30/12/2025
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: حضور صلی اللہ علیہ و سل نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا: میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو خود آپ پر نازل ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سل نے فرمایا: میرا دل چاہتا ہے کہ میں دوسرے سے قرآن سنوں، چنانچہ میں نے سورۂ نساء پڑھنی شروع کردی اور جب میں ’’فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰؤُلَائِ شَہِیْداً‘‘ (نسائ:۴۱) ۔۔۔۔۔ ’’پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریںگے۔‘‘ پر پہنچا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بس کرو! میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سل کی طرف دیکھا تو آپa کی آنکھیں آنسو بہارہی تھیں۔ (اخرجہ البخاری، کذا فی البدایۃ:۶/۵۹، بحوالہ حیاۃ الصحابہؓ:۲/۶۹۲) فائدہ: تمام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیںگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سل کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بناکر پیش کیا جائے گا۔ (آسان ترجمۂ قرآن:۱/۲۶۶) یعنی جن لوگوں نے اللہ کے احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے، ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے اظہارات سنے جاویںگے، جو جو معاملات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کریںگے، اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہوکر سزادی جاوے گی۔ (بیان القرآن، زیر آیت ہذا:۱۷۶)