Battal Mansehra بٹل مانسہرہ

Battal Mansehra بٹل مانسہرہ یہ پیج ضلع مانسہرہ کے ایک خوبصورت علاقے "بٹل" کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔
(1)

05/07/2026

پرندوں کی چہچہاہٹ صرف ایک خوبصورت آواز نہیں، بلکہ ان کی زبان ہے۔ وہ اسی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، اپنے ساتھی کو بلاتے ہیں، اپنے علاقے کا اعلان کرتے ہیں اور کبھی خطرے سے بھی خبردار کرتے ہیں۔ صبح کے وقت سنائی دینے والی چہچہاہٹ کو Dawn Chorus کہا جاتا ہے، جو فطرت کے دلکش مناظر میں سے ایک ہے۔
جہاں تک معصومیت کی بات ہے، پرندے انسانوں کی طرح دکھاوا، نفرت یا لالچ نہیں رکھتے۔ ان کی زندگی سادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے گھونسلے بناتے ہیں، بچوں کی پرورش کرتے ہیں، خوراک تلاش کرتے ہیں اور فطرت کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اسی سادگی اور بے ساختگی کی وجہ سے لوگ انہیں معصوم اور پاکیزہ مخلوق سمجھتے ہیں۔

آپ کی مقامی زبان میں اس پرندے کو کیا کہا جاتا ہے كمنٹ میں بتائیں

18/06/2026

برسات کا موسم اپنے پورے جوبن پر ہے۔ پہاڑ دھند کی نرم چادر اوڑھے کھڑے ہیں۔ بارش کی بوندیں فضا میں ایک خاموش دھن بکھیر رہی ہیں اور پرندوں کی چہچہاہٹ قدرت کے اس حسین منظر کو مزید دلکش بنا رہی ہے۔ ایسے موسم میں انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ خوشی صرف خوبصورت مناظر میں نہیں بلکہ کسی اپنے کی موجودگی میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب دل کے قریب کوئی ساتھ ہو تو بارش کی ہر بوند ایک نغمہ لگتی ہے لیکن جب وہ ساتھ نہ ہو تو یہی حسین موسم بھی ایک انجانی اداسی کا گمان دل میں جگا دیتا ہے جیسے کوئی کسی خاموش انتظار میں ہو۔

بٹل کے بازار میں ایک موچی زاہد ہے۔ وہ صبح سویرے اپنے اوزار سڑک کنارے رکھتا ہے۔ اور شام تک وہیں بیٹھا رہتا ہے۔نہ گرمی اسے...
25/05/2026

بٹل کے بازار میں ایک موچی زاہد ہے۔ وہ صبح سویرے اپنے اوزار سڑک کنارے رکھتا ہے۔ اور شام تک وہیں بیٹھا رہتا ہے۔
نہ گرمی اسے روکتی ہے، نہ سردی۔ نہ بارش، نہ دھوپ۔
اس کے ہاتھ مسلسل کام میں لگے رہتے ہیں۔تجربہ اتنا کہ پرانے جوتے نئے کر دیتا ہے۔زاہد بہت غریب آدمی ہے۔ مگر اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ ہوتی ہے۔ وہ ہر آنے والے کو عزت سے دیکھتا ہے۔اور مسکرا کر بات کرتا ہے۔ لوگ اسے روز دیکھتے ہیں۔ مگر بہت کم لوگ اس کی تھکن کو محسوس کرتے ہونگے۔
بہت کم لوگ سوچتے ہیں کہ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کیا چھپا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہاتھ سے محنت کرنے والوں کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔ ان کو وہ عزت نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ بازاروں کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی لوگ ہماری ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ زاہد جیسے لوگ خاموشی سے جیتے ہیں۔ اور خاموشی سے زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ اس کی زندگی میں دولت کم ہے۔ مگر اس کی محنت بہت بڑی ہے۔ اور شاید اصل عزت بھی وہی ہے جو اس کے پاس ہے۔

یہ ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے پاس کچھ بھی نہیں ، نہ وسائل ، نہ سہولت کاری کے چانس ، اور نہ مواقع تلاش کرنے یا جدو جہد میں شامل ہونے کے لیے کوئی وسیلہ۔ نہ روٹی ، نہ پانی ، نہ زندگی کے آثار ، فقط بیمار ، لاچار ، بے نام ، گمنام ، نہ صحت کارڈ ، نہ بے نظیر انکم ، نہ مفت میٹرو ٹکٹ ،نہ لنگر خانے کا پتا ، نہ گداگری کی ہمت حتیٰ کہ کوئی درخواست ، کوئی خواہش ، کوئی زبان بھی نہیں۔ نہ ہسپتال کی خبر ، نہ ڈاکٹر کی ذات تک رسائی۔ یہ چوتھا طبقہ ہی اصل میں خدا کی قوم ہیں۔
مجھے آج اپنے گائوں میں پانچواں دن مسلسل ہو گیا ہے۔ یہاں کے بعض ایسے طبقے کے افراد کو دیکھ کر دل پھٹ رہا ہے ، کلیجہ چھلنی ہے۔ ہمارے بعض شہروں کے دوست جس دیدہ دلیری سے اپنی ضروریات کے لیے مدد کا کہتے ہیں ، یہاں یہ لوگ بچارے ڈر کر جھجک کر اور شرمندہ ہو کر بھی نہیں کہہ سکتے ہیں حالانکہ اِنھیں ہی اصل ضرورت ہوتی ہے ۔

22/05/2026

کبھی کبھی انسان کا دل شور سے بھر جاتا ہے، تب اسے سکون صرف پرانی چیزوں میں ملتا ہے۔وہ وقت یاد آتا ہے جب کھیتوں میں ٹریکٹر کی آواز نہیں گونجتی تھی بلکہ بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی ہلکی آواز سنائی دیتی تھی۔ صبح سویرے ٹھنڈی ہوا چلتی تھی، پہاڑی ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہتا تھا، اور درختوں پر بیٹھے پرندے ایسے چہچہاتے تھے جیسے زمین کے ساتھ خوشی بانٹ رہے ہوں۔

ایک کسان اپنے بیلوں کے ساتھ کھیت میں اترتا تھا۔ اس کے کپڑوں پر مٹی لگی ہوتی تھی مگر دل بہت صاف ہوتا تھا۔ وہ بیلوں کو نام لے کر پکارتا، ان کے سر پر ہاتھ پھیرتا، اور آہستہ آہستہ ہل چلاتا رہتا۔ اس وقت کھیتی صرف روزی نہیں ہوتی تھی، وہ محبت تھی، ایک رشتہ تھا، ایک سادہ زندگی کی خوبصورت تصویر تھی۔

آج مشینیں بہت تیز ہو گئی ہیں، مگر ان میں وہ خلوص نہیں جو بیلوں کے ساتھ جڑے انسان کے دل میں ہوتا تھا۔ اب کھیت تو تیار ہو جاتے ہیں، لیکن وہ پرانی باتیں، وہ ہنسی، وہ مٹی کی خوشبو، اور وہ سکون کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ وقت تھوڑی دیر کے لیے رک جائے، اور انسان پھر سے انہی کھیتوں میں لوٹ جائے جہاں بیلوں کے قدم نرم مٹی پر پڑتے تھے، ندی کنارے ہوا چلتی تھی، اور انسان کے دل میں دنیا کی کوئی لالچ نہیں ہوتی تھی۔

وہ دن شاید غریب تھے، مگر دل بہت امیر تھے۔

19/05/2026

دن بھر دھوپ میں کام کرنے کے بعد کسان اب کھیت کے کنارے ایک گھنے درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں گرم چائے کا کپ ہے کسی کے سامنے گھر سے آئے ہوئے سادہ پراٹھے رکھے ہیں۔ تھکے ہوئے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ ہے، اور باتوں میں زندگی کی چھوٹی چھوٹی امیدیں شامل ہیں۔

وہ ہنس تو رہے ہیں، مگر ان کی ہنسی کے پیچھے کئی فکر چھپی ہوئی ہیں۔ کسی کو قرض کی پریشانی ہے، کسی کو فصل کی۔ کسی کے بچے کی فیس باقی ہے، اور کسی کے گھر میں دوا ختم ہو چکی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ مٹی سے جڑے رہتے ہیں، کیونکہ یہی مٹی ان کی پہچان بھی ہے اور روزی بھی۔

ہوا آہستہ آہستہ درخت کے پتوں کو ہلا رہی ہے۔ چائے کی بھاپ میں تھکن کچھ کم ہوتی محسوس ہوتی ہے، مگر دل کے بوجھ اتنی آسانی سے ہلکے نہیں ہوتے۔ یہ کسان جانتے ہیں کہ شام ڈھلے پھر گھر جانا ہے، اور کل سورج نکلنے سے پہلے دوبارہ انہی کھیتوں میں آنا ہے۔

ان کے ہاتھ کھردرے ہیں، کپڑے مٹی سے بھرے ہیں، مگر انہی ہاتھوں کی محنت سے شہروں کے چولہے جلتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جو لوگ سب کے لیے اناج اگاتے ہیں، اکثر ان کے اپنے گھروں میں سکون اور آسائش کم ہی ہوتی ہے۔

درخت کے نیچے بیٹھی یہ چند تھکی ہوئی زندگیاں شاید دنیا کو عام لگیں، مگر حقیقت میں یہی لوگ زمین کی اصل طاقت ہیں؛ خاموش، تھکے ہوئے، مگر پھر بھی جینے کی کوشش کرتے ہوئے۔

دوستوں آج میں آپ کو اپنے گاؤں کے ایک دلچسپ شخصیت نظیر عرف مٹھو کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔گاؤں کی گلیاں بھی عجیب ہوتی ہیں...
14/05/2026

دوستوں آج میں آپ کو اپنے گاؤں کے ایک دلچسپ شخصیت نظیر عرف مٹھو کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔
گاؤں کی گلیاں بھی عجیب ہوتی ہیں مٹی کی خوشبو کچے راستے اور ان راستوں پر بکھری ہوئی بچپن کی یادیں۔ انہی یادوں میں ایک نام ہمیشہ مسکراتا ہوا سا ابھرتا ہے نظیر جسے سب پیار سے مٹھو کہتے تھے۔

مٹھو صرف ایک لڑکا نہیں تھا وہ ہماری شرارتوں قہقہوں اور بے فکری کے دنوں کی پہچان تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک چمک ہوتی تھی جیسے کوئی نیا خیال ابھی ابھی جنم لے رہا ہو۔ وہ شرارتی ضرور تھا مگر اس کی شرارتوں میں کبھی کسی کے لیے تلخی نہیں ہوتی تھی صرف ہنسی اور زندگی کی سادگی ہوا کرتی تھی۔

یہ غالبا دوہزار ایک یا دو کی بات ہے ایک بار گاؤں میں شادی کا سماں تھا۔ ہر طرف روشنی
قہقہےاور خوشیوں کی رونق تھی۔ مہمان اپنے اپنے رنگ میں مصروف تھے اور اسی ہنگامے میں مٹھو نے اپنی مخصوص شرارتی معصومیت کے ساتھ ایک کارنامہ انجام دے ڈالا۔ اس نے خاموشی سے مہمانوں کی جوتیاں ادھر اُدھر چھپا دیں۔

کچھ ہی دیر میں منظر بدل گیا۔ جو مہمان ابھی ہنس رہے تھے اب اپنی جوتیاں ڈھونڈنے میں مصروف تھے۔ کوئی ادھر دیکھ رہا تھا کوئی اُدھر۔ کچھ ہلکی سی پریشانی کے ساتھ مسکرا بھی رہے تھے۔ اور ایک کونے میں مٹھو کھڑا اپنی ہی شرارت پر دبے دبے قہقہے لگا رہا تھا۔

لیکن بات صرف جوتیوں کی نہیں تھی وہ لمحہ دراصل اس بے فکری کا تھا جو اب کہیں کھو گئی ہے۔ وہ معصوم شرارتیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس دینا اور وہ دل جو کسی کو دکھانے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے۔

آج جب وقت آگے بڑھ چکا ہ تو مٹھو کی وہ شرارت بھی ایک خوبصورت یاد بن چکی ہے۔ ایک ایسی یاد جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی سنجیدگی میں نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے بے ضرر لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔

مٹھو آج بھی یاد آتا ہے نہ صرف اپنی شرارتوں کی وجہ سے بلکہ اس سادگی اس خلوص اور اس ہنسی کی وجہ سے جو اس نے ہم سب کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی۔

12/05/2026

آج قصبے میں دن تین سے لے کر مغرب تک وقفے وقفے تک بارش برس رہی تھی۔ تین بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بہت تیز بارش برسی۔ میں چھتری لے کر ندی کی طرف نکلا کہ دیکھ لو ندی میں کتنی طغیانی آئ ہے۔ ندی میں شدید طغیانی تھی۔ بجلی چمک رہی تھی۔ بادل کڑک رہے تھے۔ ایک چرواہے کو میں نے دیکھا جو اپنی بھیڑوں کو گھنے درختوں کے نیچے جمع کیے ہوۓ تھا کہ بارش رکے اور وہ گھر کی راہ لے۔ جب بارش رکی تو میں نے ایک جگہ اس پرندے کو دیکھا جو ایک ٹہنی پر بیٹھا چہک رہا تھا۔ یہ پرندہ Long Tail Shrike تھا۔ میں کچھ دیر اس خوبصورت پرندے کو دیکھتا رہا اور پھر یہ منظر اپنے کیمرے کی آنکھ سے قید کر لیا۔ میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے ایک سرسبز وسیع و عریض وادی چاہیے۔ جس میں قسم قسم کے پرندے ہوں۔ چنار، کیکر، چیڑ، صنوبر، دیودار کے بلند و بالا درخت ہوں۔ کچھ معصوم جانور ہوں۔ ایک ندی ہو جس کے کنارے میرا پھولوں کا باغ ہو۔ اس باغ کے کنارے میری سرکھنڈوں کی ایک جونپڑی ہو۔ غریب آدمی فطرت کے قریب رہے تو اسے غربت محسوس نہیں ہوتی میں امیر آدمی ہوں۔

Address

Battal
Mansehra
21310

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Battal Mansehra بٹل مانسہرہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category