زما کلے گجرات

زما کلے گجرات To Serve Humanity. Helping Poor peoples And Promoting Pakistan's Tourism🙏❤️🙏

17/09/2026

کلہ چی سوک عمرے یا حج نہ راشی نو دوی بہ زر خلقو لہ دعوتونہ ورکڑی چی حاجی صاحب راروان دے او خیرات لہ راشہ ۔
کلہ چی میلمانہ راشی سو پورے روٹئ نہ وی شروع دہ حاجی صاحب سفر نامہ بیا نہ ختمیگی ۔
ھر چاتہ شروع وی کلہ چی دہ جدہ پہ ائیرپورٹ کوز شو سعودیہ جہاز خو جہاز دے او پی ائی اے؟ توبہ توبہ۔
او دہ ھغہ زاے یوہ یوہ کھجورہ دومرہ دومرہ دہ۔ یارہ دہ دے زاے بہ سہ Ac وی دہ ھغہ زاے دہ AC خو مثال نیشتہ۔
او دیخوا خلق دہ لوگے مڑہ کیگی زڑہ کی وائی حاجی صاحب دہ خداے خاطر اوکڑہ غلے شہ۔
اصل خبرہ دا دہ چی حج عمرہ دہ اللہ دپارہ دہ دکھاوے او شو بازے دپارہ ندہ۔
دہ اللہ ستا دہ جہاز قیصے نہ بلکہ ستا صفا دہ عاجزی زڑہ پکار دے۔
کم چی اصل حاجیان دی ھغی چی راشی خاموشہ وی سترگو کی اوخکی او پہ خلہ دھغہ دعا وی چی اللہ دے زما حج عمرہ قبول کڑی۔
کم چی شو بازی کوی ھغی بیا پہ خلقو او دہ جماعت پہ امام باندے خپل حج عمرہ خرسوی لکہ چی پوخ عالم دین دے۔
نبی پاک ص فرمائی ریا (دکھاوہ) دہ وڑوکے شرک نہ ھم خطرناکہ دہ۔
دہ حج نہ راتلل دہ فخر خبرہ ندہ بلکہ دہ زمہ داری خبرہ دہ۔
چی خلق تاتہ حاجی صاحب وائی نو زان دہ دروغو غیبت دھوکے نہ ھم بچ کول پکار دی۔
اللہ دے مونگہ تہ اصل حج عمرہ نصیب کڑی جہاز او شو بازی والا نہ۔ copied

:نیند انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا کی ہر حیثیت عارضی ہے۔ جب رات کو انسان سو جاتا ہے تو نہ قیدی اپنی قید کی تکلیف م...
17/09/2026

:نیند انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا کی ہر حیثیت عارضی ہے۔ جب رات کو انسان سو جاتا ہے تو نہ قیدی اپنی قید کی تکلیف محسوس کرتا ہے اور نہ بادشاہ اپنی دولت اور سلطنت کی برتری۔ یہ حقیقت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیاوی مقام، طاقت اور دولت سب وقتی ہیں، اصل اہمیت انسان کے کردار اور آخرت کی تیاری کی ہے❤️

کبھی مٹی کے چولہے پر پکتا کھانا ہی سب سے لذیذ لگتا تھا،نہ آسائشوں کی فکر تھی، نہ دکھاوے کی… بس اپنوں کے ساتھ سکون تھا۔ ❤...
16/09/2026

کبھی مٹی کے چولہے پر پکتا کھانا ہی سب سے لذیذ لگتا تھا،
نہ آسائشوں کی فکر تھی، نہ دکھاوے کی… بس اپنوں کے ساتھ سکون تھا۔ ❤️

keli ao jwand❤️
16/09/2026

keli ao jwand❤️

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے س...
16/09/2026

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
ہمدان کے لوگ ڈر کے مارے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف، اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورے شہر کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ میدان میں خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت ہوشیار، عقل مند اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی مشہور ہے، کہتے ہیں: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’ – یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہیں جانتے۔"
پھر اس نے اعلان کیا:
"میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی۔ لیکن اگر جواب غلط ہوا… تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ یہی کرے گا!"
میدان میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ لوگ کانپنے لگے۔
چنگیز خان نے نظریں گھمائیں، پھر گرج کر پوچھا:
"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں؟ یا اپنی مرضی سے؟"
کسی کے پاس ہمت نہ تھی جواب دینے کی۔ علماء، دانشور، اور بزرگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ سوال صرف ایک دلیل نہیں تھا، بلکہ پورے شہر کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔
ہر چہرہ پریشان، ہر آنکھ سوالی بنی ہوئی تھی۔ اور تب… ہجوم سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔
نہ وہ عالم تھا، نہ دانشور۔ مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت تھی، دل میں سچائی۔
چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:
"اگر میں جواب سنوں گا، تو تجھ سے سنوں گا!"
چرواہے نے بے خوفی سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
نہ تم اپنی مرضی سے آئے ہو…
تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔
جب ہم نے عقل والوں کو نظر انداز کیا،
علم والوں کو پیچھے دھکیلا،
اور جاہلوں، خوشامدیوں، اور نالائقوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دی—
تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا طے تھا!
تم ہماری نادانی، بے انصافی اور بصیرت سے خالی قیادت کا نتیجہ ہو!"
میدان میں گہری خاموشی چھا گئ
چنگیز خان ساکت ہو گیا۔ شاید یہ سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔
اور پھر… اس نے سب کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔
ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے۔
یہ قوموں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے، قومیں خود انہیں دعوت دیتی ہیں۔

جب قومیں عقل مندوں کو نظرانداز، اہلِ علم کو خاموش، اور جاہلوں، خوشامدیوں اور نااہلوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دیں تو پھر ظالم حکمران نہیں آتے… وہ پیدا کیے جاتے ہیں۔

پریشر کُکر میں جہاں گھنٹوں میں پکنے والا کھانا منٹوں میں بن جاتا ہے، وہیں ذرا سی بے احتیاطی بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ گزش...
16/09/2026

پریشر کُکر میں جہاں گھنٹوں میں پکنے والا کھانا منٹوں میں بن جاتا ہے، وہیں ذرا سی بے احتیاطی بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
گزشتہ ماہ 16 اگست کو میری بہن پریشر کُکر پھٹنے سے جل گئی۔ اس کا چہرہ، بازو، گردن، کندھے بری طرح جھلس گئے۔ دو ہفتے ہاسپٹل میں رہی جس میں پہلا ہفتہ اسے ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا۔

حادثہ یوں پیش آیا کہ سرگودھا میں دوپہر بارہ سے دو کے درمیان سوئی گیس آتی ہے۔ اسی دوران خاتون خانہ نے سالن بھی بنانا ہوتا ہے، گھر بھر کے لئے روٹیاں بھی بنانی ہوتی ہیں۔ ساتھ اگر چائے یا کچھ میٹھا وغیرہ بنانا ہو تو وہ الگ۔ تو وقت کی بچت کے لئے خواتین پریشر ککر کا استعمال کرتی ہیں۔ میری بہن نے بھی ایسا ہی کیا۔ وہ دال ماش بنا رہی تھی۔ ایک سائیڈ پہ کڑاہی میں مصالحہ بھون رہی تھی اور دوسری طرف دال گلنے کے لئے رکھ دی۔ چند منٹ بعد پریشر ککر والا چولہا بند کر دیا۔ ککر کے اوپر سے سیٹی بھی ہٹا دی مگر اس میں سے بھاپ نہیں نکلی۔ کچھ دیر اس نے انتظار کیا۔ اس دوران کچن کے دیگر کام سمیٹے۔ اس نے سوچا کہ اب تک بھاپ نکل چکی ہو گی اور گیس جانے سے پہلے سالن تیار ہو جائے۔۔ یہ سوچ کر اس نے پریشر ککر کا ڈھکن کھولنے کی کوشش کی مگر وہ کھلا نہیں۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے رومال کی مدد سے پکڑ کر زور سے کھولا۔۔ وہ ایک دم دھماکے سے کھل گیا اور ابلتی ہوئی دال اس کو جھلساتی ہوئی کچن کی چھت تک گئی۔ اس کا چہرہ سامنے تھا، وہ ابلتی ہوئی دال کا مکسچر اسکے چہرے پہ پڑتا رہا اور چہرے سے ہوتا ہوا گردن، کندھے، بازوؤں تک کو بری طرح متاثر کیا۔

میری بہن کا چہرہ اور جسم کا کچھ حصہ بری طرح جھلس گئے۔ بہنوئی یا کوئی بڑا گھر پہ نہیں تھا۔ بچوں نے فوراً 1122 پہ کال کی۔ محلے کی کچھ خواتین بھی آ گئیں۔ ایک ہمسائی خاتون نے اسے فوراً دودھ سے نہلا دیا، پانی بھی مسلسل ڈالتے رہے۔ اتنے میں ایمبولینس بھی پہنچ گئی جس نے فوری طبی امداد دی۔ اس وقت تک میرے بہنوئی اور بڑی باجی بھی اسکے پاس پہنچ چکے تھے۔ وہ تکلیف سے تڑپ رہی تھی اور محلے کی ایک آنٹی اور ایمبولینس والے کہہ رہے تھے کہ آپ ٹھیک ہیں۔ جبکہ تکلیف وہی جانتا ہے جس پر بیتی ہو۔ فوری طبی امداد سے اسے نیند آگئی اور وہ سو گئی۔۔ مگر شام تک اس کا چہرے اور بازو میں ناقابل یقین حد تک سوجن ہو چکی تھی کہ پہچانا بھی نہیں جا رہا تھا۔ پھر رات کو اسے ڈی ایچ کیو سرگودھا لے جایا گیا جہاں اسے ایمرجنسی میں داخل کر لیا گیا۔ تکلیف تو خیر ناقابل برداشت تھی پھر بھی برداشت تو کرنی تھی اور وہ اس نے کی۔ اس کے ساتھ ہم سب بہن بھائی بھی بہت تکلیف میں رہے۔ کتنے ہی دن روتے گزرے۔

اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس کی جان بچ گئی۔ آنکھیں بچ گئیں، بینائی پہ اثر نہیں ہوا اور سب سے بڑھ کر سانس کی نالی بچ گئی کیونکہ بقول ڈاکٹرز۔۔۔ اگر بھاپ سانس کی نالی میں چلی جائے تو اس کا اثر فوراً ظاہر نہیں ہوتا بلکہ سانس کی نالی آہستہ آہستہ سکڑنے لگتی ہے۔۔ جس سے اگلے چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں میں مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ شکر ہے اسکی جان سلامت ہے ۔ اپنے بچوں کے سر پر اس کا سایہ سلامت رہے۔ آمین

پریشر ککر استعمال کرنے کے لئے چند احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا لازم ہے ورنہ یہ ذرا سی غفلت زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔

1۔ پریشر ککر کو کبھی پانی سے زیادہ نہ بھریں۔ پانی کی مقدار مناسب رکھیں۔

2۔ جو بھی پکانا مقصود ہو چاہے گوشت، یا دال وغیرہ۔۔ اسے ایک ابال آنے کے بعد ڈھکن بند کریں تاکہ کہ اوپر جو جھاگ سی بن جاتی ہے وہ ککر کے سوراخوں میں نہ پھنسے۔

3۔ زیادہ بہتر ہے کہ کچھ بھی ابالتے یوئے اس میں تھوڑا سا نمک اور چٹکی بھر ہلدی ڈال کر ایک ابال آنے کے بعد ڈھکن بند کریں۔ خاص طور پر جب سفید چنے ہوں۔

3۔ ککر کی صفائی صحیح طریقے سے کریں۔ اسکی سیٹی سے لے کر اس کے ڈھکن میں موجود سوراخوں کو کسی سوئی سے صاف کرتی رہا کریں۔

4۔ پریشر ککر بند کرنے کے بعد سیٹی کو فورا نہ ہٹائیں بلکہ تھوڑا انتظار کر لیں اور جب اسکی نوزل خود بخود نیچے ہو جائے تو ہی سیٹی ہٹائیں، بھاپ اچھی طرح نکل جائے تو ڈھکن کھولیں۔

5۔ جلد بازی بالکل بھی نہ کریں اگر کبھی لگے کہ سیٹی ہٹانے کے بعد بھی بھاپ نہیں نکلی تو ڈھکن کو زبردستی نہ کھولیں۔ بلکہ اسے پانی بھرے کسی ٹب میں رکھ کر ٹھنڈا کرنے کے بعد کھولیں۔

6۔ ایسی صورتحال میں جو سالن بنا رہی ہیں وہی کھانا ضروری نہیں ہے۔ بہتر ہے اسے بعد کے لئے چھوڑ دیں اور اس وقت کے لئے باہر سے کچھ منگوا لیں یا صرف انڈا ہی بنا کر گزارا کر لیں کہ جان بہت قیمتی ہے سالن نہیں۔

7۔ پریشر ککر کا ربڑ چیک کرتی رہیں، خراب محسوس ہونے کی صورت فوری تبدیل کریں۔

8۔ ککر کے ہینڈل وغیرہ بھی وقتاً فوقتاً چیک کرواتے رہیں۔ اس میں ہرگز ہرگز لاپرواہی نہ کریں۔

ان تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

16/09/2026

میکہ ماں کے دم سے ہوتا ہے تو سسرال ساس کے دم سے ہوتا ہے۔
میری ساس امی بہت اچھی سلیقہ شعار، صاحبِ بصیرت، با اصول اور نیک خاتون تھیں۔ کل ان کی پانچویں برسی تھی۔ 😢
میں ان کو بھی امی کہتی تھی۔ انہوں نے کبھی اپنے بیٹوں اور بہوؤں کا برا نہیں چاہا۔۔ میں تو یہ کہتی ہوں کہ آج اگر ہم دونوں بہویں اپنے گھروں میں آباد ہیں تو اپنی ساس کے دم سے ہیں۔ میری امی بھی ایک اچھی ساس تھیں اور مجھے بھی الحمدللہ بہت اچھی ساس ملیں۔


لڑائی جھگڑے ہر گھر میں ہوتے ہیں، ہمارے بھی ہوتے ہیں ۔ ہم میاں بیوی کے درمیان اگر کسی بات کے نہ ماننے پہ جھگڑا ہو جاتا اور بعد میں وہی بات شوہر مان بھی لیتے تو اس بات پہ وہ اپنے بیٹوں کو سمجھایا کرتی تھیں کہ جو بات لڑائی کے بعد ماننی ہے وہ پہلے ہی مان لیا کرو کہ جھگڑا ہی نہ ہو۔
وہ اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت یا وصیت بھی کیا کرتی تھیں کہ شادی بار بار نہیں کی جاتی نہ کرنی چاہئے۔ جہاں نصیب جُڑ گئے ہیں اب وہاں اچھے سے نبھاؤ.

وہ ہم دونوں بہوؤں کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیا کرتی تھیں ۔ پھر جب بچے پیدا ہوئے تو ہر بچے کا جیب خرچ الگ۔ اپنے آخری ایام میں ابو جی یعنی سسر جی کو تاکید کر کے گئیں کہ میرے بعد بچوں کو ماہانہ جیب خرچ اسی طرح دیتے رہنا ہے۔

ہم جب کبھی مری یا شمالی علاقہ جات گھومنے پھرنے جاتے تو ساس سسر کو ساتھ لے کر جاتے تھے کہ بڑوں کے ساتھ ہونے سے برکت اور سکون رہتا ہے۔ اور بچے بھی دادا دادی کے ساتھ بہت خوش ہوتے تھے۔

وہ میری ساس کم اور سہیلی زیادہ تھیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ سسرال میں دو ہی لوگ زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔ پہلا شوہر اور دوسری ساس۔۔ دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اچھی بن جائے تو زندگی اچھی گزرتی ہے۔۔ اور میری اپنی ساسو ماں کے ساتھ بن گئی۔ میں ان کے ساتھ باتیں شئیر کیا کرتی تھی اور وہ میرے ساتھ۔

ان کے کچھ اصول تھے جو اس وقت لگتا تھا کہ سخت ہیں۔۔ مگر اب جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور بچے بڑے ہو رہے ہیں تو احساس ہو رہا ہے کہ انکے اصول سختی یا پابندیاں نہیں بلکہ بالکل ٹھیک اصول تھے۔ میں نے بھی کبھی ایسا کچھ نہیں کیا جو انکو ناپسند یوتا تھا۔ ہمیشہ انکے اصولوں کے مطابق چلی، ہمیشہ انکو عزت اور محبت دی۔ کبھی انہیں میری کوئی بات بری لگ بھی جاتی یا کوئی تھرڈ پرسن ان کو مجھ سے بدگمان کرتا تو ان سے معافی مانگ کر انہیں منا لیا کرتی تھی۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں تو انکے لئے دعائے مغفرت کرتی ہوں۔

میں اپنی میکے کی فیملی کے ہر فنکشن پر بھی انکے ساتھ جانا ہی پسند کرتی تھی۔ اب بھی کہیں جانا ہو تو ان کی بہت یاد آتی ہے کہ کاش وہ ہمارے ساتھ ہوتیں۔ ہم روز شام کو بیٹھ کر چائے پیتے اور باتیں کیا کرتے تھے۔ خاندان کے کچھ لوگ ہماری اس دوستی سے جلتے بھی تھے۔ وہ اپنے بچپن اور اپنی شادی کے دنوں کی باتیں بتایا کرتی تھیں۔ انکی شادی اندرون لاہور میں ہوئی تھی اور بچے بھی وہیں پیدا ہوئے۔ اندرون لاہور والی انکی حویلی اب شاہ عالم مارکیٹ میں ایک پلازہ کی صورت میں قائم ہے۔

سسرال کی برائیاں تو سب کرتے ہیں مگر جو سسرال کی اچھائیاں ہیں نہ جانے وہ بیان کرتے ہوئے بہت سی بہوؤں کی جان کیوں جاتی ہے۔

کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اگر محبت ہو اور نبھانا ہو تو اچھائیاں دیکھنی چاہئیں۔۔ برائیاں دیکھنے والے کبھی خوش نہیں رہ پاتے۔

میرے سسرال کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ یہ بچوں کے ساتھ جھوٹے وعدے نہیں کرتے۔ جیسے اکثر لوگ روتے بچے کو کسی ضد پہ چپ کروانے کے لئے وعدہ کر لیتے ہیں کہ بچے کو اسکی مطلوبہ چیز یا کھلونا لے دیں گے مگر بعد میں لے کر نہیں دیتے۔ اس سے بچوں کے معصوم ذہن پر بہت منفی اثر پڑتا ہے اور وہ بچپن سے ہی وعدہ خلافی سیکھ جاتے ہیں۔ مگر میری ساس امی نے ہمیشہ یہی سمجھایا کہ بچوں کہ ساتھ وہی وعدہ کرو جو پورا کر سکو ورنہ نہ کرو۔ اور جو وعدہ کر لو وہ لازمی پورا کرو تاکہ بچے پریشان نہ ہوں۔

اللہ تعالی میری ساس امی کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے اور انکو دائمی راحتوں میں رکھے اور میرے سسر جی کو اللہ صحت و تندرستی والی عمر عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین 🤲💕

اللہ تعالی ہر لڑکی اور لڑکے کے اچھے نصیب کرے اور انہیں قدر کرنے والا ساتھی اور سسرال ملے۔ آمین

16/09/2026

Keli ao jwand❤️

چولہے پر رکھی ہوئی چیز کو آپ اپنی زبان میں کیا کہتے ہیں۔۔۔؟
16/09/2026

چولہے پر رکھی ہوئی چیز کو آپ اپنی زبان میں کیا کہتے ہیں۔۔۔؟

Address

Saudi �
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when زما کلے گجرات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to زما کلے گجرات:

Shortcuts

Share