12/08/2026
اس خاتون کا ٹوٹہ لیک ہوا دو تین دن سے جو بھی سوشل میڈیا ایپ کھولو اس کی تصویریں لگی ہوی ہیں ۔۔۔
شاید یہ کوی ٹیچر تھی اور اپنے شاگرد سے غ کر بیٹھی اس ویڈیو لیک کے پیچھے کیا مقصد ہے ۔۔۔
اس کے پیچھے سوچی سمجھی سازشی ہے تاکہ تاثر دیا جا سکے دوپٹہ پہننے والی لڑکیاں بھی یہ سب کچھ کر سکتی ہیں ۔ بجاے اس پر چسکہ لینے کے اس پر سوال اٹھائیں ۔
عمیری سکینڈل کے بعد یہ دوسرا ایسا سکینڈل ہے جو زبان زد عام۔ اے روز ایسی ویڈیوز نکلتی رہتی ہیں ۔۔
مگر اس پر بحث کیوں ہو رہی ہے ۔ وجہ جانتے ہیں کیونکہ اس کے سر پر دوپٹہ موجود رہا ۔اسی وجہ سے یہ ڈسکس ہو رہی ہے ۔ کیا یہ باقی سکینڈل کی طرح صرف عام سا سکینڈل ہے تو ایسا بلکل نہی ہے ۔ کچھ حقائق جان لیں ۔
جانتے ہیں میا خلیفہ کیوں مشہور ہوی وہ کام تو پہلے سے کر رہی تھی شہرت اسے تب ملی جب اس نے حجاب سر پر لیکر ویڈیو شوٹ کرنے پر اور اسی ویڈیو پر لبنان میں اس کے خلاف مظاہرے ہوے ۔ لوگ مشتعل ہو گئے تھے کہ مسلمان خواتین کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ۔۔
اس سب کے بعد پورن انڈسٹری میں حجاب کے نام سے اک باقاعدہ کیٹگری بنا دی گئی تھی جسکا مقصد صرف مسلمان عورت کے حجاب کو بدنام کرنا تھا ۔
اب یہی حرکت اس خاتون نے کی ہے ۔استاد جیسے مقدس پیشہ کو بدنام کیا ۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر یہ ویڈیو باقاعدہ شوٹ کرای گی اسے خود سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا گیا ۔۔ یہ کوی لیک سکینڈل نہی ہے ۔
اپ اس خاتون کے بارے میں جو بھی پوسٹ دیکھیں گے اس کے دوپٹہ کو طنز وتنقیند مزاح میمز کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے وجہ سے ہوتا ہے۔ برسلز کی ایک تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں یورپ کے گیارہ ممالک میں کم از کم آٹھ سو چھہتر اسلاموفوبک واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں توہین امتیازی سلوک نفرت انگیز تقاریر اور جسمانی حملے شامل تھے اور ان واقعات کے شکار افراد میں اسّی فیصد خواتین تھیں جن کا تعلق حجاب سے تھا۔ ی
فرانس میں سرکاری اسکولوں میں حجاب پر پابندی موجود ہے اور کھیلوں میں مذہبی لباس پر پابندی کی بحث بھی جاری ہے۔ بیلجیم میں مسلم خواتین کو ملازمت کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اکثر انہیں نوکری کے لیے حجاب اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جرمنی میں سرکاری ملازمین کے لیے حجاب پر پابندی کا قانون تاحال متنازع ہے۔ پرتگال کی پارلیمنٹ نے اکتوبر دو ہزار پچیس میں نقاب اور برقعے پر پابندی کا بل منظور کیا جس میں پہننے والی خواتین پر جرمانے اور دوسروں کو مجبور کرنے والوں کے لیے قید کی سزا رکھی گئی ہے۔
یورپی یونین کے ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر حجاب والی خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں مذہب سے جوڑا جاتا ہے۔
اپکو میرا جسم میری مرضی مارچ تو یاد ہو گا جس میں نعرہ لگا تھا دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو ۔۔ اپ یہ بھی جانتے ہیں پہلے ملک میں قانون تھا نیوز اینکر دوپٹہ لیکر خبریں پڑھتے تھے اب دوپٹہ سروں پر نہی ۔ یہ کس نے پابندی اٹھای ؟
اب اس سکینڈل کے پیچھے بھی وہی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں دوپٹہ حجاب کو بدنام کیا جا سکے تاکہ کوی لڑکی جو سر پر دوپٹہ لے حجاب پہنے ہم اس کو غلط سمجھیں۔ یہ خاتون مجھے استانی نہی لگتی اس کا تعلق بھی انہیں قوتوں سے نکلے گا ۔۔
اگر عمیری اور اس کے ساتھ والی خاتون کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو یہ کیوں نہی گرفتار ہو سکتی ۔
نوٹ :
میرے پاس نہ ویڈیو ہے نہ ہی میں انجنئیر علی مرزا ہوں جو پہلے ویڈیو دیکھوں پھر اس پر اپنا تجزیہ دوں ۔ اس لیے لنک مانگ کر نہ خود شرمندہ ہوں نہ مجھے شرمندہ کجیے گا ۔