14/05/2025
ہم پاکستانیوں کا ہر جگہ بہت اچھا استقبال ہوتا ہے ۔کل کیوان کہ قطر میں 9 گھنٹے گزارنے تھے اس لیئے ہم Visa on Arrival کے لیئے ڈیسک پر گئے۔
اور ہوچھا کہ بھائی ہمیں ویزہ دے دو نمائیندہ کہنے لگا پاکستانی پاسپورٹ پر Allow نہیں ہے جبکہ یہاں پاکستانی کہتے ہیں قطر میں Visa on Arrival ہے بلکہ قطر ان 35 ممالک میں شامل ہے جہاں پاکستانی آزادی سے جا سکتے
حالنکہ نمائندے کو بتایا بھی کہ ہم مسلمان بھائی بھائی اور ہندوستان جہاز گرائی گرائی
لیکن نہیں سارا دن ویسے ہی گزارا پھر۔
دوسرا آج صبح چانگی ائیرپورٹ سنگاپور پہنچے یہاں بھی صرف پاکستانیوں کو الگ سے روک لیا گیا اور گھنٹے بعد Clearance دی وہ بھی اتنے سوال پوچھنے کے بعد
اس کی وجہ ہم خود ہیں صرف 2025 میں 80 پاکستانی Cambodiaنے Deport کیئے اور 57 کو گرفتا کیا جو اغوا برائے تاوان اور انسانی سمگلنگ میں شامل تھے۔
کچھ عرصہ قبل تو آسٹریلیا کی Embassy کی طرف سے پشاور میں بل بورڈ لگائے گئے تھے کہ اللہ واسطے اپنی زندگیوں کا خیال کریں مکمل Documentation پر آئیں
لیکن کیا کریں یہاں پڑھے لکھے لوگ کہتے میں 5 سال سے گھر پر ہوں ان کا Experience Letter بنا دو کچھ پیسے رکھ لو۔
اسی طرح ایک سائیکالوجسٹ نے UK میں License کے لیئے اپلائی کرنا تھا اور جعلی سرٹیفیکیٹ بنا کر جمع کروا دیا
انگریزیوں نے کہا تم تھے یو کے میں لیٹر پاکستان سے آ گیا؟ اس پر اس کا 500 پاؤنڈز کا نقصان تو ہوا لیکن اس ادارے کی کیا عزت رہ گئی ہونی؟