27/05/2023
حقوق العباد ہی آدھا دین ہے۔
جس کے معاملات ٹھیک نہیں ہے اس میں آدھا دین نہیں ہے وہ آدھا دین لیکر چل رہا ہے ۔ اور جو پرایا حق کھاکر خدا کے سامنے پیش ہوگا اس کے پاس حسرت و ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور وہ منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا کیونکہ وہ دنیا میں لوگوں پر ظلم کرتا تھا لوگوں کے حقوق دبانے کو اپنی عقلمندی سمجھتا تھا اب چکو جہنم کے عذاب کو۔
مفھوم حدیث ھیکہ
ایک شخص جہنم میں سب سے اوپری درجے میں آگ میں جھلس رہا ہوگا۔ وہ اللّٰہ سے سوال کریگا کہ اے میرے مالک میں تو دنیا میں نیک کام کیا کرتا تھا تو نے مجھے اس جہنم میں کیوں ڈالا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ جواب میں ارشاد فرمائے نگے کہ اچھی طرح یاد کر کہ تو نے فلاں شخص کا ایک درھم ظلماً جبراً کھایا تھا۔ وہ لاکر دیدو تو میں تمہیں جہنم سے آزاد کردیتا ہوں ۔
وہ کہیگا کہ اے میرے رب وہ درھم تو دنیا میں ہی رہ گیاہے
اللّٰہ تعالیٰ فرمائے نگے کے نہیں بلکہ وہ درھم جہنم کی تہہ میں ہے اسے جاکر لے آو ۔ وہ شخص جہنم کے ساتوں درجوں کو آگ میں جلتے بجھتے روتے دھوتے کراس کریگا اور جہنم کی تہہ میں اسے وہ درھم مل جائیگا۔ جسے وہ لیکر واپس اوپر درجے میں پہچ جائیگا تو اس دوران کئ سو برس گزرچکے ہونگے ۔ جیسے ہی وہ آخری درجے پر پہنچے تو اسے ٹھوکر لگے گی اور وہ گرجائیگا اور وہ درھم اس کے ھاتھ سے گر کر جہنم کی تہہ تک پہنچ جائیگا۔ وہ مایوس ہوکر کہیگا کہ یا اللّٰہ میں تو اس درھم کو لایا تھا لیکن وہ میرے ہاتھ سے دوبارہ گرگیا ۔ اللّٰہ پاک اسے فرمائے نگے کہ جاو اور اسے دوبارہ تہہ خانے سے لے آو ۔۔۔۔تو یہ تو تھی ایک درھم کی کہانی
تو مسلمانوں اچھی طرح سوچ لو کہیں آپ بھی پرایا حق کھانے کا مرتکب تو نہیں ہورہے ہو ۔کہیں آپ اپنے گھر ہی میں اپنے بھائی کا حق تو نہیں غصب کررہے ہو اور اسے اپنی ہوشیاری تعبیر تو نہیں کررہے ہو ۔
اچھی طرح تسلی کرلو کیونکہ ابھی موقع ہے معافی کے سو فیصد چانسز ہیں مرنےکے بعد جب اصل آنکھ کھل جائیگی اور حقیقت عیاں ہوجائے گی تو سوائے حسرت و افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔۔
اللہ ھم سب کو دوسروں کا حق کھانے سے بچا ئیں۔آمین یا رب العالمین