پاکستان کے شمالی علاقہ جات

پاکستان کے شمالی علاقہ جات پاکستان کا شمال ـ دنیا میں سیاحوﮞ کی جنت
(1)

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی آبادی 11 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971 مربع کلومیٹر ہے ‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے جب کہ گلگت ڈویژن گلگت،غذر،دیا میر، استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان

کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔

وادی کاغان کا جھومر ٹائیگر پیک ۔۔۔!وادی کاغان پاکستان کی سیاحت میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔۔پہاڑوں ،جھیلوں اور آبشاروں کی...
26/05/2026

وادی کاغان کا جھومر ٹائیگر پیک ۔۔۔!

وادی کاغان پاکستان کی سیاحت میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔۔پہاڑوں ،جھیلوں اور آبشاروں کی سرزمین وادی کاغان جوکہ اپنے قصبے ناران اور جھیل سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن یہاں وادی میں بے شمار خوبصورت مقامات ہیں ۔۔جو حقیقی سیاح کے لیے حقیقی کشش کے حامل ہیں ۔۔۔
وادی کاغان کی بلند ترین چوٹیوں میں ملکہ پربت اور مکڑا پیک مشہور ہیں ۔۔۔مکڑا پیک تک اگست اور ستمبر تک رسائ ممکن ہوتی ہے جبکہ ملکہ پربت پر سارا سال برف اور ایک لوک داستان کے دیو کا قبضہ ہونے کی وجہ سے عامتہ الناس رسائ سے محروم رہتے ہیں ۔۔۔۔لیکن ان بلند چوٹیوں کے باوجود ایک بلند چوٹی ایسی ہے جو شہرت میں بھلے ان سے کم ہوگی لیکن خوبصورتی اور حسن میں کسی صورت ملکہ پربت سے کم نہیں ۔۔۔۔کاغان سے بابو سر ٹاپ کی جانب روانہ ہوں تو بیس کلومیٹر بعد بٹہ کنڈی کا قصبہ آتا ہے بٹہ کنڈی کے بعد بڑوائ کی چراگاہیں آتی ہیں جہاں مقامی لوگ گرمیوں میں آلو اور مٹر کی کاشت کے لیے مختصر مدت کا قیام کرتے ہیں ۔۔۔بڑوائ سے اس حسین چوٹی کا نظارہ شروع ہوجاتا ہے ۔۔ہر موڑ مڑتے ساتھ ایک خوبصورت چوٹی سامنے آتی ہے مقامی لوگ اسے جلکھڈ چوٹی کہتے ہیں ۔۔گذشتہ کچھ عرصہ سے یہ چوٹی ٹائیگر پیک کے نام سے مشہور ہورہی ہے ۔۔۔ٹائیگر نام رکھنے کی وجہ تسمیہ معلوم ہی نہیں ہوسکی۔۔۔باوجود کوشش کے معلوم نہیں ہوسکا کہ اس چوٹی یا گردونواح میں ٹائیگرز موجود ہیں یا نہیں ؟
امریکہ میں واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں ایک چوٹی ٹائیگر پیک کے نام سے مشہور ہے اس کے ساتھ بھی اس چوٹی کا کوئ خاطر خواہ رشتہ نہ نکل سکا ۔۔۔بظاہر اس کی شباہت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے ملتی ہے ۔۔۔اگر چوٹیوں کے بہن بھائ ہوتے تو یہ چوٹی کے ٹو کی بڑی بہن ہوتی جو قد میں چھوٹی لیکن رتبے میں بڑی ہوتی لیکن ایسا بھی نہیں ۔۔۔۔
بڑوائ سے جلکھڈ اور پھر جلکھڈ سے بیسل بیس کلومیٹر تک یہ چوٹی سیاحوں کے ہمسفر رہتی ہے اور قلب کو جکڑے رکھتی ہے ۔۔۔۔سچ پوچھیں تو ان گنت بار یہاں جانا ہوا لیکن نہ مجھے معلوم ہوا کب جلکھڈ آیا اور کب بیسل ۔۔۔اس خوبصورت پہاڑ کے حسن نے ہمیشہ ایسا مبہوت کیا کہ گردونواح کی طرف نگاہ ہی نہیں اٹھتی ۔۔۔تخلیق کا جادو مخلوق کو مبہوت کردیتا ہے ۔۔۔اگر خالق حجاب اٹھا دے تو بندے کا کیا حال ہو ۔۔۔۔موسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر اولو العزم رسول تجلی ذاتی نہ برداشت کرسکے ۔۔۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نماز کی حالت میں بغیر بے ہوش کیے تیر نکالنے کی تاکید کی اور تاریخ گواہ ہے خالق نے ایسا انہماک دیا کہ تیر جسم کو پھاڑتا ہوا نکل گیا اور محسوس تک نہ ہوا ۔۔۔
اس خوبرو چوٹی کے بے شمار روپ ہیں بیس کلومیٹر یہ ساتھ رہتی ہے اور ہر پل روپ بدلتی رہتی ہے لیکن اس کا سب سے خوبصورت روپ تب دکھتا ہے جب آپ بابوسر ٹاپ سے واپسی پر لولو سر جھیل عبور کرتے ہیں ۔۔۔تب یہ اپنا حسن عیاں کرتی ہے اور اس کی جولانیاں عروج پر ہوتی ہیں ۔۔۔مجھے اس چوٹی نے اپنا حسن تب دکھلایا تھا جب فقط میں اور یہ آمنے سامنے تھے یعنی 1997 میں ۔۔۔تب سے میں اس کے حسن کا گرویدہ ہوں۔یہ وادی کاغان میں میری پہلی محبت ہے اور آخری شاہد دودی پت سر ہو ۔۔۔لیکن وقت نے دلہن بنا دیا کے مصداق اب اس کا حسن ہر کسی کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے اور سڑکوں کا جال بچھنے کا یہی نقصان ہے کہ معشوق کے حسن کی قدر لکھ سے ککھ ہوگئ ۔۔۔۔
9900 فٹ بلندی سے اس کا دامن شروع ہوتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی چوٹی 15000 فٹ بلند ہے ۔۔۔جلکھڈ سے آگے جاتے وقت دائیں ہاتھ جرید کے مقام پے کنہار کے آر پار پہاڑ کے دامن میں سر سبز و شاداب وسیع چراگاہ نظر آتی ہے اسے عبور کرکے اس چوٹی تک جانے کا ٹریک شروع ہوتا ہے ۔۔مشکل لیکن ممکن ٹریک ہے بشرطیکہ سفید لبادہ اتار کے سبز پیراہن ذیب تن کر چکی ہو ۔۔۔
بچوں کے ساتھ میرا ارادہ بھی اس کی بلندیوں کو چھونے اور اس کے حسن کو محسوس کرنے کا تھا لیکن اس کا سفید لباس آڑے آگیا اور سبز پیراہن کے چکر میں سالوں گزر گئے اسکے بعد کئی بار یہاں سے گزر ہوں لیکن محبوب نے ناقدری پے ٹھکرا دیا اور دوپل دیکھنے کی تمنا بھی نہ پوری ہوئ ۔۔۔زیر نظر تصویر دو روز قبل یعنی 24 مئی 2026 کی ہے اور عبداللہ بیٹا نے بنائ ہے ۔۔اس لیے جو بھی تصویر لگائے اس سے گزارش ہے عبداللہ کو کریڈٹ ضرور دے ۔۔بچہ ہے خوش ہو جائے گا ۔۔
باقی اس سال اگر کوئ میری طبیعت سے موافقت رکھتے لوگ ملے تو اس چوٹی کو سر کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی تاکہ کچھ لمحات یادگار بنائے جاسکیں ۔۔۔

نوید اشرف خان
واہ کینٹ

ایڈمن کے جیسے حالات چل رہے۔۔۔ لگتا اسکی ہی قربانی دینا پڑے گی 😁
26/05/2026

ایڈمن کے جیسے حالات چل رہے۔۔۔ لگتا اسکی ہی قربانی دینا پڑے گی 😁

بابو سر ٹاپ کو تقریباً 7 ماہ کی طویل بندش کے بعد آج چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
26/05/2026

بابو سر ٹاپ کو تقریباً 7 ماہ کی طویل بندش کے بعد آج چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

وادئ نیلم کا خوبصورت سیاحتی مقام "اڑنگ کیل"📷 ایم ایچ طوری
24/05/2026

وادئ نیلم کا خوبصورت سیاحتی مقام "اڑنگ کیل"

📷 ایم ایچ طوری

سکردو مسرور راک میں لاپتا جاپانی سیاح کی لاش برآمد، تحقیقات جاری( شاہدکمال سے)سدپارہ سے تعلق رکھنے والے مقام کوہ پیماؤں ...
23/05/2026

سکردو مسرور راک میں لاپتا جاپانی سیاح کی لاش برآمد، تحقیقات جاری( شاہدکمال سے)

سدپارہ سے تعلق رکھنے والے مقام کوہ پیماؤں نے لاپتا جاپانی سیاح کی لاش دشوار گزار پہاڑی علاقے سے برآمد کر لی۔
ذرائع کے مطابق جاپانی سیاح گزشتہ چند روز سے لاپتا تھا، جس کی تلاش کے لیے مقامی رضاکاروں اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے سرچ آپریشن جاری تھا۔

اطلاعات کے مطابق لاش ایک خطرناک پہاڑی مقام سے ملی، جس کے بعد متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیاح پہاڑی حادثے کا شکار ہوا۔

ریسکیو حکام کے مطابق لاش کو علاقے سے منتقل کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جاپانی سیاح کی شناخت اور واقعے سے متعلق مکمل تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ علاقے میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر مقامی افراد اور سیاحتی حلقوں میں گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کرومبر جھیل ۔ وادئ بروغل (چترال)
23/05/2026

کرومبر جھیل ۔ وادئ بروغل (چترال)

فیری میڈوز سے نانگا پربت 😍😍
23/05/2026

فیری میڈوز سے نانگا پربت 😍😍

بالاسور ٹاپ ۔ سوات
23/05/2026

بالاسور ٹاپ ۔ سوات

یہ کالام کے بویوں گاؤں میں ایک ادھ کٹے درخت کی تصویر ہے، جسے ٹمبر مافیا نے اس ارادے سے آدھا کاٹ کر چھوڑدیا ہے کہ کسی بھی...
21/05/2026

یہ کالام کے بویوں گاؤں میں ایک ادھ کٹے درخت کی تصویر ہے، جسے ٹمبر مافیا نے اس ارادے سے آدھا کاٹ کر چھوڑدیا ہے کہ کسی بھی وقت یہ گر جائے اور ٹمبر مافیا اسے لے جائے، اور اس طرح کے بے شمار درخت ہمارے جنگلات میں دیکھنے کو ملیں گے۔ ان دنوں فارسٹ والے ڈی فارسٹیشن کی ہر ویڈیو اور تصویر پر وضاحتیں دے رہے ہوتے ہیں کہ یہ 35 سال قبل کاٹا گیا وہ 90 سال قبل مارکنگ کی گئی۔ اب اس درخت کے بارے میں کیا وضاحت دو گے؟ کیا یہ بھی کسی مارکنگ کا نتیجہ ہے؟ یا یہ بھی دہائیوں پرانا ہے؟؟
فوٹو ہائیڈن ٹریژرز آف سوات مالاکنڈ کے وال سے لیا گیا ہے۔

لالہ زار وادی کاغان لالہ زار کو دلکش اور مہکتے پھولوں کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہ گلستان فردوس ناران سے محض 18 کلومیٹر کے ...
21/05/2026

لالہ زار وادی کاغان
لالہ زار کو دلکش اور مہکتے پھولوں کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہ گلستان فردوس ناران سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے اور 10246 فٹ کی بلندی پر وادی کاغان کے حسین ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس جگہ پر جیپ کے ذریعے کئی خطرناک موڑوں سے ہو کر پہنچا جا سکتا ہے۔

21/05/2026

پنجاب سندھ بلوچستان والو گرمی سے بچنے کا بس ایک ہی راستہ ہے جو سیدھا پاکستان کے شمالی علاقہ جات جاتا ہے 😀

Address

Sahiwal

Telephone

+923467371312

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاکستان کے شمالی علاقہ جات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to پاکستان کے شمالی علاقہ جات:

Share