26/05/2026
وادی کاغان کا جھومر ٹائیگر پیک ۔۔۔!
وادی کاغان پاکستان کی سیاحت میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔۔پہاڑوں ،جھیلوں اور آبشاروں کی سرزمین وادی کاغان جوکہ اپنے قصبے ناران اور جھیل سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن یہاں وادی میں بے شمار خوبصورت مقامات ہیں ۔۔جو حقیقی سیاح کے لیے حقیقی کشش کے حامل ہیں ۔۔۔
وادی کاغان کی بلند ترین چوٹیوں میں ملکہ پربت اور مکڑا پیک مشہور ہیں ۔۔۔مکڑا پیک تک اگست اور ستمبر تک رسائ ممکن ہوتی ہے جبکہ ملکہ پربت پر سارا سال برف اور ایک لوک داستان کے دیو کا قبضہ ہونے کی وجہ سے عامتہ الناس رسائ سے محروم رہتے ہیں ۔۔۔۔لیکن ان بلند چوٹیوں کے باوجود ایک بلند چوٹی ایسی ہے جو شہرت میں بھلے ان سے کم ہوگی لیکن خوبصورتی اور حسن میں کسی صورت ملکہ پربت سے کم نہیں ۔۔۔۔کاغان سے بابو سر ٹاپ کی جانب روانہ ہوں تو بیس کلومیٹر بعد بٹہ کنڈی کا قصبہ آتا ہے بٹہ کنڈی کے بعد بڑوائ کی چراگاہیں آتی ہیں جہاں مقامی لوگ گرمیوں میں آلو اور مٹر کی کاشت کے لیے مختصر مدت کا قیام کرتے ہیں ۔۔۔بڑوائ سے اس حسین چوٹی کا نظارہ شروع ہوجاتا ہے ۔۔ہر موڑ مڑتے ساتھ ایک خوبصورت چوٹی سامنے آتی ہے مقامی لوگ اسے جلکھڈ چوٹی کہتے ہیں ۔۔گذشتہ کچھ عرصہ سے یہ چوٹی ٹائیگر پیک کے نام سے مشہور ہورہی ہے ۔۔۔ٹائیگر نام رکھنے کی وجہ تسمیہ معلوم ہی نہیں ہوسکی۔۔۔باوجود کوشش کے معلوم نہیں ہوسکا کہ اس چوٹی یا گردونواح میں ٹائیگرز موجود ہیں یا نہیں ؟
امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں ایک چوٹی ٹائیگر پیک کے نام سے مشہور ہے اس کے ساتھ بھی اس چوٹی کا کوئ خاطر خواہ رشتہ نہ نکل سکا ۔۔۔بظاہر اس کی شباہت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے ملتی ہے ۔۔۔اگر چوٹیوں کے بہن بھائ ہوتے تو یہ چوٹی کے ٹو کی بڑی بہن ہوتی جو قد میں چھوٹی لیکن رتبے میں بڑی ہوتی لیکن ایسا بھی نہیں ۔۔۔۔
بڑوائ سے جلکھڈ اور پھر جلکھڈ سے بیسل بیس کلومیٹر تک یہ چوٹی سیاحوں کے ہمسفر رہتی ہے اور قلب کو جکڑے رکھتی ہے ۔۔۔۔سچ پوچھیں تو ان گنت بار یہاں جانا ہوا لیکن نہ مجھے معلوم ہوا کب جلکھڈ آیا اور کب بیسل ۔۔۔اس خوبصورت پہاڑ کے حسن نے ہمیشہ ایسا مبہوت کیا کہ گردونواح کی طرف نگاہ ہی نہیں اٹھتی ۔۔۔تخلیق کا جادو مخلوق کو مبہوت کردیتا ہے ۔۔۔اگر خالق حجاب اٹھا دے تو بندے کا کیا حال ہو ۔۔۔۔موسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر اولو العزم رسول تجلی ذاتی نہ برداشت کرسکے ۔۔۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نماز کی حالت میں بغیر بے ہوش کیے تیر نکالنے کی تاکید کی اور تاریخ گواہ ہے خالق نے ایسا انہماک دیا کہ تیر جسم کو پھاڑتا ہوا نکل گیا اور محسوس تک نہ ہوا ۔۔۔
اس خوبرو چوٹی کے بے شمار روپ ہیں بیس کلومیٹر یہ ساتھ رہتی ہے اور ہر پل روپ بدلتی رہتی ہے لیکن اس کا سب سے خوبصورت روپ تب دکھتا ہے جب آپ بابوسر ٹاپ سے واپسی پر لولو سر جھیل عبور کرتے ہیں ۔۔۔تب یہ اپنا حسن عیاں کرتی ہے اور اس کی جولانیاں عروج پر ہوتی ہیں ۔۔۔مجھے اس چوٹی نے اپنا حسن تب دکھلایا تھا جب فقط میں اور یہ آمنے سامنے تھے یعنی 1997 میں ۔۔۔تب سے میں اس کے حسن کا گرویدہ ہوں۔یہ وادی کاغان میں میری پہلی محبت ہے اور آخری شاہد دودی پت سر ہو ۔۔۔لیکن وقت نے دلہن بنا دیا کے مصداق اب اس کا حسن ہر کسی کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے اور سڑکوں کا جال بچھنے کا یہی نقصان ہے کہ معشوق کے حسن کی قدر لکھ سے ککھ ہوگئ ۔۔۔۔
9900 فٹ بلندی سے اس کا دامن شروع ہوتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی چوٹی 15000 فٹ بلند ہے ۔۔۔جلکھڈ سے آگے جاتے وقت دائیں ہاتھ جرید کے مقام پے کنہار کے آر پار پہاڑ کے دامن میں سر سبز و شاداب وسیع چراگاہ نظر آتی ہے اسے عبور کرکے اس چوٹی تک جانے کا ٹریک شروع ہوتا ہے ۔۔مشکل لیکن ممکن ٹریک ہے بشرطیکہ سفید لبادہ اتار کے سبز پیراہن ذیب تن کر چکی ہو ۔۔۔
بچوں کے ساتھ میرا ارادہ بھی اس کی بلندیوں کو چھونے اور اس کے حسن کو محسوس کرنے کا تھا لیکن اس کا سفید لباس آڑے آگیا اور سبز پیراہن کے چکر میں سالوں گزر گئے اسکے بعد کئی بار یہاں سے گزر ہوں لیکن محبوب نے ناقدری پے ٹھکرا دیا اور دوپل دیکھنے کی تمنا بھی نہ پوری ہوئ ۔۔۔زیر نظر تصویر دو روز قبل یعنی 24 مئی 2026 کی ہے اور عبداللہ بیٹا نے بنائ ہے ۔۔اس لیے جو بھی تصویر لگائے اس سے گزارش ہے عبداللہ کو کریڈٹ ضرور دے ۔۔بچہ ہے خوش ہو جائے گا ۔۔
باقی اس سال اگر کوئ میری طبیعت سے موافقت رکھتے لوگ ملے تو اس چوٹی کو سر کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی تاکہ کچھ لمحات یادگار بنائے جاسکیں ۔۔۔
نوید اشرف خان
واہ کینٹ