27/12/2025
جندر کے کچے صحن میں بوڑھا آدمی خاموشی سے بیٹھا ہے۔
اس کے ہاتھوں کی رگیں ابھری ہوئی ہیں جیسے وقت نے خود ان پر اپنی لکیریں کھینچ دی ہوں۔ مکئی کے دانے آہستہ آہستہ گھومتے ہوئے بھاری پتھر کے سوراخ میں سرکتے ہیں اور ہر گردش کے ساتھ صرف دانے نہیں پستے ایک پوری زندگی بھی جیسے گھس گھس کر باریک ہوتی جا رہی ہو۔
پتھر کی چرچراہٹ میں صدیوں کی تھکن بسی ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو جدید مشینوں کے شور میں کہیں کھو چکی ہے مگر اس بوڑھے کے کانوں میں اب بھی زندہ ہے۔ کبھی یہی جندر گاؤں کی سانس تھا، عورتوں کی ہنسی بچوں کی آوازیں اور محنت کی سچی خوشبو اس کے گرد بستی تھی۔ آج صرف ایک بوڑھا ہے اور اس کی مکئی اور ایک لمبی خاموشی۔
ہر دانہ جو پس کر آٹا بنتا ہے کسی یاد کی طرح ہے کبھی بھرپور کبھی ٹوٹا ہوا۔ اس بوڑھے کی آنکھوں میں نمی ہے مگر آنسو نہیں گرتے شاید آنسو بھی اب پرانے ہو چکے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ یہ جندر صرف مکئی نہیں پیستا یہ وقت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ پستا چلا جاتا ہے۔
پھر بھی وہ بیٹھا ہے۔
کیونکہ کچھ رشتے پیٹ سے نہیں، یادوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
اور جندر اس کی آخری یاد ہے جو اب بھی گھوم رہی ہے۔