔
مارشل نے موجودہ پاکستان والے حصے میں گندھارا تہذیب سے متعلق کے قدیم سائیٹوں خاص طور پر اس کے اہم شہر ٹیکسلا کی کھدائی پر بہت زیادہ توجہ دی۔ 1913ع میں یہاں شروع ہونے والی کھدائیوں سے جو اکیس سال تک جاری رہی انہیں زیورات اور گھریلو سازوسامان کی بڑی مقدار ملی تھی جس نے پرانے دور میں انسانوں کی روزمرہ زندگی سے متعلق معاملات کو سمجھنے میں کافی مدد کی۔ یہاں سے نکلنے والی تمام قیمتی اشیا کو تحفظ دینے کیلئے جان مارشل نے 1918ع میں ٹیکسلا میوزیم کا سنگِ بنیاد رکھا۔ بدھہ مت کی تاریخ سے متعلق سانچی اور سارناتھہ کے مقامات کی کھدائیاں بھی اس کے کھاتے میں ایک شاندار باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سر جان مارشل کی محنتوں نے ہندوستان والے خطے کونے کونے میں قدیم ترین اور مہذب ترین انسانی آبادیاں ہونے کے نہ جھٹلانے والے ثبوت فراہم کئے، خاص طور پر وادی سندھہ کی تہذیب اور موریو دورِ حکومت کے آثار۔ اس نے بلوچستان میں بھی بیشمار چھوٹی بڑی جگہوں پر کھدائیا کروائیں۔ اس کے علاوہ اس نے افغانستان میں بھی بیشمار قدیم اور دبے ہوئے شہروں کی کھدائیاں کروائیں۔
سر جان مارشل ایک کل وقتی، ہوشیار اور محنتی ماہرِ آثارِقدیمہ تھا مگر کئی جگہوں پر کھدائیوں کے دوران اس نے قدیم سائیٹ کے اسٹریٹ گرافی کو نظر انداز کیا اور باقاعدہ افقی لائنوں کے ساتھہ کھدائیاں کروائیں۔ ہونے والی کھدائیوں میں ہزارا تاریخ اور آثارِ قدیمہِ سے ناوافق آفیسر اور مزدور کام کرتے رہتے تھی جو آثاروں سے نکلنے والی چیزوں کو جمع کرواتے رہتے تھے۔ جان مارشل نے مختلف اسٹرٹیگرافک تہوں سے نوادرات کو ملا دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے نتائج کے سیاق و سباق کے بارے میں بہت زیادہ قیمتی معلومات ضائع ہوتی رہیں۔ مارشل کی اس غلطی کو بعد ازاں مسٹر نے درست کیا جس نے تسلیم کیا کہ یکساں افقی لکیروں کے ساتھہ میکانکی طور پر کھودنے کے بجائے ٹیلے کی اسٹریٹ گرافی کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ نیز وہیلر کے ذریعہ آثار قدیمہ میں ایک انتظامی اور فوجی درستگی بھی لائی گئی۔
مارشل نے ہندوستانیوں کو اپنے ملک میں ہونے والی کھدائیوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی عزت اور رواج شروع کیا۔ ان کے زیادہ تر طالب علم ہندوستانی تھے شاید یہی سبب تھا کہ مارشل نے ہندوستانی قوم پرستی کے لیے ہمدردی رکھنے والے انگریز افسر کے طور پر کافی شہرت حاصل کی۔ اس نے بارہا ہندوستانی شہری رہنماؤں اور مظاہرین سے اتفاق کیا جو ہندوستان کے لئے خود مختار حکومت یا آزادی چاہتے تھے۔ سر جان مارشل نے آثار قدیمہ کے ماہر ہونے کے ناطے ہماری تحقیقی ادب میں طلباء کے لیے تاریخی اور تحقیقی علم و ادب کا ایک بہت بڑا ورثہ چھوڑا ہے۔
جان مارشل کی لکھی ہوئی خاص کتابیں۔
• Mohenjo-Daro and the Indus Civilization (2 Volumes) ۔
• The Buddhist Art of Gandhara: the Story of the Early School, Its Birth, Growth and Decline۔
• A Guide to Taxila, Taxila Archaeological Excavations (3 Volumes)
• The Bagh Caves in the Gwalior State The Monuments of Sanchi (3 volumes).
سر جان مارشل اپنے پد سے 1934ع میں ریٹائر ہونے کے بعد ہندستان چھوڑکر لنڈن چلاگیا اور 17 اگست 1958ع کو لنڈن سے جنوب مغرب میں اٹھائیس میل دور اپنے سورے، گلڈ فورڈ میں اس کا انتقال ہوا۔ جون 1910ع میں اسے چیمپیئن آف دی آرڈر آف دی انڈیئن ایمپائیر (CIE) دیا گیا۔ 1914ع میں اسے برطانوی حکومت کی طرف سے " نائٹ" کا خطاب دیاگیا تھا۔ 1921ع میں اسے کلکتہ یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ 1936ع میں وہ برٹش اکیڈمی کی فیلوشپ بھی دی گئی۔

The Kunala Stupa and monastery was built by Emperor Ashoka to commemorate his son, Kunala — the rightful heir to the thr...
20/10/2025

The Kunala Stupa and monastery was built by Emperor Ashoka to commemorate his son, Kunala — the rightful heir to the throne who was blinded through the jealousy of one of Ashoka’s queens, Tishyaksha, famed for his beautiful eyes. After years of wandering in darkness, Kunala was reunited with his father, Ashoka, and was treated by a physician from Taxila. Moved by this story of suffering, resilience, and reunion, Ashoka ordered a stupa and monastery to be built in Kunala’s memory. John Marshall later identified the ruins with the legend recorded by the Chinese pilgrim Xuanzang. Over time, the site became more than a monument to tragedy — it became a shrine of healing. Pilgrims suffering from eye ailments would journey here, believing in the stupa’s spiritual power to restore sight and bring solace. These photographs, taken in 1926, during the restoration of monastery and stupa, captures not just the careful preservation of stone and structure, but the enduring preservation of a story — of pain, redemption, and faith that continues to echo through centuries.

15/01/2025
15/01/2025

Address

Lahore

Telephone

00923004994141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Archaeological Tours Company of Pakistan ATCP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Archaeological Tours Company of Pakistan ATCP:

Shortcuts

Share

Category