Nuaman Atta Info

Nuaman Atta Info Documentry, Tourism, Guide Historical Places
(2)

18/08/2026

شوہر سعودیہ عرب میں اور بیوی پر کوئی مرد لاکھ روپے لوٹا رہا ہے کون ہے وہ مرد

16/08/2026

باپ ماں سے جھگڑا کر کے جس سے شادی کی وہ دبئی کی بڑی جسم فروشی عورت بنی

14/08/2026

چاچا کہتا ہے آگر تم امریکہ پہنچ گیا تو میں پیشاب سے شیوہ کروں

13/08/2026

عدالت میں آج ایک ایسا عجیب کیس سنا جس میں بیٹے ماں کو اپنے پاس رکھ ے لئے لڑ رہے تھے
#𝐛𝐚𝐚𝐩

13/08/2026

ماں باپ میرے ساتھ رہیں گئے تینوں بیٹوں عدالت پہنچ گئے ماں باپ کو لے کر ❤️ ♥️ 🇸🇦

بسم اللہ الرحمن الرحیمآج عدالت میں ایک عجیب و غریب کیس پیش ہونے والا تھا۔عدالت کا کمرہ نمبر تین لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہ...
13/08/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج عدالت میں ایک عجیب و غریب کیس پیش ہونے والا تھا۔

عدالت کا کمرہ نمبر تین لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا تھا:

"آخر کیس کیا ہے؟"

ایک آدمی نے کہا:

"سنا ہے تینوں بیٹوں نے اپنے ہی ماں باپ کو عدالت میں گھسیٹا ہے!"

دوسرا فوراً بولا:

"ارے! ضرور جائیداد کا جھگڑا ہوگا۔ آج کل اولاد کو ماں باپ سے زیادہ زمین جائیداد عزیز ہوتی ہے۔"

تیسرا شخص بولا:

"لیکن اگر جائیداد کا کیس ہے تو ماں باپ ایک طرف اور تینوں بیٹے دوسری طرف کیوں کھڑے ہیں؟"

اتنے میں عدالت کا دروازہ کھلا اور جج صاحب اندر تشریف لے آئے۔

سب لوگ خاموش ہو گئے۔

جج صاحب نے اپنی کرسی سنبھالی، فائل کھولی، چند صفحات پڑھے اور پھر اچانک ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

انہوں نے سامنے دیکھا تو منظر واقعی عجیب تھا۔

ایک کٹہرے میں کوئی مجرم نہیں، بلکہ ایک بوڑھا باپ اور اس کی بوڑھی بیوی کھڑے تھے۔

اور دوسرے کٹہرے میں ان کے تینوں جوان بیٹے کھڑے تھے۔

جج صاحب نے حیرت سے پوچھا:

"یہ کیا معاملہ ہے؟"

انہوں نے فائل دوبارہ دیکھی اور کہا:

"بڑے بیٹے کو آگے بلاؤ۔"

بڑا بیٹا آگے آیا۔

جج صاحب نے پوچھا:

"ہاں بھائی، کیا کیس ہے؟ تم نے اپنے ماں باپ کو عدالت کیوں بلایا ہے؟"

بڑا بیٹا بولا:

"جج صاحب! میں اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔"

جج صاحب نے حیرت سے پوچھا:

"بس یہی بات ہے؟"

بڑا بیٹا بولا:

"جی جج صاحب۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ماں باپ اپنی زندگی کے آخری دن میرے ساتھ گزاریں۔"

ابھی بڑے بیٹے کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ درمیانے بیٹے نے فوراً کہا:

"نہیں جج صاحب! بڑے بھائی نے دس سال ماں باپ کی خدمت کی ہے۔ اب میری باری ہے۔ میں اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔"

جج صاحب نے دونوں کو دیکھا ہی تھا کہ سب سے چھوٹا بیٹا بھی کھڑا ہو گیا۔

وہ بولا:

"جج صاحب! میں گھر کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہوں۔ میرا حق بھی ماں باپ پر ہے۔ میں انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔"

عدالت میں موجود لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

جج صاحب بھی حیران تھے۔

انہوں نے اپنی عینک اتاری اور بوڑھے ماں باپ کی طرف دیکھ کر پوچھا:

"بابا جی، آپ خود بتائیں۔ آپ ان تینوں میں سے کس بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں؟"

بوڑھے باپ نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔

ماں کی آنکھیں پہلے ہی نم تھیں۔

بوڑھی ماں نے روتے ہوئے کہا:

"جج صاحب! ہم نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ہماری اولاد ہمیں اس طرح عدالت تک لے آئے گی۔"

جج صاحب نے نرمی سے کہا:

"لیکن بی بی، یہ تو کہہ رہے ہیں کہ تینوں آپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔"

ماں نے آنسو پونچھے اور بولی:

"جی جج صاحب، یہی تو ہماری مشکل ہے۔ ہم تینوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے تینوں بیٹے الگ الگ شہروں میں نوکری کرتے ہیں۔ کوئی ایک شہر میں ہے، کوئی دوسرے شہر میں۔ ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ کس کے ساتھ جائیں اور کس کے ساتھ نہ جائیں۔"

اتنا کہتے ہی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

بوڑھا باپ بھی اپنے آنسو نہ روک سکا۔

وہ بولا:

"جج صاحب، ہم نے روکھی سوکھی کھا کر، پھٹے پرانے کپڑے پہن کر، کبھی بھوکے رہ کر اور کبھی اپنی زمین جائیداد کا ٹکڑا بیچ کر ان بچوں کو پڑھایا لکھایا۔ آج اللہ کے فضل سے تینوں اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔ ہم نے ان سے کچھ مانگا نہیں، بس اب بڑھاپے میں ان کا ساتھ چاہتے ہیں۔"

یہ سنتے ہی تینوں بیٹے بھی رونے لگے۔

عدالت کا ماحول بدل گیا۔

جو لوگ چند لمحے پہلے جائیداد کے جھگڑے کی باتیں کر رہے تھے، اب ان کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔

یہ خبر عدالت سے نکل کر میڈیا تک بھی پہنچ گئی۔

صحافی کیمرے لے کر عدالت کے باہر جمع ہونے لگے۔

جج صاحب نے بڑے بیٹے کی طرف دیکھا اور پوچھا:

"برخوردار! تم بتاؤ، آخر تم اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ کیوں رکھنا چاہتے ہو؟"

بڑے بیٹے نے اپنے آنسو پونچھے اور بولا:

"جج صاحب، جب میں چھوٹا تھا تو مجھے پولیو ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے میرے والد سے کہہ دیا تھا کہ شاید یہ بچہ کبھی اپنے پاؤں پر نہ چل سکے۔"

"لیکن میرے والد نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ مجھے روزانہ اپنی گود میں اٹھاتے اور تقریباً پانچ کلومیٹر دور ڈاکٹر کے پاس پیدل لے جاتے تھے۔"

"وہ خود تھک جاتے تھے، مگر مجھے کبھی تھکنے نہیں دیتے تھے۔"

"آج الحمدللہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں، چلتا ہوں، نوکری کرتا ہوں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔"

وہ روتے ہوئے بولا:

"جج صاحب! اگر میرے والد اس وقت میری حفاظت نہ کرتے، اگر وہ مجھے اپنی گود میں اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس نہ لے جاتے، تو شاید آج میں چلنے پھرنے کے قابل نہ ہوتا۔"

"آج میرے والد کے پاؤں کمزور ہیں، میری ماں بوڑھی ہو چکی ہے۔ آج انہیں سہارے کی ضرورت ہے۔ تو میں کیسے انہیں اکیلا چھوڑ دوں؟"

جج صاحب نے گہری سانس لی اور کہا:

"بیٹا، تمہاری بات میں واقعی وزن ہے۔"

پھر انہوں نے درمیانے بیٹے کی طرف دیکھا۔

"تم بتاؤ، تم اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ کیوں رکھنا چاہتے ہو؟"

درمیانے بیٹے نے جیب سے ایک پرانا سا رومال نکالا۔

وہ رومال ہاتھ میں پکڑ کر بولا:

"جج صاحب، جب مجھے کالج میں داخلہ لینا تھا تو ہمارے گھر کے مالی حالات بہت خراب تھے۔ فیس کے پیسے نہیں تھے۔"

"میری ماں کے پاس صرف ایک آخری زیور بچا تھا۔ کانوں کی بالیاں۔"

"میری ماں ان بالیوں کو اسی رومال میں لپیٹ کر رکھتی تھی۔"

اس نے رومال جج صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا:

"یہ وہی رومال ہے، جج صاحب۔ میں نے اسے آج تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔"

عدالت میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

وہ بولا:

"ماں نے اپنی بالیاں بیچ دیں اور میری کالج کی فیس جمع کرا دی۔"

"لیکن جب میں نے پوچھا کہ آپ کی بالیاں کہاں ہیں تو ماں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا، وہ تو گم ہو گئی ہیں۔"

"بعد میں مجھے پتا چلا کہ میری ماں نے میری فیس کے لیے اپنا آخری زیور بیچ دیا تھا۔"

اس کی آواز بھرّا گئی۔

"ماں نے یہ جھوٹ صرف اس لیے بولا تھا کہ کہیں مجھے یہ احساس نہ ہو کہ میری وجہ سے ماں کو اپنا زیور بیچنا پڑا۔"

"جج صاحب، آج میرے پاس سب کچھ ہے۔ لیکن میری ماں کے پاس وہ بالیاں نہیں ہیں۔ میں اپنی ماں کو کیسے چھوڑ دوں؟"

جج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

پھر انہوں نے سب سے چھوٹے بیٹے کی طرف دیکھا۔

"اور تم؟ تم کیوں چاہتے ہو کہ ماں باپ تمہارے ساتھ رہیں؟"

سب سے چھوٹا بیٹا کچھ لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

"جج صاحب، جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ فوراً خون کی ضرورت ہے۔"

"میرا بلڈ گروپ میرے والد سے ملتا تھا۔ لیکن میرے والد اس وقت خود بوڑھے اور کمزور تھے۔ ان کا بلڈ پریشر بھی اکثر کم رہتا تھا۔"

"ڈاکٹر نے انہیں خون دینے سے منع کیا۔"

"لیکن میرے والد نے کہا، کوئی بات نہیں، بلڈ پریشر دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا۔ میرا بیٹا اگر چلا گیا تو دوبارہ نہیں آئے گا۔"

یہ کہتے ہوئے چھوٹے بیٹے کی آواز رندھ گئی۔

"میرے والد نے ڈاکٹر کی منت سماجت کی اور مجھے اپنا خون دے دیا۔"

"جج صاحب، میں آج بھی سوچتا ہوں کہ جس باپ نے میرے جسم میں اپنا خون دیا، میں اس باپ کو اپنی زندگی کے آخری حصے میں کیسے تنہا چھوڑ سکتا ہوں؟"

عدالت میں موجود کئی لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

جج صاحب نے تینوں بیٹوں کو دیکھا۔

پھر ماں باپ کو دیکھا۔

کچھ لمحوں تک عدالت میں خاموشی رہی۔

آخر جج صاحب بولے:

"آج میرے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔"

"یہ معاملہ صرف قانون کی کتابوں کا نہیں ہے۔ یہ معاملہ محبت، قربانی اور اولاد کے فرض کا ہے۔"

پھر جج صاحب نے ایک عجیب بات کہی:

"اگر میں کہہ دوں کہ آپ کے ماں باپ کو اولڈ ہاؤس بھیج دیا جائے تو؟"

تینوں بیٹے ایک ساتھ چیخ اٹھے:

"نہیں جج صاحب!"

"ایسا نہیں ہو سکتا!"

جج صاحب نے کہا:

"تو پھر اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے۔"

تینوں بیٹے خاموش ہو گئے۔

جج صاحب بولے:

"تم تینوں الگ الگ شہروں میں نوکری کرتے ہو۔ تم سب اپنے اپنے گھروں اور ذمہ داریوں میں مصروف ہو۔ لیکن ہفتے میں ایک دن تو نکال سکتے ہو؟"

"ایک ایسا گھر بناؤ جہاں تمہارے ماں باپ سکون سے رہیں۔"

"جہاں تینوں بیٹے باری باری نہیں، بلکہ مل کر ان کی خدمت کریں۔"

"جہاں پوتے پوتیاں اپنے دادا دادی کے ساتھ کھیل سکیں۔"

"جہاں بہوئیں اپنے ساس سسر کی خدمت کر سکیں۔"

"اور جہاں ماں باپ کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کے بڑھاپے میں وہ کسی ایک بیٹے کے بوجھ بن گئے ہیں۔"

جج صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:

"ماں باپ نے تم تینوں کو بچپن میں ایک گھر دیا تھا۔ اب تم تینوں مل کر انہیں بڑھاپے میں ایک گھر دے دو۔"

تینوں بیٹوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

بڑے بیٹے نے آگے بڑھ کر درمیانے بھائی کو گلے لگا لیا۔

چھوٹا بھائی بھی دونوں سے لپٹ گیا۔

پھر تینوں نے اپنے بوڑھے ماں باپ کے ہاتھ چومے۔

ماں نے تینوں بیٹوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

بوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے تینوں بیٹوں کے سروں پر ہاتھ رکھا اور کہا:

"اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔"

عدالت میں بیٹھے لوگ حیران بھی تھے اور خوش بھی۔

کسی نے کہا:

"کاش ہر گھر میں ماں باپ کے لیے ایسی محبت ہو۔"

جب تینوں بیٹے اپنے ماں باپ کے ساتھ عدالت سے باہر نکلے تو میڈیا نے انہیں گھیر لیا۔

صحافیوں نے پوچھا:

"آپ لوگ یہ فیصلہ گھر بیٹھ کر بھی تو کر سکتے تھے۔ عدالت آنے کی کیا ضرورت تھی؟"

تینوں بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

پھر بڑے بھائی نے کہا:

"جی، ہم واقعی گھر بیٹھ کر یہ فیصلہ کر سکتے تھے۔"

درمیانے بھائی نے کہا:

"لیکن اگر ہم عدالت نہ آتے تو شاید یہ کہانی لوگوں تک نہ پہنچتی۔"

چھوٹے بھائی نے کہا:

"ہم چاہتے ہیں کہ اس فیصلے سے ان لوگوں کو بھی سبق ملے جو اپنے بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آتے ہیں۔"

"ہم چاہتے ہیں کہ لوگ سمجھیں، ماں باپ صرف ذمہ داری نہیں ہوتے، وہ ہماری پوری زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں۔"

اور پھر اس کیس کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔

اگلے ہی دن ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔

ایک اولڈ ہاؤس سے آٹھ، دس بوڑھے ماں باپ کو ان کے بچے اپنے گھروں میں واپس لے گئے۔

کسی کے بیٹے نے آ کر کہا:

"امی، اب آپ میرے ساتھ رہیں گی۔"

کسی کی بیٹی نے اپنی ماں کو گلے لگا کر کہا:

"امی، اب آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔"

کسی نے اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:

"ابو، آپ نے ساری زندگی ہمارا ہاتھ پکڑا ہے، اب ہماری باری ہے۔"

شاید یہی اس عدالت کے فیصلے کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔

کیونکہ عدالت نے صرف تین بیٹوں کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

اس فیصلے نے کئی گھروں کے دروازے دوبارہ کھول دیے تھے۔

میری والدہ اکثر ایک بہت گہری بات کہتی ہیں:

"دنیا میں ہر پھل جب پک جاتا ہے تو میٹھا ہو جاتا ہے، مگر بڑھاپا وہ واحد پھل ہے جو پک کر کڑوا ہو جاتا ہے۔"

کیونکہ بڑھاپے میں انسان کو سب سے زیادہ دولت، جائیداد یا آسائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسے صرف اپنے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک ماں کو اپنے بچوں کی آواز چاہیے۔

ایک باپ کو اپنے بیٹے کا ہاتھ چاہیے۔

اور بوڑھے ماں باپ کو صرف یہ یقین چاہیے کہ:

"ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہماری اولاد ہمارے ساتھ ہے۔"

یاد رکھیں، آج آپ کے ماں باپ آپ کا ہاتھ پکڑ کر چل رہے ہیں، کل آپ کے بچے آپ کا ہاتھ پکڑیں گے۔

اللہ تعالیٰ کسی ماں باپ کو اولڈ ہاؤس کے دروازے پر کھڑا نہ کرے۔

اللہ کسی گھر کو ماں باپ کی محبت سے محروم نہ کرے۔

اور اللہ ہمیں اپنے والدین کی زندگی میں ان کی قدر کرنے کی توفیق دے۔

آمین ثم آمین۔

اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہو تو اسے لائک، شیئر اور دوسروں تک ضرور پہنچائیں، شاید آپ کی ایک شیئر کسی اولڈ ہاؤس میں بیٹھے ماں باپ کے لیے ان کے بچوں تک پیغام پہنچا دے۔

اللہ حافظ۔

11/08/2026

🇵🇰 # ❤️ 🇸🇦

10/08/2026

لالچی بیٹے نے دبئی واپسی سے ایک دن پہلے ماں کے کلہاڑی سے ٹوٹے کر دیے ❤️

09/08/2026

بیٹے کو بتایا تمہاری ماں کسی امیر آدمی کے ساتھ بھاگ ماں بتایا تمہارا بیٹا مر چکا ہے ❤️

08/08/2026

باپ سے ناراض بیٹے کی کہانی

Address

Sialkot

Telephone

+966509574899

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nuaman Atta Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nuaman Atta Info:

Shortcuts

Share