Rawalpindi Walking Tour

Rawalpindi Walking Tour Rawalpindi old and famous side, s and history

Several men crossing the Jhelum River on Three-rope Bridge, Garhi, India, Kashmir State. Photograph 1912. Now in Pakista...
16/06/2023

Several men crossing the Jhelum River on Three-rope Bridge, Garhi, India, Kashmir State. Photograph 1912.

Now in Pakistan, Garhi Dupatta is a small town. It is located 20 kilometers away from Muzaffarabad city on Muzaffarabad-Chakothi road along with Jhelum River.

۔کوہاٹ سے پشاور جاتے ھوئے کوہاٹ ٹنل کے قریب سڑک کے کنارے نصب ایک مجسمہ ہے جس کی اپنی ھی ایک تاریخ ھے ۔  نئی نسل کو اس با...
15/04/2023

۔کوہاٹ سے پشاور جاتے ھوئے کوہاٹ ٹنل کے قریب سڑک کے کنارے نصب ایک مجسمہ ہے جس کی اپنی ھی ایک تاریخ ھے ۔ نئی نسل کو اس بارے میں کم ہی معلوم ھے

یہ مجسمہ ایک تاریخی شخصیت عجب خان آفریدی کا ہے جنہوں نے انگریز سامراج کی مخالفت میں 1923 میں درہ آدم خیل میں لڑائی لڑی تھی اور یہ لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی. جب غازی عجب خان نے انگریز کی کوہاٹ فوجی چهاؤنی اور دیگر مراکز کو حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا۔

انہوں نے فوجی چهاؤنی سے بھاری اسلحہ نکالنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انگریز فوجیوں کو ہلاک بھی کیا، جس پر انگریز انٹیلی جنس اداروں اور عجب خان آفریدی میں ٹھن گئی۔

ایک دن انگریز فوج نے ان کے گھر پر ہلہ بول دیا اور عجب خان آفریدی کی والدہ سے بدتمیزی کی جس کے بعد ماں نے عجب خان آفریدی کو انگریز سے بدلہ لینے کا حکم دیا کہ جب تک تم انگریز سے میری بےعزتی کا انتقام نہ لے لو مجھے اپنی شکل مت دکھانا اور نہ ہی تب تک گھر آنا۔ یہاں تک کہ اسے اپنا دودھ تک نہ بخشنے کی بھی دھمکی دی۔

اس کے بعد عجب خان آفریدی نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ وہ انگریز قوم سے ایسا بدلہ لیں گے کہ وہ تاعمر یاد رکھیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر پختون قوم انگریزوں کی حمایتی تھی، اور چند گنے چنے لوگ ہی عجب خان آفریدی کے ساتھ تھے۔ انگریزوں کے ساتھی پختون عجب خان آفریدی کو غدار سمجھتے تھے اور اسے ملک دشمن سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزوں سے پیسے وصول کرتے تھے۔

اپنی والدہ سے بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے عجب خان آفریدی نے ایک دن کوہاٹ کے انگریز آفیسر کے گھر پر حملہ کرتے ہوئے وہاں سے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔ لڑکی کی ماں نے چیخ وپکار کی تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور پہرے پر مامور انگریزوں کو بھی قتل کرتے ہوئے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔

اس پر تمام انگریز حیرت میں ڈوب گئے کہ اتنے کڑے پہرے کے اندر داخل ہو کر اتنا بڑا واقعہ کیسے پیش آ گیا۔

عجب خان آفریدی مس ایلس کے ساتھ 10 دن کوہاٹ کے کوتل پہاڑ کے ایک غار میں رکا رہا۔ پھر افغانستان جا کر وہاں کی حکومت سے پناہ مانگی جنہوں نے پناہ کے ساتھ سینکڑوں ایکڑ زمین بهی مزار شریف میں عجب خان آفریدی کے نام کر دی۔ اس وقت کی انگریز حکومت نے عجب خان آفریدی کے سر کی قیمت ایک لاکھ روپیہ (جو موجودہ کے کروڑوں بنتے ہیں) لگائی۔

نو مہینے بعد افغان حکومت نے انگریز حکومت اور عجب خان آفریدی کے مابین فیصلہ کرایا اور پهر طورخم باڈر پر مس ایلس کو انگریز حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ جب مس ایلس کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا توہ حیران رہ گئے کہ مہنیوں عجب خان آفریدی اور اُن کے ساتھیوں کے چنگل میں وہ کیسے باعزت اور محفوظ رہی۔

انگریز حکومت اس حسن سلوک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ اگر عجب خان آفریدی ایلس کی ماں کو قتل نہ کرتا تو وہ عام معافی دیتے اور انعام سے بھی نوازتے۔ اس تاریخ سے ہمارے نوجوان بے خبر ہیں کہ ہماری قوم کے بہادروں کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔

1985 میں مس ایلس سرکاری پروٹوکول کے ساتھ درہ آدم خیل آئیں اور عجب خان آفریدی کے گهر اور وہ پناہ گاہ جس میں مس ایلس رہ چکی تهی، وہاں گئیں اور جا کر وہ بہت روئیں۔

اس کے بعد عجب خان آفریدی کے آخری زندہ دوست ملک شیر خان باش خیل، جو شاید اب اس دنیا میں نہیں ہیں، سے ملاقات کی اور سننے میں آیا ہے کہ مس ایلس عجب خان آفریدی کے حسن سلوک سے اتنی متاثر ہوئی تھیں کہ اُنہوں نےکہا تھا کہ عجب خان آفریدی کو دیکھنے کے بعد انہیں کوئی پسند ہی نہیں آیا۔
اس موضوع پر پشتو میں ایک بھی فلم بن چکی ہے اور پھر ایک دور میں یہ داستان ہمارے نصاب کا حصہ رہی ہے مگر پھر نجانے کس طرح اور کیسے یہ کہانی ہمارے نصابی کتاب سے غائب ہو گئی۔ حالانکہ ہماری نئی نسل کو مشاہیر کے کارناموں سے روشناس کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔

کوہاٹ پشاور روڈ پر کوہاٹ سرنگ سے آگے جس نے بھی عجب خان آفریدی کا مجسمہ نصب کرنے کا سوچا ہے، وہ داد کا مستحق ہے۔

09/04/2023

Welcome, Rawalpindi Walking Tour page Plz like and follow.

Address

Liaquat Road
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rawalpindi Walking Tour posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share