Pakistan lok Virsa

Call Directions Website Contact the business

Pakistan lok Virsa پاکستان لوک ورثہ — خبروں، اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کا ایک معتبر پلیٹ فارم۔ جڑے رہیے سچی خبروں اور مثبت سوچ کے ساتھ۔"
(5)

13/09/2026
13/09/2026

اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!
اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ
> (اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے) — (النحل: 71)
>
اور سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی غور طلب ہے:
> أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ
> (بھلا ایسا کون ہے جو تمہیں رزق دے سکے اگر وہ اپنے رزق کو روک لے؟) — (الملک: 21)
>
اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
> مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ حَصَبٍ وَلَا وَشَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَدًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
> (مسلمان کو جو بھی تکلیف، بیماری، رنج، غم، یا صدمہ پہنچتا ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے) — (صحیح البخاری: 5641)
>
اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نیک لوگوں کا بھی بگڑ سکتاہے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی راہِ راست پر نہ رہ سکا جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے:
> قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
> (اللہ نے فرمایا: اے نوح! وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے، بے شک اس کا عمل غیر صالح ہے) — (ھود: 46)
>
اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔
یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس حوالے سے تنبیہ فرمائی گئی ہے:
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مَّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ
> (اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں) — (الحجرات: 11)
>
مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔
اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:
اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
> (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے) — (ابراہیم: 7)
>
دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
> نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
> (ہم ہی نے ان کی دنیاوی زندگی میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی ہے) — (الزخرف: 32)
>
سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے، زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
> مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
> (جو شخص یہ پسند کرے کہ اس کے رزق میں کشادہ گی کی جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے، تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے)) — (صحیح البخاری: 2067)
>
یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی۔

13/09/2026

کیا میرا زندہ رہنا بھی گناہ ہے؟
آج میں ان تمام لوگوں سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو میرے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں، مجھے بدکردار کہہ رہے ہیں، اور یہ الزام لگا رہے ہیں کہ میں کسی لڑکے کے ساتھ بھاگی ہوں۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر کے ہاتھوں شدید تشدد برداشت کرے، اس کی ناک سے خون نکلے، اسے مارا پیٹا جائے، زمین پر گرنے کے بعد بھی لاتیں ماری جائیں، مسلسل ذہنی اذیت دی جائے، اس پر جھوٹے الزامات لگائے جائیں اور بار بار اسے خوف اور تکلیف میں رکھا جائے تو کیا شریعت یا معاشرہ یہ کہتا ہے کہ وہ صرف اس لیے خاموش رہے کہ "لوگ کیا کہیں گے"؟
اسلام نے عورت کو عزت، جان اور مال کی حفاظت کا جو حق دیا ہے، اس کی روشنی میں قرآن مجید کا ارشاد ہے:
> ﴿وَلا تقتلوا النَّفْسَ التي حرَّمَ اللهُ إلَّا بالحقِّ﴾ (سورۃ الانعام: 151) — "اور کسی جان کو، جسے اللہ نے حرام کیا ہے، ناحق قتل نہ کرو۔"
>
اپنی جان اور جسم کو اس ظلم سے بچانا کوئی جرم نہیں ہے۔ میں نے اپنی جان، عزت اور ذہنی سکون بچانے کے لیے گھر چھوڑا ہے۔ میں کسی لڑکے کے ساتھ نہیں بھاگی، میں کسی کی کوئی چیز لے کر نہیں گئی، اور نہ ہی میں نے کسی کا گھر برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں صرف اس زندگی سے باہر نکلی ہوں جہاں مجھے سکون کے بجائے خوف اور تشدد ملا۔ میری زندگی پہلے ہی آزمائشوں سے گزری ہے، جہاں اولاد کے غم بھی میرے حصے میں آئے—ایک بیٹی پیدائش کے وقت دنیا سے چلی گئی اور دوسری اولاد بھی دنیا میں آنے سے پہلے ضائع ہو گئی۔ ان شدید صدمات اور دکھوں کے بعد مجھے شوہر کی طرف سے محبت اور سہارا ملنے کے بجائے الزامات، گالیاں اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
میں نے اس رشتے کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ صبر کا دامن تھامے رکھا، بڑوں اور خاندان کی بات مانی، صلح کی امید پر واپس بھی گئی، اور کیے گئے جھوٹے وعدوں پر یقین بھی کیا، مگر حالات ہر بار بدتر ہوتے چلے گئے۔ اسلام میں ظلم کو برداشت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
> ﴿لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ﴾ (سورۃ النساء: 148) — "اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ زبان سے کسی کی برائی پکاری جائے، سوائے اس کے جس پر ظلم کیا گیا ہو۔"
>
اور آج جب میں اپنی جان، عفت اور ایمان کو بچانے کے لیے الگ ہوئی ہوں تو مجھے بدنام کیا جا رہا ہے، مجھ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ:
* “تم بدکردار ہو۔”
* “تم کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔”
* “تمہیں جینے کا حق نہیں۔”
* “کاش تم مر جاتیں۔”
کیا ایک مظلوم عورت کا ظلم کے پنجے سے نکل کر بھاگ جانا یا پناہ ڈھونڈنا بدکرداری ہے؟ کیا اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت اپنی جان بچانے کی کوشش بھی نہ کرے؟ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ پر لگائے جانے والے بہتان کے واقعے (واقعہِ افک) میں بھی صبر اور قانونی/شرعی اصولوں کی پاسداری کا درس دیا۔ جھوٹے بہتان تراشنے والوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
> ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 58) — "اور جو لوگ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہو، تو انہوں نے ایک بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔"
>
میرا زندہ رہنا گناہ نہیں۔ میرا انصاف مانگنا گناہ نہیں۔ میرا اپنی تعلیم، خود مختاری اور عزت کے ساتھ جینے کا خواب دیکھنا گناہ نہیں۔ اپنی جان اور عفت کی حفاظت کرنا شریعت میں ہر مسلمان پر فرض ہے، جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال، اپنی جان یا اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔
میں کسی سے بدلہ نہیں چاہتی، میں صرف قانون اور شریعت کے مطابق انصاف چاہتی ہوں۔ میرے بارے میں جھوٹے الزامات لگانے کے بجائے اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے عدالت اور قانون کے سامنے پیش کیا جائے۔ اور اگر کوئی ثبوت نہیں ہے تو خدا کے واسطے ایک ایسی عورت کے کردار کو اپنے زہریلے الفاظ سے قتل نہ کریں جو پہلے ہی تقدیر کے ہاتھوں بہت کچھ برداشت کر چکی ہے۔ مجھے مارنے کی بددعا نہ دیں، مجھے خدا کی دی ہوئی زندگی جینے دیں۔ مجھے بلاوجہ بدنام نہ کریں، مجھے میرا قانونی و شرعی حق اور انصاف دیں۔ مجھے خاموش نہ کریں، میری فریاد سنیں۔
میں ایک انسان اور ایک عورت ہوں، اور اللہ نے مجھے بھی عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا ہے۔ 🤍
میرا سوال آج بھی وہی ہے:
آخر میرا قصور کیا ہے؟

13/09/2026
13/09/2026
براہِ مہربانی،اپنے آٹسٹک بچوں کو بے بی سیٹرز کے حوالے مت کریں۔آج صبح ایک ماں نے اپنی بے بی سیٹر کی تصویر اور شکایت بھیجی...
11/09/2026

براہِ مہربانی،
اپنے آٹسٹک بچوں کو بے بی سیٹرز کے حوالے مت کریں۔

آج صبح ایک ماں نے اپنی بے بی سیٹر کی تصویر اور شکایت بھیجی۔میں بے بی سیٹر کی تصویر نہیں ریویل کر رہی۔

بقول والدہ کے کہ میں نے اس لڑکی کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بطور بیبی سِٹر ملازم رکھا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ ہمیشہ محبت، عزت اور اچھے سلوک سے پیش آئے، اس کی اور اس کے خاندان کی فکر کی اور اسے اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ میرے آٹسٹک بیٹے کو اس کی دیکھ بھال کے دوران شدید نوعیت کے مبینہ زخم آئے۔ میرے خدشے کے مطابق اس نے میرے بیٹے کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کی، جس میں گلے سے پکڑنا، سینے پر کاٹنے اور ٹانگ پر استری سے جلانے جیسے الزامات شامل ہیں۔

میں یہ بات دوسرے والدین کو خبردار کرنے کے لیے شیئر کر رہی ہوں کہ اپنے بچوں کو کسی کے سپرد کرنے سے پہلے مکمل احتیاط اور تحقیق کریں، خصوصاً ایسے بچوں کے معاملے میں جو اپنی تکلیف یا اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو بیان نہیں کر سکتے۔

یہ معاملہ متعلقہ حکام کو رپورٹ کر دیا گیا ہے اور وہ اس وقت ان کی تحویل میں ہے۔

اب تحقیقات اور مزید قانونی کارروائی متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔

بچے گھروں میں محفوظ نہیں،
بچے اداروں میں محفوظ نہیں،
بچے سکولز میں محفوظ نہیں،

تو بچے کہاں محفوظ ہیں۔۔۔؟؟؟

محترم والدین،

یہ آپکے بچے ہیں۔سکول، اداروں اور بے سٹر کو آپ کے بچوں سے کوئی سروکار نہیں۔اس لئے اپنے بچوں کو اپنی نگرانی میں تھراپیس کے لئے یا ٹیوٹر ز کے پاس لے کر جائیں۔اکیلا کسی بھی جگہ پر چھوڑنے کی غلطی مت کریں۔

خصوصی بچے کو اکیلا چھوڑنا اس وقت خطرے سے خالی نہیں ہے۔

West Minister School
اس سکول میں کیمروں اور سٹاف کے ہوتے ہوئے بچی سے زیادتی کا کیس سامنے آ چکا ہے۔

اس لئے کچھ بھی ہو جائے، اپنے بچوں کے بارے میں چوکنا رہیے۔۔۔!!!

08/09/2026

رضاعی بہن بھائی اس وقت بنتے ہیں جب دو افراد نے ایک ہی عورت کے سینے سے دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں سورۃ النساء میں بیان کیا گیا ہے، ایک بچہ جس نے کسی عورت کے سینے سے دودھ پیا ہے، وہ اس دودھ پلانے والی عورت کا رشتہ دار بن جاتا ہے اور اس عورت کے دیگر بچے اس بچے کے رضاعی بہن بھائی بن جاتے۔ رضاعت کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب سگی ماں دودھ دینے سے قاصر ہو یا اپنی مرضی سے نہ دینا چاہے۔ تاریخ اور مختلف ثقافتوں میں بشمول مسلم معاشروں میں دائی یا ویٹ نرس رکھنے کا رواج رہا ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد جب ویٹ نرسوں کا حصول مشکل ہوا تو انسانی دودھ کی بینکنگ کا آغاز ہوا۔ اسلامی قانون میں دودھ پلانے کے اس ادارے کو دودھ کی رشتہ داری (Foster Kinship) کہا گیا ہے۔
اسلامی شریعت رضاعی بہن بھائی کے درمیان نکاح کو حرام قرار دیتی ہے، اگرچہ قرآن کریم اس بات کی براہ راست صراحت نہیں کرتا کہ رضاعی بہن بھائی کی شادیاں کیوں حرام کی گئی ہیں۔
قرآن کریم میں رضاعت کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(ترجمہ: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی... اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھ رہا ہے)
احادیث مبارکہ میں غیر محرم کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہونے کے اصول، دودھ کی مقدار اور اس کی عمر کا واضح تعین کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے:
كان فيما أنزل القرآن عشر رضعات معلومات يحرمن ثم نسخن بخمس معلومات
(قرآن میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا جبکہ اس کے پینے کا یقین ہو جائے نکاح کو حرام کردیتا ہے، پھر یہ حکم پانچ مرتبہ یقینی طور پر دودھ پینے سے منسوخ ہو گیا - صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات: 1452)
حضرت عائشہ ہی سے دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحرم المصتہ ولا لمصتان
(ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی - صحیح مسلم، کتاب الرضاع: 1450)
حضرت اُم سلمٰہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے اور وہ دودھ چھڑانے کی مدت سے پہلے ہو۔
(سنن ترمذی: 1152)
حضرت ابن عباس سے مروی ہے:
لا رضاع إلا فی الحولين
(کوئی رضاعت معتبر نہیں سوائے اس رضاعت کے جو دو سال کے دوران ہو - مصنف عبد الرزاق: 3/1390)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ دو سال کی عمر میں جب بچہ پیٹ بھر کر، اس طرح کہ اس کی انتڑیاں تر ہوجائیں، پانچ دفعہ دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
فقہی احکامات کے لحاظ سے، دودھ کے رشتہ سے حرمت تو ثابت ہو جاتی ہے مگر اس رشتہ کی وجہ سے نہ تو میراث ملے گی، نہ ہی اس رشتہ کی وجہ سے پردہ لازم ہوگا، اور اس کے ساتھ سفر و خلوت بھی جائز ہوگی۔ اس سے مراد دو افراد کے درمیان بھائی بہن جیسا رشتہ قائم ہونا ہے کیونکہ انہوں نے بچپن (شیرخوارگی) میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہو، جبکہ اس ایک بنیادی وجہ کے علاوہ ان لوگوں کے حقیقی ماں باپ بالکل الگ ہوتے ہیں۔ جو بچہ دو یا ڈھائی سال کی عمر سے کم ہو، اس کا کسی عورت کا دودھ پینا رضاعت کہلاتا ہے۔ ایک مومن کی حیثیت سے ہمارے لیے یہی حکم کافی ہے کہ رضاعی بہن بھائی کی شادی رب العالمین نے منع فرمائی ہے۔ تاہم، اس کے پس منظر میں موجود سائنسی و طبی حکمتیں بھی انتہائی اہم ہیں۔
زمانہ قدیم میں یہ مانا جاتا تھا کہ جو عورت بچے کو دودھ پلائے وہ مضبوط اور تندرست ہونی چاہیے کیونکہ رضاعی ماں کی تمام خوبیاں رضاعی بچے میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ اس بات کے روایتی مفروضے ہیں، لیکن دورِ جدید کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود دودھ پلانے کی وجہ سے آپس میں گہری حیاتیاتی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، اور ایسے دو افراد جو رضاعی بہن بھائی ہوں، ان کی آپس میں شادی کے نتیجے میں بعض جینیاتی امراض کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
چھاتی کا دودھ بچوں کو زندگی بھر کے متعدد حیاتیاتی فوائد فراہم کرتا ہے، بشمول بقا میں اضافہ اور اعصابی، علمی اور مدافعتی افعال میں بہتری۔ یہ فوائد چھاتی کے دودھ کے اجزاء سے منسلک ہیں، جن میں فیٹی ایسڈز، نشوونما کے عوامل، مدافعتی عوامل، زچگی کے زندہ خلیات اور جینیاتی مواد شامل ہیں۔ دودھ کی رشتہ داری کے مفروضے کا ایک اور مضبوط سائنسی ثبوت چھاتی کے دودھ کی ساخت میں پایا جانے والا زندہ مادہ ہے، جس میں i) جینیاتی مواد جیسے مائکرو آر-این-اے (miRNAs)، ii) اسٹیم سیلز، اور iii) نامیاتی مادے شامل ہیں جو ایپی جینیٹک ریگولیشن میکانزم اور جینز کی نقل کو متاثر کرتے ہیں۔
اس طبی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کولیستروم (Colostrum) کی مثال سامنے رکھی جاتی ہے۔ یہ ہلکی پیلاہٹ لیے شفافیت کی طرف مائل ابتدائی دودھ ہوتا ہے جو جانوروں اور انسانوں میں پیدائش کے فورا بعد جاری ہوتا ہے۔ اس میں بہت سے بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اینٹی باڈیز موجود ہوتے ہیں، جو بیک وقت خوراک بھی ہیں اور ویکسین بھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دودھ میں غذائی اجزاء یعنی لحمیات، نشاستہ اور چکنائی کی مقدار بڑھنے سے رنگ تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن ماں سے ملنے والی اینٹی باڈیز جاری رہتی ہیں۔ نیز، اگر والدہ کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کے جراثیم دودھ میں خارج ہوتے ہیں تو وہ جراثیم بھی دودھ پینے والے بچے تک پہنچ سکتے ہیں، مثلاً ایڈز۔ ہیپاٹائٹس کے جراثیم اس صورت میں منتقل ہوں گے جب نپل پر کوئی زخم ہو جہاں سے خون یا مواد رستا ہو۔
ہم جو بھی خوراک لیتے ہیں وہ ہمارے جینیٹک میک اپ اور دفاعی نظام دونوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک ہی ماں کا دودھ پینے والے رضاعی بہن بھائی دراصل اس کی بیماریوں اور اینٹی باڈیز کے بھی شریک ہو جاتے ہیں، اور ان کے جینیٹک میک اپ میں بھی مماثلت درآنا ممکن ہوتی ہے۔ عموماً یہ اثرات مغلوب جینز میں محفوظ کیے جاتے ہیں اور غالب جینز، جو اپنے حقیقی والدین سے ملی ہوتی ہیں، اپنی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں، اس لیے بظاہر رضاعی بہن بھائی ایک جیسے نظر نہیں آتے۔
فطرت کا اصول ہے کہ وہ بہترین کا انتخاب کرتی ہے اور کمزور پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک ہی خاندان میں نسل در نسل شادی کرتے چلے جانے والوں میں وہی جینز اور کروموسومز چلتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں خاندان کے باہر سے ورائٹی نہیں ملتی۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماں باپ دونوں کی طرف سے ملنے والی مغلوب خصوصیات ایک ساتھ مل کر غالب یا بہتر خاصیت پر قابو پا لیتی ہیں اور مغلوب خاصیت ظاہر ہو جاتی ہے، جو عموماً فطرت کے انتخاب میں کمزور ثابت ہوتی ہے، جیسے کہ شوگر یا تھیلیسیمیا کا مرض۔
بعینہ، اگر رضاعی بہن بھائی کا بیاہ کر دیا جائے تو ایک شخص جس نے اپنی رضاعی والدہ کا دودھ پیا ہے، اس کی غالب خصوصیت رضاعی شریک کی مغلوب خصوصیت سے مل کر اولاد میں ظاہر ہوسکتی ہے۔ یہ نہ صرف موروثی بیماریوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے بلکہ انفیکشنز کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتی ہے۔
چھاتی کے دودھ میں اسٹیم سیلز کی موجودگی ایک اور اہم عنصر ہے جو رضاعی رشتہ داری کے مفروضے کی حمایت کرتا ہے۔ اولاد میں زچگی کے خلیات یا ڈی این اے کی کم تعداد کی موجودگی کو زچگی-برانن مائیکرو کیمیرزم (Microchimerism) کہا جاتا ہے۔ چھاتی کا دودھ مائیکرو کیمیرزم کا ایک اہم ذریعہ ہے جس میں ایک فرد سے دوسرے فرد کو خلیات کا تبادلہ ہوتا ہے، اور زچگی کے خلیات سالوں تک اولاد میں برقرار رہتے ہیں۔ ایک تجربے میں، جس میں چوہوں کو نشان زدہ زچگی کے خلیات پر مشتمل دودھ پلایا گیا تھا، ان نشان زدہ خلیوں کو اولاد کے ٹشوز پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اسٹیم سیل کی خود تجدید اور تفریق بھی ایپی جینیٹک میکانزم کے ساتھ متحرک طور پر تعامل کرتی ہے۔ کچھ miRNAs کا خاص طور پر اسٹیم سیلز میں اظہار کیا جاتا ہے، جو اسٹیم سیلز میں بعض کلیدی جینز کے اظہار کو منفی طور پر ریگولیٹ کرکے ان کی خود تجدید اور تفریق کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اگر رضاعی بہن بھائی کے ساتھ شادی کر لی جائے تو ان دونوں میں موجود ایپی جینیٹک سیلز متحرک ہو سکتے ہیں جو کسی بھی نئی بیماری کو جنم دے سکتے ہیں، جس کی عام مثال ہنٹنگٹن (Huntington's) نامی بیماری کی دی جا سکتی ہے جس میں مریض اپنے جسم پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ انہی بیماریوں کے پیش نظر سائنسدان کزن میرجز کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ ایپی جینیٹک میکانزم کو تبدیل کرنے والے عوامل ماں کے دودھ کے ذریعے منتقل ہو سکتے ہیں اور یہ ایپی جینیٹک تعامل نسلی طور پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس سے مستقبل کی نسلوں پر کراس فوسٹرنگ کے موروثی ایپی جینیٹک اثرات اور ایپی جینیٹک پروگرامنگ پر ماں کے بچے کے گہرے اثرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دودھ بمثل خون زندہ ہوتا ہے، اس لیے اسے ہدیہ کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور محض جذباتیت میں بچوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایسا کرنا کسی دوسرے بچے کی زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہو تو اسے سمجھدار ہوتے ہی اس رشتے کی حرمت واضح طور پر سمجھا دینی چاہیے۔

میاں بیوی کو ازدواجی زندگی کے بارے میں ضروری معلومات ضرور پڑھنی چاہئیں، تاکہ وہ ایک دوسرے کے حقوق، ذمہ داریوں اور جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ علم اور صحیح رہنمائی سے بہت سے گھریلو مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1DdfhFGFx8/?mibextid=wwXIfr
قرآن و حدیث، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ اور اسلامی تاریخ سے متعلق خوبصورت اور سبق آموز معلومات تصویروں کے ساتھ اس البم میں شامل ہیں۔ 📖❤️

اس معلوماتی البم کو ایک بار ضرور پڑھیں، ممکن ہے اس میں موجود کوئی ایک بات آپ کے علم میں اضافہ کر دے اور آپ کے دل کو بھی چھو جائے۔
https://www.facebook.com/share/19ExwArBa9/?mibextid=wwXIfr

08/09/2026

نکاحِ فسخ اور خلع کب جائز ہوتے ہیں؟

اسلام نے نکاح کو ایک مضبوط عہد قرار دیا ہے، لیکن اگر ازدواجی زندگی اس حد تک خراب ہو جائے کہ حقوق ادا کرنا، اللہ کی حدود قائم رکھنا یا ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنا ممکن نہ رہے، تو شریعت نے علیحدگی کے راستے بھی رکھے ہیں۔ ان میں طلاق، خلع اور فسخِ نکاح اہم ہیں۔

① خلع کیا ہے؟

خلع اس صورت کو کہتے ہیں جب بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی چاہے اور شوہر سے نکاح ختم کرنے کے بدلے عموماً اپنا مہر یا کوئی طے شدہ مالی عوض واپس کرنے پر آمادہ ہو۔

قرآن کی دلیل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾

ترجمہ:
“طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کرنا ہے۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو، مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت فدیہ دے کر علیحدگی حاصل کرے۔”

حوالہ: سورۃ البقرۃ، 2:229 (Quran KSU⁠)

حدیثِ خلع

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ مجھے ثابت کے دین اور اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں ان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی۔

نبی کریم ﷺ نے پوچھا:

“کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی؟”

انہوں نے کہا: جی ہاں۔

تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ثابتؓ سے فرمایا کہ باغ واپس لے لو اور اسے جدا کر دو۔

حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الطلاق، حدیث 5273 (Quran KSU⁠)

اس سے کیا معلوم ہوا؟

اگر عورت کو حقیقی طور پر یہ خوف ہو کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ کر اس کے حقوق ادا نہیں کر سکے گی، دل میں شدید نفرت ہے، ازدواجی زندگی نبھانا مشکل ہو گیا ہے، یا دونوں کے درمیان ایسی کیفیت پیدا ہو گئی ہے کہ اللہ کی حدود قائم نہ رہنے کا اندیشہ ہے تو خلع شریعت میں جائز ہے۔

⸻

② کیا صرف معمولی ناراضی پر خلع جائز ہے؟

ہر چھوٹی ناراضی، وقتی غصے یا معمولی اختلاف کی وجہ سے نکاح توڑنے کی خواہش مناسب نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے سے سخت تنبیہ فرمائی ہے:

“جو عورت اپنے شوہر سے بغیر کسی مضبوط وجہ کے طلاق مانگے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔”

حوالہ: سنن ابی داود، حدیث 2226؛ سنن الترمذی، حدیث 1187؛ سنن ابن ماجہ، حدیث 2055

لہٰذا خلع ایک شرعی ضرورت اور حقیقی مشکل کی صورت میں ہے، محض وقتی غصے یا معمولی اختلاف کی وجہ سے نکاح ختم کرنا مقصود نہیں۔

⸻

③ نکاحِ فسخ کیا ہے؟

فسخِ نکاح کا مطلب ہے کہ کسی شرعی سبب کی بنیاد پر نکاح کا بندھن ختم کر دیا جائے۔

طلاق میں عموماً شوہر طلاق دیتا ہے، جبکہ فسخ میں شرعی سبب موجود ہونے پر قاضی/عدالت نکاح ختم کر سکتی ہے، خواہ شوہر خود طلاق دینے پر راضی نہ ہو۔ فقہی اعتبار سے فسخ اور طلاق الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ (Islam-QA⁠)

نکاحِ فسخ کن حالات میں ہو سکتا ہے؟

فقہاء نے مختلف شرعی اسباب ذکر کیے ہیں، مثلاً:

1. شوہر کا نان نفقہ ادا نہ کرنا

اگر شوہر بیوی کا واجب خرچ ادا کرنے سے عاجز ہو یا جان بوجھ کر خرچ نہ دے اور معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ ازدواجی زندگی متاثر ہو، تو بعض فقہی مذاہب کے مطابق قاضی کے ذریعے تفریق/فسخ کا راستہ موجود ہے۔

2. ازدواجی زندگی میں ناقابلِ برداشت ضرر

اگر شوہر کی طرف سے ایسا ظلم یا نقصان ہو جس سے عورت کے لیے ازدواجی زندگی ناقابلِ برداشت ہو جائے، تو شرعی عدالت سے تفریق کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

3. نکاح میں ایسا عیب جو ازدواجی زندگی کو شدید متاثر کرے

مثلاً ایسا جسمانی یا جنسی عیب جو نکاح کے مقصد اور ازدواجی زندگی کو متاثر کرے اور جس کا پہلے علم نہ ہو۔

4. کسی فریق کا اسلام سے پھر جانا

اگر میاں یا بیوی میں سے کوئی اسلام سے مرتد ہو جائے تو نکاح کے احکام متاثر ہوتے ہیں اور شرعی حکم کے مطابق نکاح باقی نہیں رہتا۔

5. لعان

اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور شرعی طریقے سے لعان ہو جائے تو میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوتی ہے۔

6. دیگر شرعی اسباب

فقہاء نے عدمِ کفالت، نکاح کی بعض بنیادی شرائط کے فقدان اور دیگر مخصوص حالات کو بھی فسخ کے اسباب میں شمار کیا ہے۔ ان مسائل کی تفصیلات فقہی مذاہب کے درمیان مختلف ہو سکتی ہیں۔ (Islam-QA⁠)

⸻

④ خلع اور فسخ میں بنیادی فرق

خلع:
عورت نکاح ختم کرنے کی درخواست کرتی ہے، اور عموماً شوہر کو مہر یا طے شدہ عوض واپس کرکے علیحدگی حاصل کرتی ہے۔

فسخِ نکاح:
کسی شرعی سبب کی بنیاد پر نکاح ختم کیا جاتا ہے؛ اس کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی اور معاملہ شرعی قاضی/عدالت کے ذریعے طے ہو سکتا ہے۔ (Islam-QA⁠)

⸻

⑤ کیا خلع بھی فسخ ہے یا طلاق؟

یہ ایک فقہی اختلافی مسئلہ ہے۔

بعض اہلِ علم کے نزدیک خلع فسخ ہے، جبکہ احناف، مالکیہ اور بعض دیگر فقہاء کے نزدیک خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے۔ اس لیے خلع کے طلاق شمار ہونے یا نہ ہونے کی تفصیلات میں فقہی اختلاف موجود ہے۔ (project.kholasah.com⁠)

اسی لیے کسی مخصوص کیس میں صرف لفظ “خلع” یا “فسخ” دیکھ کر حتمی شرعی حکم نہیں لگایا جا سکتا؛ عدالت کے فیصلے، استعمال کیے گئے الفاظ اور متعلقہ فقہی مذہب کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

⸻

⑥ بہت اہم بات

اسلام میں نہ مرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظلم کرکے عورت کو نکاح میں قید رکھے، اور نہ عورت کو معمولی ناراضی کی وجہ سے ہر نکاح ختم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

قرآن کا اصول ہے:

“یا تو اچھے طریقے سے روکنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کرنا ہے۔”

حوالہ: سورۃ البقرۃ، 2:229

اگر میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف ہو تو پہلے اصلاح، خاندان کے سمجھدار افراد کی مداخلت اور صلح کی کوشش کی جائے۔ لیکن اگر واقعی اللہ کی حدود قائم رکھنا ممکن نہ رہے یا کوئی شرعی ضرر و سبب موجود ہو تو شریعت نے خلع اور فسخِ نکاح جیسے راستے بھی رکھے ہیں۔

خلاصہ:
🔹 طلاق: شوہر کی طرف سے نکاح ختم کرنا۔
🔹 خلع: بیوی کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ، عموماً عوض کے بدلے۔
🔹 فسخِ نکاح: کسی شرعی سبب کی بنا پر قاضی/عدالت کے ذریعے نکاح ختم ہونا۔
🔹 خلع ہر معمولی ناراضی پر نہیں، بلکہ حقیقی ازدواجی مشکل اور حدودِ اللہ قائم نہ رہنے کے اندیشے کی صورت میں مشروع ہے۔
🔹 فسخ کے لیے باقاعدہ شرعی سبب ضروری ہے۔

واللہ اعلم۔

میاں بیوی کو ازدواجی زندگی کے بارے میں ضروری معلومات ضرور پڑھنی چاہئیں، تاکہ وہ ایک دوسرے کے حقوق، ذمہ داریوں اور جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ علم اور صحیح رہنمائی سے بہت سے گھریلو مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1DdfhFGFx8/?mibextid=wwXIfr
قرآن و حدیث، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ اور اسلامی تاریخ سے متعلق خوبصورت اور سبق آموز معلومات تصویروں کے ساتھ اس البم میں شامل ہیں۔ 📖❤️

اس معلوماتی البم کو ایک بار ضرور پڑھیں، ممکن ہے اس میں موجود کوئی ایک بات آپ کے علم میں اضافہ کر دے اور آپ کے دل کو بھی چھو جائے۔
https://www.facebook.com/share/19ExwArBa9/?mibextid=wwXIfr

08/09/2026

سستی شہرت کا زہر اور اخلاقی زوال

ایک بہت تلخ مگر حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ ہر عورت جو جسم فروشی یا بے حیائی کے راستے پر جاتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ صرف غربت، مجبوری یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہو۔ بعض لوگ اپنی مرضی، شوق، شہرت، دولت یا دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس رجحان کو ایک نئی شکل دے دی ہے، جہاں چند لمحوں کی شہرت، لائکس، فالوورز اور لوگوں کی توجہ کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب طوائف کا پیشہ معاشرے میں انتہائی بدنام سمجھا جاتا تھا۔ اس لفظ کا ذکر کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ماضی میں بعض عورتیں ناچ، گانے، حسن اور اداؤں کے ذریعے دولت مند لوگوں کی توجہ حاصل کرتی تھیں۔ بعض کوٹھوں کا نظام نائیکاؤں کے ذریعے چلتا تھا، جہاں دولت مند تماشبین اپنی خواہشات اور تفریح کے لیے جاتے تھے۔

وقت بدلا، معاشرہ بدلا اور الفاظ بھی بدل گئے۔ بعض چیزوں کو نئے نام دے کر پیش کیا جانے لگا۔ رقص کو فن، جسمانی نمائش کو فیشن اور غیر ضروری خودنمائی کو جدید طرزِ زندگی کا نام دیا جانے لگا۔ آج فلم، اشتہارات، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس پورے منظر کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔

طوائف سے انفلوئنسر تک کا سفر؟

آج ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک ریلز اور دیگر پلیٹ فارمز پر بعض ایسی ویڈیوز عام ہیں جن میں شہرت حاصل کرنے کے لیے جسمانی نمائش، بے حیائی اور غیر ضروری انداز اپنائے جاتے ہیں۔ مقصد ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا؛ کسی کے لیے یہ آمدنی کا ذریعہ ہے، کسی کے لیے شہرت، کسی کے لیے فالوورز اور کسی کے لیے صرف لوگوں کی توجہ۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے: ہر خاتون جو سوشل میڈیا پر موجود ہے یا ہر کانٹینٹ کریئیٹر کو طوائف کہنا درست نہیں۔ تنقید کسی جنس یا فرد کی تذلیل کے لیے نہیں، بلکہ اس رویے پر ہونی چاہیے جس میں حیا، کردار اور عزت کو چند لمحوں کی مقبولیت کے بدلے قربان کیا جائے۔

ماضی میں تماشبین کسی خاص جگہ جا کر ایسی تفریح حاصل کرتے تھے، آج موبائل فون نے اسے ہر گھر اور ہر ہاتھ تک پہنچا دیا ہے۔ ایک ویڈیو چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، اور جتنی زیادہ توجہ ملے، اتنا ہی اس شخص کا پلیٹ فارم پر مقام بڑھ سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں صرف دکھانے والا ہی ذمہ دار نہیں رہتا، بلکہ دیکھنے والا بھی اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ جس چیز کو ہم بار بار دیکھتے ہیں، لائک کرتے ہیں، شیئر کرتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں، ہم دراصل اسی کو مزید مقبول بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

دورِ جدید کے “نواب” کون ہیں؟

ماضی میں دولت مند لوگ ایسی محفلوں اور کوٹھوں کے بڑے خریدار سمجھے جاتے تھے۔ آج اس نظام کی شکل بدل گئی ہے۔ بعض برانڈز، اشتہاری ادارے، اسپانسرز اور لاکھوں فالوورز رکھنے والے صارفین کسی بھی مقبول شخصیت کی آمدنی اور شہرت بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پہلے تماشبین کسی جگہ جا کر محفل دیکھتے تھے، آج موبائل کی اسکرین پر وہی تفریح چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتی ہے۔ ریکارڈنگ، ری پلے، سلو موشن اور شیئرنگ نے توجہ حاصل کرنے کے اس کاروبار کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کو مقبول بنا رہے ہیں؟

اگر شہرت حاصل کرنے کا معیار کردار، علم، ہنر اور خدمت کے بجائے جسمانی نمائش اور بے حیائی بن جائے، تو یہ صرف کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾

“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔”

اسلام ہمیں صرف گناہ سے بچنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ ان راستوں سے بھی دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے جو انسان کو بے حیائی اور گناہ کے قریب لے جائیں۔

اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾

یعنی مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرنے اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اسی طرح مردوں کو بھی حکم دیا گیا:

﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾

یعنی مومن مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“الحياء شعبة من الإيمان”

“حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”

یہ بات صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔ حیا لباس، گفتگو، نگاہ، رویے اور کردار سب میں شامل ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ کچھ لوگ ایسی چیزیں دکھا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگ انہیں دیکھ بھی رہے ہیں، پسند بھی کر رہے ہیں اور مقبول بھی بنا رہے ہیں۔

ہم شکایت کرتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو رہا ہے، بچوں کی سوچ بدل رہی ہے، نوجوان غلط چیزوں سے متاثر ہو رہے ہیں، لیکن پھر انہی چیزوں کو اپنے موبائل پر دیکھتے، دوسروں کو بھیجتے اور ان کی مقبولیت بڑھاتے ہیں۔

یہاں ہمیں دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے:

میں جس چیز کو دیکھ رہا ہوں، کیا میں اسے اپنے بچوں کے سامنے بھی دیکھ سکتا ہوں؟
جس چیز کو میں لائک اور شیئر کر رہا ہوں، کیا میں چاہوں گا کہ میری اگلی نسل اسے کامیابی کا معیار سمجھے؟

شہرت بری چیز نہیں، لیکن شہرت حاصل کرنے کے لیے کردار قربان کرنا یقیناً نقصان دہ ہے۔ دولت بری نہیں، لیکن دولت کے لیے اپنی عزت اور اصول بیچ دینا انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیابی کا معیار دوبارہ درست کریں۔ فالوورز کی تعداد، لائکس اور چند لمحوں کی واہ واہ انسان کی اصل قدر نہیں بتاتے۔ اصل مقام کردار، علم، حیا، محنت اور عزت سے بنتا ہے۔

اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی عورت کی تذلیل، اسے گالی دینا یا اس کے ماضی کو اچھالنا اصلاح نہیں ہے۔ اگر کوئی غلط راستے پر ہے تو معاشرے کا کام اسے مزید ذلیل کرنا نہیں بلکہ غلط رویے کی نشاندہی، اپنی اصلاح اور آنے والی نسلوں کی تربیت کرنا ہے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ آج کون کیا کر رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کو دیکھ کر تالیاں بجا رہے ہیں، کس چیز کو مقبول بنا رہے ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے کس طرح کا معاشرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں؟

چند لمحوں کی شہرت ختم ہو جاتی ہے، فالوورز کم ہو سکتے ہیں، ویڈیوز پرانے ہو جاتے ہیں، مگر کردار انسان کے ساتھ رہتا ہے۔

اصل کامیابی وہ نہیں جس پر دنیا چند لمحوں کے لیے تالیاں بجائے؛ اصل کامیابی وہ ہے جس پر انسان اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔

میاں بیوی کو ازدواجی زندگی کے بارے میں ضروری معلومات ضرور پڑھنی چاہئیں، تاکہ وہ ایک دوسرے کے حقوق، ذمہ داریوں اور جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ علم اور صحیح رہنمائی سے بہت سے گھریلو مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/p/1DdfhFGFx8/?mibextid=wwXIfr
قرآن و حدیث، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ اور اسلامی تاریخ سے متعلق خوبصورت اور سبق آموز معلومات تصویروں کے ساتھ اس البم میں شامل ہیں۔ 📖❤️

اس معلوماتی البم کو ایک بار ضرور پڑھیں، ممکن ہے اس میں موجود کوئی ایک بات آپ کے علم میں اضافہ کر دے اور آپ کے دل کو بھی چھو جائے۔
https://www.facebook.com/share/19ExwArBa9/?mibextid=wwXIfr

Address

Jamal Chok
Pakpattan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan lok Virsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan lok Virsa:

Shortcuts

Share