Buraq Tourism Assistance

Buraq Tourism Assistance We mange and promote tourism at our best level of sincerity with standard

14/12/2022
A School Tour to Islamabad
14/12/2022

A School Tour to Islamabad

❤  *کنکورڈیا ٹریک دنیا بھر کے لیےخوابوں کا سفر ھے۔ لوگ دنیا کے ھر کونے سے ھر سال پاکستان کا سفر کرتے ھیں اور اس حیرت انگ...
01/05/2021

❤ *کنکورڈیا ٹریک دنیا بھر کے لیےخوابوں کا سفر ھے۔ لوگ دنیا کے ھر کونے سے ھر سال پاکستان کا سفر کرتے ھیں اور اس حیرت انگیز طلسماتی مہم کا حصہ بن کے زندگی بھر کے لیے امر یادیں حاصل کرتے ھیں۔۔۔ آپ بھی "ونس ان آ لائف ٹائم ایکسپیرئنس" کو مس نہ کیجیے*

*ھم اس سال 30 جون سے یہ گریٹ ایکسپیڈیشن آفر کررھے ھیں۔ اس کی بکنگ جتنی جلدی ھو کروالیجیے۔ تاکہ ضروری معلومات اور تیاری دونوں ھی ممکن ھوسکیں*

مزید معلومات کے لیے لنک دیکھیے
https://fb.me/e/1iRfXNNxZ
📱Whatsapp 03455750085
Licence # 9632

17/02/2021

❤ پاکستانی سیاحت اور شراب
جب سے سیاحتی پراجیکٹ سے جڑا ہوں، پاکستان میں مجھ پہ ایک دلچسپ “حقیقت” کا انکشاف ہوا کہ پاکستان میں سیاحت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ہم شراب کھلے عام نہیں پینے دیتے، جگہ جگہ شراب خانے قحبہ خانے سمیت ہر خانہ نہیں کھولتے سو پاکستان میں سیاحت کا خواب ہم جیسے دیوانوں کا بس خواب ہی رہے گا۔ مجھے اس لا یعنی بات پہ ہنسی آجاتی ہے۔

ہم پاکستان تو کیا مغرب میں بھی رہ لیں، گوروں بارے ہمارا علم پورن سائیٹس اور چند ہالی وڈ فلموں سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہر گورا بنا شراب چوبیس گھنٹے زندہ نہیں رہے گا اور جہاں قحبہ خانہ نا ہوا وہاں سے گزر نا پائے گا۔ سو پاکستان میں سیاحت؟ نو چانس۔ عرض ہے کہ کبھی فگرز ہی دیکھ لیا کریں۔ فگرز تو یہ کہتی ہیں کہ سیاحت پاکستان کے جی ڈی پی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے مسلسل۔ یہ کرونا نا آتا تو عالم یہ تھا کہ تین بین الاقوامی تنظیمیں پاکستان کو “ڈسٹینیشن آف ایئر” یا سیاحت کیلئیے بہترین قرار دے چکی تھیں۔ اور یہ سب جگہ جگہ داروخانے کھولے بنا ہی ہو رہا تھا۔

جی ہاں بہت سے مسائل ہیں، جنکو حل ہونا چاہیے مگر شراب سیاحت کا بنیادی مسلئہ نہیں ہے۔ پہلے تو معترض عالموں کو یہ ہی معلوم نہیں کہ فارن ٹریولر اپنے ساتھ شراب لا سکتا ہے۔ دوسرا ہر پرمٹ والے ہوٹل سے خرید سکتا ہے، اپنے ساتھ لئیے لئیے پھر سکتا ہے۔ ہاں سرعام نہیں پی سکتا۔ اچھا کئی دوست دبئی و ترکی کی مثال دیتے وقت بھول جاتے ہیں کہ وہاں بھی سرعام نہیں پی سکتے، جرم ہے۔ مخصوص جگہوں پہ ہی پی جاتی ہے اور ایسے ہی پاکستان میں بھی پی جاتی ہے۔ دوسرا صاحبو گورے سیاح کا مسلئہ شراب ہے ہی نہیں۔ شراب تو اسے گھر بیٹھے ملتی ہے، وہ شراب پینے اپ کے پاس آئے گا؟ اپ کے پاس کوئی انٹرنیشنل لیول بیچ نہیں ہے، وہ سپین یا امریکہ یا کسی اور جگہ جائے گا۔ آپ کو تو یہ دیکھنا ہے کہ اپ کے پاس ہے کیا اسے دینے کیلئیے۔

پاکستان کے پاس وہ شمال ہے جو اسے کہیں اور نا ملے گا، وہ سندھ ہے، جنوبی پنجاب ہے کہ جسکا صحرا اسے مدہوش کر دے گا، وہ وادی سون ہے، گندھارا ہے، انڈس کی تہذیب ہے جو اسے کھینچ کر لائے گی اور وہ آئے گا۔ کیونکہ یہ سب اسے کہیں اور نہیں ملے گا۔ آپ سیاحت میں کئی دیگر ممالک سے نا شراب بیچ کر مقابلہ کر سکتے ہیں اور نا ہی اپنی لڑکیاں پیش کر کے، آپ کو تو وہ بیچنا ہے جسے دیتے ہوے قدرت نے اپ سے شدید فیاضی کی۔ اسی کو اپنا یونیک سیلنگ پوائنٹ بنا کر ہی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ہاں سیاح آپ سے بس کچھ چیزیں چاہتا ہے۔
۱- احساس تحفظ
۲- اچھا انفراسٹرکچر
۳- ویزا اور ایکسس کی آسانی
4- اچھی ٹریول یا ٹور کمپنی جو اسے اچھا ٹور کرا دے

آپ یہ چار چیزیں دے دیجئیے (جن میں شدید بہتری کی ضرورت ہے)، یقین کیجئیے وہ شراب گھر واپس جا کر پی لے گا۔ اپنی ملک کی کمیوں پہ کمزوریوں پہ بات کرنا اچھی بات ہے لیکن ہر وقت احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہوے منفی گفتگو فقط قابل رحم ہے۔ سیاحت پہ بھی رحم ہی کھائیے۔
نوٹ: تصویر دو دن قبل چولستان جیپ ریلی کی ہے، اور یہ شراب پینے نہیں آئے تھے۔

بشکریہ انعام رانا

20/01/2021

کوہ پیمائی میں بُلندی کے انسانی جسم پر اثرات۔
کوہ پیمائی ایسا کھیل ہے جس میں کھلاڑی کو بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ پہلا محاذ قدرتی موسمی حالات کی شدّت کے ساتھ نبردآزما ہونا ہے۔ جبکہ دوسرا محاذ اپنی ہی body chemistry کے ساتھ جنگ ہے جو کہ نہایت اہم ہوتی ہے۔ اِس جنگ کےلیے بُلندی کے انسانی جسم پر منفی اثرات اور اُن سے جُڑی بیماریوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
انسانی جسم کی genetic make کچھ ایسی ہے کہ یہ جُوں جُوں سطح سمندر سے بُلندی کی طرف جاتا ہے تُوں تُوں اُس پر مُختلف تبدیلیوں کے اثرات نُمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ ہمارے تمام نظاماتِ بَدَنی (body systems) دراصل خُودکار (auto) ہیں۔ ایک مَربُوط نظام کے تحت انسانی جسم نظامِ تنفّس (respiratory system) سے لیکر دورانِ خون (blood circulation) تک خُودکار ہے۔ جب نظام auto سے manual پر چلا جائے تو اِسکا مطلب ہے آپ کا جسم disorder میں ہے۔ یعنی بیمار پڑ گیا ہے اور آپکو کسی بیرونی ذرائع یعنی ادویات وغیرہ کے ذریعے اُن پر قابو پانا ہے۔
سالہا سال کی ریسرچ کے بعد میڈیکل سائنس اِس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انسانی جسم دراصل سطح سمندر سے 2400 میٹر سے کم بُلندی پر رہنے کےلیے بنا ہے۔ کیونکہ 2400 میٹر سے زیادہ بُلندی پر انسانی جسم کے خُودکار نظام پر مُختلف منفی اثرات کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر میں عوام کےلیے جتنے بھی صحت افزا مقامات بنائے گئے ہیں وہ زیادہ تر 2400 میٹر یا اُس سے کم بُلندی پر واقع ہیں۔ کیونکہ انسانی جسم 24 گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ 2400 میٹر بُلندی تک جائے تو ٹھیک رہتا ہے اُس سے زیادہ بُلندی پر رفتہ رفتہ بیمار پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ 2400 میٹر سے زیادہ بُلندی پر سب سے پہلے سر درد، متلی اور سانس لینے میں دُشواری جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اِس کا مقابلہ کرنے کےلیے قُدرت نے انسانی دماغ کو ایک خاص صلاحیت دی ہے اور وہ یہ کہ دماغ اپنے عُضلاتی اطلاعاتی نظام کے ذریعے تمام اعضاء کو یہ حُکم دیتا ہے کہ وہ آکسیجن کی سپلائی میں کمی کے مطابق خُود کو readjust یا reboot کرلیں، بالکل اُسی طرح جیسے ہماری روزمرّہ زندگی میں جب ہماری آمدن میں کمی ہوتی ہے تو ہم اپنی اشیائے ضرورت کی کھپت میں بھی کمی لے آتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ بجٹ کے مطابق اپنے اخراجات کو ایڈجسٹ کر لیں۔ چنانچہ بُلندی پر آکسیجن کی کمی ہوتے ہی انسانی جسم خُودکار نظام کے تحت خُود کو آکسیجن کی سپلائی کے مطابق ایڈجسٹ کرتا ہے۔ انسانی جسم کی اِس صلاحیت کو میڈیکل سائنس کی رُو سے acclimatization کہتے ہیں جسکی تکمیل میں تقریباً 6 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اور پھر ہر 6 گھنٹے بعد انسانی جسم کے تمام نظام خُود کو readjust کرلیتے ہیں۔ لہٰذا جب بھی آپ 2400 میٹر سے زیادہ بُلندی کی طرف جائیں تو کوشش کریں کے آپ کی پیش قدمی (progression) آہستہ آہستہ (gradual) ہو۔ تاکہ acclimatization کا عمل ہر 6 گھنٹے کے بعد periodically کامیابی سے جاری رہے۔ 2400 میٹر سے شروع ہونے والا acclimatization کا یہ عمل آئندہ 3500 میٹر کی بُلندی تک جانے کےلیے آپکو تیّار کرتا ہے۔ 3500 میٹر سے اُوپر نئے چیلنجز کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بھی آپ بُلندی کی طرف سفر کریں تو یاد رکھیں کہ پہلے 24 گھنٹوں کے اندر آپ 2400 میٹر سے زیادہ بُلندی پر نہ جائیں۔ 2400 میٹر پر پہنچ کر وہیں ایک رات قیام کریں۔ اگر پاکستان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مری 2100 میٹر پر واقع ہے اور ناران 2400 میٹر پر۔ شوگراں 3200 میٹر، جھیل سیف الملوک 3250 میٹر، ہُنزہ 2400 میٹر اور سکردو 2600 میٹر. یعنی اگر آپ اِن مقامات پر جائیں تو وہاں پہنچ کر رات وہیں گُزاریں۔ کراچی یا لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں سے سفر کرنے والے پہلی رات ناران میں گُزاریں ڈائریکٹ سیف الملوک جھیل پر نہ جائیں۔رات گُزار کر اگلے دن جائیں تو آپ properly acclimatize ہوں گے۔ اگر ناران سے آگے جا کر رہنا ہو تو لُولُوسر جھیل یا جلکھڈ سے آگے نہ جائیں اور اگر بابوسر ٹاپ پر جانا ہو تو جاکر شام تک واپس آجائیں تو طبعیت ٹھیک رہے گی۔ بُلندی اور کم آکسیجن کے اثرات کو زائل کرنے کےلیے acclimatization کے ساتھ ساتھ جو چیز سب سے زیادہ فائدہ مند ہے وہ quick descending ہے۔ جہاں بھی آپکی طبعیت خراب ہو اُس سے کم ازکم 300 میٹر نیچے آجائیں تو آپ ٹھیک محسوس کریں گے اور 6 گھنٹے بعد دوبارہ جائیں تو آپکا جسم acclimatize ہو چُکا ہوگا۔

بُلندی کا اگلا زون Very High Altitude Zone ہے جو سطح سمندر سے 3500 میٹر بُلندی سے لیکر 5500 میٹر یا کچھ ریسرچرز کے مطابق 5800 میٹر تک ہوتا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اِس زون میں 99 فیصد کوہ پیما ہی داخل ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر الپائن جھیلیں 5000 میٹر سے کم بُلندی پر واقع ہیں۔ لہٰذا جھیلوں کے ٹریک کرنے والے ٹریکرز اکثر 5000 میٹر سے کم بُلندی تک جا کر واپس آجاتے ہیں اس لیے بُلندی کے منفی اثرات سے قدرے بچے رہتے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ کوہ پیما ہیں اور کوئی بھی ٹیکنیکل یا نان ٹیکنیکل پہاڑ سر کرنے کی مُہم جوئی پر ہیں تو اِس زون میں آپ کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کوہ پیمائی کے ورلڈ وائڈ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے مطابق Very High Altitude Zone میں داخل ہوتے ہی آپ کو "Climb High, Sleep Low" کے یونیورسل اُصول کو اپنانا چاہییے جس کے مطابق آپ دن بھر میں جتنی بھی بلندی پر جائیں ہر حال میں اُس سے 300 میٹر نیچے آکر رات گُزاریں۔یعنی اگر آپ نے دن بھر میں 3500 میٹر سے آغاز کرکے 4100 میٹر کی بلندی حاصل کی ہے تو آپ سونے کےلیے 3800 میٹر پر آجائیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کا جسم altitude sickness سے محفوظ رہے گا۔ کوہ پیمائی کی زبان میں اِسے acclimatization rotation کہتے ہیں۔ ویسے تو اِس زون میں ایک دن کے اندر عموماً 700-600 میٹر کی بُلندی حاصل کرنا بھی کافی ہوتا ہے تاہم اگر آپکی فٹنس بہت اچھّی ہے تو آپ اِس سے بھی زیادہ چڑھ سکتے ہیں، لیکن رات گُزارنے کےلیے آپکو ہر حال میں 300 میٹر نیچے آجانا چاہییے تاکہ acclimatization کی 6 گھنٹے والی روٹیشن پُوری ہو جائے اور آپ اگلے دن تازہ دم ہو کر مزید کلائمبنگ کےلیے فِٹ ہوں۔ کوہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکُش کے پہاڑوں پر بسنے والے لوگ ایک دن میں زیادہ بلندی پر بھی جاسکتے ہیں لیکن پنجاب اور پاکستان کے میدانی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں کےلیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ ایک دن کے اندر 600 میٹر سے زیادہ چڑھائی نہ کریں اور رات گُزارنے کےلیے لازمی 300 میٹر نیچے آجائیں تاکہ acclimatization کی rotation بہتر انداز میں مُکمّل ہوتی رہے۔
اِس زون میں یہ سلسلہ 5500 میٹر تک اسی رہنما اُصول یعنی "Climb High, Sleep Low" کے تحت اپنائے رکھیں۔ اگر آپ اِس پر عمل کرتے رہیں گے تو جسم پر بُلندی کے مُضر اثرات سے بچے رہیں گے بصورتِ دیگر جس AMS یعنی Acute Mountain Sickness میں خُدانخواستہ آپ 3500 میٹر بُلندی پر مُبتلا ہونگے وہ زور پکڑنا شروع ہو جائے گی اور مزید بُلندی پر آپکو خطرناک بیماریوں میں مُبتلا کردے گی۔ جبکہ آپ پر headache, nausea, vomit, dizziness, shortness of breath
کے حملے سنگین ہوتے جائیں گے۔ یاد رہے کہ میڈیکل سائنس کی رُو سے سانس کے رستے جسم کے اندر داخل ہونے والی آکسیجن اگر 3 منٹ کے اندر اندر دماغ تک نہ پہنچے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
مندرجہ بالا علامات کے علاوہ اِس بُلندی پر نمُونیا اور خُشک کھانسی کا بھی جان لیوا حملہ ہو سکتا ہے۔ اور انتہائی جان لیوا خطرناک بیماریاں HAPE اور HACE بھی حملہ آور ہو سکتی ہیں جو اگلے زون یعنی Extremely High Altitude Zone میں sudden death کا باعث بن سکتی ہیں۔

اگلا زون یعنی Extremely High Altitude Zone عموماً 5800 میٹر کی بُلندی سے لیکر 8000 میٹر کی بُلندی کے درمیان واقع ہوتا ہے.
اِس زون میں داخل ہوتے ہی آپ پر آکسیجن کی کمی کے منفی اثرات بہت تیزی سے نمُودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ نیچے سے altitude mountain sickness لیکر آرہے ہیں اور آپ نے اُس کو ignore کیا ہوا تھا تو اس بُلندی پر پہنچ کر HAPE اور HACE آپکو ہر صُورت sudden death کی طرف لے جائیں گی۔ HAPE دراصل High Altitude Pulmonary Edema کا مخفف ہے جبکہ HACE بھی مخفف ہے High Altitude Cerebal Edema کا۔
عام لفظوں میں HACE پھیپھڑوں میں پانی بھرجانے کو کہتے ہیں۔ یعنی آپکے پھیپھڑے آکسیجن کی کمی کے باعث saturated ہو جاتے ہیں۔ آپکو خُشک یا blooded coughing شروع ہوجاتی ہے۔ آپکے نظامِ تنفّس respiratory system میں مختلف انفیکشنز شروع ہو جاتی ہیں۔ آکسیجن کی کمی سارے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ HAPE کے فوری بعد ممکنہ طور پر آپ HACE کا شکار ہو سکتے ہیں جو کہ دراصل دماغ کی سُوجن کا نام ہے اور یہ ایک life threatening condition ہے جس میں آپکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیّت تقریباً مُعطّل ہوجاتی ہے اور آپکا دماغ باقی جسم پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔ اکثر hallucination شروع ہو جاتی ہے اور کوہ پیما عجیب و غریب حرکات شروع کردیتے ہیں۔ کچھ تو اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ لڑ پڑتے ہیں۔ اِنتہائی بُلندی پر کوہ پیماؤں کے مابین ایسے جھگڑے اور ہاتھا پائی جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق HACE اور HAPE کا بھی فوری علاج quick descending ہے۔ فوری طور پر پہاڑ سے نیچے اُتر آنے سے جان بچ سکتی ہے وگرنہ sudden death کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ساتھیو، آپ جب تک 8000 میٹر تک کی بُلندی پر تھے تو آپ Extremely High Altitude Zone میں تھے لیکن جُونہی آپ 8000 میٹر سے زیادہ بُلند ہوئے سمجھیں آپ موت کی وادی میں داخل ہوگئے ہیں۔ جی ہاں 8000 میٹر سے زیادہ بُلند علاقے کو Death Zone کہا جاتا ہے۔
اب یہ Death Zone کیا ہے۔ آئیے اس سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جیسا کہ اِس مضمون کے شروع میں آپکو acclimatization کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انسانی جسم کی وہ خُودکار صلاحیت جو اِسے خُود کو کم آکسیجن کیساتھ مُطابقت اور موافقت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے اور آپکا جسم آکسیجن کی کم سپلائی کیساتھ بھی زندہ رہنے کی قابلیت حاصل کرلیتا ہے اُسے acclimatization کہتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی سالہا سال کی تحقیق کے بعد ریسرچرز اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی جسم کے اندر acclimatization حاصل کرنے کی صلاحیت کی آخری حد سطح سمندر سے 8000 میٹر کی بلندی تک ہے۔ اِس کے بعد انسانی جسم مزید acclimatization حاصل نہیں کرسکتا۔ گویا جیسے ہی آپ 8000 میٹر سے زیادہ بُلند ہوتے جاتے ہیں سمجھیں آپ موت کے مُنہ میں جارہے ہیں۔ آپکے تمام organs لمحہ بہ لمحہ مر رہے ہوتے ہیں۔ دُنیا کی تمام 14 بڑی چوٹیاں 8000 میٹر سے زیادہ بُلند ہیں۔ یعنی death zone میں واقع ہیں۔ اسی لیے انکو سر کرنا انسانی صلاحیت، حوصلے اور ہمّت کی آخری حد ہے۔ ڈیتھ زون میں نہ تو ایک مخصوص وقت سے زیادہ دیر تک رُکا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کی مدد کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ جُونہی آپ ڈیتھ زون میں داخل ہوتے ہیں تو سمجھ لیں آپکے تمام نظاماتِ بَدَنی body systems کے سوئچ آف کیے جاچُکے ہیں۔ آپ recharge نہیں ہوں گے اور اُسی بیٹری پر آپ کو چوٹی پر پہنچنا اور مخصوص وقت کے اندر اندر واپس آنا ہے۔ غلطی کی گنجائش بالکل نہیں، ہر قدم نپا تُلا ہونا چاہییے۔ کلائمبنگ روٹ سے ہٹنے یا کسی جگہ غیر ضروری طور پر رُکنے کا مطلب صرف موت ہوگا۔ ڈیتھ زون میں نیند کا دوسرا نام موت ہے۔ 8000 میٹر سے زیادہ بُلندی کی طرف جانے سے پہلے کوہ پیما سوتے نہیں اور نہ ہی سو سکتے ہیں۔ آخری کیمپ سائٹ پر تھوڑا بہت آرام کر کے سیدھا چوٹی کی طرف جاتے ہیں اور عموماً 16 سے 18 گھنٹے کی مُسلسل جدوجہد کے بعد چوٹی سر کرکے واپس 8000 میٹر سے کم بُلندی پر پہنچ پانے والا ہی بچ جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر دُنیا کی 8000 میٹر سے بُلند تمام 14 چوٹیوں کے ڈیتھ زونز میں بےشمار کوہ پیماؤں کی لاشیں اسوقت بھی برف میں دبی پڑی ہیں جنہیں وہاں سے نیچے لانا تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے کسی بھی high altitude mountaineer کےلیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ خُود کو ڈیتھ زون کے تقاضوں کے مطابق تیار کرے اور اپنی جسمانی تربیت اُن تقاضوں کے مطابق کرے تاکہ وہ ڈیتھ زون سے بھی زندہ و صحیح سلامت واپس آئے۔
دوستو یہ وہ انتہائی اہم معلومات ہیں جو مَیں نے کوہ پیمائی کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے انٹرنیٹ سے تلاش کرکے بیسیوں تحقیقاتی آرٹیکلز کو پڑھنے اور اُن معلومات کو کشید کرنے کے بعد قومی زبان میں لکھ کر پیش کرنے کی عاجزانہ کوشش کی ہے تاکہ پہاڑوں سے محبت کرنے والا ہر سیّاح، ٹریکر، ہائیکر اور ماؤنٹینیئر ان یونیورسل اور تسلیم شُدہ معلومات کو سمجھ کر اپنے اندر جذب کر سکے۔
یہ عمران حیدر تھہیم کی تحقیق ہے اور اس تحریر کا مقصد آپکو خوف میں مُبتلا کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ کوہ پیمائی کے شوقین کھلاڑیوں کےلیے آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی بھرپُور دماغی صلاحیتوں کو تربیت کے ذریعے عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کی اُن حدوں کو بھی سمجھ سکیں جن کے اندر رہتے ہوئے ہی آپ بُلندی کے منفی اثرات سے نبرد آزما ہو کر بُلند ترین پہاڑوں کو تسخیر کر سکتے ہیں۔
By Muhammad Abduhu

ایوبیہ نیشنل پارک میں 129 برس پرانی کچرے اور مٹی میں دبی سرنگ کو اصل حالت میں بحال کرکے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اس ز...
01/11/2020

ایوبیہ نیشنل پارک میں 129 برس پرانی کچرے اور مٹی میں دبی سرنگ کو اصل حالت میں بحال کرکے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اس زیر زمین سرنگ کی تعمیر 1891 میں ایوبیہ اور خیرا گلی،مری کے درمیان کی گئی تھی جو طویل عرصہ سے بند پڑی تھی۔وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلی حیات نے ایوبیہ نیشنل پارک میں دبی ہوئی سرنگ دریافت کی جس میں قدیم دور کی نقش و نگاری آج بھی موجود ہے۔ یہ سرنگ قدیم فن تعمیر کا شاہکار ہے جسے اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے مرمت کا کام کیا گیا۔ مٹی اور پتھروں سے بنی 240 فٹ موٹو ٹنل کی چوڑائی 4 فٹ اور اونچائی 6 فٹ ہے۔واضح رہے کہ ڈونگا گلی سے ایوبیہ تک ٹریک کی لمبائی 4 کلو میٹر ہے جبکہ ایوبیہ سے کوزہ گلی تک پیدل ٹریک کی لمبائی 10 کلو میٹر ہے۔یہ سرنگ انگریز دور کی تعمیر کا شاہکار ہے۔
اس سرنگ کے کھلنے سے ٹورازم میں اضافہ ہوگا اور مقامی افراد اور گائیڈز کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

اک واری چلو تے سہی.مزہ نہ آیا تے نا سہی
26/10/2020

اک واری چلو تے سہی.
مزہ نہ آیا تے نا سہی

ایک شارٹ ٹورمری
17/10/2020

ایک شارٹ ٹور
مری

11/10/2020

Buraq Tourism
کی ٹیم ابن بطوطہ کے روح رواں سید ثمر احمد کی والدہ ماجدہ کی وفات پہ گہرے دکھ و غم کا اظہار کرتی ہے.
ہم والدہ صاحبہ کے لیے دعا گو ہیں.

Address

Phalia Road
Mandi Bahauddin
50400

Opening Hours

Monday 09:00 - 06:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 06:00
Thursday 09:00 - 06:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 06:00
Sunday 09:00 - 18:00

Telephone

+923455750085

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Buraq Tourism Assistance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Buraq Tourism Assistance:

Share

Category