Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Ki Nagri - sehwan Sharif

Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Ki Nagri - sehwan Sharif Syed Usman Marwandi or known as Hazrat Lal Shahbaz Qalandar (1177–1274) (Sindhi: لال شھباز قلندر), a Sayed Sufi saint, philosopher, poet, and qalandar.

Born Syed Hussain Shah,he belonged to the Suhrawardiyya order of Sufis. Born Syed Hussain Shah,[1] he belonged to the Suhrawardiyya order of Sufis. He preached religious tolerance among Muslims and Hindus. His mysticism attracted people from all religions. He was called Lal (red) after his usual red attire, Shahbaz due to his noble and divine spirit, and Qalandar for his Sufi affiliation. . Thousands of pilgrims visit his shrine in Sehwan every year, especially at the occasion of his Urs.

08/02/2026
06/07/2025

اگر تم جان لو کہ میں نے کربلا میں کیا دیکھا تو تم دوبارہ کبھی نہ مسکراؤ گے۔

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

20/02/2025

حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رح کا عرس ہر سال ماہ مبارک شعبان کی اٹھارویں کو شروع ہو کر اکیس شعبان تک رہتا ہے
اس مزار مبارک کی شان اور عرس کی انفرادیت یہ ہے کہ نا صرف مسلمانوں کے تمام مکاتیب و مسالک کے لوگ اپنے اپنے رنگ اور ڈھنگ میں عرس مناتے ہیں،ہندو بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے انداز میں رسومات ادا کرتے ہیں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر کا شجرہ نسب حضرت امام جعفر صادق سے 13یا 14پشت میں جا کے ملتا ہے لعل شہباز مروندی کے والدسید کبیر الدین تهے، مورخین نے آپ کو افغانستان کے علاقے مروند سے قرار دیا ہے ، آپ کے والد گرامی ابراہیم کبیر الدین جنہیں ابراہیم مجاب کہا جاتا ہے اور ان کا روضہ اقدس حرم امام حسینؓ کے اندر ہی واقع ہے ،معروف ہے کہ ابراہیم مجاب کو اکثر امام حسینؓ کے مزار سے سلام کاجواب ملتا تھا اسی و جہ سے ان کا نام بھی مجاب پڑ گیا،یعنی جس کا جواب آئے،ابراہیم مجاب بہت بڑے بزرگ اور پہنچی ہوئی ہستی تھے جو روضہ امام حسینؓ کی مجاوری اور جاروب کشی کرتے تھے،انہوں نے اپنی ساری زندگی نواسئہ رسول حضرت امام حسینؓ کے مزار اقدس پر ہی گزار دی اور وہیں دفن ہوئے ،حضرت لعل شہباز قلندر کے بارے میں معروف ہے کہ آپ بچپن سے ہی تنہائی پسند تھے اور اکثر عبادت الہی میں مشغول رہتے،گھر سے باہر پہاڑوں میں چلے جاتے اور ریاضت میں مصروف رہتے،آپ کا گھرانہ علمی تھا،قرآن و حدیث اور دیگر علوم گھر سے ہی حاصل کئے،سات برس کی عمر میں قرآن مجید کو حفظ کیا،آپ کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا،ان میں عربی،فارسی،سندھی،سنسکرت،پشتو اور ترکش نمایاں کہی جاسکتی ہیں۔آپ ایک عظیم فلاسفر اور شاعر تھے
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندر 25برس کے ہوئے تو کربلاروضہ امام حسینؓ شہید پر تشریف لے گئے یہاں دس برس تک قیام فرمایا اس کے بعد پینتیس برس کی عمر میں حج کیلئے تشریف لے گئے جہاں روضہ رسول ؐ پر حاضری اور جھاڑو برداری کرنے لگے یہیں آپ کی ملاقات حضرت شیر شاہ جلال سید سے ہوئی ان سے قربت ہوئی،تقریبا چھ سال قیام کے بعد حضرت علی ؓ کے مرقد یعنی نجف اشرف عراق تشریف لے گئے یہاں سے ایک حکم کے ذریعے انہیں کربلا جانا پڑا ،جہاں حضرت ابراہیم مجاب کے پاس پہنچے جنہوں نے اس دوران آپ کو تمام امانتیں اور علوم و فیوض منتقل کئے اور سالک الی اللہ ہوئے،کہا جاتا ہے کہ آپ کے مزار پر موجود ایک طوق جسے امام زین العابدین کے حوالے سے منسوب کیا جاتا ہے بھی آپ کو ابراہیم مجاب کی طرف سے عطا ہوا تھا،اس کے بعد آپ برصغیر تشریف لے آئے،یہاں آپ تبلیغ کرتے کرتے سندھ پہنچے،یہ غزنوی اور غوری ادوار کا زمانہ تھا،برصغیر میں کئی بزرگان اسلام کی تبلیغات اور توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کوشاں تھے یہ اپنے دور کی بڑی ہستیاں تھیں ،حضرت لعل شہباز قلندر نے سیہون کو اپنا مسکن بنایا،اس دور میں یہاں ہندو راجہ ،چوپٹ یا چرپٹ کی حکومت تھی جو فحاشی و عریانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا،حضرت لعل شہباز قلندر نے سیہون کو مسکن بنا کے سب سے پہلے ان فحشا ء کو اسلام کا پیغام پہنچایا۔
آپ کی زبان میں اثر تھا کچھ ہی عرصہ میں تبدیلی واقع ہوتی دیکھی جانے لگی جس کے بعد آپ کی مخالفت ہونے لگی،راجہ کو اپنی سلطنت اجڑتی دکھائی دی، اسی زمانے میں ملتان میں حضرت بہائوالدین ذکریا ملتانی ؒ ،پاکپتن میں حضرت فرید الدین گنج شکرؒ،سید جلال الدین سرخ پوشؒ اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں مشغول تھے جن سے آپ کی بہت قربت تھی ، آپ کو عربی زبان پر مکمل عبور تھااورآپ عربی صرف و نحو بھی مکمل جانتے تھے لہذا آپ نے سیہون میں آنے کے ساتھ ہی ایک مدرسہ قائم کیا جس میں اسلامی علوم و فیوض کی بارش ہوتی اور لوگ بہت زیادہ اس سے مستفید ہوتے،آپ علمی مقامات کیساتھ روحانی بلندیوں پر بھی فائز تھے آپ کی انہی روحانی پروازوں کے باعث ہی آپ کو شہباز کہا گیا،جس کا مطلب ہے بڑی پرواز والا،،اسکے ساتھ ساتھ آپ کو لعل سائیں بھی پکارا جاتا ہے لعل ایک قیمتی موتی کو کہا جاتا ہے آپ بہت ہی قیمتی شخصیت تھے
حضرت سخی لعل شہباز قلندر کے علمی و عملی امتیازات اور عرفانی کمالات کا چرچہ زبان ذدِ عام و خواص ہونے لگا،اہل سیہون بالخصوص بازار میں برائی کے اڈے بھی کم رنگ ہونے لگے بہت سے لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے کئی ہندو بھی آپ سے انسیت رکھنے لگے تو راجہ نے آپ کے خلاف سازشیں کیں مگر اللہ کے ولی کے خلاف اس کی سازشیں کامیاب نا ہو سکیں اور راجہ کو اقتدار اور دنیا سے ہاتھ دھونے پڑے۔سیہون کی سرزمین آپ کرامات کی گواہ ہے جہاں کئی ایک یادگاریں اب بھی قائم ہیں ،اس میں اس قلعہ کے آثار بھی موجود ہیں جس کو آپ نے الٹ دیا تھا اور راجہ چوپٹ کا اقتدار ختم ہو گیا تھا،اسی طرح ایک باغ بھی موجود ہے جہاں آپ نے اپنے ہاتھ سے درخت لگایا تھا اور ہریالی آ گئی تھی جبکہ اس سے قبل یہاں قلت آب اور ہریالی نہیں ہوتی تھی،اسی طرح جہاں آپ نے عبادت و ریاضت کی اور چلے کاٹے وہ مقام بھی موجود ہے، حضرت عثمان مرندی المعروف سخی لعل شہباز قلندر نے 1274ء میں اس دنیا سے پردہ پوشی فرمائی۔، دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب کو اولیا ء اللہ کی تعلیمات اور افکار و کردار کو اپنانے کی توفیقات سے نوازے۔ آمین
اپکی دعاؤں کا طلبگار 🙏🙏🙏🙏🙏

18/02/2025

Sehwani urs 2025

Address

Sehwan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Ki Nagri - sehwan Sharif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Ki Nagri - sehwan Sharif:

Share