27/01/2026
مسجد جعرانہ:فتحِ مکہ کے بعد پیش آنے والے واقعات میں مسجدِ جِعرانہ کو ایک خاص تاریخی اور شرعی مقام حاصل ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 22 سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس مسجد کی تاریخی اہمیت درج ذیل اہم واقعات کی وجہ سے ہے:
1. غزوہ حنین اور مالِ غنیمت کی تقسیم
سن 8 ہجری میں جب مسلمان “غزوہ حنین” سے فتح یاب ہو کر لوٹے، تو نبی کریم ﷺ نے جنگ سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور قیدیوں کو جعرانہ کے مقام پر ہی رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے یہاں کئی دن قیام فرمایا اور یہیں مالِ غنیمت تقسیم کیا۔
2. حضور ﷺ کا احرام باندھنا
مسجد جعرانہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہاں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب مالِ غنیمت کی تقسیم مکمل ہو گئی، تو آپ ﷺ رات کے وقت جعرانہ سے مکہ روانہ ہوئے، عمرہ ادا کیا اور پھر اسی رات واپس جعرانہ تشریف لے آئے۔
3. میقاتِ مکہ
اسی تاریخی واقعے کی وجہ سے اہل مکہ اور وہاں قیام پذیر زائرین کے لیے یہ مقام ایک میقات (احرام باندھنے کی جگہ) بن گیا۔ اگر کوئی شخص مکہ میں موجود ہو اور دوسرا عمرہ کرنا چاہے، تو وہ عام طور پر “مسجدِ عائشہ” (تنعییم) یا “مسجدِ جعرانہ” جا کر احرام باندھتا ہے۔
• محدثین کے مطابق، نبی ﷺ کا یہاں سے احرام باندھنا اس جگہ کو بہت برکت والا بناتا ہے۔
مسجد کی خصوصیات اور موجودہ حال:
• تاریخی نام: اس جگہ کا نام “جِعرانہ” ایک عورت کے نام پر پڑا تھا جو یہاں رہا کرتی تھی۔
• تعمیر و توسیع: سعودی دورِ حکومت میں اس مسجد کی کئی بار توسیع کی گئی تاکہ عمرہ کرنے والوں کو آسانی ہو۔ یہاں اب بڑی پارکنگ، وضو خانے اور غسل خانوں کی بہترین سہولیات موجود ہیں۔
• کنواں: یہاں ایک تاریخی کنواں بھی موجود تھا جسے “بئرِ جعرانہ” کہا جاتا تھا، جس کے بارے میں روایات میں ہے کہ نبی ﷺ کے لعابِ دہن کی برکت سے اس کا پانی میٹھا اور شفاء والا ہو گیا تھا (اگرچہ اب حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے بند کر دیا گیا ہے)۔
ایک اہم نکتہ:
اکثر زائرین اسے “بڑا عمرہ” یا “بڑی میقات” بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ مسجدِ عائشہ کی نسبت مکہ سے زیادہ فاصلے پر ہے اور یہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کرنا زیادہ فضیلت والا سمجھا جاتا ہے۔ Umrah2026 Meeqat GhazwaHunain HolyPlaces SaudiArabia
3. سرچ