22/06/2026
قراقرم ہائی وے
یہ صرف ایک سڑک نہیں… یہ خوابوں، قربانیوں اور پہاڑوں کے سینے پر لکھی ایک کہانی ہے۔
جہاں ہر موڑ پر ایک داستان چھپی ہے… اور ہر کلومیٹر میں انسان کی ہمت کی گونج سنائی دیتی ہے۔
قراقرم ہائی وے دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں شمار ہوتی ہے، جو پاکستان کو چین سے جوڑتی ہے۔ اس کا آغاز حسن ابدال سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ وار پہاڑوں، وادیوں اور خطرناک راستوں سے گزرتی ہوئی خنجراب پاس تک پہنچتی ہے۔
لیکن اس سڑک کی اصل پہچان صرف اس کی بلندی نہیں… بلکہ وہ قربانیاں ہیں جو اسے بنانے والوں نے دیں۔
تقریباً 1966 میں اس عظیم منصوبے پر کام شروع ہوا… اور 1978 میں یہ مکمل ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ہزاروں مزدور اور انجینئرز نے اپنی جانیں اس راستے پر قربان کیں۔ پہاڑوں کے تودے، برفانی طوفان، اور خطرناک چٹانیں… یہ سب اس سفر کا حصہ تھے۔
اسی لیے اسے بعض اوقات “خون اور پسینے کی سڑک” بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ہائی وے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلوں کے بیچ سے گزرتی ہے۔ دنیا کے چند ہی راستے ایسے ہیں جو ایک ساتھ تین بڑے پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوں۔
راستے میں گلگت، ہنزہ اور سکردو جیسے حسین علاقے آتے ہیں… جہاں فطرت اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
لیکن اس خوبصورتی کے پیچھے ایک خاموش درد بھی ہے… وہ لوگ، جن کے نام شاید تاریخ میں نہ لکھے جائیں… مگر ان کی محنت نے پہاڑوں کو راستہ دینے پر مجبور کر دیا۔
آج جب کوئی مسافر اس سڑک پر سفر کرتا ہے… تو وہ صرف ایک منزل تک نہیں پہنچتا… بلکہ وہ ایک ایسی کہانی کا حصہ بنتا ہے… جو انسان کی ہمت، قربانی اور ناممکن کو ممکن بنانے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
یہ سڑک ہمیں یہ سکھاتی ہے… کہ اگر ارادہ مضبوط ہو… تو پہاڑ بھی راستہ دے دیتے ہیں۔