10/08/2026
زائر: "ایجنٹ صاحب! آپ نے پچھلی پوسٹ میں سستے شٹل سروس والے ہوٹلوں کے بارے میں لکھا تھا، لیکن کچھ ایجنٹس تو کہتے ہیں کہ شٹل سروس یا وایا (کنیکٹنگ) فلائٹ میں سفر کرنا کوئی گناہ یا جرم تو نہیں ہے؟ دنیا کی بڑی بڑی ایئرلائنز بھی تو کنیکٹنگ فلائٹس چلاتی ہیں!"
ٹریول ایجنٹ: "محترم! بات جرم کی نہیں، بلکہ معیار اور آپ کے آرام کی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ دنیا کی جن بڑی ایئرلائنز کی مثال دی جاتی ہے، ان کی کنیکٹنگ ٹکٹیں بہت مہنگی ہوتی ہیں۔ باقی رہی بات سلام ایئر یا فلائی دبئی جیسی ایئرلائنز کی، تو ان میں سے اکثر ایئرلائنز پانی کا ایک گھونٹ بھی فری نہیں دیتیں، وہ بھی پیسے دے کر پینا پڑتا ہے۔"
زائر: "اور شٹل سروس والے ہوٹلوں کا کیا معاملہ ہے؟"
ٹریول ایجنٹ: "مکہ مکرمہ میں شٹل سروس والے معیاری ہوٹلوں کا ایک رات کے ایک بیڈ کا کرایہ 12 سے 20 ریال ہوتا ہے۔ لیکن جو ایجنٹ آپ کو 2 لاکھ 10 یا 15 ہزار میں سستا پیکج دیتے ہیں، وہ جس ہوٹل کا بیڈ ڈالتے ہیں اس کا کرایہ صرف 4 ریال فی رات ہوتا ہے! اب آپ خود فیصلہ کریں کہ 4 ریال والی رہائش اور شٹل سروس کتنی معیاری ہوگی؟"
زائر: "یعنی سستے کے نام پر سروس بالکل ہی ناقص دی جاتی ہے؟"
ٹریول ایجنٹ: "بالکل! اور حد تو یہ ہے کہ جب ہم زائرین کو آگاہ کرتے ہیں تو کچھ لوگ ہماری ہی باتوں کو موڑ توڑ کر اور ہمارے ہی ہیش ٹیگ چوری کر کے گروپس میں شیئر کرنے لگتے ہیں۔ خیر، ہم ان کی اس غیر اخلاقی حرکت پر کچھ نہیں کہتے، لیکن اپنی آڈینس اور کلائنٹس کو یہی کہیں گے کہ سستے کے چکر میں ذلت اور خواری سے بچیں۔"
حقیقت:
سستے عمرہ پیکج کے نام پر 4 ریال والے ناقص ہوٹل اور پانی کے ایک ایک گھونٹ کو ترسانے والی فلائٹس تھما کر صرف قیمت کم دکھائی جاتی ہے۔ سفرِ عمرہ ایک مقدس عبادت ہے، اسے محض چند ہزار روپے سستے کے چکر میں خواری اور پریشانی کی نذر نہ کریں۔ کسی بھی پیکج کو لینے سے پہلے ہوٹل کے معیار اور ایئرلائن کی سروسز کی مکمل تسلی کر لیں۔
#سفرِ_عمرہ