Pakistan lok Virsa

Pakistan lok Virsa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan lok Virsa, jamal chok, Pakpattan.

Heritage & tourists
History with Romantic Soul and Old Memories
سنہری الفاظ ،اسلامی، انوکھی،آگہی میسج ، انوكهی دلچسپ معلومات جنتری،عورتیں معاشرہ،اقوال زریں ،فوڈ ریسپی
پاکستانی ثقافت پوشیده تاریخی جگہیں اور شہروں گاؤں
پرانے کھیل رسم و رواج علاقائی ثقافت

ایک لڑکی کا خوبصورت ہونا پورے گھر کی موت کی وجہ بن گیا ۔۔۔ لاہور چوہنگ واقعہ ، اور تازہ ترین حقائق ۔۔۔۔۔ چوہنگ میں کل عل...
19/08/2026

ایک لڑکی کا خوبصورت ہونا پورے گھر کی موت کی وجہ بن گیا ۔۔۔ لاہور چوہنگ واقعہ ، اور تازہ ترین حقائق ۔۔۔۔۔ چوہنگ میں کل علی الصبح ایک شخص نے اپنے سسرال جا کر بیوی کو ساتھ چلنے کو کہا اور انکار پر فا۔ئیرنگ کردی ، جسکے نتیجے میں اسکی جواں سالہ بیوی ، سسر ، ساس اور سالا جان بحق ہو گئے ۔۔ معلوم ہوا ہے کہ سمعیہ نامی خاتون ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی جہاں ملزم عمران شوکت نے اسے اپنے چنگل میں پھنسا لیا اور اس سے عدالتی نکاح کر لیا ، لیکن اس نکاح کے باوجود لڑکی اپنے والدین کے گھر ہی مقیم رہی ، جب عمران شوکت نے اس نکاح کا ڈھنڈورا پیٹا اور سمعیہ کو لے جانے کا تقاضا کرنے لگا تو سمعیہ کےو الدین نے عدالت سے رجوع کیا جہاں لڑکی نے اپنے والدین کے حق میں بیان دیا اور کہا کہ اسکا نکاح دھوکے سے ہوا ہے وہ شوہر کے ساتھ نہیں جانا چاہتی اور اپنے والدین کے ساتھ جائے گی ۔ اسی بات کا ملزم عمران شوکت کو رنج تھا ۔ واقعہ کے روز وہ ایک رایفل لے کر سمعیہ کے گھر پہنچا جہاں اسکے جانے سے انکار پر عمران شوکت نے سب سے پہلے اس کو گو۔لی ماری پھر مزاحمت پر ساس سسر اور سالے کی بھی جان لے لی اور پھر موقع پر ہی ۔۔خو۔د ۔کشی۔ کر لی ۔۔۔۔ یوں ناسمجھی میں ہوئے فیصلے کا انجام 5 قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہوا ۔۔۔۔

پنجاب میں ظلم کی انتہا جاری۔۔۔!کمالیہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ہر شہری کا دل دکھی کر دیا ہے سر میرا چالان نہ ک...
19/08/2026

پنجاب میں ظلم کی انتہا جاری۔۔۔!

کمالیہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ہر شہری کا دل دکھی کر دیا ہے

سر میرا چالان نہ کریں، میرا کزن فوت ہوگیا اس کے ختم کے اخراجات کے لیے موٹرسائیکل فروخت کرنے جارہا ہوں

میری جیب میں پیسے نہیں ہیں،مزدور کی دہائی۔

ٹریفک اہلکار نے دہائی نہ سنی چالان کردیا۔

شہری نے موٹرسائیکل کو آگ لگادی۔

شہری نے ہیلمنٹ نہیں پہنا تھا جس کی وجہ سے چالان ہوا: ٹریفک پولیس کا مؤقف

جوہر آباد کا سہیل ، بھلوال اور سرگودہا سے ہوتا ہوا لاہور کیسے پہنچا اور سہیل وڑائچ کیسے بنا ؟ معروف صحافی کے لڑکپن اور ج...
19/08/2026

جوہر آباد کا سہیل ، بھلوال اور سرگودہا سے ہوتا ہوا لاہور کیسے پہنچا اور سہیل وڑائچ کیسے بنا ؟ معروف صحافی کے لڑکپن اور جوانی کی یادیں ملاحظہ کریں ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ ساتویں کلاس کے طالبعلم تھے جب انکے والد نے انہیں بھلوال بھجوا دیا جہاں کے کچھ اساتذہ کے ساتھ انکی راہ رسم تھی ، یہاں رہائش گاہ سے 4 کلومیٹر دور سکول تک سہیل وڑائچ سائیکل چلا کر جایا کرتے تھے ۔ والد صاحب سہیل وڑائچ اور اپنے درمیان ایک فاصلہ رکھتے تھے ، لاڈ پیار کی اس باپ بیٹے کے تعلق میں کوئی جگہ تھی نہ گنجائش ، اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود سہیل وڑائچ اگرچہ اپنی والدہ کے لعل تھے مگر والد صاحب کے سینے سے لگنے کو وہ ہمیشہ ترستے رہے ۔ بھلوال ان دنوں بھی ایک پسماندہ شہر تھا یہ 70 کی دہائی کی بات ہے اور تب اس شہر میں بجلی بھی نہیں تھی ، کس نہ کسی طرح سہیل وڑائچ نے تین سال وہاں میں گزارے اور پھر میٹرک کے بعد خود فیصلہ کرکے سرگودہا آگئے یہاں گورنمنٹ کالج میں سہیل وڑائچ نے خود کو منوانا شروع کیا ، وہ ہر ادبی محفل کے جنرل سیکرٹری ہوا کرتے تھے ۔ یہاں کے لائق فائق اساتذہ نے سہیل وڑائچ کو وہ کچھ بننے کے لیے بنیاد فراہم کی جو کہ سہیل وڑائچ آج ہیں ۔۔۔ سرگودہا میں گزارے دنوں کو سہیل وڑائچ اپنی زندگی کے خوبصورت ترین دن قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے پہلی بار ملک شیک سرگودہا کے بازار میں پیا، سب سے خوبصورت لباس انہوں نے یہاں سمارٹ ٹیلرز سے سلوایا ، سب سے خوبصورت اور مہنگی جوتی شوز پیلیس سے خریدی ، سٹائل بروسٹ سے پہلی بار چرغہ کھایا ، کھانوں کی جو لذت نعمت کدہ اور کلیار ہوٹل کی تھی وہ پھر دنیا بھر کے ہوٹلوں پر کہیں نہ دیکھی ۔۔۔ آج سہیل وڑائچ سوچتے ہیں اگر والد انہیں از حد لاڈلا بیٹا بنا کے رکھتے ، اپنے ہاتھ کے چھالے کی طرح سنبھال کر رکھتے ، انہیں دنیا کی گرم سرد ہواؤں سے روشناس ہونے کے لیے دوسرے شہروں میں نہ بھیجتے تو میں آج اتنا بڑا نام شہرت اور کامیابیاں نہ سمیٹ پاتا ۔۔۔۔

اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کا قہر نازل ہو ، میاں بلال بہت بڑا فراڈیا اور وکیل کے روپ میں ایک غنڈہ ہے ، اسکی ایما ...
19/08/2026

اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کا قہر نازل ہو ، میاں بلال بہت بڑا فراڈیا اور وکیل کے روپ میں ایک غنڈہ ہے ، اسکی ایما پر ایک ٹک ٹاکر لڑکی اور اسکے بھائی نے مجھے لوٹ کر کنگلا کر دیا ۔۔۔۔ ٹک ٹاکر ملائکہ ضیا اور اسکے بھائی مبین ضیاء کے ہاتھوں لٹنے والے اشفاق کے بقول ۔۔ مبین ضیاء نے کاروبار میں انوسٹ کرنے کے نام پر اور ہر روز لاکھوں روپے کا پرافٹ دینے کا جھانسا دے کر 15 لاکھ روپے بٹور لیے ۔ چند ماہ لارے لگاتا رہا اور پھر پیسہ ڈوب گیا کاروبار میں نقصان ہو گیا کہہ کر ہاتھ کھڑے کردیے ۔ اس نے مبین ضیاء اور ملائکہ سے فون پر بات کرکے انہیں پیسے واپس کرنے کی درخواست کی تو جواب میں ٹک ٹاکر حسینہ اور اسکے بھائی نے د۔ھمکیاں دینا شروع کردیں ، اشفاق انصاف کے حصول کے لیے تھانے اور پھر کچہری گیا تو میاں بلال نے اسے کئی وکیلوں کے ساتھ ایک جگہ پر گھیر لیا اور وارننگ دی کہ اگر ٹک ٹاکر ملائکہ کا پیچھا نہ چھوڑا تو تمہیں ایسا غائب کرونگا کہ تمہارا پتہ بھی نہیں چلنا ، لاہور کے سارے ایس ایچ او میرے واقف ہیں مجھے کوئی نہیں پوچھے گا لیکن تم وڑ جاؤ گے ۔۔۔ اشفاق کے بقول میاں بلال نے د۔ھمکی دی کہ مبین اور ملائکہ میرے رشتہ دار ہیں انکو تنگ نہیں کرنا ، 4 لاکھ دیں یا 5 لاکھ لو اور انکا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔ اشفاق کے بقول تھانے کچہری ہر جگہ دھکے کھا چکا ہوں ، ایس ایچ او نے یقین دہانی کروائی ہے کہ میاں بلال کے خلاف پرچہ دیں گے مگر ابھی تک عملی طور پر کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔ اشفاق نے حکام بالا پولیس سے درخواست کی ہے کہ ٹک ٹاکر ملائکہ اور اسکے بھائی سے اسکی رقم واپس دلائی جائے اور میاں بلال کو ان فراڈیوں کی پشت پناہی کے جرم میں سزا دی جائے ۔۔۔۔

لاہور: اداکارہ میرا کی جانب سے اپنی ملازمہ کو تش۔دد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو منظر عام پر  ، سوشل میڈیا پر اداکارہ کو بھرپ...
19/08/2026

لاہور: اداکارہ میرا کی جانب سے اپنی ملازمہ کو تش۔دد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو منظر عام پر ، سوشل میڈیا پر اداکارہ کو بھرپور تنقید کا سامنا ، وائرل فوٹیج میں اداکارہ میرا کو گھر کے مرکزی دروازے کے پاس ملازمہ کو مبینہ طور پر دھکے اور تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ملازمہ نے مبینہ تش۔دد کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست بھی جمع کرا دی،پولیس کاکہنا ہے کہ درخواست وصول کرکے ویڈیو کی جانچ اور واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں ، اگر ملازمہ کا الزام درست ثابت ہوا تو میرٹ پر کارروائی کی جائے گی۔

18/08/2026
کراچی کی لڑکی ، سنگا پور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں ق۔ت۔ل ۔۔۔۔ 2013 میں اسلام آباد  پولیس نے ایک ہائی پروفائل کیس کو ...
18/08/2026

کراچی کی لڑکی ، سنگا پور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں ق۔ت۔ل ۔۔۔۔ 2013 میں اسلام آباد پولیس نے ایک ہائی پروفائل کیس کو کیسے حل کیا تھا ؟ تمام تفصیلات ۔۔۔۔۔ فہمینہ چوہدری کا تعلق کراچی سے تھا ۔ یہ نہ صرف ایک بنکار خاتون تھی بلکہ ماڈلنگ بھی کرتی تھی اور مقابلہ حسن میں بھی حصہ لیتی ، اگرچہ یہ کبھی ملکہ حسن نہ بن سکی لیکن بہرحال ایک اچھی ماڈل تھی ، اچھا کماتی اور سنگا پور میں معاشی طور پر زبردست زندگی گزار رہی تھی ۔ فہمینہ شادی شدہ تھی اور اسکا ایک بیٹا بھی تھا مگر 2013 میں اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے لاپتہ ہونے سے چند ماہ پہلے اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی ۔۔۔ فہمینہ چوہدری کے لاپتہ ہونے اور نمبر بند جانے کی اطلاع اس کی والدہ نے کراچی سے اسلام آباد آکر پولیس کو دی اور اسے ڈھونڈنے میں مدد کی درخواست کی ۔ پولیس نے لڑکی کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش شروع کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ ایک نمبر سے فہمینہ کی والد کو ایک میسج آیا تھا کہ 2 کروڑ تاوان کا بندوبست کرکے اسلام آباد آجاؤ ۔ تمہاری بیٹی زندہ ہے اور اسکے ساتھ دو لوگوں کو ق۔ت۔ل کردیا گیا ہے لیکن اگر چند روز میں تاوان نہ دیا گیا تو تمہاری بیٹی کو بھی ق۔ت۔ل کردیا جائے گا ۔ پھر پتہ چلا کہ فہمینہ جس ہوٹل میں رکی ہوئی تھی وہاں کی بکنگ معاذ نامی ایک نوجوان نے کروائی تھی اور اس نے خود کو فہمینہ کا شوہر قرار دیا تھا ، معاذ کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ وہ ایک نامور خاتون بیوروکریٹ کا بیٹا ہے جو کچھ عرصہ سنگا پور میں پاکستانی سفارتخانے میں خدمات سر انجام دیتی رہیں ۔ یہ معلومات اتنی تھیں کہ معاذ کو گرفتار کرنا ضروری ہو گیا ، پولیس نے اسے گرفتار کیا اور تھانے لائی تو اسکے لیے سفارشوں کی لائن لگ گئی ، کیا بیوروکریسی ،کیا فورسز ہر جگہ سے فون آنے لگے ، سلام اس ایس ایچ او کی جرات پر جس نے ہر سفارش پر جواب دیا کہ لڑکی کا کچھ پتہ چلنے دیں اگر لڑکا بے قصور ہے تو اسے ضروری معلومات لے کر چھوڑ دیا جائے گا ۔ پولیس نے لڑکے سے پوچھ گچھ کی لیکن اپنے اثر رسوخ کی اکڑ میں وہ ہر سوال کا جواب ناں میں دیتا ، اور ظاہر کرتا رہا کہ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے ۔ اسکا خاندانی پس منظر ہے اسکے والدین کی ملک کے لیے خدمات ہیں بھلا وہ کسی جرم کا کیسے سوچ سکتا ہے ۔۔۔ لڑکی کے بارے میں اسکا موقف تھا کہ فہمینہ میری دوست ضروری تھی وہ پریشانی میں اسلام آباد آئی تو میں نے اسے ہوٹل میں بکنگ کروا دی اس سے زیادہ اسے نہین معلوم کہ وہ ہوٹل سے نکل کر اکیلی کہاں جاتی تھی ، ظاہر ہے ماڈل گرل تھی تو اسکے میل جول یا تعلقات سے وہ ناواقف تھا ۔۔۔ معاذ کے اس موقف پر پولیس اس کیس میں اٹک گئی لیکن اسے حوالات میں رکھا گیا اور اس نمبر پر کام شروع کیا گیا جو فہمینہ کی والدہ کو تاوان کا پیغام بھیجنے کے لیے استعمال ہوا تھا ۔۔ یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ سم ایک ہونڈا گاڑی کے ٹریکر کی تھی ، اس گاڑی کو تلاش کیا گیا تو وہ رینٹ اے کار کی گاڑی نکلی ، اس رینٹ اے کار سے ریکارڈ لیا گیا تو پتہ چلا کہ معاذ نے وہ گاڑی چند روز قبل رینٹ پر لی تھی ۔ اب پولیس کے پاس ایک مضبوط ثبوت آگیا تھا ، ایس ایچ او صاحب نے بذات خود ملزم کو انٹیروگیشن روم میں ٹف ٹائم دیا تو چند گھنٹوں کے بعد ملزم طوطے کی طرح فر فر بولنے لگا ۔ اس نے ایک گلاس پانی مانگا اور پھر پانی پی کر تفصیلات بتانے لگا ۔۔۔ اسکی اور فہمینہ کی ملاقات سنگا پور میں ہوئی جب معاذ کی والدہ وہاں تعینات تھیں ۔ ایک ڈانسنگ کلب میں ملاقات محبت اور روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتون میں بدل گئی ، فہمینہ اس پرجوش نوجوان کی دیوانی ہو گئی اور اس نے اظہار کرنا شروع کردیا کاش تم میرے شوہر ہوتے ، معاذ بھی فہمینہ کا عادی ہو چکا تھا یہ جواب دیتا کہ اگر شوہر سے طلاق لے لو تو میں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گا ۔۔۔ شاید دونوں حد سے بڑھ چکے تھے یا پھر فہمینہ کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی اور واپس کراچی اپنی ماں کے پاس آگئی ، ادھر معاذ بھی اپنی والدہ کے ساتھ واپس پاکستان آگیا ۔۔۔ چند ہفتے ماں کے پاس گزارنے کے بعد فہمینہ اسلام آباد پہنچی اور ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہو گئی ۔ اس بیچاری کا پروگرام تھا کہ اسکے پاس موجود ایک بھاری رقم (لگ بھگ 70 لاکھ روپے) سے معاذ کوئی کاروبار شروع کرے اور ساتھ ہی اس سے شادی کر لے تاکہ وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کریں ، معاذ نے رقم تو لے لی لیکن اب فہمینہ اسے بوجھ لگنے لگی ، چنانچہ اس نے فہمینہ سے جان چھڑانے کے لیے ایک دوست کی مدد حاصل کی دونوں نے بنی گالہ میں ایک مکان کرائے پر لیا ، وقوعہ سے دو رو قبل وہ فہمینہ کو اس گھر میں لے گئے جہاں انہوں نے ظاہر کیا کہ اب وہ اسی گھر میں رہے گی یہیں شادی ہو گئی وغیرہ وغیرہ ۔۔ لیکن دوسری رات معاذ نے اپنے دوست کی مدد سے فہمینہ کو پہلے نیند کی گو۔لیاں دے کر سلا دیا پھر اسے گلا گھونٹ کر مار ڈالا ۔ اسکے بعد یہ فہمینہ کی لا۔ش ایک رضائی میں لپیٹ کر اور اسی ہونڈا کار کی ڈگی میں ڈال کر مارگلہ پہاڑیوں میں ایک سنسنان جگہ پر لے گئے جہاں بدقسمت فہمینہ چوہدری کو ایک گڑھا کھود کر دفن کر دیا گیا ۔۔۔۔ پولیس نے معاذ کی نشاندہی پر لا۔ش ڈھونڈ نکالی ، پوسٹ ۔مارٹم ہوا ، لا۔ش نسبتا محفوظ تھی ۔رپورٹ میں وجہ ق۔ت۔ل گلا دبانے اور سانس بند ہونے سے قرار دی گئی جبکہ معدے سے نشا آور شے کے استعمال کا ثبوت بھی مل گیا ۔ بھر پور چالان کے ساتھ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی ، چند ماہ بعد دونوں ملزمان کو سزا۔ئے موت سنا دی گئی مگر افسوس یہ عدالتی سزا صرف چند سال برقرار رہی ، پیسہ اور اثر رسوخ جیت گیا ، فہمینہ چوہدری کی بوڑھی ماں پیسےا ور طاقت و اثر رسوخ کا مقابلہ نہ کرسکی اور دو سال بعد ہی دونوں ملزمان کو عدالت نے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا تھا ۔۔۔۔

17/08/2026

طلاق کے علاوہ کن چیزوں سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

طلاق کے علاوہ کن چیزوں سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

1: موت۔

زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال سے زوجیت کا تعلق دنیاوی اعتبار سے ختم ہو جاتا ہے۔
اسی لیے شوہر کے لیے اپنی فوت شدہ بیوی کے انتقال کے بعد اس کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہوجاتا ہے،
اور عورت کا عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح جائز ہو جاتا ہے۔
تاہم اس کے باوجود کچھ احکام کے اعتبار سے زوجیت کا رشتہ ایک گونہ بعد از وصال بھی برقرار رہتا ہے، جیسے زوجین میں سے جو زندہ ہوگا وہ دوسرے کا وارث بنے گا اور بیوی اپنے خاوند کے انتقال کے بعد عدت گزارے گی اور سوگ کرے گی وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح احادیث اور صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اگر بیوی کا انتقال ہو جائے۔ اسی طرح بیوی بھی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے۔

رشتہ زوجین کا یہ ختم ہونا دنیاوی تعلقات کی حد تک ہے۔ آخرت میں، اگر دونوں نیک اعمال کے ساتھ جنت میں داخل ہوں تو وہ وہاں دوبارہ ساتھ ہو سکتے ہیں۔

2: خلع۔

خلع وہ عمل ہے جس میں بیوی اپنی رضامندی سے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر نکاح ختم کرنے کی درخواست کرتی ہے، اگر وہ شوہر کے ساتھ رہنے سے عاجز ہو جائے یا دیگر وجوہات کی بنا پر نکاح کو جاری نہ رکھ سکے۔ میاں بیوی باہمی طور پر اس بات پر راضی ہو جائیں کہ بیوی شوہر کو کوئی مالی عوض دے گی، جیسے اپنا مہر معاف کر دے گی اور شوہر اس مالی عوض کے بدلے میں بیوی کو اپنی زوجیت سے آزاد کردے گا، چناں چہ شوہر کے خلع دینے سے بیوی پر طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔

خلع کا ذکر قرآن مجید میں سورہ البقرہ کی آیت 229 میں ہے۔

معاوضہ سے مراد عام طور پر بیوی وہ حق مہر واپس کرتی ہے جو اسے نکاح کے وقت دیا گیا تھا، لیکن یہ معاوضہ دونوں کی رضامندی سے طے ہوتا ہے۔

اس پر تمام فقہ اور مسالک کا اجماع ہے کہ خلع شوہر کی رضامندی سے ہوتا ہے، اور جب شوہر خلع قبول کر لے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ جب ایک صحابیہ آپ کے پاس خلع کی درخواست لے کر آئیں اور حق مہر کی واپسی پر رضامندی کا اظہار کیا تو آپ نے انکے شوہر کو بلا کر انکے سامنے سارا معاملہ رکھا اور انہیں کہا کہ وہ اپنا مال لے کر اس عورت کو آزاد کردیں اور یوں انکے شوہر نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ مانتے ہوئے رشتہ نکاح سے آزاد کردیا۔
یہ بات خاص طور پر نوٹ کرلیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سے اس عورت کو آزاد نہیں کیا۔۔
آجکل پوری اسلامی دنیا میں صرف پاکستان میں اس معاملے میں شریعت کا سنگین مذاق اڑایا جارہا ہے جس میں عورت عدالت سے جا کر خلع لے لیتی ہے اور عدالت شوہر کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور بہت زیادہ کیسسز میں تو عورت اپنے وکلاء کے مدد سے جان بوجھ کر شوہر کو تمام تر عدالتی خلع کی کارروائی سے فیصلہ آنے تک لاعلم رکھتی ہے۔ اور عدالت سے فیصلہ لے کو خود شوہر کو بتاتی ہے اور خود کو نکاح سے آزاد سمجھتی ہے۔
جبکہ تمام تر مسالک اور فقہاء کا اس طرح کی عدالتی خلع کے جس میں شوہر لاعلم ہو یا رضامند نہ ہو اس فیصلہ کے نافذ نہ ہونے پر اور نکاح برقرار رہنے پر فتوی اور اجماع ہے۔۔۔چند ایک نام نہاد مذہبی سکالرز جن کو دین کی الف ب کا بھی علم نہیں آزادی نسواں کے زیر اثر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں مگر انکے پاس نہ تو کوئی قرآن و سنت یا احادیث سے کوئی دلیل ہے اور نہ ہی صحابہ کرام یا اسلاف و اکابرین سے کوئی ایسے عمل کی سند۔۔۔
ایسی خلع کے بعد عورت کا کسی اور مرد سے نکاح کا تعلق نہ صرف حرام بلکہ ایسا زنا ہے جسے وہ جائز سمجھ کر متواتر کررہی ہوتی ہے اور اگر توبہ کی باز آجانے کی مہلت نہ ملے تو یہ موت بھی ایمان سے خالی ہوتی ہے۔

اس میں عدت (ایک حیض یا تین حیض) گزارنا ضروری ہے۔

حاشية ابن عابدين، كتاب الطلاق، باب الخلع (3/440) :

"قالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده".

الفتاوى الهندية (1 / 488):

"الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع، كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية، كذا في الظهيرية. (وشرطه) شرط الطلاق. (وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين".

بدائع الصنائع في تربيب الشرائع، باب الخلع (3/145):

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول".

ہمارے ملک کے موجودہ عدالتی نظام میں موجود غیر شرعی قوانین کا سہارا لے کر بہت سی خواتین ہزاروں کے تعداد میں خلع کا دعوی دائر کرکے تنسیخ نکاح کی آڑ میں یکطرفہ خلع لے کر ایک نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرلیتی ہیں یا خود کو پہلے نکاح سے آزاد سمجھتی ہیں تو موجودہ زمانہ کی عدالتی کارروائیوں غیر شرعی قوانین کی آڑ اور وکلاء کی چرب زبانیوں اور رشوتوں اور سفارشوں کے نتیجہ میں ہونے والی جیت سے خوش ہونے والی خواتین کے لئے اس ارشاد نبوی میں بہت بڑی موعظت اور نصیحت ہے۔

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلّم نے فرمایا میں انسان ہی ہوں تم اپنے مقدمات کو میرے پاس لاتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی دلیل زیادہ بہتر طریقے سے پیش کرنے والے ہوں تو میں انہیں کے حق میں فیصلہ کر دوں جیسا میں نے ان سے سنا ہو، تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی کے کسی حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔
اس حدیث کی تفسیر، وضاحت فقہاء کرام، علماء کرام نے کچھ یوں کی ہے۔یعنی میں انسان ہوں اور انسان کو معاملہ کی حقیقت اور اس کے باطنی امر کا علم نہیں ہوتا، اس لیے کتاب اللہ کے ظاہر کے موافق لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں گا، اگر کوئی شخص اپنی منہ زوری اور چرب زبانی سے دھوکا دے کر حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ لے لے اور دوسرے کا حق چھین لے تو وہ فیصلہ اس کے حق میں اللہ کے نزدیک حرام ہوگا اور اس کا انجام جہنم کا عذاب ہے،۔

3۔ فسخ نکاح

فسخِ نکاح ایک ایسا عمل ہے جس میں نکاح کسی شرعی وجہ سے عدالت یا کسی مجاز شرعی ادارے کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔ یہ عمل طلاق یا خلع سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں نکاح کا خاتمہ کسی خاص عیب، شرط یا شرعی مجبوری کی وجہ سے ہوتا ہے، اور شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔

فسخِ نکاح کے لیے چند شرعی اسباب اور شرائط ضروری ہیں، جو درج ذیل ہیں:

اگر شوہر یا بیوی میں کوئی ایسا ناقابل علاج جسمانی یا نفسیاتی عیب ہو جو نکاح کے مقاصد (جیسے حقوق کی ادائیگی یا ازدواجی تعلق) کو پورا نہ کرنے دے، تو نکاح فسخ ہو سکتا ہے۔

اگر شوہر بیوی کو بنیادی ضروریات کے مطابق نان و نفقہ فراہم کرنے سے قاصر ہو

شوہر بیوی پر ظلم و زیادتی کرے

اگر شوہر یا بیوی میں سے کوئی اسلام سے مرتد ہو جائے یا مذہب تبدیل کر لے، تو نکاح خود بخود فسخ ہو جاتا ہے

کسی عورت کا پہلے نکاح کے شرعی طور پر برقرار ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کا ہونا غیر شرعی کہلائے گا اور شریعت میں ایسا دوسرا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا۔

فسخِ نکاح کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہے
مگر بیوی یا شوہر میں سے کوئی ایک اگر عدالت یا قاضی کے سامنے ثبوتوں گواہوں ساتھ ان شرعی عذر کو ثابت کردے تو عدالت کی طرف سے نکاح کو فسخ کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ قاضی یا مجاز شرعی ادارہ کرتا ہے، نہ کہ فریقین کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے

فسخِ نکاح کا نتیجہ میں نکاح فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے اور بیوی عدت کے بعد بیوی کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام میں ججز عورتوں کو خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کی ڈگریاں جاری کر رہے ہیں جو کہ قرآن و سنت احادیث صحابہ کرام، اسلاف اکابرین تمام آئمہ کرام اور فقہاء کی نظر میں نکاح پر کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوتا اور نکاح برقرار رہتا ہے۔
کیونکہ وکلاء حضرات عورتوں کو فسخ نکاح کی درخواست دائر ہی نہیں کراتے کیونکہ اس میں دونوں فریقین پر جرح ہونا، یا ثبوتوں کے ساتھ شرعی الزامات کو ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

جبکہ انکے لیے یہ زیادہ آسان ہوتا کہ وہ عورت کو کہیں کہ خلع کی درخواست دی جائے تاکہ وہ باآسانی قانون میں موجود غیر شرعی خرابیوں کا فائدہ اٹھا کر عورت کے من چاہا فیصلہ کروا سکیں کیونکہ ایسی درخواست کی وجہ سے انہیں نہ تو الزامات ثابت کرنے کی ضرورت ہے، نہ گواہوں یا جرح کی، حتی کہ فریق مخالف یعنی شوہر کا اس کارروائی میں موجود ہونا یا موجود ہو کر یہ ثابت کردینا کہ الزامات غلط ہیں بھی عورت کے حق میں خلع کے فیصلے کو جاری ہونے سے نہیں روک سکتا۔

شریعت کے اعتبار سے ہمیشہ یاد رکھیں کہ فسخِ نکاح اور خلع میں فرق ہوتا ہےخلع میں بیوی شوہر سے رضامندی کے ساتھ معاوضہ دے کر علیحدگی لیتی ہے۔
جبکہ فسخ نکاح میں شرعی عدالت شوہر یا بیوی میں سے کسی کی درخواست پر شرعی عذر کے ثابت ہونے کی بنیاد پر نکاح ختم کرتی ہے، اور اس میں معاوضے یا شوہر کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہوتی

4: ایلاء:

یعنی شوہر اپنی بیوی سے چار ماہ ہم بستری نہ کرنے پر قسم کھا ئے، اس کے بعد اگرشوہر چار ماہ کے اندر اندر اپنی بیوی سے ہم بستری کرے گا تو قسم کا کفارہ لازم آئے گا اور اس صورت میں میاں بیوی کا نکاح برقرار رہے گا، لیکن چار ماہ ہم بستری نہ کرنے کی قسم کھانے کے بعد اگر چار ماہ تک حقوق زوجیت ادا نہیں کیے، تو بیوی پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔

5: لعان:

شوہر اگر اپنی بیوی کو زنا کرتا ہوا دیکھ لیتا ہے اور معتبر شرعی گواہوں سے اس کو ثابت نہیں کر پاتا تو اس صورت میں لعان کا حکم ہے اور لعان یہ ہے کہ:

شوہر پانچ دفعہ قسم کھائے گا کہ: ’’میں اپنی بات میں سچا ہوں، اور اگر میں اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو‘‘۔

اسی طرح چوں کہ بیوی کی بدکاری کی تہمت پر شرعی نصاب گواہی مکمل نہیں، بلکہ صرف شوہر کا دعوی ہے، اس لیے بیوی کو سنگ سار نہیں کیا جا سکتا، یعنی حد زنا جاری نہیں کی جا سکتی، تاہم شوہر کی تہمت کو اپنے سے دور کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو زنا کی حد سے بچانے کے لیے بیوی پر بھی لازم ہوتا ہے کہ وہ پانچ قسمیں کھائے، کہ: ’’میرا شوہر جھوٹا ہے، اور اگر وہ سچا ہے مجھ پر اللہ کا غیظ وغضب نازل ہو۔ ‘‘

اگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے، تو اس پر حد جاری ہوگی، شوہر اگر قسم کھانے سے انکار کرتا ہے تو اس پر حد قذف جاری ہوگی، یعنی ۸۰ کوڑے لگائیں جائیں گے، اور اگر بیوی قسم کھانے سے انکار کرے گی تو اس پر حد زنا جاری ہوگی، یعنی اس کو سنگ سار کیا جائے گا۔

مندرجہ بالا طریقے سے زوجین میں لعان جاری ہونے کے بعد (یعنی اگر دونوں ہی قسم اٹھا لیں تو) آپس میں ازدواجی تعلق حرام ہو جاتا ہے، اس کے بعد یا تو شوہر طلاق دے دے، یا قاضی دونوں میں تفریق کر دے۔

6: شوہر کا غائب ہونا:

اسی طرح شوہر کے غائب ہونے کی صورت میں بھی امام مالکؒ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے، اگر مطلوبہ شرائط پائی جائیں تو قاضی چار سال کے انتظار کے بعد بیوی کو غائب شوہر کے نکاح سے آزاد کر سکتا ہے۔

7: ارتداد (دین اسلام سے پھر جانا):

زوجین میں سے اگر کوئی بھی دین اسلام چھوڑ دے، العیاذ باللہ، تو دونوں کا نکاح ختم ہو کر دونوں میں علیحدگی واقع ہو جاتی ہے۔

8: نکاح کے بعد رضاعت کا یقینی علم ہونا:

اگر معتبر گواہوں کی گواہی سے یہ ثابت ہو جائے کہ میاں بیوی دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں، تو قاضی دونوں میں تفریق کر دےگا۔

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلّم نے فرمایا جو قاضی بنادیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔ بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلّم نے فرمایا قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہوگا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی ابن بریدہ کی تین قاضیوں والی حدیث اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے۔

مذکورہ بالا سطور میں طلاق کے علاوہ جن چیزوں سے نکاح ٹوٹتا ہے،ان میں سے بعض لکھ دیے گئے ہیں تاہم یہ بھی واضح رہے کہ ان میں سے کسی سبب کو مکمل طور پر سمجھنا ہو یا اس پر عمل کرنا ہو، اس کے لیے مندرجہ بالا تعریف وتشریح ناکافی ہے، بلکہ ایسے موقع پر متعلقہ مسئلہ لکھ کر ہمیشہ ایک سے زائد مستند دارالافتاء بالخصوص جہاں ایک سے زائد مفتیان کرام کا پینل باہمی مشورے سے فتوی جاری کرتا ہو ان سے رجوع کر لینا اپنی دنیا اور آخرت برباد کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

اگر کوئی مفتی یا سکالر انفرادی طور پر آپکو ایسا فتوی دے جو با ظاہر آپ کی طرفداری میں جاتا نظر آئے مگر اصحاب رسول اللہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرز عمل یا اجتہاد اور اسلاف و اکابرین کا اجماع اور چاروں آئمہ کرام کا فقہ اس پر الگ رائے رکھتا ہو اور باقی اکثریت دارالافتاء بھی اس انفرادی رائے سے متفق نہ ہوں تو بس اتنا جان لیجیے کہ قرآن و سنت کو سمجھنے اور اس پر اجتہاد و اجماع کرکے مسائل کا حل دینے کے وہ زیادہ حقدار ہیں کہ جنہوں نے خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا یا انکے صحابہ سے دین سیکھا نہ کہ آج کا یہ انفرادی اور اقلیتی رائے رکھنے والا کوئی نام نہاد مفتی چودہ سو سال سے زائد گذر جانے کے بعد قرآن پاک اور سنت کو معاذاللہ ان سے بہتر سمجھ کر مسائل پر فتوی دینے کا حقدار ہوسکتا ہے۔

17/08/2026

وحشی تیار کرنے کی ریسپی.............

ایک لڑکے کو پتہ چلتا ہے کہ اسکا کزن جس یونیورسٹی میں پڑھتا ہے وہاں ہر وقت لڑکیوں کے جھرمٹ میں رہتا ہے. اور لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز کے دھن پر اپنا تن، من قربان کرنے کو آسانی سے تیار ہو جاتی ہیں... بلکہ "گروپ سٹڈی" کے مواقع بھی بڑی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں...

دوسرا کزن بزنس مین ہے. وہ بتاتا ہے کہ اب بزنس ڈیلز کیلئے لوگوں نے "پریاں" رکھ لی ہیں جو "جنوں" کو قابو کرنے کا جادو جانتی ہیں اور کنٹریکٹ لینے کیلئے سب کچھ دے دیتی ہیں...

تیسرا کزن جو کبھی بوتلیں کھڑکاتے مالشی سے سر دبواتا تھا، اب مساج پارلر پر زنانہ ہاتھوں سے نجانے کیا کیا دبواتا ہے...

یہ صبح پارک میں واک کرنے جاتا ہے تو کسی نہ کسی جھاڑی میں کوئی نہ کوئی گلہری، کسی نہ کسی لومڑ کے ساتھ کوئی نہ کوئی گل کھلا رہی ہوتی ہے...

راستے میں بل بورڈز پر جوتے بھی بیچنے ہوں تو پنڈلی سمیت بیچ رہی ہوتی ہیں.

اپنے گھر شادی کی بات کرتا ہے تو جھڑک دیا جاتا ہے کہ ابھی بہنیں بیٹھی ہیں، انکا سوچو، پہلے گھر بناؤ، اتنا زیور لاؤ، الٹے لٹک جاؤ، دفع ہو جاؤ...

پھر لے دے کر موبائل رہ جاتا ہے جہاں ٹک ٹاک پر، ٹکٹکی بندھوا کر، خود کو دکھا کر، مہنگے کپڑوں میں سستی لڑکیاں، نوٹ کما رہی ہیں. پورن سائیٹس پر ہنستے ہوئے اپنی شدید تذلیل کرواتی عورتوں کو دیکھ کر، عورت کی عزت اسکے دل سے بالکل ہی نکل جاتی ہے. اب یہ ایک مکمل درندہ بننے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے. اسے بس اب کسی موقعے کی تلاش ہے. وہ خواہ چودہ اگست کی بھیڑ ہو، چاند رات کے بازاروں کا ہجوم ہو یا پکنک کی پہاڑیوں پر رش... اب اسے "جھاکا" کھولنا ہے اور لیجیے ایک پوٹنشل ریپسٹ تیار ہے...جسے یہ بھی پتہ ہے کہ اس ملک میں قانون بھی بس ایک مذاق ہے...!!!

اور یہ عورت مارچ والی آنٹیوں سے تو بہت ہی خوش ہے جو ہر سال قوم کی بچیوں کو سکھاتی ہیں کہ تم جو چاہو پہنو، جہاں چاہو جاؤ، جس کے ساتھ چاہو جاؤ، جس وقت چاہو جاؤ، جو چاہو کرو، جو چاہو کرواؤ اور کچھ ہو جائے تو صفائی کروانا بھی تمہارا حق ہے... کیونکہ ... تمہارا جسم، تمہاری مرضی... انکی باتیں سن کر اسکا ہاسا نکل جاتا ہے کہ یہ امریکہ اور برطانیہ سے گھوم کر آنے والی بیبیاں وہاں کی جو پراڈکٹ یہاں بیچ رہی ہیں، اسکی ادھر نہ تو "آفٹر سیلز سروس" ہے اور نہ کوئی "گارنٹی"...!!!

کسی کی فیس بک وال سے ...

And That's True

17/08/2026

جاگ جاو! خاموشی جرم ہے، اور تماشائی بننا بزدلی! حالات بہت خراب ہورہے ہیں!! فکر کریں!

کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ سڑک پر کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ بدتمیزی ہو رہی ہو اور ہم نظریں چرا کر آگے نکل جائیں؟ جس معاشرے میں عورت کے تحفظ کے بجائے، اس کو خوفزدہ کرنے کو "شغل" یا "طاقت کا مظاہرہ" سمجھ لیا جائے، وہ معاشرہ اندر سے گل سڑ چکا ہوتا ہے!

یہ محض ایک گھٹیا حرکت نہیں، یہ ہماری غیرت پر چماٹ ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو یاد رکھیں: معاشرے کی یہ گندگی کل آپ کے اپنے گھر کی دہلیز تک پہنچے گی!

1. والدین کے نام: ہوش کے ناخن لیں!

* بیٹوں کو صرف کمانا نہیں، عزت کرنا سکھائیں: اگر آپ کا بیٹا سڑک پر کسی کی عزت پر ہاتھ ڈال کر خود کو "سرما کی ڈگری" یا "طاقتور" سمجھتا ہے، تو یہ آپ کی تربیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

* ڈرانے کی ذہنیت کو کچلیں: اپنے بچوں کی نفسیات پر نظر رکھیں۔ انہیں بتائیں کہ کمزور، بے بس یا اکیلی عورت کو خوفزدہ کرنا مردانگی نہیں، انتہائی درجے کی بزدلی اور کمینگی ہے۔

2. تماشائیوں کے نام: منافقت چھوڑیں!

* جب آپ اپنی آنکھوں کے سامنے ایسا واقعہ ہوتے دیکھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں، تو آپ اس مجرم کے حوصلے کو اور بڑھاتے ہیں۔

* اپنی غیرت کو بیدار کریں! بازاروں اور سڑکوں کو اوباشوں کے لیے جہنم بنائیں، تاکہ کوئی بھی بائیک سوار کسی پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے۔

3. جن کے ساتھ یہ ہو رہا ہے: ڈرنا چھوڑ دیں!

* خاموشی توڑیں اور موقع پر جواب دیں: سہم جانا اور ڈر کر آگے بڑھ جانا ان درندوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شور مچائیں، مقابلے کے لیے کھڑی ہوں اور ان بزدلوں کو بتائیں کہ عورت کمزور نہیں ہے۔

* حق کے لیے کھڑی ہوں:خوف کی زنجیریں توڑنا ہوں گی۔ جب تک اپوزیشن اور مزاحمت سامنے نہیں آئے گی، یہ بیمار ذہنیت آپ کا تعاقب کرتی رہے گی۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم مرد بن کر جینا چاہتے ہیں یا محض خاموش تماشائی بن کر بے حسی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں!

Address

Jamal Chok
Pakpattan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan lok Virsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan lok Virsa:

Shortcuts

Share