19/04/2026
قسط نمبر 4:-
بجلی پیدا کرنے کے کمرشل طریقے:-
سولر انرجی سسٹم:- ہمارا سورج جو روشنی مہیا کرتا ہیے اس میں توانائ ہوتی ہیے ۔۔۔ اس توانائ کی مقدار یقیناً خط استوا دوپہر کو بارہ بجے سب سے زیادہ ہو گی کیونکہ وہ شمسی پلیٹ پر بالکل عمودی ہوگی ۔۔
زمین پر سورج سے جو توانائ پہنچتی ہیے وہ ایک ایسے دن جب مطلع صاف ہو 1050 واٹ فی مربع میٹر ہوتی ہیے ۔۔۔ اس توانائ کو ایک شمسی پلیٹ لگا کر بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہیے ۔۔۔ لیکن سورج کی بہت سی توانائ حرارت اور reflection سے ضائع ہو جاتی ہیے اور کل 250 واٹ فی مربع میٹر بجلی میں تبدیل ہوتی ہیے ۔
یہاں یہ یاد رہیے کہ شمسی پلیٹ DC پیدا کرتی ہیے ۔۔۔ اور اس کو گھروں میں استعمال کرنے کے لیے اسےایسے AC میں تبدیل کرنا ضروری جس کی وولٹیج 220 وولٹ ہو اور فریکوینسی 50 Hz ہو ۔۔
شمسی پلیٹیں لگا کر اس سے DC بجلی بنانے کے بعد اس کو استعمال کرنے کے دو طریقے ہیں
1) پہلا طریقہ ہیے Off grid system.. یہ طریقہ ان علاقوں کے لیے بہتر ہیے جہاں ابھی بجلی کی سپلائی نہ پہنچی ہو ۔۔ اس طریقے میں شمسی توانائی کی پلیٹں لگا کر DC وولٹیج پیدا کی جاتی ہیے ۔ سورج کی روشنی کم یا زیادہ ہونے سے DC وولٹیج ہر تو بہت فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے پیدا ہونگے والے کرنٹ کی مقدار پر بہت فرق پڑتا ہیے ۔۔۔۔اگر اس کو ہم ڈائریکٹ کسی انورٹر کے ذریعے AC میں تبدیل کر کے کچھ چیزیں چلانے کی کوشش کریں تو بہت ہی unreliable سسٹم ہو گا۔۔۔ کیونکہ صبح اور شام کے وقت یا بادل آنے کی صورت میں یا گروغبار کی صورت میں سولر پلیٹ میں کرنٹ پیدا کرنے کی صلاحیت بہت کم۔یو گی اور کوئ بھی چیز چلانا ممکن نہ ہو گا ۔۔اس لیے بہتر ہوتا ہیے کہ اس DC وولٹیج کے ساتھ ایک charger controller لگا کر کچھ بیٹریاں چارج کر لیں ۔۔ ان بیٹریوں کے ساتھ ایک انورٹر لگا کر اس DC وولٹیج جو 220 وولٹ 50 Hz میں تبدیل کر لیا جاتا ہیے جو کہ پاکستان میں بجلی کی چیزیں چلانے کے موزوں بجلی ہیے ۔۔ نیچے دی ہوئ off grid system کی تصویر دیکھنے سے یہ واضع ہو جائے گی ۔۔
اب آئیں یہ دیکھیں کہ اس طرح سے پیدا شدہ بجلی کی کیا قیمت ہو گی ۔۔۔
چلیں ایک ایسا گھر دیکھتے ہیں جس میں گرمیوں میں دو عدد پنکھے 24 گھنٹے چلیں، ایک عدد AC ایک ٹن کا رات کو 8 گھنٹے چلےرات دس بجے سے کے کر صبح 6 بجے تک اور باقی سارا لوڈ جس میں ف*ج ، لائیٹں وغیرہ 300 واٹس کے برابر ہوں ۔۔۔پہلے دیکھتے ہیں کہ سسٹم کو کیسے ڈیزائین کرتے ہیں۔۔۔ کیسے شمسی توانائی کی پلیٹوں کی مقدار، بیٹریوں کی تعداد اور انورٹر کا سائیز calculate کیا جاتا ہیے ...
اگر ایرکنڈیشن کو 26 درجہ حرارت پر رکھیں اور باہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری ہو اور ایسا کمرہ ہو جس کی چھت پر سورج ڈائریکٹ نہ پڑتا یو تو وہ 600 واٹ فی ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے بجلی استعمال کرتا ہیے اگر inverter AC ہیے تو ۔۔ باقی سارا لوڈ 500 واٹ ہیے ۔۔۔ یعنی کا کوڈ ہو گیا 1100 واٹ ۔۔۔
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ بیٹریوں کا سائیز کیا ہیے ۔۔۔ گرمیوں میں شام چھ بجے کے بعد شمسی توانائی پیدا ہونی بہت کم ہو جائے گی اور کوڈ بیٹریوں پر آ جائے گا ۔۔
شام چھ بجے سے رات دس بجے تک 500 واٹ کا لوڈ بیٹریوں کو اٹھانا ہیے ۔اور بیٹریاں 12 وولٹ کی ہیں ۔ یہ AC لوڈ ہیے ۔۔
اے سی پاور کا فارمولہ ہیے
P= V x I x pf
یا اگر کرنٹ کی مقدار معلوم کرنی ہو تو فارمولہ ہو گا
I= P/(V x pf )
P= Power in watts
V= Voltage in watts
I = current in ampere
pf= power factor
ہم پاور فیکٹر کو عموماً 0.8 لیتے ہیں
اس کا مطلب ہیے کہ 500 واٹ کے لوڈ کے لیے بیٹریوں پر سے کرنٹ نکلنے کی مقدار مندرجہ ذیل ہو گی
I= 500/( 12 x0.8) ampere
= 52 ampere per hour
اسی طرح رات دس بجے سے صبح 6 بجے تک 1100 واٹ لوڈ ہو گا جس کے لیے اوپر دیے گئے طریقے سے کرنٹ معلوم کریں تو 114 ایمپیر فی گھنٹہ درکار ہوں گے ۔۔۔
اسی طرح صبح 10 بجے سے دس بجے تک جب تک سورج اچھی طرح نہ نکل آئے 500 واٹ کا لوڈ ہو گا اور مطلوبہ کرنٹ کی مقدار 52 ایمپیر فی گھنٹہ ہو گی ۔۔
اس کا مطلب ہیے کل کرنٹ جاایسے وقت میں چاہیے جب سورج نہیں ہیے وہ بیٹریوں سے لینا ہو گا ۔۔ اور اس کی کل مقدار
=(8x52)+(8x114)
=1328 amperes
اگر ہم عام کیل لیڈ ایسڈ کی بیٹریاں استعمال کریں تو ان کو 40فیصد سے نیچے نہیں استعمال کرنا چاہیے ورنہ لائف بہت کم ہو جاتی ہیے ۔۔۔ اس کا مطلب ہیے کہ بیٹریوں کی استعطاط کم از کم
=(1328/60)100
=2213 ampere
تقریبا 4 فیصد توانائ انورٹر میں ضائع ہوتی ہیے ۔۔اس کا مطلب ہیے کہ 2400AHr کی بیٹریاں یو ی چاہیں ۔۔یعنی 200AHr کی 12 بیٹریاں ۔۔۔ آجکل 200Ahr کی بیٹری تقریبا چالیس ہزار کی ہیے ۔۔۔ اس کو مطلب ہیے کہ کل بیٹری کا خرچ 4 لاکھ 80ہزار روپے ہو گا ۔
لیڈ ایسڈ بیٹری کی زندگی صرف 2سال ہیے ۔۔آجکل ان کی جگہ Lithium ion battery بھی استعمال ہوتی ہیے کیونکہ وہ 80 فیصد تک ڈسچارج کر سکتے ہیں اور جس کی زندگی 6سال ہیے لیکن اس کی قیمت کم از کم دگنا ہیے ۔۔۔۔ایک اور نئی ٹیکنالوجی super capacitor کی ہیے جس کی زندگی پندرہ سال ہیے لیکن ان کی قیمت دس گنا سے بی زیادہ ہیے۔۔
اب آئیں دیکھتے ہیں کہ سولر پینل کتنے ہونے چاہیں ۔۔۔
اس کے لیے ہمیں پوری رات کے لوڈ کے خرچ ہونے والے یونٹ اور دن کے لوڈ کے خرچ ہونے والے یونٹ پتہ ہونے چاہیں ۔۔۔
دن کے صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک 500 واٹ کے لوڈ کے حساب سے 8
رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک 1100 یونٹ کے حساب سے 8.8 یونٹ ہوئے۔۔۔
یعنی کل یونٹ ہوئے 16.8یونٹ روزانہ۔۔۔
پاکستان میں گرمیاں اپریل سے کے کر اکتوبر تک ہوتی ہیں ۔۔ ان میں سے سب سے کم بجلی عمومآ جولائ اور اگست میں بنتی ہیے بادلوں کی وجہ سے ۔ جولائ اور اگست میں ایک کلو واٹ کی پلیٹیں صرف 2.5یونٹ روزانہ بجلی پیدا کرتی ہیں ۔۔۔ اس طرح سے ہمیں 7 کلو واٹ کی پلیٹیں لگانا ہوں گی ۔۔۔یعنی 500واٹ کی 14پلیٹیں لگیں گی اور 8 کلوواٹ کا انورٹر لگے گا۔۔۔ اتنا بڑا یونٹ آجکل تقریبآ 9 لاکھ کا لگے گا
اب دیکھتے ہیں کہ فی یونٹ کیا کاسٹ کرتا ہیے ۔۔۔
بیٹریاں ہر دو سال میں بدلنی ہوں گی ۔۔پرانی بیٹریاں تقریبا ایک لاکھ کی بکیں گی اس طرح ہو دو سال میں تین لاکھ 80000روپے بیٹری کی مد میں خرچ ہو گا ۔۔دو سال میں کل یونٹ استعمال ہوں گے
= 2 x 365 x 16.8
= 12264 units
اس لیے بیٹری کی مد میں فی یونٹ خرچہ
= 380000/12264
=Rs 30.98 per unit
اب جو نو لاکھ روپے باقی پلانٹ ہر خرچ ہوئے یعنی CAPEX , وہ پانچ سال میں واپس ہونے چاہیں
اس طرح سالانہ 180000روہے اس مد میں واپس آنے چاہیں سالانہ
سال میں یونٹ استعمال ہوئے
= 365x16.8
= 6132 unit
اس لیے CAPEX کی مد میں فی یونٹ خرچ
= 180000/6132
= Rs 29.35 per unit
یعنی پہلے 5سال شمسی توانائی 60روپے فی یونٹ پڑے گی اور اس کے بعد تقریباً 29روپے یونٹ پڑے گی
اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ off grid system سے بجلی بہت ہی مہنگی بنتی ہیے اور اس کی اصل وجہ اس میں لگی بیٹریوں کی قیمت اور اس پر مسلسل سالانہ خرچ ہیے ۔۔۔
دوسری وجہ یہ ہیے کہ ہم بہت سی بجلی جو بن سکتی تھی اس کو استعمال نہیں کرتے off grid system میں ۔۔اس لیے یہ سسٹم اچھا نہیں
اگلی قسط میں ہم on grid solar system دیکھیں گے اور اس کے فواید بھی دیکھیں گے ۔۔۔ ہم اگلی قسط میں یہ بھی دیکھیں گے کہ کیسے ongrid system سے گھر کا بجلی کا بل zero کیا جاسکتا ہیے ۔۔۔
(جاری ہیے)
اگل