13/09/2026
اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!
اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ
> (اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے) — (النحل: 71)
>
اور سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی غور طلب ہے:
> أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ
> (بھلا ایسا کون ہے جو تمہیں رزق دے سکے اگر وہ اپنے رزق کو روک لے؟) — (الملک: 21)
>
اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
> مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ حَصَبٍ وَلَا وَشَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَدًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
> (مسلمان کو جو بھی تکلیف، بیماری، رنج، غم، یا صدمہ پہنچتا ہے، یہاں تک کہ جو کانٹا بھی اسے چبھتا ہے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے) — (صحیح البخاری: 5641)
>
اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نیک لوگوں کا بھی بگڑ سکتاہے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی راہِ راست پر نہ رہ سکا جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے:
> قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
> (اللہ نے فرمایا: اے نوح! وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے، بے شک اس کا عمل غیر صالح ہے) — (ھود: 46)
>
اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔
یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس حوالے سے تنبیہ فرمائی گئی ہے:
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مَّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ
> (اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں) — (الحجرات: 11)
>
مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔
اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:
اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
> (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے) — (ابراہیم: 7)
>
دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
> نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
> (ہم ہی نے ان کی دنیاوی زندگی میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی ہے) — (الزخرف: 32)
>
سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے، زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
> مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
> (جو شخص یہ پسند کرے کہ اس کے رزق میں کشادہ گی کی جائے اور اس کی عمر دراز کی جائے، تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (رشتہ داروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے)) — (صحیح البخاری: 2067)
>
یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی۔