11/02/2026
میں آسٹریلیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔زندگی تعلیم، کیریئر اور ذمہ داریوں میں گزرتی رہی اور شادی کا وقت نکل گیا۔ جب میری عمر 39 سال ہوئی تو میری زندگی میں ایک 32 سال کا نوجوان آیا۔ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔ عمر کا فرق تھا، میں ہچکچا رہی تھی، لیکن اس کی سچائی اور خلوص نے مجھے قائل کر لیا، اور ہم نے شادی کر لی۔
میری ہمیشہ ایک سوچ رہی…میں نے دین کو پڑھا، عورتوں کے مسائل کو دیکھا، معاشرے کی حقیقتوں کو سمجھا۔شادی کے بعد ایک دن میں نے اپنے شوہر سے کہا:“احمد، آپ دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟”
وہ ہنس پڑے اور بولے:“کیا آپ پاگل ہیں؟ میری پوری دنیا آپ ہیں۔”
لیکن میرا دل ان عورتوں کے لیے تڑپتا تھا جو بیوہ، طلاق یافتہ یا عمر گزر جانے کی وجہ سے تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔
میری ایک کزن بیوہ تھی، دو بچوں کے ساتھ اکیلی۔ میں نے احمد کو بہت سمجھایا، مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ البتہ انہوں نے اس کی مالی مدد کی ذمہ داری لے لی۔
وقت گزرتا رہا… ہماری شادی کو پانچ سال ہو گئے، مگر ہمیں اولاد نہ ہوئی۔پاکستان آئی تو دیکھا، خاندان میں کئی لڑکیاں عمر گزر جانے کے باوجود غیر شادی شدہ تھیں۔ دل مزید بے چین ہو گیا۔
پھر ایک دوست کی بہن کا معاملہ سامنے آیا۔ پڑھی لکھی، باوقار لڑکی، جس کی شادی صرف ایک دن چل سکی تھی۔ زندگی اس کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی تھی۔
اس بار میں نے احمد کو بہت محبت اور صبر سے قائل کیا۔ آخرکار انہوں نے نکاح کر لیا۔ہم نے اسے آسٹریلیا بلوایا، اسے عزت دی، تحفظ دیا، گھر دیا۔
اللہ نے انہیں دو بیٹے عطا کیے۔ان میں سے ایک بچہ اس نے مجھے دے دیا، اور ایک کی پرورش وہ خود کر رہی ہے۔
آج…ہم تینوں خوش ہیں۔احمد کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔گھر میں سکون ہے، عزت ہے، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا احساس ہے۔
میں آج یہ کہنا چاہتی ہوں:
ہر اچھا مرد صرف ایک عورت کا حق نہیں ہوتا۔اور ہر نیک عورت میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی کا ذریعہ بنے۔
یہ کوئی مجبوری نہیں…یہ ایک قربانی ہے۔یہ ایک سوچ ہے۔یہ وہ جہاد ہے جو ایک عورت بھی اللہ کے لیے کر سکتی ہے۔
اگر ہم بالی وڈ کی کہانیوں کے بجائے حقیقت اور دین کے مطابق سوچیں،تو شاید بہت سی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔
یاد رکھیں:جو اللہ کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔..
,
Copied