20/06/2025
عنوان: عورت اور جدید معاشرہ
عورت ایک ایسا حسین وجود ہے جو معاشرے کی تعمیر، نسلوں کی تربیت اور تہذیب کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جدید معاشرے میں عورت نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ وہ اب صرف چولہا، چکی اور چار دیواری کی محتاج نہیں رہی، بلکہ وہ ڈاکٹر، وکیل، افسر، استاد اور سیاستدان کے طور پر بھی سامنے آئی ہے۔
لیکن افسوس کہ اِسی جدید معاشرے میں عورت آج بھی ظلم، ناانصافی اور استحصال کا شکار ہے۔ کہیں کم عمری کی شادیوں کا شکار، تو کہیں وراثت سے محروم۔ کہیں تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، تو کہیں دفاتر میں ہراساں کیا جاتا ہے۔ کئی مقامات پر عورت کو اپنی مرضی سے جینے، بولنے اور فیصلے کرنے کا حق تک حاصل نہیں۔
یہ دوہرا معیار ہماری ترقی کے دعووں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ ایک طرف عورت کو سلام پیش کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف اُسی کو مارا، دبایا اور خاموش کر دیا جاتا ہے۔ جب تک عورت کے ساتھ ہونے والے ان مظالم کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، تب تک کوئی بھی معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب یا ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔
لہٰذا، ہمیں صرف عورت کو حقوق دینے کا دعویٰ نہیں کرنا، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اُسے ظلم سے نجات دلانی ہوگی۔ صرف ایک باعزت، تعلیم یافتہ، اور بااختیار عورت ہی ایک روشن، پرامن اور ترقی یافتہ قوم کی ضمانت دے سکتی ہے۔
تحریر: آصف علی