Amir bashir

Amir bashir Multan heritage tour guide
traveller
biker
trekker
hikker
explorer

گزشتہ روز پی ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ قلعہ ملتان پر جاب کے دوران مجھے کسی نے بانکے میاں کے نام سے آواز دی دیکھا تو ایک صاحب ...
18/08/2026

گزشتہ روز پی ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ قلعہ ملتان پر جاب کے دوران مجھے کسی نے بانکے میاں کے نام سے آواز دی دیکھا تو ایک صاحب جلدی جلدی میری طرف آئے بڑی محبت سے ملے اور کہا کہ اپ کی ایکسپلورنگ اور کام فیسبک پر دیکھتے ہیں اور ہم دونوں میاں بیوی آپکے فالور ہیں جان کر بہت خوشی ہوئی یہ تھے کہروڑ پکا سے آئے ندیم حیات بھٹی جو اجکل دوبئی مقیم ہیں انھوں نے کہروڑ پکا آنے کی دعوت بھی دی اب دیکھیں کب جانا ہوتا ہے کہروڑ پکا
عامر بشیر عرف ملتان کا بانکا
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

لاہور سے قومی ٹیلی ویژن کی ٹیم یونیسکو کے تعاون سے ملتان کے ثقافتی ورثہ پر پروگرام ریکارڈ کرنے آئی جس میں انھوں نے ملتان...
17/08/2026

لاہور سے قومی ٹیلی ویژن کی ٹیم یونیسکو کے تعاون سے ملتان کے ثقافتی ورثہ پر پروگرام ریکارڈ کرنے آئی جس میں انھوں نے ملتان کے ثقافتی ورثے اونٹ کی کھال کی بنی اشیاء اونٹ کی ہڈی سے بنے شاہکار بلیو پوٹری مٹی کے برتن کاشی گری اور ملتان کے کھانوں پر پروگرام ریکارڈ کیے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کے پی ٹی وی کا عملہ اج بھی انتہائی تفصیل سے کام کرتا ہے اور کوئی چھوٹی سے چھوٹی کسر نہیں چھوڑتے انکے ساتھ میری ڈیوٹی تھی اور میرے یہ دو دن بہت تھکا دینے والے تھے لیکن کام تو پھر کام ہے باقی کوئی ملتان ائے اور سوہن حلوہ نہ جائے یہ نہیں ہوسکتا میری انکے ساتھ تصویر حلوے کی دکان کی ہے
عامر بشیر عرف ملتان کا بانکا
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

A national television team from Lahore came to Multan, in collaboration with UNESCO, to record a program on Multan's cultural heritage. They recorded segments on Multan's heritage — camel-hide crafted items, masterpieces made from camel bone, blue pottery, clay ware, Kashi-gari (tile work), and Multan's cuisine. It was heartening to see that PTV's staff still works with such great attention to detail, leaving no stone unturned, however small. I was on duty with them, and these two days were quite exhausting for me — but work is work, after all. As for the rest — someone can't come to Multan and not take sohan halwa back with them; that's just not possible. My picture with them is from the halwa shop.
Amir bashir aka multan ka banka
Guide walled city multan

وہ رات جب فرانس میں چند نوجوانوں کو اچانک احساس ہوا کہ ہمارا ملک تو بننے والا ہے، مگر ہمارے پاس اس کا پرچم ہی نہیں!اگست ...
16/08/2026

وہ رات جب فرانس میں چند نوجوانوں کو اچانک احساس ہوا کہ ہمارا ملک تو بننے والا ہے، مگر ہمارے پاس اس کا پرچم ہی نہیں!

اگست 1947ء کی ایک رات تھی۔ جگہ لاہور، کراچی یا دہلی نہیں بلکہ ہزاروں میل دور فرانس کا ایک چھوٹا سا علاقہ Moisson تھا، جہاں دنیا بھر سے بیس ہزار سے زیادہ نوجوان چھٹی World Scout Jamboree میں جمع تھے۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہوئے صرف دو برس ہوئے تھے، اسی لیے اس اجتماع کو امن اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ مختلف ملکوں کے اسکاؤٹس اپنے اپنے قومی پرچموں کے نیچے موجود تھے، مگر برصغیر سے آنے والے نوجوانوں کے لیے تاریخ نے عین انہی دنوں ایک عجیب صورت اختیار کرلی تھی۔ وہ ہندوستان سے ایک ہی وفد کی صورت میں روانہ ہوئے تھے، لیکن اب خبر آچکی تھی کہ چند دنوں کے اندر وہ سب ایک ہی ملک کے شہری نہیں رہیں گے۔ برصغیر تقسیم ہو رہا تھا اور دنیا کے نقشے پر ایک بالکل نیا ملک ابھرنے والا تھا جس کا نام پاکستان تھا۔

فرانس میں موجود ان مسلمان اسکاؤٹس کے لیے یہ خبر ناقابلِ بیان خوشی لے کر آئی، مگر اسی خوشی کے درمیان اچانک ایک ایسا سوال سامنے آگیا جس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ جب آزادی کا دن آئے گا اور دنیا کے دوسرے ممالک کے پرچموں کے درمیان نئے پاکستان کی نمائندگی کا وقت ہوگا تو پاکستان کا پرچم کہاں سے آئے گا؟ وہ ہندوستان سے روانہ ہوئے تھے تو پاکستان ابھی بنا ہی نہیں تھا، جبکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قومی پرچم کو باقاعدہ طور پر 11 اگست 1947ء کو منظور کیا تھا۔ فرانس میں بیٹھے ان نوجوانوں کے پاس نہ تیار پاکستانی پرچم تھا اور نہ ہی ایسا کوئی آسان ذریعہ کہ ایک ایسے ملک کا پرچم فوراً حاصل کر سکیں جو ابھی دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا تھا۔

مگر ان نوجوانوں نے طے کرلیا کہ جب پاکستان وجود میں آئے گا تو فرانس کی سرزمین پر بھی اس کا پرچم ضرور لہرانا چاہیے۔ اب مسئلہ صرف یہ تھا کہ اسے بنایا کیسے جائے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق نئے پرچم کا نقشہ ان کے سامنے تھا اور انہوں نے اپنے اردگرد موجود چیزوں ہی میں اس کے رنگ تلاش کرنا شروع کردیے۔ سبز کپڑے کے لیے ایک سبز پگڑی کام آئی جبکہ سفید حصے کے لیے ایک اسکاؤٹ نے اپنی سفید قمیص کا کپڑا دے دیا۔ وہاں موجود دو فرانسیسی Girl Guides نے سلائی میں ان کی مدد کی اور یوں جس نئے ملک کے پاس فرانس میں اپنا تیار قومی پرچم تک موجود نہیں تھا، اس کے نوجوان اپنے ہی کپڑوں سے اس کا پرچم تیار کرنے بیٹھ گئے۔

اس منظر کو آج سے تقریباً آٹھ دہائیاں پیچھے جاکر محسوس کیجیے۔ پاکستان میں ابھی نئے ملک کی پہلی صبح طلوع ہونا باقی تھی، اس کے ادارے ابھی بننے تھے، لاکھوں لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگیاں کس طرح بدل دیں گے، مگر ہزاروں میل دور فرانس میں چند نوجوان ایک سبز پگڑی اور سفید قمیص کے کپڑے کو جوڑ کر اس وطن کا نشان تیار کر رہے تھے جسے انہوں نے ابھی ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنی آنکھوں سے دیکھا تک نہیں تھا۔ رات گزرتی رہی، کپڑا کٹتا اور سلتا رہا اور بالآخر وہ پرچم تیار ہوگیا جسے اگلی صبح دنیا بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کے سامنے بلند ہونا تھا۔

اگلی صبح Moisson کے وسیع Jamboree میدان میں دنیا کے مختلف ممالک کے پرچموں کے درمیان ایک ایسا پرچم بھی بلند ہوا جو کسی سرکاری صندوق سے نکال کر نہیں لایا گیا تھا، نہ کسی سفارت خانے نے فراہم کیا تھا اور نہ کسی فیکٹری میں تیار ہوا تھا۔ وہ چند نوجوانوں کے اپنے کپڑوں سے بنایا گیا تھا۔ World Organization of the Scout Movement کے محفوظ تاریخی ریکارڈ کے مطابق Khurshid Abbas Gardezi اور ان کے ساتھی Iqbal Qureshi نے رات بھر میں پاکستان کا پرچم تیار کیا اور 14 اگست 1947ء کی صبح اسے چھٹی World Scout Jamboree کے میدان میں بلند کیا۔ اس تقریب کو اس وقت کے Commonwealth Chief Scout، Lord Rowallan نے بھی دیکھا اور اس غیر معمولی واقعے کا ذکر Jamboree Gazette میں بھی ہوا۔

لیکن شاید اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو صرف ایک پرچم کا بن جانا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کی اپنی کہانی ہے۔ وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے تو ایک ملک کے شہری تھے، ہزاروں میل کا سفر کرکے فرانس پہنچے اور وہیں کھڑے کھڑے تاریخ نے ان کی شناخت بدل دی۔ ایک نئی سرحد وجود میں آگئی، ایک نیا وطن پیدا ہوگیا اور اب انہی نوجوانوں کو دنیا کے سامنے پہلی مرتبہ اس وطن کے نام سے کھڑا ہونا تھا۔ ان کے سامنے پاکستان کا کوئی طویل ماضی نہیں تھا، کیونکہ ان کا ملک اسی لمحے تاریخ میں اپنا پہلا قدم رکھ رہا تھا، مگر ان کے پاس اس نئے وطن سے وابستہ ہونے کا احساس اتنا مضبوط تھا کہ پرچم دستیاب نہ ہونے پر انہوں نے اپنے ہی کپڑے کاٹ کر اسے تیار کرلیا۔

پاکستان Pakistan Boy Scouts Association کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح بھی فرانس میں چھٹی World Scout Jamboree کے دوران پاکستانی نوجوانوں کے قومی پرچم بلند کرنے کے جذبے سے متاثر ہوئے۔ بعد میں پاکستان واپس آنے پر ان اسکاؤٹس کو قائداعظم سے ملاقات کا موقع بھی ملا اور چند ماہ بعد دسمبر 1947ء میں قائداعظم پاکستان کے پہلے Chief Scout بنے۔ یوں فرانس کے ایک میدان میں شروع ہونے والی یہ چھوٹی سی داستان نئے پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گئی۔

آج 14 اگست کو پاکستان میں لاکھوں جھنڈے تیار مل جاتے ہیں۔ بازاروں، گھروں، گاڑیوں اور عمارتوں پر ہر طرف سبز ہلالی پرچم دکھائی دیتا ہے، مگر شاید اسی لیے فرانس کی وہ رات اور بھی خوبصورت محسوس ہوتی ہے جب چند نوجوانوں کے پاس اپنا قومی پرچم خریدنے کے لیے کوئی دکان اور اسے منگوانے کے لیے کوئی آسان ذریعہ موجود نہیں تھا۔ ان کے پاس صرف ایک سبز پگڑی، ایک سفید قمیص، چند مددگار ہاتھ اور ایک ایسے وطن سے وابستگی تھی جو ابھی اپنی پہلی صبح دیکھنے والا تھا۔ انہوں نے انہی چیزوں کو اکٹھا کیا، کپڑے کو کاٹا، سلوایا اور اگلی صبح اسے آسمان کی طرف بلند کردیا۔

نیچے کھڑے ان نوجوانوں کو شاید اس وقت اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی فرانس کی اس رات اور اس پرچم کا ذکر کیا جائے گا، مگر تاریخ نے اس لمحے کو محفوظ کرلیا۔ شاید اس لیے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب ان کے پاس وسائل، عمارتیں، ادارے اور دنیا بھر میں سفارت خانے نہیں ہوتے؛ ان کے پاس صرف ایک خواب، اس خواب پر یقین کرنے والے چند لوگ اور اپنی شناخت کو بلند کرنے کا عزم ہوتا ہے۔ فرانس کی اس رات پاکستان کے ان نوجوانوں کے پاس بھی شاید یہی سب کچھ تھا، اور اپنے نئے وطن کا پرچم بنانے کے لیے انہیں اپنی قمیص اور پگڑی کا کپڑا تک استعمال کرنا پڑا۔

14 اگست 1947ء کی اس صبح فرانس کے آسمان تلے جب وہ سبز و سفید پرچم ہوا میں بلند ہوا تو وہ محض سلے ہوئے کپڑے کے چند ٹکڑے نہیں تھے؛ وہ ایک ایسی قوم کی پہلی شناختوں میں سے ایک تھی جو اسی وقت دنیا کے نقشے پر اپنا نام لکھ رہی تھی، پاکستان۔ 🇵🇰

حوالہ جات:
• World Organization of the Scout Movement (WOSM) — Veteran Pakistani Scouter Gardezi honoured with Lifetime Achievement Award
• Pakistan Boy Scouts Association — تاریخی ریکارڈ / History of Scouting in Pakistan
• National Assembly of Pakistan — First Constituent Assembly؛ قومی پرچم کی منظوری، 11 اگست 1947ء
• Constituent Assembly of Pakistan Debates — 11 August 1947؛ قومی پرچم سے متعلق قرارداد اور تفصیلات
Copy from Funpaaray page

بشکریہ ذوالفقار گردیزی صاحب
سابق سفیر برائے ڈنمارک

14/08/2026

اندرون ملتان کے گاندھی محلہ میں موجود یہ مکان کسنگ ہاؤس کے نام سے مشہور نام تو اچھا لگتا ہے لیکن یہ رہنے کیلئے بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ ایک طرف کو جھک گیا ہے اور ایک دوسرے گھر کے سہارے کھڑا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہے اللہ گھر میں رہنے والوں کی حفاظت کرے
عامر بشیر عرف ملتان کا بانکا
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

13/08/2026

"Inside the walled city of Multan, in Gandhi Mohalla, there are two houses joined together, and the local people call it the 'Kissing House' — meaning the house that touches/kisses. Built on just one marla of land, this three-storey house leans so much that you can't stand straight inside it — you'll feel like you're standing tilted. An entire family lives in this house — God knows how, 😥 This is the first part of the video, the second part is more dangerous and will come soon."

اندرون ملتان کے گاندھی محلہ میں موجود دو مکان آپس میں ملے ہوئے ہیں اور یہاں کے لوگ اسکو کسنگ ہاؤس یعنی چمی وآلہ گھر کہتے ہیں ایک مرلہ زمین پر بنا یہ 3 منزلہ مکان اتنا جھکا ہے کہ آپ اس میں سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے اپ کو لگے گا کہ آپ جھکے ہوئے کھڑے ہیں اس گھر میں ایک پوری فیملی رہتی ہے اللہ جانے کیسے ،😥یہ پہلا حصہ ہے وڈیو کا دوسرا زیادہ خطرناک ہے جو جلد آئے گا
عامر بشیر عرف ملتان کا بانکا
گائیڈ آف ملتان

12/08/2026

اندرون حرم گیٹ میں موجود یہ چار منزلہ حویلی ایک ہندو ساہوکار کے نام سے منسوب ہے یہ حویلی اس نے اس وقت بنوانی شروع کی جب تقسیم سر پر تھی نہایت موٹی دیواروں انتہائی مضبوط دروازوں شاندار طرز تعمیر رنگین شیشوں لاتعداد کھڑکیوں سے مزین خوبصورت محرابی برآمدے غرض یہ حویلی ہر طرح سے مضبوط اور خوبصورت بنائی گئی لیکن تقسیم کے بعد جو لوگ یہاں مقیم ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ جب یہ گھر انکو ملا تو یہ بالکل نئی تھی اور گھر میں تعمیراتی سامان بھی پڑا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنانے والوں کو یہاں رہنا نصیب نہیں ہوا تقسیم کے زخم کھائے یہ حویلی آج بھی اندرون حرم گیٹ میں موجود ہے

Located inside Haram Gate, this four-storey haveli is attributed to a Hindu moneylender (sahukar). He began building it at a time when Partition was looming. With extremely thick walls, remarkably strong doors, magnificent architecture, colored glass, countless windows, and beautiful arched verandas — in every way, this haveli was built to be both sturdy and beautiful. But those who came to live here after Partition say that when this house came into their possession, it was completely new, and construction materials were still lying inside it — suggesting that its builders were never destined to live in it themselves. Bearing the wounds of Partition, this haveli still stands today inside Haram Gate.
Amir Bashir aka Multan Ka Banka
Guide of Multan
#

11/08/2026

اندرون حرم گیٹ صابن والی گلی میں موجود یہ کوچہ ویسے تو بے نام ہے لکین ایک طالبہ جو اس کوچے کی بناوٹ پر تھیسس کررہی تھی نے اسکو کوچہ راحت کا نام دیا شاید یہاں اسے باقی اندرون کی نسبت یہ جگہ زیادہ پرسکون لگی ہو بہرحال یہ کوچہ ہے بھی ایسا ہی اور اسمیں موجود مکانات اپنے طرز تعمیر کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ایک گھر کے دروازے پر ہندی لکھی ہے جس کو پڑھیں تو لگتا ہے کہ وہ کسی مندر کے پروہت کا گھر ہےیہاں چھوٹی بڑی اینٹ کے مکانات ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کوچہ راحت میں بڑی تعداد میں لکڑی استعمال ہوئی ہے باقی آپ وڈیو میں دیکھ لیں
عامر بشیر عرف ملتان کا بانکا
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

08/08/2026

ملتان تاریخی اور حیرانگیوں سے بھرا شہر ہے اسکی ایک مثال محلہ چھن چھن منگل میں موجود ایک کوچہ ہے جہاں اپ داخل بھی ایک تنگ گلی سے ہوں گے اور باہر نکلنے کے لیے بھی تنگ گلی استعمال کرنا پڑے گی ان دونوں گلیوں کے بیچ موجود یہ کوچہ مکانات کے طرز تعمیر کی وجہ سے عجیب لگتا ہے یہاں ایک گھر بالکل سیدھا دوسرا گھر کونے والا اور ایک گھر ڈرم کی طرح بالکل گول چلو اور ساتھ میں کسنگ ہاؤس بھی ہے مکانات کی تو خیر ہے ایسے گھر بن ہی جاتے ہیں لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ خوشی یا غمی کے موقع پر لوگ یہاں سے کیسے باہر نکلتے ہیں

مانگی ہوئی توجہ عزت نفس کی توہین ہے، بند کردیں وہ کھڑکی جو آپ کو تکلیف دیتی ہے، پھر چاہے اُس پار کا منظر کتنا ہی حسین کی...
08/08/2026

مانگی ہوئی توجہ عزت نفس کی توہین ہے، بند کردیں وہ کھڑکی جو آپ کو تکلیف دیتی ہے، پھر چاہے اُس پار کا منظر کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو، لوگوں کے دل جنت تو نہیں جو آپ اس میں رہنے کے لیے خود کو تھکا رہے ہیں..سو جہاں جگہ ملے رہ جائیں
Sleeping on footpath

Address

Multan

Telephone

+923154965554

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amir bashir:

Shortcuts

Share

Category