25/09/2026
زیادہ تر مرد اپنی بیویوں سے پہلے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ذرا غور کریں۔
ہم اکثر اسے قسمت، عمر یا جینیات کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے کہ بہت سے مرد برسوں تک اپنے جسم اور ذہن پر اتنا بوجھ ڈالتے رہتے ہیں کہ ایک دن جسم جواب دے جاتا ہے۔
جس دن ایک مرد شوہر بنتا ہے اس کے کندھوں پر کئی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔
کمانا ہے۔
گھر چلانا ہے۔
بچوں کی فیس دینی ہے۔
والدین کو دیکھنا ہے۔
بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنی ہیں۔
مسائل حل کرنے ہیں۔
اور ان سب کے درمیان وہ خود کو بھول جاتا ہے۔
اسے بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں، شکایت نہیں کرتے، کمزور نہیں پڑتے۔
پھر وہ کیا کرتا ہے؟
ذہنی دباؤ برداشت کرتا رہتا ہے۔
نیند پوری نہیں کرتا۔
غلط کھاتا پیتا ہے۔
سگریٹ یا دوسری بری عادتوں کا سہارا لیتا ہے۔
صحت کے مسائل کو نظر انداز کرتا ہے۔
اور ہر بار یہی کہتا ہے
میں ٹھیک ہوں۔
حالانکہ اندر سے وہ مسلسل ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔
مرد کی زندگی میں بھی بل ہیں، کرایہ ہے، بچوں کی فیس ہے، کاروبار کا نقصان ہے، نوکری کا دباؤ ہے، قرض ہے، خاندان کی توقعات ہیں اور مستقبل کی فکر ہے۔
لیکن جب وہ پریشان ہوتا ہے تو اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا
تم کیسے ہو
اس سے پوچھا جاتا ہے
مسئلہ حل ہوا یا نہیں
یہ فرق بہت بڑا ہے۔
مرد بھی تھکتا ہے۔
مرد بھی ڈرتا ہے۔
مرد بھی پریشان ہوتا ہے۔
مرد بھی جذبات رکھتا ہے۔
اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ بہت سے مرد ڈاکٹر کے پاس بھی تب جاتے ہیں جب مسئلہ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔
بلڈ پریشر بڑھ رہا ہو، سینے میں تکلیف ہو، مسلسل تھکن ہو، نیند خراب ہو یا جسم کوئی warning دے رہا ہو تو وہ کہتے ہیں
کچھ نہیں، ٹھیک ہو جائے گا۔
پھر ایک دن ہارٹ اٹیک، فالج، گردوں کا مسئلہ یا کوئی اور سنگین بیماری سامنے آ جاتی ہے۔
اس کے بعد ہم کہتے ہیں
اللہ کی مرضی تھی۔
یقیناً زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے لیکن اپنی صحت کو مسلسل نظر انداز کرنا بھی عقل مندی نہیں۔
اور شادی شدہ زندگی میں سکون بھی بہت اہم ہے۔
اگر گھر میں روزانہ جھگڑا، بے سکونی، مسلسل تنقید، عدم احترام اور ذہنی تناؤ ہو تو گھر انسان کے لیے سکون کی جگہ بننے کے بجائے مزید دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مرد باہر دن بھر کی جنگ لڑ کر گھر آتا ہے تو اسے کم از کم اپنے گھر میں سکون، عزت اور اپنائیت ملنی چاہیے۔
اور یہی چیز عورت کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
مردوں کو صرف یہ نہیں کہنا مضبوط بنو۔
انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ
اپنی نیند پوری کرو۔
اچھی غذا کھاؤ۔
ورزش کرو۔
اپنا بلڈ پریشر اور دوسرے ضروری چیک اپ کرواؤ۔
علامات کو نظر انداز نہ کرو۔
ذہنی دباؤ کم کرنے کے طریقے سیکھو۔
اور اپنے لیے بھی کچھ وقت نکالو۔
مرد کوئی مشین نہیں ہے۔
وہ بھی انسان ہے۔
وہ دوسروں کا سہارا بنتا ہے لیکن اسے بھی کبھی کسی کے سہارے، ایک اچھے لفظ، عزت، محبت اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر آپ مرد ہیں تو یہ مت سمجھیں کہ ہر چیز برداشت کرتے رہنا ہی مردانگی ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ذمہ داری ہے۔
کیونکہ گھر والوں کے لیے صرف کمانا ضروری نہیں، ان کے درمیان صحت مند اور زندہ رہنا بھی ضروری ہے۔