Safar gardi by Khuram

Safar gardi by Khuram Safar gardi by khuram is a personal blog for tourists and viewers

14/08/2026

78 سال بعد بھی وھی لوگ قابض ھیں اور اب تو ان قابضین کا چھپا ھوا ھینڈلر بھی کھل کر سامنے آ چکا ھے اوراپنے ٹاؤٹس کے ذریعے پاکستان کو کولیپس کرنے کی وعید بھی سناتے ھیں اور حب الوطنی کے غلاف میں لپیٹ کر حق بادشاھت بھی جتاتے ھیں

اس خاتون کا ٹوٹہ لیک ہوا دو تین دن سے جو بھی سوشل میڈیا ایپ کھولو اس کی تصویریں لگی ہوی ہیں ۔۔۔ شاید یہ کوی ٹیچر تھی اور...
12/08/2026

اس خاتون کا ٹوٹہ لیک ہوا دو تین دن سے جو بھی سوشل میڈیا ایپ کھولو اس کی تصویریں لگی ہوی ہیں ۔۔۔

شاید یہ کوی ٹیچر تھی اور اپنے شاگرد سے غ کر بیٹھی اس ویڈیو لیک کے پیچھے کیا مقصد ہے ۔۔۔

اس کے پیچھے سوچی سمجھی سازشی ہے تاکہ تاثر دیا جا سکے دوپٹہ پہننے والی لڑکیاں بھی یہ سب کچھ کر سکتی ہیں ۔ بجاے اس پر چسکہ لینے کے اس پر سوال اٹھائیں ۔

عمیری سکینڈل کے بعد یہ دوسرا ایسا سکینڈل ہے جو زبان زد عام۔ اے روز ایسی ویڈیوز نکلتی رہتی ہیں ۔۔

مگر اس پر بحث کیوں ہو رہی ہے ۔ وجہ جانتے ہیں کیونکہ اس کے سر پر دوپٹہ موجود رہا ۔اسی وجہ سے یہ ڈسکس ہو رہی ہے ۔ کیا یہ باقی سکینڈل کی طرح صرف عام سا سکینڈل ہے تو ایسا بلکل نہی ہے ۔ کچھ حقائق جان لیں ۔

جانتے ہیں میا خلیفہ کیوں مشہور ہوی وہ کام تو پہلے سے کر رہی تھی شہرت اسے تب ملی جب اس نے حجاب سر پر لیکر ویڈیو شوٹ کرنے پر اور اسی ویڈیو پر لبنان میں اس کے خلاف مظاہرے ہوے ۔ لوگ مشتعل ہو گئے تھے کہ مسلمان خواتین کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ۔۔

اس سب کے بعد پورن انڈسٹری میں حجاب کے نام سے اک باقاعدہ کیٹگری بنا دی گئی تھی جسکا مقصد صرف مسلمان عورت کے حجاب کو بدنام کرنا تھا ۔

اب یہی حرکت اس خاتون نے کی ہے ۔استاد جیسے مقدس پیشہ کو بدنام کیا ۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر یہ ویڈیو باقاعدہ شوٹ کرای گی اسے خود سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا گیا ۔۔ یہ کوی لیک سکینڈل نہی ہے ۔

اپ اس خاتون کے بارے میں جو بھی پوسٹ دیکھیں گے اس کے دوپٹہ کو طنز وتنقیند مزاح میمز کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے وجہ سے ہوتا ہے۔ برسلز کی ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ کے گیارہ ممالک میں کم از کم آٹھ سو چھہتر اسلاموفوبک واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں توہین امتیازی سلوک نفرت انگیز تقاریر اور جسمانی حملے شامل تھے اور ان واقعات کے شکار افراد میں اسّی فیصد خواتین تھیں جن کا تعلق حجاب سے تھا۔ ی

فرانس میں سرکاری اسکولوں میں حجاب پر پابندی موجود ہے اور کھیلوں میں مذہبی لباس پر پابندی کی بحث بھی جاری ہے۔ بیلجیم میں مسلم خواتین کو ملازمت کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اکثر انہیں نوکری کے لیے حجاب اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جرمنی میں سرکاری ملازمین کے لیے حجاب پر پابندی کا قانون تاحال متنازع ہے۔ پرتگال کی پارلیمنٹ نے اکتوبر دو ہزار پچیس میں نقاب اور برقعے پر پابندی کا بل منظور کیا جس میں پہننے والی خواتین پر جرمانے اور دوسروں کو مجبور کرنے والوں کے لیے قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

یورپی یونین کے ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر حجاب والی خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں مذہب سے جوڑا جاتا ہے۔

اپکو میرا جسم میری مرضی مارچ تو یاد ہو گا جس میں نعرہ لگا تھا دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو ۔۔ اپ یہ بھی جانتے ہیں پہلے ملک میں قانون تھا نیوز اینکر دوپٹہ لیکر خبریں پڑھتے تھے اب دوپٹہ سروں پر نہی ۔ یہ کس نے پابندی اٹھای ؟

اب اس سکینڈل کے پیچھے بھی وہی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں دوپٹہ حجاب کو بدنام کیا جا سکے تاکہ کوی لڑکی جو سر پر دوپٹہ لے حجاب پہنے ہم اس کو غلط سمجھیں۔ یہ خاتون مجھے استانی نہی لگتی اس کا تعلق بھی انہیں قوتوں سے نکلے گا ۔۔

اگر عمیری اور اس کے ساتھ والی خاتون کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو یہ کیوں نہی گرفتار ہو سکتی ۔

نوٹ :
میرے پاس نہ ویڈیو ہے نہ ہی میں انجنئیر علی مرزا ہوں جو پہلے ویڈیو دیکھوں پھر اس پر اپنا تجزیہ دوں ۔ اس لیے لنک مانگ کر نہ خود شرمندہ ہوں نہ مجھے شرمندہ کجیے گا ۔

چھوٹا سا حادثہ اور 18 لاکھ کا بلالیکٹرک گاڑی دیپال کا چھوٹا سا حادثہ اور اٹھارہ لاکھ کا بل۔ پاکستان جیسے ممالک میں انسان...
10/08/2026

چھوٹا سا حادثہ اور 18 لاکھ کا بل
الیکٹرک گاڑی دیپال کا چھوٹا سا حادثہ اور اٹھارہ لاکھ کا بل۔ پاکستان جیسے ممالک میں انسانوں اور جانوروں کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کسی بھی وقت کہیں سے اچانک نمودار ھو جائیں اور آپکا جانی و مالی نقصان کر دیں۔ جانور پھر بھی سمجھ چکے ھیں کہ سڑک دیکھ کر پار کرنی ھے لیکن انسان نہیں سمجھے۔

چالان، چالان اور صرف چالان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے والے بہادر وارڈن عثمان طور نے سی ٹی او فیصل آباد کے خلاف محکمانہ...
09/08/2026

چالان، چالان اور صرف چالان
کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے والے بہادر وارڈن عثمان طور نے سی ٹی او فیصل آباد کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کے لیے صوبائی محتسبِ اعلیٰ کو درخواست جمع کرا دی۔

ایک ٹریفک وارڈن کی اپنے ہی نظام کے خلاف دہائی

فیصل آباد: ٹریفک وارڈن عثمان طور کا سی ٹی او کے خلاف محتسب پنجاب سے رجوع، سنگین الزامات نے محکمہ ٹریفک میں سوالات کھڑے کر دیے

فیصل آباد: جس ٹریفک وارڈن کی ذمہ داری شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کروانا اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنا ہے، وہی اب اپنے محکمے کے نظام کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے محتسب پنجاب کے دروازے تک جا پہنچا۔

سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد کے وارڈن عثمان طور (نمبر 620) نے چیف ٹریفک آفیسر فیصل آباد کے خلاف محکماتی ناانصافیوں اور مبینہ ناجائز کارروائیوں کے حوالے سے محتسب پنجاب کو درخواست ارسال کر دی ہے۔

درخواست میں عثمان طور نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹریفک نظام کی بہتری، شہریوں کی سہولت اور ٹریفک نظم و ضبط کے بجائے اہلکاروں پر مبینہ طور پر چالان کے اہداف پورے کرنے کا دباؤ زیادہ رکھا جا رہا ہے۔

وارڈن کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران چالان ہدف پورا نہ ہونے کی بنیاد پر اسے متعدد شوکاز نوٹسز، سروس میں چھ ماہ کی ضبطی کی سزا اور تبادلے کا سامنا کرنا پڑا۔

درخواست میں ایک اور اہم سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ چالان کے لیے سرکاری اینڈرائیڈ ڈیوائس اور انٹرنیٹ پیکج فراہم نہ ہونے کے باعث اہلکاروں کو دورانِ ڈیوٹی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو اہلکاروں سے اہداف کیسے پورے کروائے جا سکتے ہیں؟

عثمان طور نے مبینہ طور پر ویلفیئر فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ درخواست میں سی ٹی او کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

یہ معاملہ اب صرف ایک وارڈن کی شکایت نہیں رہا بلکہ اس نے فیصل آباد ٹریفک پولیس کے نظام، اہلکاروں پر دباؤ، چالان اہداف اور ویلفیئر فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

اگر ایک ڈیوٹی پر موجود وارڈن اپنے ہی محکمے کے خلاف محتسب پنجاب سے فریاد کرنے پر مجبور ہو جائے تو یقیناً متعلقہ اعلیٰ حکام کو اس شکایت کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لینا چاہیے، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور اگر کسی اہلکار کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اسے انصاف ملے، جبکہ الزامات غلط ثابت ہوں تو وہ بھی واضح طور پر سامنے آئیں۔

فیصل آباد کے شہریوں کی نظریں اب محتسب پنجاب اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام پر ہیں کہ اس معاملے کی حقیقت کیا ہے اور ذمہ دار کون ہے؟

ایکس پر حیات شیخ لکھتی ہیں کہ 8 کروڑ کی لگژری گاڑی میں سفر کرنے والا یہ رنگ برنگا نمونہ، 60 ہزار روپے کا میک اپ کرتا ہے،...
09/08/2026

ایکس پر حیات شیخ لکھتی ہیں کہ 8 کروڑ کی لگژری گاڑی میں سفر کرنے والا یہ رنگ برنگا نمونہ، 60 ہزار روپے کا میک اپ کرتا ہے، 5 لاکھ کا زنانہ طرز کا لباس پہنتا ہے، 50 ہزار کے جوتے اور 14 لاکھ کی گھڑی اپنے بازو میں سجائے رکھتا ہے۔

جاہل عوام اسکی راہ میں سرخ قالین بچھاتے ہیں اور وہ سر جھٹک کر، کندھے اچکاتے ہوئے 20 لاکھ کے سجے ہوئے اسٹیج پر قدم رکھتا ہے۔

اسکے سامنے بھوکوں اور ننگوں کا ایک ہجوم کھڑا ہوتا ہے۔ ہجوم کی نظر جیسے ہی اس پر پڑتی ہے، وہ بآواز بلند نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور نعرہ حیدری بلند کرتا ہے۔ پھر آٹھ دس پھونکیں ہجوم کی طرف اچھالتا ہے اور بدلے میں 5 لاکھ کا نذرانہ وصول کرتا ہے۔

مرید اور نامراد سب آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں:
"پیر صاحب کا دیدار ہو گیا، اب ہماری بگڑی بن جائے گی۔" لیکن حقیقت میں، انکی بگڑی بنے یا نہ بنے، پیر صاحب کی تو بن جاتی ہے۔ جب تک جاہل زندہ ہیں، یہ کاروبار یونہی چلتا رہے گا۔۔۔۔۔

فیری میڈوز حادثہپہاڑوں میں سفر کرتے وقت ڈرائیور کا ایک ملی سیکنڈ بھی توجہ ھٹانا حادثے کا باعث بن سکتا ھے۔ فیری میڈوز ٹری...
02/06/2026

فیری میڈوز حادثہ
پہاڑوں میں سفر کرتے وقت ڈرائیور کا ایک ملی سیکنڈ بھی توجہ ھٹانا حادثے کا باعث بن سکتا ھے۔
فیری میڈوز ٹریک پر بعض اوقات مقامی ڈرائیور کم عمر ڈرائیور ساتھ بھیج دیتے ھیں جو ناتجربہ کار بھی ھوتے ھیں اور پھر ان لوگوں کی کوشش ھوتی ھے کہ وہ ایک سے زیادہ چکر لگائیں تاکہ زیادہ پیسے کمائیں۔ جسکی وجہ سے عجلت سے کام لیتے ھیں۔
ایک لمحے کی غلطی، اور سات زندگیاں ہمیشہ کے لیے ختم...

فیری میڈوز جانے والے خطرناک جیپ ٹریک پر پیش آنے والے اس المناک حادثے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 4 سیاح، خیبر پختونخوا کے 2 مسافر اور ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہوگئے۔

فیری میڈوز کا یہ راستہ دنیا کے خطرناک ترین پہاڑی ٹریکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک طرف بلند پہاڑ اور دوسری طرف سینکڑوں فٹ گہری کھائیاں، جہاں ڈرائیونگ کی معمولی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

خوبصورت مقامات کی تلاش میں نکلتے وقت ہم اکثر صرف منزل دیکھتے ہیں، مگر راستے کے خطرات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ حادثہ یاد دلاتا ہے کہ شمالی پاکستان، فیری میڈوز، نانگا پربت اور دیگر ایڈونچر مقامات کی سیر کے دوران احتیاط، تجربہ کار ڈرائیور اور محفوظ سفر کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔

📍 فیری میڈوز ٹریک
📍 نانگا پربت بیس کیمپ روٹ
📍 گلگت بلتستان، پاکستان

ڈرائیورز کی غفلت۔نادیدہ قوم اپنے گاڑیوں کے ایگزیکٹ  وے یعنی حادثات کے دوران جن راستوں سے نکلنا ہوتا ہے ان میں پائپ لگاکر...
25/05/2026

ڈرائیورز کی غفلت۔
نادیدہ قوم اپنے گاڑیوں کے ایگزیکٹ وے یعنی حادثات کے دوران جن راستوں سے نکلنا ہوتا ہے ان میں پائپ لگاکر انہی راستوں کو بند کرتی ہے، حکومت اور محکمہ پولیس سے اپیل کروں گا کہ آج ایک آپریشن کے ذریعے ان نادیدہ ڈرائیورز کے فلائینگ کوچ اور دوسرے گاڑیوں سے ان پائپ کو نکال دے تاکہ دوران حادثات زخمیوں کو آسانی کے ساتھ نکالا جا سکے اور اموات کم سے کم ہوں۔

اس پیغام کو ٹریفک پولیس اور اعلی حکام تک پہنچاۓ تاکہ آج اس کے خلاف آپریشن شروع کرے، میں نے دوران سفر خود کئی ڈرائیورز کو اس بات کی نشاندہی کی تھی مگر بجاۓ کہ وہ میری بات مانتے مجھ سے الٹا لڑنے لگے۔

کیا آپ اس بچی کو جانتے ہیں۔۔؟؟سال 2022 کی بات ہے عید قرباں کے ایام میں کراچی کے علاقے گلشن معمار میں سڑک پر یہ بچی روتی ...
04/04/2026

کیا آپ اس بچی کو جانتے ہیں۔۔؟؟

سال 2022 کی بات ہے عید قرباں کے ایام میں کراچی کے علاقے گلشن معمار میں سڑک پر یہ بچی روتی ہوئی ملی تھی۔ ایک تھیلی ہاتھ میں تھی جسمیں کچھ کیلے اور سیب تھے۔ بچی کے کپڑے میلے تھے ل، بہت ڈری سہمی اور حالت زار میں تھی۔ راہ چلتے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اپنی تحویل میں لیا،بچی نے اس وقت اپنا نام دعا بتایا تھا۔ والدین کے نام یا مزید کسی کا نام یا معلومات بتانے سے قاصر تھی۔ دعا کی عمر شاید تین سے ساڑھے تین سال تک تھی۔اردو زبان میں بات کرتی تھی۔ زیر نظر تصویر انہی دنوں کی ہے جب ملی تھی۔
ان صاحب کے بقول انہوں نے متعلقہ تھانے جاکر بچی کی اطلاع دی اور اپنا نمبر لکھوایا کہ کوئی بھی تلاش کرنے آئے تو ہم سے رابطہ کریں ہم تصدیق کے بعد ورثاء کے حوالے کریں گے۔
بچی نے اس وقت کہا تھا کہ "مجھے میرے پاپا یہاں چھوڑ کر گئے ہیں"۔ اصل حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے کہ بچی کہاں کی ہے اور کون یہاں چھوڑ کر گیا۔
اس وقت بچی محفوظ ہاتھوں میں ہے اور ایک شریف فیملی کی اچھی پرورش میں ہے، انہوں نے بہت کوشش کی ورثاء کا کوئی سراغ نا ملا۔
کراچی بھر کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ دعا کو انکی ماں سے ملوانے کے لئے ہماری مدد کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی ماں کو اسکا لخت جگر دلوا سکتا ہے۔ اور بچی کو ماں جیسی جنت مل سکتی ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829

4 April 2026

‏🔴 ترکیے کے مرحوم سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان:‏➖ میں حج پر جانا چاہتا ہوں۔‏➖ مجھے حج پر جانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟‏➖...
02/03/2026

‏🔴 ترکیے کے مرحوم سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان:
‏➖ میں حج پر جانا چاہتا ہوں۔
‏➖ مجھے حج پر جانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
‏➖ میں ترکش ایئر لائنز یا سعودی عربین ایئر لائنز کے ساتھ پرواز کروں گا۔
‏➖ جب میں ان کے ساتھ اڑان بھرتا ہوں تو میں یہ سوچ کر اندر ہی اندر خوشی محسوس کرتا ہوں، "اچھا، میں مسلم ممالک کے کاروبار میں اضافہ کر رہا ہوں۔"
‏➖ تاہم، بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پرواز کرنے کے لیے ترکش ایئر لائنز یا سعودی عربین ایئر لائنز کا IATA کا رکن ہونا ضروری ہے۔
‏➖ آئی اے ٹی اے ایک راکفیلر تنظیم ہے۔
‏➖ آئی اے ٹی اے کا رکن بننے کے لیے، آپ راکفیلر کو ٹکٹ کی قیمت کا 9% ادا کرنے کے پابند ہیں۔
‏➖ مطلب میں ٹکٹ کی قیمت کا 9% ادا کیے بغیر یہاں سے حج پر نہیں جا سکتا۔
‏➖ اچھا، پھر میں ہوائی جہاز سے نہیں جاؤں گا، بحری جہاز سے جاؤں گا۔
‏➖ کھلے سمندر میں جہاز کے سفر کے لیے، اسے لائیڈ کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
‏➖ لائیڈ بھی ایک Rothschild تنظیم ہے، اور وہ وہاں بھی 9% ادا کرتے ہیں۔
‏➖ دنیا کا حال دیکھو۔
‏➖ میں کسی یا ھودی کو اپنے حج کے کرایے کا 9% ادا کیے بغیر اپنے گھر سے حج کے سفر پر نہیں نکل سکتا۔
‏ ➖ یہ کیسی دنیا ہے؟

16/02/2026

مرتضی بھٹو کا قاتل کون

Address

Mithankot
33500

Telephone

+923176599129

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safar gardi by Khuram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Safar gardi by Khuram:

Shortcuts

Share

Category