Amir bashir

Amir bashir Multan heritage tour guide
traveller
biker
trekker
hikker
explorer

دیکھ لو ملتانشکر ہے کہ ملتان میں بھی کسی کو یہ خیال ایا کہ وہ اپنے پرانے گھر یا دکان کو نئی شکل دیں تاکہ وہ دیکھنے میں خ...
26/05/2026

دیکھ لو ملتان
شکر ہے کہ ملتان میں بھی کسی کو یہ خیال ایا کہ وہ اپنے پرانے گھر یا دکان کو نئی شکل دیں تاکہ وہ دیکھنے میں خوبصورت لگے اور انے جانے والے اسے کچھ دیر رک کر دیکھیں جیسے میں نے اج پاک گیٹ کے قریب قمرودین دواخانہ کی یہ تقریبا 140 سال پرانی دکان کو دیکھا اور بہت اچھا بھی لگا اندرون ملتان میں بھی کچھ لوگوں نے اپنے پرانے گھروں کو اسی طریقے سے سنبھالا ہے اور لوگ ان کو دور دور سے دیکھنے اتے ہیں ملتانیوں سے گزارش ہے کہ اگر اپ کی ایسی ہی کسی پرانی جگہ کے مالک ہیں تو کسی حکومت بھی مدد کا انتظار کیے بغیر اسے خود ہی سنواریں تاکہ اپ اس میں بیٹھے اچھے لگیں اور لوگوں کو عمارت دیکھنے میں بھی اچھی لگے
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

ملتان میں صدیوں سے سورج دیوتا کی پوجا کی جاتی رہی ہے اور سورج کنڈ مندر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اندرون شہر کے بہت سار...
24/05/2026

ملتان میں صدیوں سے سورج دیوتا کی پوجا کی جاتی رہی ہے اور سورج کنڈ مندر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اندرون شہر کے بہت سارے دروازے ایسے ہیں جن پر ابھرتا سورج اور اس کی کرنیں نظر اتی ہیں لیکن ملتان میں ایک گھر ایسا بھی ہے جس کے چھت پر سورج دیوتا کی شبیہ بنی ہوئی ہے جتنی خوبصورت شبی یہ بنی ہوئی ہے اس سے لگتا ہے کہ صاحب مکان سورج دیوتا کے ماننے والے تھے اسی گھر کے باہر والے دروازوں پر بھی ابھرتا سورج اور اس کی کرنیں بنائی گئی ہیں جو اپ کو اس گھر یا حویلی کی تفصیلی پوسٹ میں نظر ا جائیں گی
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

23/05/2026

چھن چھن منگل
لوہاری گیٹ کے قریب الیکٹرانکس مارکیٹ سے اگر اپ اندرون شہر ملتان داخل ہوں تو بائیں ہاتھ مڑتے ہی ایک قدیمی محلہ اتا ہے جس کا نام سنتے ہی اپ کشل منگل ہو جائیں گے جی محلے کا نام چھن چھن منگل ہے محلے میں داخل ہوتے ہی بقول عمران حیدر بھائی الف لیلہ والی فیلنگ اتی ہے اونچے اونچے قدیم مکان جن کی کھڑکیاں دروازے اور جھروکوں کی خوبصورتی خود بولتی ہے محلے کی گلیاں نہایت تنگ و تاریک ہیں ایک دو گلیاں تو اتنی تنگ ہیں کہ شاید ہی انہوں نے دھوپ کی شکل بھی دیکھی ہواور ایک گلی تو بقول یوسفی نکاح والی ہے محلے کے کچھ مکانات اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہیں جبکہ زیادہ تر مکانات اج بھی پرانی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں
محلے کی وجہ تسمیہ کے بارے میں معلوم کیا تو لوگوں نے مختلف کہانیاں سنائیں جن میں پہلی کہانی ایک تنگ گلی میں چڑیل کی پائل کی چھن چھن کی تھی جب کہ دوسری کہانی جھن چھن منگل نامی ہندو کی تھی جبکہ میں نے اس نام کو گوگل پر سرچ کیا تو یہ نام سن سکرت زبان کا تھا اور کوئی بھی تفصیل نہیں مل سکی اسی محلے میں ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس کو لوگ قائد اعظم سے مشابہت کی وجہ سے قائد اعظم پکارتے ہیں اور اب ان صاحب کا اصل نام کہیں گم ہو چکا ہے
چھن چھن منگل محلے کا نام بدل کر اب ریواڑی محلہ کر دیا گیا ہے لیکن کچھ لوگ اج بھی اسے چھن چھن منگل ہی کہتے ہیں میں تو یہ محلہ دیکھ کر کشل منگل ہو گیا ہوں اپ کب ہوں گے
عامر بشیر
وسیب ایکسپلورر
گائیڈ والڈ سٹی اتھارٹی ملتان



دیکھ لو ملتانعجائب گھروں کے عالمی دن 18 مئی کو ملتان کے عجائب گھر کا افتتاع بھی ہو گیا اور ماشاءاللہ لوگ  اسے دیکھنے بھی...
22/05/2026

دیکھ لو ملتان
عجائب گھروں کے عالمی دن 18 مئی کو ملتان کے عجائب گھر کا افتتاع بھی ہو گیا اور ماشاءاللہ لوگ اسے دیکھنے بھی ا رہے ہیں اج پاک ترک سکول علی چوک برانچ کے طلبہ بھی ملتان عجائب گھر دیکھنے ائے اس دوران میں نے طلبہ کو ملتان کی تاریخ اور وہاں رکھی گئی قدیم اشیاء کے بارے اگاہی دی نئے نکور اور ٹھنڈے ٹھار عجائب گھر میں طلبہ نے بڑی دلچسپی کے ساتھ چیزوں کو دیکھا اور ان کی تاریخ کو بھی جانا
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

18/05/2026

برکتوں والا گھر
ملتان شہر میں سدو حسام کے قریب محلہ شاہ اسلام میں موجود یہ کھنڈر نما گھر جو اپ دیکھ رہے ہیں سو سال پہلے کسی نے بہت چاؤ سے بنوایا تھا تقریبا ایک کنال رقبہ پر موجود یہ دو منزلہ گھر دو حصوں میں یکساں طرز تعمیر سے بنایا گیا دونوں حصوں میں ڈرائنگ روم کچن بیڈ روم سٹور ایک ہی طرح سے بنائے گئے گھر میں لاتعداد کھڑکیوں کے ساتھ روشن دان اتشدان الماریاں دروازے محرابی دالان اونچی چھتیں اور دیے روشن کرنے کے لیے طاقدام موجود ہیں گھر کی تعمیر میں استعمال کی گئی اینٹ ایسی تھی جو اج دیکھنی بھی نصیب نہ ہو چھت میں ٹرین کی پٹری بطور گارڈر استعمال کی گئی ہے جبکہ چھت کا باقی کام لکڑی اور مٹی سے کیا گیا ہے اصل بات کہ یہ بہت ہی شاندار دو منزلہ گھر تھا جو اب مٹی اور اینٹوں کا ڈھیر بن چکا ہے
جہاں تک برکتوں والے گھر کی بات ہے اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے اس گھر کے موجودہ مالک عاصم شیرازی صاحب نے بتایا کہ یہاں قیام پاکستان کے بعد تقریبا چار خاندان باری باری رہے اور اج وہ چاروں خاندان بیرون ملک جیسے کہ یورپ امریکہ کینیڈا بحرین جاپان اور سعودی عرب میں آسودہ حال ہیں یعنی اس مکان میں جو بھی رہنے کے لیے ایا وہ کچھ سال بعد بیرون ملک چلا گیا حتی کہ اس گھر میں گھریلو کام کاج کرنے والی ملازمہ ایک خاتون بھی اپنے بچوں سمیت سعودیہ منتقل ہو گئں ہو سکتا ہے کہ یہ سب اتفاق ہو لیکن لوگ اسے برکتوں والا گھر کہتے ہیں میں نے موجودہ مالک عاصم شیرازی صاحب سے پوچھا کہ اپ باہر کیوں نہیں گئے فورا بولے جب ہم نے یہ گھر لیا تو رہنے کے قابل نہیں تھا اسی لیے ہم اس میں نہ رہ سکے اسی لیے ملتان میں ہی رہ گئے بیچارے عاصم بھائی 😥😥
ویسے اب مکان اس حالت میں ہے کہ اسے قابل رہائش بنانے پر جتنا خرچہ ہوگا اتنے پیسوں میں اپ کو کسی ملک کا ویزہ باسانی مل جائے گا😜
عامر بشیر عرف بانکے میاں
وسیب ایکسپلورر ملتان
گائیڈ والڈ سٹی ملتان









17/05/2026
اندرون ملتان گھومتے پھرتے پانچ سال گزر گئے نہ گرمی دیکھی اور نہ سردی اور اج کل ملتان میں شدید گرمی ہے اسی دوران اندرون م...
17/05/2026

اندرون ملتان گھومتے پھرتے پانچ سال گزر گئے نہ گرمی دیکھی اور نہ سردی اور اج کل ملتان میں شدید گرمی ہے اسی دوران اندرون ملتان ایکسپلورنگ کے دوران یہ دو لوگ ملے جنہوں نے مجھ کو میرا نام بانکے میاں لے کر پکارا میں ان کو نہیں جانتا تھا لیکن الحمدللہ وہ مجھے جانتے تھے پھر خوش ہونا تو بنتا ہے نا ان میں ایک کا نام ارسلان قریشی اور دوسرے شیخ ابرار صاحب شکریہ صاحبان
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

15/05/2026

محلہ مہاراجہ ملتان
اندرون دہلی گیٹ دیگوں والی گلی سے جیسے ہی دائیں جانب مڑیں تو اپ پہنچ جاتے ہیں محلہ مہاراجہ جہاں پہنچ کر اپ کو لگے گا شاید اپ پرانے دور میں واپس اگئے ہوں محلے کا نام سن کر بھی عجیب لگتا ہے کہ یہ کیسا نام ہے جب سکھوں نے 1818 میں ملتان پر قبضہ کیا تو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے دیوان ساون مل کو ملتان کی حکمرانی دے دی بعد میں دیوان ساون مل نے سکھوں کو رہنے کے لیے اس علاقے میں بہت سے گھر اور حویلیاں دی اور انہی سکھوں نے بعد میں شاید اس جگہ کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نام کی نسبت سے محلہ مہاراجہ رکھ دیا ہو اس خیال کو مزید تقویت ساتھ ہی گلی میں موجود گردوارہ بھائی رام دیال کے ہونے سے ملتی ہے جہاں قیام پاکستان تک گرنتھ صاحب کا پاٹھ کیا جاتا تھا
محلہ مہاراجہ اپنے نام کی طرح ملتان کے باقی محلوں کا مہاراجہ ہی لگتا ہے کیونکہ یہاں تاریخ اور قدیمی ورثہ کے دلدادہ افراد کے لیے کافی کچھ موجود ہے جیسے کہ بیٹی جی کا مندر چمگادڑ محل جاں ہزاروں کی تعداد میں چمگادڑ اور چار خاندان قیام پاکستان کے وقت سے اکٹھے رہ رہے ہیں دو ہندو ٹرانسپورٹر بھائیوں سومنات کپور اور جسونت رائے کپور کی کپور حویلی کوچہ غلام صابر میں ایک ہندو ذمیندار موہن لال چودھری کی پانچ منزلہ حویلی اور اسی کوچے میں سناتن دھرم سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کا گھر جن کے دروازوں پر ان کا نام اج بھی موجود ہے
محلہ مہاراجہ میں کچھ مکانات خستہ حال ہیں لیکن زیادہ تر مکانات رہائشیوں نے بہترین انداز میں سنبھالے ہوئے ہیں باقی وہی خوبصورت دروازے گھروں میں لاتعداد کھڑکیاں روشن دان جھروکے اور گھروں کی اونچائیاں ہیں میں یہ محلہ ملتان انے والے تقریبا ہر سیاح کو دکھاتا ہوں اگر اپ نے ابھی تک یہ محلہ نہیں دیکھا تو پھر ا جائیں میرے ساتھ 😍😍
عامر بشیر(بانکے میاں)
وسیب ایکسپلورر ملتان
گائیڈ والڈ سٹی ملتان








چوکنڈی قبرستانکراچی سے 30 کلومیٹر دور یہ قبرستان چار کونوں والی قبروں کے لیے مشہور ہے  لیکن پتھر کی ان قبروں پر کیا گیا ...
14/05/2026

چوکنڈی قبرستان
کراچی سے 30 کلومیٹر دور یہ قبرستان چار کونوں والی قبروں کے لیے مشہور ہے لیکن پتھر کی ان قبروں پر کیا گیا کام حیران کن اور دیکھنے والا ہے۔ جوکھیو قبیلے کہ اس قبرستان میں قبریں با لحاظ عہدہ بنائی گئی ہیں جبکہ عورتوں کی قبریں بھی موجود ہیں جن پر زیورات کے نشانات بنائے گئے تیرہویں صدی میں قائم کیا گیا یہ قبرستان اج یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ہے
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ والڈ سٹی ملتان

12/05/2026

چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟
چاندی کا ورق بر صغیر میں سینکڑوں سالوں سے بن رہا ہے اور استعمال ہو رہا ہے یہاں اس کا زیادہ استعمال کھانے کی چیزوں جیسے کہ پان اور مٹھائیوں کی سجاوٹ اور حکمت میں کیا جاتا ہے کچھ لوگ اس کو حکیم لقمان کے دور کا بتاتے ہیں جبکہ بر صغیر میں اس کا سہرا مغلوں کے سر باندھا جاتا ہے ملتان میں بھی یہ صدیوں سے بنایا اور استعمال کیا جا رہا ہے اور ملتان کا ایک محلہ جس کا نام بھی کاغذ کٹ ہے وہاں چاندی پیس کر اس کا ورق بنایا جاتا تھا اب صرف محلے کا نام باقی بچا ہے چاندی کا ورق بنانے والے نہیں رہے لیکن صرافہ بازار میں دہلی سے تعلق رکھنے والے ہارون رشید اج بھی چاندی اور سونے کا ورق بنا رہے ہیں اور ایک پرانی کاریگری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ کام ان کے والد نے شروع کیا تھا اور اب میں کر رہا ہوں جہاں تک بنانے کے طریقے کا تعلق ہے ان کا کہنا تھا کہ 100 فیصد خالص چاندی باریک پٹی کی صورت ان کے پاس ہوتی ہے جس کے ٹکڑے چمڑے کی ایک باکس نما کتاب میں تہہ درد رکھ کر اس کو مسلسل دو یا تین گھنٹے لوہے کے ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے تب جا کر چاندی کا ورک تیار ہوتا ہے اور یہ چمڑے کی باکس نما کتاب اج بھی انڈیا سے ہی منگوائی جاتی ہے جبکہ اس کتاب میں موجود کاغذ نما چیز ہرن کی کھال کی اندرونی جھلی سے بنی ہارون رشید نے بتایا کہ اگر یہ کاغذ کی ہو تو ہتھوڑے کی مار سے یہ فورا ختم ہو جائے اس لیے ہرن کی جھلی سے بنی یہ کتاب استعمال کی جاتی ہے اور یہ تقریبا اٹھ نو ماہ نکالتی ہے اس کے استعمال بارے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر حکیم لوگ ان سے یہ چاندی اور سونے کا ورق خریدتے ہیں جبکہ سونے کا ورق اج کل کبوتر باز اپنے کبوتروں کو کھلانے کے لیے بنواتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور کبوتر زیادہ دیر ہوا میں اڑتا ہے۔
ہارون رشید اج بھی ملتان کے صرافہ بازار میں ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک جاری رکھے ہوئے ایک پرانے فن کو زندہ کئیے ہوئے ہیں
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ ملتان والڈ سٹی




چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟چاندی کا ورق بر صغیر میں سینکڑوں سالوں سے بن رہا ہے اور استعمال ہو رہا ہے یہاں اس کا زیادہ است...
12/05/2026

چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟
چاندی کا ورق بر صغیر میں سینکڑوں سالوں سے بن رہا ہے اور استعمال ہو رہا ہے یہاں اس کا زیادہ استعمال کھانے کی چیزوں جیسے کہ پان اور مٹھائیوں کی سجاوٹ اور حکمت میں کیا جاتا ہے کچھ لوگ اس کو حکیم لقمان کے دور کا بتاتے ہیں جبکہ بر صغیر میں اس کا سہرا مغلوں کے سر باندھا جاتا ہے ملتان میں بھی یہ صدیوں سے بنایا اور استعمال کیا جا رہا ہے اور ملتان کا ایک محلہ جس کا نام بھی کاغذ کٹ ہے وہاں چاندی پیس کر اس کا ورق بنایا جاتا تھا اب صرف محلے کا نام باقی بچا ہے چاندی کا ورق بنانے والے نہیں رہے لیکن صرافہ بازار میں دہلی سے تعلق رکھنے والے ہارون رشید اج بھی چاندی اور سونے کا ورق بنا رہے ہیں اور ایک پرانی کاریگری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ کام ان کے والد نے شروع کیا تھا اور اب میں کر رہا ہوں جہاں تک بنانے کے طریقے کا تعلق ہے ان کا کہنا تھا کہ 100 فیصد خالص چاندی باریک پٹی کی صورت ان کے پاس ہوتی ہے جس کے ٹکڑے چمڑے کی ایک باکس نما کتاب میں تہہ درد رکھ کر اس کو مسلسل دو یا تین گھنٹے لوہے کے ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے تب جا کر چاندی کا ورک تیار ہوتا ہے اور یہ چمڑے کی باکس نما کتاب اج بھی انڈیا سے ہی منگوائی جاتی ہے جبکہ اس کتاب میں موجود کاغذ نما چیز ہرن کی کھال کی اندرونی جھلی سے بنی ہارون رشید نے بتایا کہ اگر یہ کاغذ کی ہو تو ہتھوڑے کی مار سے یہ فورا ختم ہو جائے اس لیے ہرن کی جھلی سے بنی یہ کتاب استعمال کی جاتی ہے اور یہ تقریبا اٹھ نو ماہ نکالتی ہے اس کے استعمال بارے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر حکیم لوگ ان سے یہ چاندی اور سونے کا ورق خریدتے ہیں جبکہ سونے کا ورق اج کل کبوتر باز اپنے کبوتروں کو کھلانے کے لیے بنواتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور کبوتر زیادہ دیر ہوا میں اڑتا ہے۔
ہارون رشید اج بھی ملتان کے صرافہ بازار میں ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک جاری رکھے ہوئے ایک پرانے فن کو زندہ کئیے ہوئے ہیں
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ ملتان والڈ سٹی




Address

Multan

Telephone

+923154965554

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amir bashir:

Share

Category