17/11/2025
میرا نام اب اہم نہیں، بس اتنا جان لیں کہ میں انہی ہزاروں بدنصیبوں میں سے ہوں وہی لوگ جو شاندار مستقبل کے خواب سجائے بنا سوچے سمجھے پردیس پہنچ گئے۔
میں تین برس پہلے راولپنڈی کے راجہ بازار کی مصروف دکان میں کام کرتا تھا۔
بنیادی تنخواہ چالیس پچاس ہزار کے قریب اور کمیشن ملا کر ساٹھ ہزار تک ہو جاتی تھی گھر کا گزارہ ٹھیک تھا۔ مگر انسان کی لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
ایک دن دکان پر ایک نیا گاہک آیا، چند دنوں میں بات چیت بڑھ گئی اور اس نے بتایا کہ تم جیسے ہنرمند بندے باہر بڑے کام کر سکتے ہو وہاں تمہیں اچھا معاوضہ ملے گا۔
گھر والوں نے منع کیا۔
میرے والد نے کہہ کر سمجھایا کہ تمہارا کام ٹھیک ہے، گھر سکون میں ہے، پھر باہر کیوں جانا؟
مگر میں ضد پر نکل گیا۔
وہ آدمی روز آ کر یہی باتیں کرتا رہا، اور آخر کار میں اس کے کہنے پر چھ لاکھ روپے کا بندوبست کر کے اسے دے آیا۔
پیسہ چھوٹی بہن کی شادی کے زیور بیچ کر حاصل کیا تھا۔
وہ شخص مجھے مختلف ویزا دفاتر اور انچارج لوگوں کے پاس لے گیا۔ انھوں نے کاغذات دکھائے اور یقین دہانی کرائی کہ سب قانونی ہوگا، بس تم تیار رہو۔
کچھ دنوں بعد ویزہ لگ گیا، میں نے والدین کو خدا حافظ کہا اور اسی شخص کی گاڑی میں ایئرپورٹ روانہ ہو گیا۔
ملائشیا پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ مجھے دھوکہ دیا گیا تھا۔
پاکستان والا وہی بندہ ایک ایجنٹ نکلا، اور یہاں والا ایجنٹ بھی محض ایک چالاک دلال تھا۔
میرا ویزہ وزٹ پاس تھا، یعنی میں اس ویزہ پر کام نہیں کر سکتا تھا۔ بتدریج پیسے ختم ہوئے، ویزہ ایکسپائر ہوا، اور کام کا کوئی پتا نہ ملا۔
پاکستان والا ایجنٹ غائب ہو گیا، دفتر جعلی نکلا، اور ملائشیا والا ایجنٹ پیسوں کا مطالبہ کرتا رہ گیا۔
میں ایک نیک دل پاکستانی سے ملا،
اُس نے مجھے ایک چھوٹی فیکٹری میں کام دلوا دیا اس نے صاف کہہ دیا کہ تم غیر قانونی ہو، اگر پکڑے گئے تو میری ذمہ داری نہیں۔
میں نے محنت شروع کی اور دو سال سے زائد عرصہ اسی فیکٹری میں لگا رہا۔
کتنی بار ویزے کے لیے پیسے دیے مگر مدد نہ ملی۔
آج بھی رات کو آنکھ کھلتی ہے تو چھوٹی بہن کے زیور کی یاد آکر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
وہ زیور جو اس کی شادی کے لیے رکھا تھا، میں نے بیچا اور فراڈیوں کے پیٹ میں ڈال دیا۔
میرے پریشان والدین اور وہ ٹوٹے خواب، سب کی وجہ میرا بدفہم، جلد باز فیصلہ تھا۔
میں یہ سب اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ میرے جیسی غلطی نہ کریں:
کبھی وزٹ ویزہ پر کام کے لیے باہر نہ جائیں۔
وزٹ ویزہ کام کے لیے نہیں ہوتا۔ اس راستے پر چل کر آپ اپنی زندگی، عزت اور خاندان کا مستقبل سب خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
کسی بھی ایجنٹ/دلال پر اندھا اعتبار نہ کریں۔
ویزا اور جاب کی تصدیق پاکستان میں ہی کریں؛ کسی غیر واضح دفتر یا وعدے پر پیسے مت دیں۔
کبھی بہن، بیٹی یا بیوی کے زیور، جہیز یا جائیداد بیچ کر پیسے جمع مت کریں۔ یہ پچھتاوہ آپ کی راتیں تنگ کر دے گا۔
ہمیشہ قانونی ورک ویزا یا اسپانسرشپ کے ذریعے ہی بیرونِ ملک جائیں۔
تمام دستاویزات کی تصدیق کریں، کمپنی کے ڈاکومنٹس اور آفیشل آفر لیٹر مانگیں۔
میری التجا یہی ہے: آنکھیں بند کر کے کسی کے کہنے پر اپنا گھر بار، عزت اور آنے والے کل کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
پردیس میں عزت اور سکون تبھی ممکن ہے جب آپ قانون کے مطابق جائیں۔