Pakistan lok Virsa

Pakistan lok Virsa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan lok Virsa, jamal chok, Pakpattan.

Heritage & tourists
History with Romantic Soul and Old Memories
سنہری الفاظ ،اسلامی، انوکھی،آگہی میسج ، انوكهی دلچسپ معلومات جنتری،عورتیں معاشرہ،اقوال زریں ،فوڈ ریسپی
پاکستانی ثقافت پوشیده تاریخی جگہیں اور شہروں گاؤں
پرانے کھیل رسم و رواج علاقائی ثقافت

19/04/2026

قسط نمبر 4:-
بجلی پیدا کرنے کے کمرشل طریقے:-
سولر انرجی سسٹم:- ہمارا سورج جو روشنی مہیا کرتا ہیے اس میں توانائ ہوتی ہیے ۔۔۔ اس توانائ کی مقدار یقیناً خط استوا دوپہر کو بارہ بجے سب سے زیادہ ہو گی کیونکہ وہ شمسی پلیٹ پر بالکل عمودی ہوگی ۔۔
زمین پر سورج سے جو توانائ پہنچتی ہیے وہ ایک ایسے دن جب مطلع صاف ہو 1050 واٹ فی مربع میٹر ہوتی ہیے ۔۔۔ اس توانائ کو ایک شمسی پلیٹ لگا کر بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہیے ۔۔۔ لیکن سورج کی بہت سی توانائ حرارت اور reflection سے ضائع ہو جاتی ہیے اور کل 250 واٹ فی مربع میٹر بجلی میں تبدیل ہوتی ہیے ۔
یہاں یہ یاد رہیے کہ شمسی پلیٹ DC پیدا کرتی ہیے ۔۔۔ اور اس کو گھروں میں استعمال کرنے کے لیے اسےایسے AC میں تبدیل کرنا ضروری جس کی وولٹیج 220 وولٹ ہو اور فریکوینسی 50 Hz ہو ۔۔
شمسی پلیٹیں لگا کر اس سے DC بجلی بنانے کے بعد اس کو استعمال کرنے کے دو طریقے ہیں
1) پہلا طریقہ ہیے Off grid system.. یہ طریقہ ان علاقوں کے لیے بہتر ہیے جہاں ابھی بجلی کی سپلائی نہ پہنچی ہو ۔۔ اس طریقے میں شمسی توانائی کی پلیٹں لگا کر DC وولٹیج پیدا کی جاتی ہیے ۔ سورج کی روشنی کم یا زیادہ ہونے سے DC وولٹیج ہر تو بہت فرق نہیں پڑتا لیکن اس سے پیدا ہونگے والے کرنٹ کی مقدار پر بہت فرق پڑتا ہیے ۔۔۔۔اگر اس کو ہم ڈائریکٹ کسی انورٹر کے ذریعے AC میں تبدیل کر کے کچھ چیزیں چلانے کی کوشش کریں تو بہت ہی unreliable سسٹم ہو گا۔۔۔ کیونکہ صبح اور شام کے وقت یا بادل آنے کی صورت میں یا گروغبار کی صورت میں سولر پلیٹ میں کرنٹ پیدا کرنے کی صلاحیت بہت کم۔یو گی اور کوئ بھی چیز چلانا ممکن نہ ہو گا ۔۔اس لیے بہتر ہوتا ہیے کہ اس DC وولٹیج کے ساتھ ایک charger controller لگا کر کچھ بیٹریاں چارج کر لیں ۔۔ ان بیٹریوں کے ساتھ ایک انورٹر لگا کر اس DC وولٹیج جو 220 وولٹ 50 Hz میں تبدیل کر لیا جاتا ہیے جو کہ پاکستان میں بجلی کی چیزیں چلانے کے موزوں بجلی ہیے ۔۔ نیچے دی ہوئ off grid system کی تصویر دیکھنے سے یہ واضع ہو جائے گی ۔۔
اب آئیں یہ دیکھیں کہ اس طرح سے پیدا شدہ بجلی کی کیا قیمت ہو گی ۔۔۔
چلیں ایک ایسا گھر دیکھتے ہیں جس میں گرمیوں میں دو عدد پنکھے 24 گھنٹے چلیں، ایک عدد AC ایک ٹن کا رات کو 8 گھنٹے چلےرات دس بجے سے کے کر صبح 6 بجے تک اور باقی سارا لوڈ جس میں ف*ج ، لائیٹں وغیرہ 300 واٹس کے برابر ہوں ۔۔۔پہلے دیکھتے ہیں کہ سسٹم کو کیسے ڈیزائین کرتے ہیں۔۔۔ کیسے شمسی توانائی کی پلیٹوں کی مقدار، بیٹریوں کی تعداد اور انورٹر کا سائیز calculate کیا جاتا ہیے ...
اگر ایرکنڈیشن کو 26 درجہ حرارت پر رکھیں اور باہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری ہو اور ایسا کمرہ ہو جس کی چھت پر سورج ڈائریکٹ نہ پڑتا یو تو وہ 600 واٹ فی ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے بجلی استعمال کرتا ہیے اگر inverter AC ہیے تو ۔۔ باقی سارا لوڈ 500 واٹ ہیے ۔۔۔ یعنی کا کوڈ ہو گیا 1100 واٹ ۔۔۔
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ بیٹریوں کا سائیز کیا ہیے ۔۔۔ گرمیوں میں شام چھ بجے کے بعد شمسی توانائی پیدا ہونی بہت کم ہو جائے گی اور کوڈ بیٹریوں پر آ جائے گا ۔۔
شام چھ بجے سے رات دس بجے تک 500 واٹ کا لوڈ بیٹریوں کو اٹھانا ہیے ۔اور بیٹریاں 12 وولٹ کی ہیں ۔ یہ AC لوڈ ہیے ۔۔
اے سی پاور کا فارمولہ ہیے
P= V x I x pf
یا اگر کرنٹ کی مقدار معلوم کرنی ہو تو فارمولہ ہو گا
I= P/(V x pf )
P= Power in watts
V= Voltage in watts
I = current in ampere
pf= power factor
ہم پاور فیکٹر کو عموماً 0.8 لیتے ہیں
اس کا مطلب ہیے کہ 500 واٹ کے لوڈ کے لیے بیٹریوں پر سے کرنٹ نکلنے کی مقدار مندرجہ ذیل ہو گی
I= 500/( 12 x0.8) ampere
= 52 ampere per hour
اسی طرح رات دس بجے سے صبح 6 بجے تک 1100 واٹ لوڈ ہو گا جس کے لیے اوپر دیے گئے طریقے سے کرنٹ معلوم کریں تو 114 ایمپیر فی گھنٹہ درکار ہوں گے ۔۔۔
اسی طرح صبح 10 بجے سے دس بجے تک جب تک سورج اچھی طرح نہ نکل آئے 500 واٹ کا لوڈ ہو گا اور مطلوبہ کرنٹ کی مقدار 52 ایمپیر فی گھنٹہ ہو گی ۔۔
اس کا مطلب ہیے کل کرنٹ جاایسے وقت میں چاہیے جب سورج نہیں ہیے وہ بیٹریوں سے لینا ہو گا ۔۔ اور اس کی کل مقدار
=(8x52)+(8x114)
=1328 amperes
اگر ہم عام کیل لیڈ ایسڈ کی بیٹریاں استعمال کریں تو ان کو 40فیصد سے نیچے نہیں استعمال کرنا چاہیے ورنہ لائف بہت کم ہو جاتی ہیے ۔۔۔ اس کا مطلب ہیے کہ بیٹریوں کی استعطاط کم از کم
=(1328/60)100
=2213 ampere
تقریبا 4 فیصد توانائ انورٹر میں ضائع ہوتی ہیے ۔۔اس کا مطلب ہیے کہ 2400AHr کی بیٹریاں یو ی چاہیں ۔۔یعنی 200AHr کی 12 بیٹریاں ۔۔۔ آجکل 200Ahr کی بیٹری تقریبا چالیس ہزار کی ہیے ۔۔۔ اس کو مطلب ہیے کہ کل بیٹری کا خرچ 4 لاکھ 80ہزار روپے ہو گا ۔
لیڈ ایسڈ بیٹری کی زندگی صرف 2سال ہیے ۔۔آجکل ان کی جگہ Lithium ion battery بھی استعمال ہوتی ہیے کیونکہ وہ 80 فیصد تک ڈسچارج کر سکتے ہیں اور جس کی زندگی 6سال ہیے لیکن اس کی قیمت کم از کم دگنا ہیے ۔۔۔۔ایک اور نئی ٹیکنالوجی super capacitor کی ہیے جس کی زندگی پندرہ سال ہیے لیکن ان کی قیمت دس گنا سے بی زیادہ ہیے۔۔
اب آئیں دیکھتے ہیں کہ سولر پینل کتنے ہونے چاہیں ۔۔۔
اس کے لیے ہمیں پوری رات کے لوڈ کے خرچ ہونے والے یونٹ اور دن کے لوڈ کے خرچ ہونے والے یونٹ پتہ ہونے چاہیں ۔۔۔
دن کے صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک 500 واٹ کے لوڈ کے حساب سے 8
رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک 1100 یونٹ کے حساب سے 8.8 یونٹ ہوئے۔۔۔
یعنی کل یونٹ ہوئے 16.8یونٹ روزانہ۔۔۔
پاکستان میں گرمیاں اپریل سے کے کر اکتوبر تک ہوتی ہیں ۔۔ ان میں سے سب سے کم بجلی عمومآ جولائ اور اگست میں بنتی ہیے بادلوں کی وجہ سے ۔ جولائ اور اگست میں ایک کلو واٹ کی پلیٹیں صرف 2.5یونٹ روزانہ بجلی پیدا کرتی ہیں ۔۔۔ اس طرح سے ہمیں 7 کلو واٹ کی پلیٹیں لگانا ہوں گی ۔۔۔یعنی 500واٹ کی 14پلیٹیں لگیں گی اور 8 کلوواٹ کا انورٹر لگے گا۔۔۔ اتنا بڑا یونٹ آجکل تقریبآ 9 لاکھ کا لگے گا
اب دیکھتے ہیں کہ فی یونٹ کیا کاسٹ کرتا ہیے ۔۔۔
بیٹریاں ہر دو سال میں بدلنی ہوں گی ۔۔پرانی بیٹریاں تقریبا ایک لاکھ کی بکیں گی اس طرح ہو دو سال میں تین لاکھ 80000روپے بیٹری کی مد میں خرچ ہو گا ۔۔دو سال میں کل یونٹ استعمال ہوں گے
= 2 x 365 x 16.8
= 12264 units
اس لیے بیٹری کی مد میں فی یونٹ خرچہ
= 380000/12264
=Rs 30.98 per unit
اب جو نو لاکھ روپے باقی پلانٹ ہر خرچ ہوئے یعنی CAPEX , وہ پانچ سال میں واپس ہونے چاہیں
اس طرح سالانہ 180000روہے اس مد میں واپس آنے چاہیں سالانہ
سال میں یونٹ استعمال ہوئے
= 365x16.8
= 6132 unit
اس لیے CAPEX کی مد میں فی یونٹ خرچ
= 180000/6132
= Rs 29.35 per unit
یعنی پہلے 5سال شمسی توانائی 60روپے فی یونٹ پڑے گی اور اس کے بعد تقریباً 29روپے یونٹ پڑے گی
اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ off grid system سے بجلی بہت ہی مہنگی بنتی ہیے اور اس کی اصل وجہ اس میں لگی بیٹریوں کی قیمت اور اس پر مسلسل سالانہ خرچ ہیے ۔۔۔
دوسری وجہ یہ ہیے کہ ہم بہت سی بجلی جو بن سکتی تھی اس کو استعمال نہیں کرتے off grid system میں ۔۔اس لیے یہ سسٹم اچھا نہیں
اگلی قسط میں ہم on grid solar system دیکھیں گے اور اس کے فواید بھی دیکھیں گے ۔۔۔ ہم اگلی قسط میں یہ بھی دیکھیں گے کہ کیسے ongrid system سے گھر کا بجلی کا بل zero کیا جاسکتا ہیے ۔۔۔
(جاری ہیے)
اگل

19/04/2026
19/04/2026

🔋 #رات-کے-وقت سولر سسٹم کیسے زندہ رہتا-ہے-؟
دن ختم ہوتا ہے… سورج غروب ہو جاتا ہے… اور موبائل ایپ میں PV صفر (0 kW) دکھانے لگتا ہے۔
اکثر لوگ یہیں پریشان ہو جاتے ہیں کہ جب سولر کچھ بنا ہی نہیں رہا تو گھر کی بجلی کیسے چل رہی ہے؟
اصل راز یہاں شروع ہوتا ہے۔
جب PV صفر ہو جائے اور لوڈ 1.04 kW چل رہا ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کسی اور ذریعہ سے آ رہی ہے۔ اگر Grid بھی 0 kW ہو تو سمجھ لیں کہ پورا گھر اس وقت بیٹری پر چل رہا ہے۔
بیٹری 60٪ پر ہے اور تقریباً 1.07 kW پاور دے رہی ہے۔ یعنی جتنا لوڈ ہے، تقریباً اتنی ہی سپلائی بیٹری سے آ رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں Discharging۔
سادہ الفاظ میں: دن کی کمائی رات کو خرچ ہو رہی ہے۔
اب ذرا پورے دن کی تصویر دیکھتے ہیں۔
Daily Yield = 12.2 kWh
یعنی آج سولر نے تقریباً 12 یونٹ بجلی بنائی۔
Daily Charge = 5 kWh
ان میں سے 5 یونٹ بیٹری میں محفوظ ہوئے۔
Daily Discharge = 6 kWh
اور رات کو تقریباً 6 یونٹ بیٹری سے استعمال ہو چکے۔
یہی Hybrid سسٹم کی خوبصورتی ہے۔
دن میں پیداوار… دوپہر میں چارجنگ… اور رات میں سپلائی۔
لیکن یہاں ایک اہم سبق ہے۔
اگر رات کو بیٹری فیصد تیزی سے گرتا ہے تو مسئلہ بیٹری نہیں، لوڈ زیادہ ہے۔
اگر بیٹری صبح تک خالی ہو جائے تو سسٹم کمزور نہیں، کیپیسٹی کم ہے۔
سولر سسٹم کو سمجھنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ اسے ایک بہتے ہوئے نظام کی طرح دیکھیں —
دن میں توانائی آتی ہے، ذخیرہ ہوتی ہے، اور ضرورت کے وقت استعمال ہوتی ہے۔
جب تک یہ بہاؤ متوازن رہے گا، سسٹم پرسکون چلے گا۔
اور جب توازن بگڑے گا، مسائل شروع ہوں گے۔
اگلی قسط میں ہم سیکھیں گے:
“بیٹری کی صحیح سائزنگ کیسے کی جاتی ہے؟ کتنے kWh کی بیٹری آپ کے گھر کے لیے کافی ہے؟”

18/04/2026

سمارٹ طریقے سے لوڈشیڈنگ کے اثرات کم کریں
اگر آپ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں تو چند آسان اور عملی طریقوں سے اس مسئلے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے:
1۔ ایک اچھا MPPT سولر چارج کنٹرولر خرید کریں۔ یہ ڈیوائس سولر پینلز سے آنے والی توانائی کو بہتر انداز میں بیٹری میں محفوظ کرتی ہے۔
2۔ اگر آپ کے گھر میں پہلے سے UPS لگا ہوا ہے تو اس کے ساتھ بیٹریاں لازمی ہوتی ہیں۔ آپ اس MPPT کنٹرولر کو اپنی بیٹری بینک کے ساتھ کنیکٹ کر سکتے ہیں تاکہ بیٹریاں سولر سے مسلسل چارج ہوتی رہیں۔
3۔ ایک یا دو سولر پلیٹس (Panels) گھر کی لوڈ کے مطابق انسٹال کروا لیں۔ اس سے دن کے وقت بیٹریاں چارج رہیں گی اور لوڈشیڈنگ کا اثر کم ہو جائے گا۔
اس سسٹم میں MPPT کنٹرولر سولر سے کرنٹ لے کر بیٹریوں کو چارج کرتا ہے۔ پھر بیٹریاں UPS کو پاور فراہم کرتی ہیں، جو DC کو AC میں تبدیل کر کے گھر کے الیکٹریکل آلات جیسے پنکھے، بلب اور دیگر ضروری سامان کو چلاتا ہے۔
اس کے علاوہ مارکیٹ میں ایسے AC to DC کنورٹر ڈیوائسز بھی دستیاب ہیں جو کم لوڈ جیسے ٹی وی اور لائٹس کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
مزید ایک آپشن یہ بھی ہے کہ DC پنکھے اور DC بلب استعمال کیے جائیں، جو براہِ راست بیٹری سے چل جاتے ہیں اور کم بجلی خرچ کرتے ہیں۔
اگر یہ سب بھی ممکن نہ ہو تو پھر سادہ حل یہی ہے کہ بجلی کی بچت کریں اور اپنی ضرورت کے مطابق لوڈ کم رکھیں۔

18/04/2026

قسط نمبر 3:----
بجلی پیدا کرنے کے مختلف کمرشل طریقے:-
اب ڈائریکٹ تھرمل پاور پلانٹ کے ایک طریقے کی طرف آتے ہیں جس میں prime mover کی جگہ گیس ٹربائن استعمال ہوتی ہیے ۔ نیچے فوٹو میں ایک گیس ٹربائین دکھائ گئی ہیے ۔۔ اس کے چار مین پارٹس ہیں
1) کمپریسر
2)کمبسشن چیمبر
3) ٹربائین
4) پاور شافٹ
کسی بھی فیول کے جلنے کے لیے اسے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہیے ۔۔ہوا میں 21 فیصد آکسیجن ہوتی ہیے ۔۔ لیکن زیادہ پاور کے لیے زیادہ فیول جلانا ہوتا ہیے ۔۔ اس لیے زیادہ ہوا چاہیے ہوتی ہیے ۔۔
گیس ٹربائین سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود بہت زیادہ پاور دے سکتی ہیے اس لیے اس میں ہوا کمپریس کر کے دی جاتی ہیے تاکہ کم
جگہ میں زیادہ فیول جل کر زیادہ پاور دے سکے ۔ فیول اور ہوا کمبسشن چیمبر میں آتے ہیں اور سپارک مہیا کر کے جلنا شروع ہوتے ہیں اور ٹربائین کے پنکھے کو گھما کر exhaust gases کی شکل میں باہر نکل جاتے ہیں ۔۔ اس طرح ٹربائین کی شافٹ کو پاور ملتی ہیے جو آلٹرنیٹر سے جوڑ کر بجلی بناتاہیے ۔۔ ٹربائین کی سب سے بڑی خرابی یہ ہیے کہ efficiency صرف 30 فیصد کے لگ بھگ ہوتی ہیے کیونکہ exhaust gas کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہیے جس سے بہت زیادہ حرارتی توانائ ضائع ہو جاتی ہیے ۔۔ آئندہ چل کر دیکھیں گے کہ اس کو کس طرح کم۔کیا جاتا ہیے

اب آتے ہیں تھرمل پاور indirect فیول پلانٹس ۔۔۔:-
جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ فرنس ائل، ڈیزل، گیس ، کوئلہ ، لکڑی ،animal waste, اور کچرا سب جلا کر فیول کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں ۔۔۔ ان پلانٹس کو جن میں ہم کسی بھی فیول کوجلا کر اس کی حرارتی توانائ سے بھاپ بنا لیں اور پھر اس بھاپ سے ایک ایسی مشین چلا لیں جو بھاپ کی توانائ کو مکینیکل توانائ میں بدلتی ہو تو ان مشین کو ہم prime mover کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اوراس سسٹم کو ہم indirect سسٹم کہیں گے ۔۔ایسی ہی دو مشینوں میں سے ایک بھاپ سے چلنے والا انجن یعنی اسٹیم انجن ہیے ۔۔ وہ ہی انجن جو آج سے 60 سال پہلے پاکستان میں ٹرین میں استعمال ہوتا تھا ۔۔۔ اور دوسری مشین اسٹیم ٹربائین ہیے ۔۔۔
چونکہ کہ ہم یہاں بھاپ کی بات کر رہیے ہیں تو لگے ہاتھوں بھاپ بننے کے عمل کو سمجھ لیں اور بھاپ کی قسمیں بھی سمجھ لیں ۔۔۔
زمین پر ہوا کا دباؤ تقریبآ 14.7 پاونڈ فی مربع انچ ہوتاہیے ۔۔۔ اس دباؤ پر پانی 100 درجہ سینٹی گریڈ پر ابلتا ہیےیعنی نقطہ جوش 100 درجہ سینٹی گریڈ ہیے ۔۔ اس کے علاؤہ ایک اور دباؤ کا یونٹ جو آجکل بہت زیادہ استعمال ہوتا ہیے وہ bar ہیے۔۔ یہ 14.5 پاونڈ فی مربع انچ کے برابر ہوتاہیے یا یوں سمجھیں کہ تقریبا زمین پر ہوا کے دباؤ کے برابر ہیے اور بھاپ کے لیے آجکل یہ یونٹ کافی مقبول ہیے ۔
یہ ہاں یہ بات یاد رکھنے والی ہیے کہ بھاپ کا درجہ حرارت اس بات پر منحصر ہیے کہ اس پر دباؤ کی کتنی مقدار ہیے ۔۔مثال کے طور پر اگر دباؤ چھ بار ہیے تو اسٹیم کا درجہ حرارت 158.8 ڈگری C ہو گا ۔۔ جب کہ 10 بار کے لیے درجہ حرارت 180 ہو گا
یہ ظاہر سی بات ہیے کہ جتنا زیادہ درجہ حرارت ہو گا بھاپ میں اتنی ہی زیادہ توانائ ہو گی اس میں ۔۔۔
اسٹیم ٹربائین کی efficiency اس بھاپ کی صلاحیت پر ہیے جو کہ استعمال کی جاتی ہیے اسے گھمانے کے لیے ۔۔۔ اور اس کو تین طرح کی کلاس میں تقسیم کیا گیا ہیے ۔۔ یہ یاد رکھیں کہ جتنا زیادہ درجہ حرارت اور پریشر ہو گا اتنی اچھی efficiency ہو گی اسٹیم ٹربائین کی۔۔
سب سے کم صلاحیت والی اسٹیم saturated steam ہیے جس کا پریشر 10 سے 25 بار ہو ۔۔ اس کا درجہ حرارت 25 بار پریشر پر صرف 224 ڈگری C ہوتا ہیے ۔۔ اس اسٹیم سے 25 فیصد تک efficiency حاصل ہو جاتی ہیے
دوسری قسم Subcritacal temperature and pressure steam ہیے ۔۔۔ اس کا پریشر 211 bar سے نیچے ہوتا ہیے اور temperature تقریباً 330 درجے ہوتا ہیے ۔۔۔ اس اسٹیم سے efficiency بہتر ہو کر 37 فیصد تک ہو سکتی ہیے
تیسری قسم supper critical temperature and pressure steam ہیے ۔۔ اس میں پریشر 211 بار سے زیادہ ہوتا ہیے اور درجہ حرارت 700 ڈگری C تک ہوتا ہیے ۔۔۔ اس قسم کی اسٹیم سے efficiency بعض حالتوں میں 52 فیصد تک کلیم کی گئی ہیے ۔۔۔
اب سوال یہ ہیے کہ سب لوگ sub critical پر ہی کیوں نہیں آ جاتے ۔۔اس کی وجہ یہ ہیے کہ sub critical system عام سسٹم سے 4 گنا مہنگا ہوتا ہیے اس کہیے بعض اوقات feasible ہی نہیں ہوتا
پانی کو اسٹیم میں بدلنے کے لیے بوائلر کا استعمال ہوتا ہیے ۔۔۔۔ بوائلر ایک ایسی مشین ہیے جس میں پانی کو توانائ دے کر بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہیے ۔۔ اس کی مثال گھروں میں استعمال ہونے والے پریشر ککر کی ہیے جس میں پانی ڈال کر چولہے کے ذریعے توانائ دیں تو پانی ابل کر بھاپ میں تبدیل ہوتا رہتا ہیے ۔۔۔
بوائلر اور اسٹیم ٹربائین بہت سی قسموں کی ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ ایک الگ مضمون ہیے جس کو کبھی دوبارہ سمجھ لیں گے ۔۔ فی الحال اتنا ہی یاد رکھیں کہ بوائلر سے اسٹیم بنا کر اسٹیم ٹربائن چلائ جاتی ہیے اور اس سے آلٹرنیٹر چلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہیے ۔۔۔
تھرمل پاور پلانٹس میں ایک اور قسم ہیے جسے ہم combined cycle کہتے ہیں ۔۔۔
جیسا کہ ہم نے پچھلی قسط میں دیکھا تھا کہ کوئ بھی گیس ٹربائن 30 فیصد سے زیادہ اور گیس و فرنس آئل انجن 40 فیصد سے زیادہ efficient نہیں ۔۔۔ اس کا مطلب ہیے کہ آدھے سے زیادہ توانائ ہم ہوا میں ضائع کر دیتے ہیں۔۔۔ ایک combined cycle میں ہم اس توانائ سے بھاپ بنا کر اسٹیم ٹربائن چلا لیتے ہیں اور ایک الگ سے آلٹرنیٹر لگا کچھ کچھ فالتو بجلی بنا لیتے ہیں ۔۔۔ اس طرح بغیر فالتو فیول پر خرچ کیے ہم کچھ بجلی حاصل کر لیتے ہیں
مندرجہ ذیل تصویروں میں ایک کھلی ہوئی اسٹیم ٹربائین ، ایک گیس ٹربائین اور ایک combined cycle کی ڈرائینگ ہیے ۔۔۔
اگر ہم combined cycle کی ڈرائنگ دیکھیں تو گیس ٹربائین میں گیس جلنے کے کے بعد ایک duct میں سے فضا میں exhaust گیس کی صورت میں جا رہی ہیے۔۔۔ اس duct کے اندر ایک boiler لگا کر پانی کو اسٹیم میں تبدیل کر کے اس سے ایک اسٹیم ٹربائن لگا دی گئی ہیے
اسی تصویر میں واضع ہیے کہ گیس ٹربائین ایک آلٹرنیٹر کو چلا کر بجلی پیدا کر رہی ہیے جس کا نام GT generator ہیے اور اسٹیم ٹربائین ایک دوسرے آلٹرنیٹر کو چلا رہی ہیے جس کا نام ST generator ہیے ۔۔۔
یہاں اس قسط کو ختم کرتے ہیں ۔۔۔ چوتھی قسط انشاللہ تین دن بعد شاع ہو گی

17/04/2026

بجلی پیدا کرنے کے مختلف کمرشل طریقے
قسط نمبر 2:- (از انیس احمد)
تھرمل پاور پلانٹس :-
پچھلی قسط میں ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بجلی پیدا کرنے کے پانچ main طریقے ہیں ۔۔ چلیں آج ان میں سے پہلا طریقہ اور اس کی sub classification میں سے کچھ تفصیل کے ساتھ سمجھتے ہیں ۔۔ اور وہ طریقہ ہیے تھرمل پاور پلانٹس۔۔۔
جیسا کہ پہلی قسط میں بتایا جا چکا ہیے کہ اس طریقے میں حرارت کی توانائ کو مکینیکل توانائ میں تبدیل کر کے prime mover کو چلایا جاتا ہیے جس سے آلٹرنیٹر چلایا جاتا ہیے
ظاہر سی بات ہیے حرارت کی توانائ کسی نہ کسی جلنے والے مادے سے حاصل کی جائے گی ۔۔یہ مادہ تیل ہو سکتا ہیے
پٹرول ہو سکتا ہیے،
گیس ہو سکتی ہیے
کوئلہ ہو سکتا ہیے ۔۔
یہاں تک کہ گنے کا چھلکا، چاول کا چھلکا ، لکڑی ، کچرا وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں ۔۔ان سب کو جلا کر حرارت والی توانائ حاصل کی جا سکتی ہیے۔۔ اس لیے ان سب کو fuel ہی کہا جائے گا
اب یہاں دو راستے ہیں۔۔ یا تو fuel کو ایسے جلایا جائے کہ اس میں سے نکلی حرارتی توانائ کو prime mover میں ڈائریکٹ استعمال کر لیا جائے۔۔ اس طریقہ کو Direct method کہتے ہیں ۔۔
دوسرا طریقہ یہ ہیے کہ اس fuel سے بھاپ بنا لی جائے اور اس بھاپ سے کوئ ایسا prime mover چلائیں جو بھاپ سے چلتا ہو ۔۔ اس طریقہ کو Indirect method کہتے ہیں ۔۔
ایک اور طریقہ ہیے جسے combined cycle کہتے ہیں اور یہ صرف پہلے والے طریقے یعنی direct method کے سسٹم میں کچھ بہتری کرنے کا نام ہیے جس سے اس کی افادیت بڑھ جاتی ہیے ۔۔
اب ہم باری باری تینوں طریقے سمجھیں گے
1) ڈائریکٹ تھرمل پاور پلانٹ:- ان پلانٹس میں ہم وہ prime mover استعمال کرتے ہیں جو مخصوص فیول سے چلتے ہیں ۔۔ جیسے ڈیزل سے چلنے والا ڈیزل انجن ، فرنس آئل سے چلنے والا انجن، نیچرل گیس یا LPG سے چلنے والے انجن ،اسی طرح ڈیزل ، نیچرل گیس یا LPG سے چلنے والی گیس ٹربائین ۔۔۔ یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ گیس ٹربائن وہ ہی مشین ہیے جو جہاز کے پروں میں جیٹ انجن کے طور پر لگی ہوتی ہیے ۔۔
لیکن عام انجن اور پاور پلانٹ کے انجن میں ایک فرق ہوتا ہیے ۔ پاور پلانٹ کے انجن میں ایک اور پرزہ لگا ہوتا ہیے جسے گورنر (governor) کہتے ہی ۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہیے کہ آلٹرنیٹر کو اس کی مقررہ رفتار پر چلانا ضروری ہیے ۔۔جیسا کہ ہم نے پچھلی قسط میں دیکھا کہ ایک ایسا آلٹرنیٹر جو چار pole کا ہو اسے 50 Hz پر چلانے کے لیے 1500 چکر فی منٹ یا 1500 RPM پر چلانا ہو گا۔۔ اب فرض کریں کہ اگر ایک چلتے ہوئے آلٹرنیٹر کی پیدا کردہ بجلی سے 50 کلو واٹ کی کوئ مشین چلا رہیے ہیں اور اچانک ایک اور دس کلوواثٹ کی مشین بھی on کر دیتے ہیں تو آلٹرنیٹر پر لوڈ بڑھے گا جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی ۔۔اس رفتار کو فورآ واپس صحیح کرنے کے لیے جو پرزہ استعمال ہوتا ہیے اس کو ہی governor کہتے ہیں ۔ گورنر فورآ اس رفتار کم ہونے کو sense کرے گا اور انجن کو دئیے جانے والی فیول کی مقدار بڑھا کر رفتار دوبارہ 1500 RPM کر دے گا۔۔
اب ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ فی یونٹ بجلی پیدا کرنے کی قیمت کیسے نکالتے ہیں۔۔ اس کے لیے ہمیں دو اخراجات CAPEX اور OPEX کو سمجھنا ہو گا ۔۔ تو چلیں پہلے CAPEX کو سمجھتے ہیں

1) جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہر انڈسٹری لگانے کے لیے کچھ سرمایہ درکار ہوتا ہیے ۔۔۔ اسے CAPAX یعنی capital expenditures کہتے ہیں ۔۔ ظاہر سی بات ہیے کہ یہ سرمایہ بینکوں سے قرض لیا جاتا ہیے ۔۔اس کی سالانہ قسط اور سود کی مد میں جو رقم ادا کی جاتی ہیے وہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ہی ڈالی جاتی ہیے۔ ۔۔ پاور پلانٹ میں اس مد میں ڈالی گئی قیمت کو عموماً capacity charge کے نام سے کہا جاتا ہیے یا financial چارجز کے نام سے بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔ اس مد میں پورے سال کے financial charges کو کل پیداواری یونٹ سے تقسیم کر کے فی یونٹ financial charges مقرر کیے جاتے ہیں ۔۔۔
اس خرچے کو سمجھنے کے لیے ایک بہت چھوٹے سے جینریڑر سیٹ کی مثال لے لیتے ہیں جو دس کلوواٹ کا ہیے اور اس کی قیمت دس لاکھ روپے ہیے ۔۔۔ اگر صرف 15 فیصد سالانہ سود پر calculation کی جائے اور یہ رقم پانچ سال میں بینک کو واپس کرنی ہو تو سود ملا کر سالانہ 250000 روپے سالانہ ادا کرنے ہوں گے۔۔ اور 10 KW کا جینریڑر 85 فیصد لوڈ پر چلتے ہوئے کل مندرجہ ذیل یونٹ بنائے گا ..یاد رہیے کہ ایک سال میں 8760 گھنٹے ہوتے ہیں
= 8760 x 10 x 85/100
= 74460 units
اس لیے CAPEX کی مد میں فی یونٹ کا خرچہ
=250000/74460
= 3.35 Rupees

2) دوسرا خرچ operation& maintenance ہوتا ہیے جسے O&M کہا جاتا ہیے ۔۔ اس خرچ میں فیول ، اسٹاف کی تنخواہیں ، پاور پلانٹ کی maintenance ، پانی کے اخراجات ، وغیرہ وغیرہ کے اخراجات کو کل پیداواری یونٹ سے تقسیم کر کے فی یونٹ O&M مقرر کیا جاتا ہیے . اس میں سب سے بڑا خرچ فیول کا ہوتا ہیے اس کو calculate کرنے کے لیے پہلے ہمیں فزکس کے کچھ بنیادی اصول سمجھنے ہوں گے

سن 1842 میں ایک سائنسدان Julius Robert Mayor نے ایک قانون دریافت کیا تھا جو کہ Law of conservation of energy کہلاتا ہیے۔۔۔ اس کے تحت نہ ہی توانائ پیدا کی جا سکتی ہیے اور نہ ہی توانائ تباہ کی جا سکتی ہیے ۔۔ ہم توانائ کو صرف ایک form سے دوسرے form میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔۔۔ چنانچہ اس اسٹیج پر ہمیں کم از کم حرارتی توانائ کی اکائ، مکینیکل توانائ کی اکائی اور الیکٹریکل توانائ کی اکائی کو سمجھنا ہو گا اور ان کا آپس میں relation بھی یاد رکھنا ہو گا ۔۔۔
چلیں یہاں ہم حرارت کی اکائ BTU یعنی British thermal units کو لے لیتے ہیں ۔۔مکینیکل توانائ کی اکائی HP یعنی horse power کو اور الیکٹریکل توانائ Kw یعنی kilowatts کو کے لیتے ہیں .. ان اکائیوں کاآپس میں تناسب مندرجہ ذیل ہیے
One Kw = 3412 BTU
One HP = 0.746 KW
One HP = 2544 BTU

یہاں ایک اور ضروری بات یاد رکھنے والی یہ ہیے کہ جتنے بھی فیول سے چلنے والے انجن ہوتے ہیں ان کی کارکردگی ( یعنی efficiency) 30% سے زیادہ نہیں ہوتی ۔۔ یعنی وہ جو توانائ حرارت کی شکل میں دی جاتی ہیے اس کا صرف تیس فیصد مکینیکل توانائ میں بدلتے ہیں اور باقی حرارت اس انجن سے پیدا شدہ دھویں ( exhaust gas) اور اس انجن جو ٹھنڈا رکھنے کے پانی کے ذریعے فضا میں ضائع ہو جاتی ہیے ۔۔۔ اسی طرح آلٹرنیٹر کی کارکردگی عمومآ 96 فیصد ہوتی ہیے ۔۔ ماڈرن انجنوں میں ایک اور پرذہ لگا کر کارکردگی 40 فیصد تک بڑھا کی جاتی ہیے ۔۔ اس پرزے کو turbo charger کہتے ہیں ۔۔۔
ایک اور ضروری بات یہ ہیے کہ بجلی کے ایک یونٹ کا مطلب ہیے کہ ایک کلو واٹ ایک گھنٹے تک چلایا جائے تو ایک یونٹ کہلاتا ہیے
اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف فیول میں کتنی حرارتی توانائ ہیے اور فی یونٹ کتنی cost آتی ہیے

1.1) ایک لیٹر ڈیزل میں 36500 BTU ہوتے ہیں اور آجکل اس کی قیمت 235 روپے فی لیٹر ہیے ۔۔۔ چونکہ 3412 BTU کا ایک کلو واٹ ہوتا ہیے اور انجن و آلٹرنیٹر کی ملا کر کارکردگی 38 ٪ ہیے اس لیے ایک کلو واٹ فی گھنٹہ یا ایک یونٹ بجلی کے لیے ڈیزل کا خرچ ہوا
= (3412 x100)/(36000x38) liter /hour
= 0.25 liter per unit
اس طرح اگر ڈیزل 235 روپے فی لیٹر ہیے تو ڈیزل پر بنی ہوئ فی یونٹ بجلی کی فیول cost
= 235x0.25
= Rs 58.75 per unit

1.2) ایک کلو گرام فرنس آئل کی قیمت آجکل 167 روپے ہیے ۔۔۔ اور اس میں فی کلوگرام 44000 BTU فی کلو گرام حرارتی توانائ ہوتی ہیے ۔۔ فرنس آئل ہر چلنے والا انجن ڈیزل انجن کی طرح کا ہی ہوتا ہیگ۔۔فرق یہ ہیے کہ چونکہ فرنس آئل میں سلفر ، سوڈیم اور venadium اور دوسری کثافتیں موجود ہوتی ہیں اس لیے پہلے فرنس آئل کو ایک صفائ کے پلانٹ سے گزارا جاتا ہیے تا کہ کسی حد تک صاف ہو جائے ۔۔ اس کے علاؤہ فرنس آئل عام درجہ حرارت پر بہت گاڑھا ہوتا ہیے ۔۔اس کیے اس انجن میں استعمال سے پہلے اتنا گرم کیا جاتا ہیے کہ اس کا گڑھا پن (viscosity) کم ہو کر ڈیزل کی طرح ہےکہ یو جائے۔۔چلیں calculate کرتے ہیں کہ کتنے کا فرنس آئل لگے گا فی یونٹ
= (3412x100)/(44000x38) kg
= 0.204 kg
فرنس آئل میں سے 5٪ پانی اور کچرہ نکلتا ہیے اس لیے کل فرنس آئل فی یونٹ خرچ
=0.204/0.95
= 0.214 kg
اس طرح روپوں میں فی یونٹ خرچ
=0.214x167
= Rs 35.74 per unit

1.3) تیسرا فیول ہیے گیس ۔۔۔ گیس میں توانائ 20000 BTU فی مکعب میٹر سے کے کر چالیس ہزار BTU فی مکعب میٹر تک ہو سکتی ہیے ۔۔ اس لیے پاکستان میں اس کی قیمت فی دس لاکھ BTU میں مقرر کی جاتی ہیے ۔۔ اس دس لاکھ BTU کو mmbtu کہتے ہیں ۔۔۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہیے کہ دس لاکھ یعنی ایک میلین بی ٹی یو کو mmbtu کیوں کہتے ہیں ۔۔اور اس کو mbtu کیوں نہیں کہتے۔۔۔۔اس کی وجہ یہ ہیے کہ mmbtu اطالوی زبان کا لفظ ہیے اور اطالوی زبان میں ایک ہزار کو Mille کہتے ہیں اور ایک میلین کے لیے mille mille کا لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں اس لیے اس میں دو m آتے ہیں
پاکستان میں انڈسٹری کے لیے گیس کی قیمت 1087 روپے فی mmbtu ہیے ۔اب دیکھتے ہیں کہ ایک 40 فیصد efficiency کا جینریڑر کتنے کی گیس استعمال کرے گا ایک یونٹ کے لیے
چلیں دیکھتے ہیں کہ ایک mmbtu میں کتنے یونٹ بنیں گے
= (1000000 x 38)/(3412 x100)
= 111 units
اب چونکہ ایک mmbtu گیس کی قیمت 1087 روپے ہیے اس لیے فی یونٹ گیس کا خرچ
=1087/111
= Rs 9.8 per unit

ان خرچوں کے علاؤہ سالانہ اسپیر پارٹ 80 پیسے فی یونٹ، عملے کی تنخواہ ، پانی کے اخراجات وغیرہ ، تیل ، گریس فلٹرز کے اخراجات کی مد میں 1.20 روپے فی یونٹ کا خرچ آتا ہیے

اس کا مطلب ہیے کہ
ڈیزل پر کل بجلی کے فی یونٹ کی cost
= CAPEX + OPEX
= 3.35 + 58.75 +0.8+1.2
=64 روپے 10 پیسے فی یونٹ ہو گی

فرنس آئل پر بجلی کی فی یونٹ cost
= 3.35 +35.74+ 0.8+1.2
= 41 روپیے 9 پیسے فی یونٹ

گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ cost
= 3.35+9.80+0.8+2.2
= 15 روپے 15 پیسے فی یونٹ

(جاری ہیے... انشاللہ تیسری قسط جلد شائع ہو گی )

17/04/2026

Turn sunlight into power—simple, smart, and sustainable. ✨💚🌞💛

17/04/2026

⚡️TRANSFORMER STANDARDS⚡️

Transformer standards define manufacturing, testing, insulation, temperature rise, oil quality, bushings, tap changers, and general design compliance. They do not fully define real operating behavior under actual plant conditions.
1. Inrush current
During energization, transformer magnetizing inrush may reach 8–12 times rated current. Standards define test and design limits, but relay settings, harmonic restraint, and inrush blocking must be engineered separately.
2. Harmonic loading
With VFDs, rectifiers, UPS systems, and non-linear loads, harmonic currents increase eddy losses, stray losses, and hotspot temperature. Standard compliance alone does not guarantee suitability for harmonic-rich networks.
3. Overloading capability
Permissible loading depends on insulation class, top oil temperature, winding hotspot temperature, cooling mode such as ONAN or ONAF, and load cycle. Nameplate rating alone does not define actual overload endurance.
4. Site conditions
Ambient temperature, altitude, humidity, dust, pollution level, seismic zone, and installation enclosure significantly affect transformer performance, cooling, dielectric strength, and life.
5. Protection coordination
Standards do not complete system-level coordination between differential protection, REF, Buchholz relay, overcurrent, earth fault, WTI, OTI, pressure relief device, and upstream/downstream breaker settings.
6. Short-circuit duty in actual network
A transformer may satisfy standard short-circuit withstand criteria, but actual fault level at site must be checked with system impedance, source strength, and breaker clearing time.
7. Cooling effectiveness in service
Cooling class is defined by standards, but actual heat dissipation depends on radiator cleanliness, fan performance, oil flow, ventilation, and maintenance condition.
8. Insulation ageing
Standards define insulation levels, but ageing rate depends on repeated overloads, moisture ingress, oxygen content, oil degradation, and operating temperature history.
9. Voltage variation and tap operation
Standards define tap changer requirements, but actual tap operation frequency, voltage fluctuation pattern, and OLTC maintenance requirement depend on grid conditions.
10. Application suitability
A standard-compliant transformer still requires project-specific verification for load profile, starting duty, motor reacceleration, harmonic content, fault contribution, cooling margin, and protection philosophy.

17/04/2026

سولر پاور سسٹم"ٹپس"۔۔۔۔۔۔
سولر پینلز سے کرنٹ لگنے اور اموات کے واقعات سننے اور دیکھنے میں آرھے ہیں۔

اس سلسلہ میں چند احتیاطی تدابیر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاھوں گا ، جن ہر عمل درآمد سے ایسے کسی واقع سے بچا جا سکتا ھے۔
اچھا جی۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں، کہ۔۔۔
سولر پینلز ۔۔۔ سے پیدا کردہ بجلی اسی طرح خطرناک ھے جس طرح عام گھریلو استعمال کی بجلی۔۔۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ھے۔
تو، سولر پینلز سے کرنٹ لگنے کے بچنے کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار لازمی کریں1. سولر پینلز سے انورٹر تک جانے والی تاروں کی انسولیشن اچھی ہو اور یہ کم سے کم 1000 وولٹ ریٹنگ کی حامل ہوں۔ ( آن گرڈ انورٹرز سٹرنگ جس میں 10 سے زیادہ پینل لگے ہوں وھاں تاروں کی وولٹیج ریٹنگ کم سے کم 1500 وولٹ ھونی چاہیے )

2. سولر پینلز سے جانے والی وائرنگ پر مناسب حفاظتی بریکرز کی تنصیب لازمی کروائیں

3. سولر پینلز کو ہمیشہ صبح سویرے یا پھر مغرب کے بعد صفائی کریں/ دھوئیں۔
4. سولر پینلز کی صفائی/ دھونے کے عمل سے پیشتر اسکی وائرنگ سے منسلک بریکرز کو بند کر دیں۔ تاکہ انورٹر اور برقی سرکٹس کا رابطہ سولر پینلز سے منقطع ھو جائے۔
5. سولر پینلز کی صفائی/ دھونے کے عمل میں انسولیٹڈ جوتے اور دستانے پہننے سے کرنٹ لگنے کے خدشے کو کم کیا جا سکتا ھے۔
6. بارش یا آسمانی بجلی گرج چمک کے دوران سولر پینلز کی صفائی سے گریز کریں۔
7. اگر کوئی بھی سولر پینل کریک، شیشہ ٹوٹا ھوا ھے تو اسے دیگر پینلز سے الگ کردیں اور تبدیل کروائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلومات کو شئیر کریں تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچے اور کسی حادثے سے بچا

16/04/2026
16/04/2026

دنیا میں مستقبل قریب میں ہونے والی کچھ تبدیلیاں:

جیسے ویڈیو فلموں کی دکانیں غائب ہو گئیں، ویسے ہی پٹرول اسٹیشن بھی ختم ہو جائیں گے۔

1. کاروں کی مرمت کی دکانیں، اور آئل، ایکزاسٹ، اور ریڈی ایٹرز کی دکانیں ختم ہو جائیں گی۔

2. پٹرول/ڈیزل کے انجن میں 20,000 پرزے ہوتے ہیں جبکہ الیکٹرک کار کے انجن میں صرف 20 پرزے ہوتے ہیں۔ ان کو زندگی بھر کی ضمانت کے ساتھ بیچا جاتا ہے اور یہ وارنٹی کے تحت ڈیلر کے پاس ٹھیک ہوتے ہیں۔ ان کا انجن اتار کر تبدیل کرنا صرف 10 منٹ کا کام ہوتا ہے۔

3. الیکٹرک کار کے خراب انجن کو ایک ریجنل ورکشاپ میں روبوٹکس کی مدد سے ٹھیک کیا جائے گا۔

4. جب آپ کی الیکٹرک کار کا انجن خراب ہو جائے گا، آپ ایک کار واش اسٹیشن کی طرح کی جگہ جائیں گے، اپنی کار دے کر کافی پئیں گے اور کار نئے انجن کے ساتھ واپس ملے گی۔

5. پٹرول پمپ ختم ہو جائیں گے۔

6. سڑکوں پر بجلی کی تقسیم کے میٹر اور الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن نصب کیے جائیں گے (پہلے دنیا کے پہلے درجے کے ممالک میں شروع ہو چکے ہیں)۔

7. بڑی بڑی سمارٹ کار کمپنیوں نے صرف الیکٹرک کاریں بنانے کے لئے فیکٹریاں بنانے کے لئے فنڈ مختص کیے ہیں۔

8. کوئلے کی صنعتیں ختم ہو جائیں گی۔ پٹرول/آئل کمپنیاں بند ہو جائیں گی۔ آئل کی تلاش اور کھدائی رک جائے گی۔

9. گھروں میں دن کے وقت بجلی پیدا کر کے ذخیرہ کی جائے گی تاکہ رات کو استعمال اور نیٹ ورک کو فروخت کی جا سکے۔ نیٹ ورک اسے ذخیرہ کر کے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کو فراہم کرے گا۔ کیا کسی نے Tesla کا چھت دیکھا ہے؟

10. آج کے بچے موجودہ کاریں میوزیم میں دیکھیں گے۔ مستقبل ہماری توقعات سے زیادہ تیزی سے آ رہا ہے۔

11. 1998 میں، کوڈاک کے 170000 ملازمین تھے اور یہ دنیا بھر میں 85٪ فوٹو پیپر فروخت کرتا تھا۔ دو سالوں میں ان کا بزنس ماڈل ختم ہو گیا اور وہ دیوالیہ ہو گئے۔ کس نے سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے؟

12. جو کچھ کوڈاک اور پولاروئڈ کے ساتھ ہوا، ویسا ہی اگلے 5-10 سالوں میں کئی صنعتوں کے ساتھ ہوگا۔

13. کیا آپ نے 1998 میں سوچا تھا کہ تین سالوں کے بعد، کوئی بھی فلم پر تصاویر نہیں لے گا؟ اسمارٹ فونز کی وجہ سے، آج کل کون کیمرہ رکھتا ہے؟

14. 1975 میں ڈیجیٹل کیمرے ایجاد ہوئے۔ پہلے کیمرے میں 10000 پکسلز تھے، لیکن انہوں نے مور کے قانون کی پیروی کی۔ جیسے ہر ٹیکنالوجی کے ساتھ ہوتا ہے، پہلے تو توقعات پر پورے نہیں اترے، لیکن پھر بہت بہتر ہو گئے اور غالب آ گئے۔

15. یہ دوبارہ ہوگا (تیزی سے) مصنوعی ذہانت، صحت، خود کار گاڑیاں، الیکٹرک کاریں، تعلیم، تھری ڈی پرنٹنگ، زراعت، اور نوکریوں کے ساتھ۔

16. کتاب "Future Shock" کے مصنف نے کہا: "خوش آمدید چوتھی صنعتی انقلاب میں"۔

17. سافٹ ویئر نے اور کرے گا اگلے 5-10 سالوں میں زیادہ تر روایتی صنعتوں کو متاثر۔

18. اوبر سافٹ ویئر کے پاس کوئی گاڑی نہیں، اور یہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے! کس نے سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے؟

19. اب ایئربی این بی دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے، جبکہ اس کے پاس کوئی جائداد نہیں۔ کیا آپ نے کبھی ہلٹن ہوٹلز کو ایسا سوچا؟

20. مصنوعی ذہانت: کمپیوٹر دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔ اس سال ایک کمپیوٹر نے دنیا کے بہترین کھلاڑی کو شکست دی (متوقع سے 10 سال پہلے)۔

21. امریکہ کے نوجوان وکلاء کو نوکریاں نہیں مل رہیں کیونکہ IBM کا واٹسن، جو آپ کو سیکنڈز میں قانونی مشورے دیتا ہے 90٪ کی درستگی کے ساتھ، جبکہ انسانوں کی درستگی 70٪ ہوتی ہے۔ لہذا اگر آپ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تو فوراً رک جائیں۔ مستقبل میں وکلاء کی تعداد 90٪ کم ہو جائے گی اور صرف ماہرین رہیں گے۔

22. واٹسن ڈاکٹروں کی مدد کر رہا ہے کینسر کی تشخیص میں (ڈاکٹروں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ درست)۔

23. فیس بک کے پاس اب چہرے کی شناخت کا پروگرام ہے (انسانوں سے بہتر)۔ 2030 تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائیں گے۔

24. خودکار گاڑیاں: پہلی خودکار گاڑی سامنے آ چکی ہے۔ دو سال میں پوری صنعت بدل جائے گی۔ آپ کار کی مالکیت نہیں چاہیں گے کیونکہ آپ ایک کار کو فون کریں گے اور وہ آ کر آپ کو آپ کی منزل تک لے جائے گی۔

25. آپ اپنی کار پارک نہیں کریں گے بلکہ سفر کی مسافت کے حساب سے ادائیگی کریں گے۔ آپ سفر کے دوران بھی کام کریں گے۔ آج کے بچے ڈرائیونگ لائسنس نہیں لیں گے اور نہ ہی کبھی گاڑی کے مالک ہوں گے۔

26. اس سے ہمارے شہر بدل جائیں گے۔ ہمیں 90-95٪ کم گاڑیاں چاہئیں ہوں گی۔ پارکنگ کے پرانے مقامات سبز باغات میں تبدیل ہو جائیں گے۔

27. ہر سال 1.2 ملین لوگ گاڑی حادثات میں مر جاتے ہیں، جس میں شرابی ڈرائیونگ اور تیز رفتاری شامل ہے۔ اب ہر 60,000 میل میں ایک حادثہ ہوتا ہے۔ خودکار گاڑیوں کے ساتھ، یہ حادثات ہر 6 ملین میل پر ایک تک کم ہو جائیں گے۔ اس سے سالانہ ایک ملین لوگوں کی جان بچائی جائے گی۔

28. روایتی کار کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی۔ وہ انقلابی انداز میں ایک بہتر کار بنانے کی کوشش کریں گی، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں (Tesla، Apple، Google) ایک انقلابی انداز میں پہیے پر کمپیوٹر بنائیں گی (ذہین الیکٹرک گاڑیاں)۔

29. Volvo نے اب اپنے گاڑیوں میں انٹرنل کمبسشن انجن کو ختم کر کے، صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ انجنوں سے تبدیل کر دیا ہے۔

30. Volkswagen اور Audi کے انجینئرز (Tesla) سے پوری طرح خوفزدہ ہیں اور انہیں ہونا چاہیے۔ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی تمام کمپنیوں کو دیکھیں۔ کچھ سال پہلے یہ معلوم نہیں تھا۔

31. انشورنس کمپنیاں بڑے مسائل کا سامنا کریں گی کیونکہ بغیر حادثات کے اخراجات سستے ہو جائیں گے۔ کار انشورنس کا کاروباری ماڈل ختم ہو جائے گا۔

32. جائداد میں تبدیلی آئے گی۔ کیونکہ سفر کے دوران کام کرنے کی وجہ سے، لوگ اپنی اونچی عمارتیں چھوڑ دیں گے اور زیادہ خوبصورت اور سستے علاقوں میں منتقل ہو جائیں گے۔

33. 2030 تک الیکٹرک گاڑیاں عام ہو جائیں گی۔ شہر کم شور والے اور ہوا زیادہ صاف ہو جائے گی۔

34. بجلی بے حد سستی اور ناقابل یقین حد تک صاف ہو جائے گی۔ سولر پاور کی پیداوار بڑھتی جا رہی ہے۔

35. فوسل فیول انرجی کمپنیاں (آئل) گھریلو سولر پاور انسٹالیشنز کو نیٹ ورک تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مقابلے کو روکا جا سکے، لیکن یہ ممکن نہیں - ٹیکنالوجی آ رہی ہے۔
سبز توانائی، چاہے وہ سبز ہائیڈروجن سے ہو یا ماحول دوست ذرائع سے، اور سبز شہر آئیں گے، اور زیادہ تر ممالک میں نیوکلیئر ری ایکٹرز ختم ہو جائیں گے۔

36. صحت: Tricorder X کی قیمت کا اعلان اس سال کیا جائے گا۔ کچھ کمپنیاں ایک طبی آلہ بنائیں گی (جس کا نام "Tricorder" ہے Star Trek سے لیا گیا)، جو آپ کے فون کے ساتھ کام کرتا ہے، جو آپ کی آنکھ کی ریٹینا کا معائنہ کرے گا، آپ کے خون کا نمونہ لے گا، اور آپ کی سانس کی جانچ کرے گا۔ اور 54 بائیولوجیکل مارکرز کی تشخیص کرے گا جو تقریباً کسی بھی بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فی الحال مختلف مقاصد کے لئے درجنوں فون ایپلی کیشنز دستیاب ہیں..

Address

Jamal Chok
Pakpattan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan lok Virsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan lok Virsa:

Share