Nuaman Atta Info

Nuaman Atta Info Documentry, Tourism, Guide Historical Places

15/02/2026

جوان بیوہ کی دوسری شادی

13/02/2026

میں امریکہ سے دس سال بعد وطن لوٹا تھا۔ ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے عزیز و اقارب کی لمبی قطار تھی۔ سب کے چہروں پر خوشی تھی، آنکھوں میں چمک اور زبان پر مبارکباد۔ میں نے سوچا، واہ! آج تو زندگی کامیاب ہو گئی۔ ڈالر کما کر لوٹا ہوں، شہر میں بڑا گھر بنا لیا ہے، گاڑی بھی نئی ہے، اب ایک شاندار دعوت ہونی چاہیے تاکہ
سب کو پتا چلے کہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہوں۔
دو دن بعد میں نے ایک بڑے ہوٹل میں دعوت کا اہتمام کر دیا۔ رشتے دار، دوست، محلے والے سب کو بلا لیا۔ گھر میں بھی
چہل پہل تھی۔ میری بیوی مہمانوں کی فہرست دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے پوچھا، “تمہاری بہن کو بھی بلایا ہے؟” میں نے لاپروائی سے کہا، “ہاں، سب کو بلایا ہے۔ وہ خود آ جائے گی۔” دعوت کا دن آیا۔ ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ لوگ مجھے گلے لگا رہے تھے، تصویریں بن رہی تھیں، تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے۔ مگر اس ہجوم میں ایک چہرہ غائب تھا—میری چھوٹی بہن عائشہ کا چہرہ۔
میں نے موبائل نکالا اور اسے فون کیا۔ کئی بار گھنٹی بجی، پھر اس نے فون اٹھایا۔ آواز بھری ہوئی تھی۔
“عائشہ! تم آئی کیوں نہیں؟ سب تمہیں پوچھ رہے ہیں۔”
چند لمحے خاموشی رہی، پھر اس کی روتی ہوئی آواز آئی، “بھائی… مجھے بھابھی نے کہا تھا کہ آپ نے خاص لوگوں کو بلایا ہے، میں نہ آؤں تو بہتر ہے۔”
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ “یہ کیا کہہ رہی ہو؟ میں نے تو سب کو بلایا تھا!”
وہ بس اتنا کہہ سکی، “کوئی بات نہیں بھائی، آپ خوش رہیں۔” اور فون بند ہو گیا۔
ہال کی روشنیاں اچانک مدھم لگنے لگیں۔ قہقہوں کی آوازیں شور محسوس ہونے لگیں۔ میں نے فوراً کھانا پیک کروایا اور گاڑی لے کر بہن کے گھر کی طرف نکل پڑا۔
راستے بھر دل بے چین تھا۔ بچپن کی تصویریں آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔ وہی عائشہ جو میری کتابیں سمیٹتی تھی، میرے کپڑے استری کرتی تھی، جب میں امریکہ جا رہا تھا تو سب سے زیادہ روئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا تھا، “جلدی واپس آؤں گا، تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا۔”
اس کے گھر پہنچا تو دروازے پر تالا لٹک رہا تھا۔ پڑوسی نے بتایا، “بیٹا، عائشہ تو صبح سے باہر گئی ہے، شاید کسی کام پر۔”
میں نے بار بار فون کیا مگر نمبر بند تھا۔ دل میں عجیب سا خوف جاگ اٹھا۔ میں واپس مڑا تو شام ڈھل رہی تھی۔ سڑک کے کنارے ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔
اچانک میری نظر ایک منظر پر جا کر ٹھہر گئی۔
فٹ پاتھ کے پاس ایک چھوٹا سا اسٹال لگا تھا جہاں کچھ مزدور بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ ایک عورت سادہ سے کپڑوں میں ان کے سامنے پلیٹیں رکھ رہی تھی۔ اس کے دو بچے پاس کھڑے تھے۔ میں نے غور سے دیکھا تو میرے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔
وہ عائشہ تھی۔
میرے ہاتھ سے کھانے کا ڈبہ گرنے ہی والا تھا۔ وہ مزدوروں کو کہہ رہی تھی، “بھائی، آرام سے کھائیں، اور چاہیے تو بتائیے گا۔”
ایک مزدور نے کہا، “باجی، آپ خود نہیں کھائیں گی؟”
وہ مسکرا کر بولی، “میں بعد میں کھا لوں گی۔ پہلے آپ لوگ کھا لیں، سارا دن محنت کرتے ہیں۔”
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ یہ وہی بہن تھی جسے میں نے ہوٹل کی دعوت میں جگہ نہ دی۔ اور وہ آج مزدوروں کو کھانا کھلا رہی تھی۔ میں نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور آہستہ آہستہ اس کے پاس گیا۔
“عائشہ…”
وہ چونک کر مڑی۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر حیرت اور پھر جھجک سی آ گئی۔ “بھائی؟ آپ یہاں؟”
میں نے اردگرد دیکھا۔ ایک چھوٹا سا چولہا، چند برتن، اور بارش سے بچانے کے لیے پلاسٹک کی شیٹ۔ میرا سر شرم سے جھک گیا۔ دل چاہا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔
“یہ سب کیا ہے؟ تم یہاں کیوں ہو؟”
اس نے دھیرے سے کہا، “بھائی، شوہر کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر کا خرچ مشکل ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا کچھ کر لوں۔ یہاں مزدور آتے ہیں، میں سستا کھانا بنا کر بیچ لیتی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے گزارہ ہو جاتا ہے۔”
میں نے کانپتی آواز میں پوچھا، “اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟”
وہ مسکرا دی، “آپ پردیس میں تھے، اپنے کام میں مصروف۔ میں بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔”
میرے ذہن میں اپنی پرتعیش زندگی گھوم گئی—بڑا گھر، قیمتی گاڑی، مہنگی گھڑی۔ اور یہاں میری بہن بارش میں کھڑی مزدوروں کو کھانا کھلا رہی تھی۔
میں نے پیک کیا ہوا کھانا اس کے سامنے رکھا۔ “یہ تمہارے لیے لایا تھا۔”
اس نے ڈبہ کھولا، پھر میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجہ نرم تھا، “بھائی، مجھے آپ کی دعوت سے زیادہ آپ کی توجہ چاہیے تھی۔”
یہ جملہ میرے دل پر تیر کی طرح لگا۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔ اگلے دن میں اس کے شوہر سے ملا، اسے اپنی کمپنی میں ملازمت دی۔ بہن کے بچوں کے لیے اچھے اسکول کا انتظام کیا۔ اور سب سے بڑھ کر، میں نے اپنی بیوی کو سمجھایا کہ رشتے دولت سے نہیں، دل سے جیتے جاتے ہیں۔
کچھ دن بعد میں نے دوبارہ دعوت رکھی، مگر اس بار اپنے گھر کے صحن میں۔ نہ کوئی ہوٹل، نہ دکھاوا۔ سب سے پہلے میں خود بہن کے گھر گیا اور اسے لے کر آیا۔ اس دن جب عائشہ میرے برابر بیٹھی تھی تو مجھے پہلی بار لگا کہ میں واقعی کامیاب ہوا ہوں۔
دعوت کے اختتام پر میں نے سب کے سامنے کہا، “میں امریکہ سے ڈالر کما کر آیا تھا، مگر اصل دولت تو مجھے آج ملی ہے—اپنی بہن کی دعائیں۔”
عائشہ نے مسکرا کر کہا، “بھائی، گھر وہ نہیں جو دیواروں سے بنتا ہے، گھر وہ ہے جہاں اپنوں کی عزت ہو۔”
اس دن مجھے سمجھ آیا کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ رشتوں کا احترام انسان کو عظیم بناتا ہے۔ اور میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ کبھی اپنی کامیابی کے شور میں اپنوں کی خاموشی کو نظرانداز نہیں کروں گا۔

سبق آموز واقعات کے لئے ہمیں فالو کر لیں شُکریہ

12/02/2026

12/02/2026

گاوں کی ٹھگنی عورت نوکرانی سے رانی بن گئی دوسری مغرور عورت اور پردیسی شوہر

سالی آدھے گھر والی کو پورے گھر والی بنانے کا جنون: ظالم رکشہ ڈرائیور کا کالا کرتوت بے نقاب ۔۔ لاہور کے نواحی قصبہ ہیر می...
11/02/2026

سالی آدھے گھر والی کو پورے گھر والی بنانے کا جنون: ظالم رکشہ ڈرائیور کا کالا کرتوت بے نقاب ۔۔ لاہور کے نواحی قصبہ ہیر میں چند سال قبل پیش آیا عبرتناک واقعہ ۔۔۔۔ دلاور اپنا ذاتی رکشہ چلاتا تھا ۔ اسکی شادی کو 10 سال ہو چکے تھے اور چار بچے تھے ، اسکی بیوی بہت خوبصورت تھی مگر ہر بار بچے کی پیدائش پر اسکی چھوٹی بہن اسکے گھر آجاتی تھی ، اس دوران دلاور کے اپنی سالی کے ساتھ تعلقات بن گئے ، ایک بار اسکی بیوی نے اسے نازیبا حالت میں پکڑ لیا اور بہت روئی پیٹی ، غیر شادی شدہ بہن واپس گھر چلی گئی اور دلاور کی بیوی ایک سال تک نہ خود اپنے میکے گئی نہ شوہر کو جانے دیا ، وہ اسکی غلطی معاف کر چکی تھی اور اپنا گھر محفوظ رکھنا چاہتی تھی لیکن اسکے شوہر نےسالی سے تعلقات گھر کے باہر چوری چھپے قائم رکھے ، اسکی سالی اکثر اپنے گھر سے اکیلی آجاتی اور یہ لاہور میں کہیں نہ کہیں مل لیتے ، اس دوران دلاور نے اپنے ایک بھتیجے کو 50 ہزار روپے کا لالچ دیا اور پلان بنایا کہ وہ ڈا۔کو کے روپ میں اسکی بیوی کو گو۔لی مار دے گا ، اس واردات کو ڈ۔کیتی کا رنگ دیا جائے گا اور پھر کچھ عرصے بعد اسکی بیوی کے ماں باپ بچوں کی وجہ سے اسکی سالی کے ساتھ اسکی شادی کردیں گے ، افسوس کہ کچھ روز بعد جب کہ دلاور کی بیوی بچوں کو لے کر کافی مہینوں بعد اپنے میکے گئی تو چند روز بعد دلاور انہیں لینے پہنچ گیا وہ بیوی اور 4 بچوں کو اپنے رکشے میں قصور سے واپس اپنے گاؤں ہیر روانہ ہوا تو راستے میں اسکے بھتیجا جس نے منہ لپیٹا ہوا تھا موٹرسائیکل پر آیا ، رکشے کو رکنے کا اشارہ کیا اور آکر دلاور کی بیوی سے پرس اور زیورات چھینے ، اس غریب نے ڈر سے سب کچھ دے دیا مگر اپنے ہی رشتہ دار ڈا۔کو نے بدقسمت خاتون کو گو۔لی مار دی ، یہ گو۔لی اسکے سر کو پھا۔ڑ کر ساتھ بیٹھی بچی کے سر میں جا لگی ، بیوی کے ساتھ ساتھ معصوم چند سالہ ماہین بھی خون میں لت ۔پت ہو گئی ، مگر اسکی بیٹی کے سانس چل رہے تھے چنانچہ اسے 1122 میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ بھی دم توڑ گئی ، اسکے بعد دلاور نے ایک اور ڈرامہ رچایا اس نے سڑک پر شور شرابہ کیا رونا دھونا شروع کیا لوگ اکٹھے ہو گئے اس نے ایسے ایسے بین کیے کہ ہجوم مشتعل ہو گیا اور سڑک کو ٹائر جلا کر بند کردیا گیا ، اعلیٰ پولیس افسران وہاں آگئے انہوں نے دلاور کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور مجرم پکڑنے کا وعدہ کیا تو دلاور بیوی اور بچی کی لا۔شیں لے کر گھر آگیا ، مگر پولیس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور 24 گھنٹے میں ملزم پکڑ دکھائے وہ ایسے کہ دلاور کاکال ریکارڈ چیک کیا گیا اسکے بھتیجے کے ساتھ اسکے بار بار رابطے مشکوک نکلے ، پہلے بھتیجے کو پکڑ کر ساری کہانی معلوم کر لی گئی اور پھر سالی سے شادی کے خواب دیکھنے والے اصل مجرم کو گرفتار کرکے حوالات میں ڈال دیا گیا۔۔۔۔

میں آسٹریلیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔زندگی تعلیم، کیریئر اور ذمہ داریوں میں گزرتی رہی اور شادی کا وقت نکل...
11/02/2026

میں آسٹریلیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔زندگی تعلیم، کیریئر اور ذمہ داریوں میں گزرتی رہی اور شادی کا وقت نکل گیا۔ جب میری عمر 39 سال ہوئی تو میری زندگی میں ایک 32 سال کا نوجوان آیا۔ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔ عمر کا فرق تھا، میں ہچکچا رہی تھی، لیکن اس کی سچائی اور خلوص نے مجھے قائل کر لیا، اور ہم نے شادی کر لی۔

میری ہمیشہ ایک سوچ رہی…میں نے دین کو پڑھا، عورتوں کے مسائل کو دیکھا، معاشرے کی حقیقتوں کو سمجھا۔شادی کے بعد ایک دن میں نے اپنے شوہر سے کہا:“احمد، آپ دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟”

وہ ہنس پڑے اور بولے:“کیا آپ پاگل ہیں؟ میری پوری دنیا آپ ہیں۔”

لیکن میرا دل ان عورتوں کے لیے تڑپتا تھا جو بیوہ، طلاق یافتہ یا عمر گزر جانے کی وجہ سے تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔

میری ایک کزن بیوہ تھی، دو بچوں کے ساتھ اکیلی۔ میں نے احمد کو بہت سمجھایا، مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ البتہ انہوں نے اس کی مالی مدد کی ذمہ داری لے لی۔

وقت گزرتا رہا… ہماری شادی کو پانچ سال ہو گئے، مگر ہمیں اولاد نہ ہوئی۔پاکستان آئی تو دیکھا، خاندان میں کئی لڑکیاں عمر گزر جانے کے باوجود غیر شادی شدہ تھیں۔ دل مزید بے چین ہو گیا۔

پھر ایک دوست کی بہن کا معاملہ سامنے آیا۔ پڑھی لکھی، باوقار لڑکی، جس کی شادی صرف ایک دن چل سکی تھی۔ زندگی اس کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی تھی۔

اس بار میں نے احمد کو بہت محبت اور صبر سے قائل کیا۔ آخرکار انہوں نے نکاح کر لیا۔ہم نے اسے آسٹریلیا بلوایا، اسے عزت دی، تحفظ دیا، گھر دیا۔

اللہ نے انہیں دو بیٹے عطا کیے۔ان میں سے ایک بچہ اس نے مجھے دے دیا، اور ایک کی پرورش وہ خود کر رہی ہے۔

آج…ہم تینوں خوش ہیں۔احمد کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔گھر میں سکون ہے، عزت ہے، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا احساس ہے۔

میں آج یہ کہنا چاہتی ہوں:

ہر اچھا مرد صرف ایک عورت کا حق نہیں ہوتا۔اور ہر نیک عورت میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی کا ذریعہ بنے۔

یہ کوئی مجبوری نہیں…یہ ایک قربانی ہے۔یہ ایک سوچ ہے۔یہ وہ جہاد ہے جو ایک عورت بھی اللہ کے لیے کر سکتی ہے۔

اگر ہم بالی وڈ کی کہانیوں کے بجائے حقیقت اور دین کے مطابق سوچیں،تو شاید بہت سی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

یاد رکھیں:جو اللہ کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔..







,
Copied

تم واپس کیوں آگئے ہو، یہاں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟؟ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا...
11/02/2026

تم واپس کیوں آگئے ہو، یہاں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔؟؟ 30 سال دبئی اور 10 سال انگلینڈ میں ملازمت کرکے کروڑوں روپے کمانے والا لاہور کا ایک بزرگ سب کچھ بیوی بچوں کو لٹا کر اولڈ ہوم میں رہنے پر مجبور ہو گیا ۔۔۔۔۔۔سمن آباد کے رہائشی حنیف صاحب 1975 میں دبئی چلے گئے ، یہ وہاں ایک سرکاری محکمے میں آپریٹر کے طور پر کام کرتے تھے ، 30 سال اسی کمپنی میں رہے اور سپروائز بن کر ریٹائرڈ ہوئے تو انگلینڈ چلے گئے ، 10 سال وہاں نوکری کی ، اس دوران گھر کا چکر بھی ہر سال دو سال بعد لگا لیتے ، ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جو کمایا بیوی کے اکاؤنٹ میں بھیجتے رہے ، بیوی نے کچے مکان سے شاندار کوٹھی بنا لی ، 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں کو شاندار تعلیم دلائی گئی ، انگلینڈ میں حنیف صاحب کے روم میٹ انہیں اکثر کہتے ، کہ میاں سب کمائی پاکستان نہ بھیجا کرو کچھ برے دنوں کے لیے اپنے پاس محفوظ رکھو مگر حنیف صاحب کا جواب ہوتا میں نے کیا کرنے ہیں پیسے جو کچھ ہے بچوں کا ہے مر جاؤں گا تو تب بھی تو بچے ہی وارث ہونگے ، قصہ مختصر 40 سال بیرون ملک کمائیاں کر کے حنیف صاحب گھر آگئے تو ہر روز گھر میں لڑائی ہونے لگی ، بیوی کہتی تمہارے بغیر ادھر کونسا کام ہے جو نہیں ہو رہا تم واپس آئے کیوں ہو ، جب یہ جھگڑا ہر دوسرے چوتھے دن ہونے لگا تو حنیف صاحب عمر رفتہ کو یاد کر کے رو پڑے اور سوچا کاش اب وہ دوبارہ واپس دبئی یا انگلینڈ جا سکتے ، تو کبھی مر کر بھی واپس نہ آتے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب انکی واپسی ناممکن تھی چنانچہ ایک روز حنیف صاحب نے فیصلہ کیا اور لاہور میں ہی ایک اولڈ ہوم میں شفٹ ہو گئے ، چند روز بعد ہی اے آر وائی ٹی وی چینل کے لیے انکا انٹرویو ہوا ، یہ انٹرویو نشر ہوا تو انگلینڈ والے ان کے روم میٹ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح پتہ کرکے اولڈ ہوم فون کیا اور کہا : حنیف صاحب: کیا ہو گیا ، آپ کہاں پہنچ گئے ، آپ کے گھر والے خیریت سے ہیں ؟ اب حنیف صاحب انہیں کیا بتاتے کہ انکی کمائی سے بیٹے موجیں کررہے ہیں نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں میں پھرتے ہیں اور انکے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں جو ان کے خون پسینے کی کمائی سے بنا ہے ۔۔۔ ان دوستوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ آپ گوجرانوالہ ہمارے گھر چلے جائیں ، وہاں ٹھاٹ سے رہیں ، نوکر چاکر آپ کی دن رات خدمت کریں گے ۔۔۔۔۔۔ مگر حنیف صاحب نے یہیں اولڈ ہوم میں رہنا مناسب سمجھا ، یہاں عزت بھی ہے ، پیار بھی ، اور خیال بھی رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔ یہ اولڈ ہوم انکے گھر سے بہتر ہے جہاں انکی لالچی بیوی اور ڈالروں سے پالے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب کے بقول کاش میں اپنی کمائی کا آدھا حصہ اپنے پاس رکھتا تو آج یہی گھر والے جو ڈیڑھ سال ہو گیا ایک بار مجھے یہاں اولڈ ہوم میں دیکھنے تک نہیں آئے ، سب کے سب میری اجازت کے بغیر کوئی قدم بھی نہ اٹھاتے ۔۔۔ سچ کہتے ہیں دنیا مطلب دی او یاد دنیا مطلب دی ۔۔۔۔

پردیس گئی شيماء بن عمر کی پراسرار م وت، ماں آج بھی سچ کی منتظرشيماء بن عمر (Shaima Ben Omar) ایک 25 سالہ نوجوان تونسی Tu...
10/02/2026

پردیس گئی شيماء بن عمر کی پراسرار م وت، ماں آج بھی سچ کی منتظر

شيماء بن عمر (Shaima Ben Omar) ایک 25 سالہ نوجوان تونسی Tunisian 🇹🇳 لڑکی تھی، جس کا تعلق #تونس کے شہر قصر ہلال سے تھا۔ وہ ایک سادہ اور محنتی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ شيماء کے والد کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا، جس کے بعد گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ تر اس کی والدہ پر آ گیا تھا۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت شيماء نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بیرونِ ملک جا کر کام کرے گی تاکہ اپنی ماں کا سہارا بن سکے۔

روزگار کی تلاش میں شيماء نے #سعودی عرب Saudi Arabia 🇸🇦 جانے کا انتخاب کیا۔ معلومات کے مطابق وہ ایک قانونی ورک ویزا اور باقاعدہ کنٹریکٹ کے تحت سعودی عرب کے دارالحکومت #ریاض پہنچی، جہاں اسے نرسنگ یا اسی نوعیت کے کسی کام کی امید تھی۔ روانگی کے وقت خاندان پُرامید تھا کہ شيماء محنت کرے گی، کچھ رقم گھر بھیجے گی اور زندگی آہستہ آہستہ بہتر ہو جائے گی۔ مگر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ سفر اتنا دردناک #انجام اختیار کر لے گا۔

رابطہ ٹوٹ جانا — پہلا تشویشناک لمحہ

ریاض پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد، تقریباً ایک ماہ کے اندر، شيماء کا فون اچانک بند ہو گیا۔ خاندان سے اس کا ہر طرح کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ والدہ اور دیگر رشتہ داروں کے لیے یہ لمحہ شدید پریشانی اور خوف کا باعث بن گیا۔ بار بار فون کیے گئے، پیغامات بھیجے گئے، مگر کوئی جواب نہ آیا۔

خاندان نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ #سعودی حکام سے رابطہ کیا گیا اور تونسی سفارت خانے سے بھی مدد مانگی گئی، مگر طویل انتظار کے باوجود کوئی واضح یا حتمی معلومات سامنے نہ آ سکیں۔ یہ بےخبری ماں کے لیے سب سے بڑا عذاب بن گئی۔

ہسپتال کی خبر اور المناک انجام

تقریباً ایک ماہ اور چار دن بعد، جنوری 2026 کے آس پاس، خاندان کو اطلاع دی گئی کہ شيماء کو ریاض کے ایک ہسپتال میں پایا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ وہ غشی (کوما) Coma کی حالت میں ہے۔ یہ خبر ایک طرف امید کی ہلکی سی کرن تھی، مگر ساتھ ہی شدید خوف بھی۔

بدقسمتی سے، کچھ ہی وقت بعد شيماء کا #انتقال ہو گیا۔ موت کی یہ خبر اس کی والدہ اور خاندان پر بجلی بن کر گری۔ بعد ازاں شيماء کی میت تونس واپس لائی گئی، جہاں دارالحکومت کے جنت الجلاز قبرستان میں اس کا جنازہ ادا کیا گیا۔ ایک ماں نے اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے مٹی کے سپرد کر دیا، مگر سوالات دل میں دفن نہ ہو سکے۔

والدہ کے خدشات اور سامنے آنے والی باتیں

شيماء کی والدہ نے بعد میں ایک انٹرویو (ریڈیو ماد) میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ شيماء کو سڑک پر بے ہوش حالت میں پایا گیا تھا، کسی نے اسے جوتے دیے اور فون کال کی، جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

والدہ کا اصرار ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی حالت اور موت کی وجوہات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شيماء کے جسم پر تشدد کے آثار ہونے کا شبہ ہے، اور وہ صرف یہی چاہتی ہیں کہ حقیقت سامنے آئے، چاہے وہ جو بھی ہو۔

سوشل میڈیا کے دعوے اور احتیاط کی ضرورت

اسی دوران شيماء کا کیس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر پوسٹس اور ویڈیوز میں دعوے کیے گئے کہ وہ کسی پروس*ٹی ٹیوشن رِنگ یا انسانی اسم*گلنگ کا شکار ہوئی، اور یہاں تک کہا گیا کہ اسے ق تل کر دیا گیا۔ بعض مواد میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں ملوث افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان دعوؤں کی ابھی تک کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ بہت سی ویڈیوز اور پوسٹس جذباتی زبان اور سنسنی خیز عنوانات کے ساتھ پیش کی گئیں، جن کا مقصد بسا اوقات معلومات سے زیادہ توجہ حاصل کرنا محسوس ہوتا ہے۔

سرکاری مؤقف اور موجودہ حقیقت

فروری 2026 تک، نہ سعودی حکام اور نہ ہی تونسی حکومت کی جانب سے کوئی ایسی سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے جو یہ ثابت کرے کہ شيماء کی م وت ق تل تھی یا وہ کسی منظم جرم کا شکار ہوئی۔

سرکاری طور پر صرف اتنا کہا گیا ہے کہ شيماء کو ہسپتال میں غشی کی حالت میں پایا گیا اور بعد ازاں اس کا انتقال ہو گیا، مگر موت کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں کی گئی۔

ایک ماں کا مطالبہ، ایک معاشرتی سوال

شيماء کی والدہ نے تونسی صدر قیس سعید سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے معاملے میں مکمل انصاف کیا جائے، آزادانہ تحقیقات ہوں اور مکمل تشریح (پوسٹ مارٹم) کے ذریعے حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔ ان کے الفاظ میں:

“میں الزام نہیں، صرف سچ چاہتی ہوں۔”

یہ واقعہ تونس میں ایک وسیع تر بحث کا سبب بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اسے بیرونِ ملک کام کرنے والی مہاجر خواتین کو درپیش خطرات کی علامت سمجھ رہے ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو مجبوری کے تحت معاشی طور پر مستحکم ممالک کا رخ کرتی ہیں۔

یہ ایک انتہائی افسوسناک اور دل کو چھو لینے والی کہانی ہے۔
#اللہ تعالیٰ شيماء بن عمر کو اپنی رحمت میں جگہ دے، اور اس کی والدہ اور خاندان کو صبر عطا فرمائے۔
انصاف کی تلاش اب بھی جاری ہے، اور ایک ماں آج بھی خاموشی سے سچ کی م

09/02/2026

ایک رحم دل عربی

07/02/2026

07/02/2026

ایک ماں جی کو عمرے کرنے کا اللہ کے گھر کی حاضری کا بہت شوق تھا

05/02/2026

#اسلامی #سوال #جواب #بھوپالوالہ

Address

Sialkot

Telephone

+966509574899

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nuaman Atta Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nuaman Atta Info:

Share