Mian Naveed

Mian Naveed Young Entrepreneur
Travel Vlogger📍🇵🇰🇸🇦🇦🇪
YouTuber/ IT & Content Creator

02/06/2026

✨ Adventure Vibes

اسلام آباد میوزیم کی سیر نے احساس دلایا کہ قومیں اپنی تاریخ سے پہچانی جاتی ہیں، اور یہ جگہ پاکستان کے شاندار ورثے کی خوب...
01/06/2026

اسلام آباد میوزیم کی سیر نے احساس دلایا کہ قومیں اپنی تاریخ سے پہچانی جاتی ہیں، اور یہ جگہ پاکستان کے شاندار ورثے کی خوبصورت عکاسی ہے۔ 🇵🇰✨

✨ہم طوفانوں سے ڈرنے والے نہیں،انہیں پار کرنے والے ہیں۔💥
01/06/2026

✨ہم طوفانوں سے ڈرنے والے نہیں،
انہیں پار کرنے والے ہیں۔💥

01/06/2026

کشمیر کی ٹھنڈی فضاؤں میں مستی بھی الگ ہے اور یادیں بھی الگ۔ ❄️💫

تھوڑا ضدی ہوں مگر مطلبی نہیں۔ قدر کرتا ہوں قدر کرنے والوں کی 😎👑     ゚
31/05/2026

تھوڑا ضدی ہوں مگر مطلبی نہیں۔
قدر کرتا ہوں قدر کرنے والوں کی 😎👑

ہماری سلطنت میں حسن کے نہیں وفاداری کے سکے چلتے ہیں ۔ 😎👑     ゚
31/05/2026

ہماری سلطنت میں حسن کے نہیں
وفاداری کے سکے چلتے ہیں ۔ 😎👑

اک بار خود سے الجھنا ہےبہت کچھ سلجھانے کے لیۓ😊
28/05/2026

اک بار خود سے الجھنا ہے
بہت کچھ سلجھانے کے لیۓ😊

26/05/2026

*آپ کو اور آپ کے تمام اہل و عیال کو عید الاضحیٰ کی بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام قربانیوں اور عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔*
لبیک اللھم لبیک لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ

`عید مبارک!`♥️✨

*Mian Naveed ✨*

صرف ایک سفر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے عشق کی لازوال داستان ہے جس کی گواہی خود قرآن مجید دیتا ہے۔ آج سے چار ہزار سال پہلے، ج...
25/05/2026

صرف ایک سفر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے عشق کی لازوال داستان ہے جس کی گواہی خود قرآن مجید دیتا ہے۔ آج سے چار ہزار سال پہلے، جب مکہ کی وادی میں نہ کوئی انسان تھا اور نہ زندگی کا کوئی نام و نشان، تو اللہ رب العزت نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی بی بی ہاجرہ اور معصوم دودھ پیتے بچے اسماعیل کو اس بے گور و کفن ریگستان میں چھوڑ آئیں۔ یہ کتنا بڑا امتحان تھا کہ ایک بوڑھا باپ اپنے اکلوتے جگر گوشے کو تپتی ریت پر چھوڑ رہا تھا۔ جب بی بی ہاجرہ نے روتے ہوئے پوچھا کہ
"اے ابراہیم! کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟"
تو ابراہیم علیہ السلام نے سر جھکا کر کہا "ہاں"۔
تب اس عظیم ماں نے جو جواب دیا، وہ رہتی دنیا تک کے لیے ایمان کی بنیاد بن گیا، انہوں نے فرمایا:
"اگر یہ میرے رب کا حکم ہے، تو وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا" (صحیح بخاری: 3364)۔
یہی وہ بے مثال توکل تھا جس کا ذکر قرآن پاک کی سورہ ابراہیم (آیت 37) میں یوں ملتا ہے:
"اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے"۔
جب پانی کا آخری قطرہ بھی ختم ہو گیا اور معصوم اسماعیل پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے، تو بی بی ہاجرہ کی ممتّا تڑپ اٹھی۔ وہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دیوانہ وار دوڑیں، کبھی ایک چوٹی پر چڑھتیں اور کبھی دوسری پر۔ انہوں نے ایک یا دو بار نہیں، بلکہ پورے سات چکر لگائے۔ اللہ کو ایک ماں کی یہ تڑپ اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لیے ہر حاجی پر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا (سعی کرنا) فرض کر دیا گیا (سورہ البقرہ: 158)۔
جب وہ مایوس ہو کر بچے کے پاس لوٹیں، تو قدرت کا سب سے بڑا معجزہ ان کا منتظر تھا۔ جہاں ننھے اسماعیل نے پیاس کی شدت میں اپنی ایڑیاں رگڑی تھیں، وہاں سے زمین نے ایک چشمہ اگلنا شروع کر دیا تھا جسے بی بی ہاجرہ نے روکنے کے لیے کہا "زم زم" یعنی رک جا۔
یہ وہ آبِ زمزم ہے جو چار ہزار سال گزرنے کے بعد بھی آج تک پوری دنیا کی پیاس بجھا رہا ہے۔امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا، جب وہی بچہ جوان ہوا اور باپ کا سہارا بنا، تو اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے اسی چہیتے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جب باپ نے بیٹے کے سامنے یہ خواب رکھا، تو فرمانبردار بیٹے کا جواب تاریخ کے پنے پر سنہرے لفظوں سے لکھا گیا، جس کا نقشہ سورہ الصافات (آیت 102) کھینچتی ہے:
"بیٹے نے کہا، ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے"۔ جب دونوں باپ بیٹے اللہ کی رضا کے سامنے جھک گئے اور منیٰ کے میدان میں ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی، تو شیطان نے انہیں بہکانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے شیطان کو پتھر مارے (جو آج حج میں رامی یعنی جمرات کو کنکر مارنا کہلاتا ہے)۔ جیسے ہی چھری چلی، اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کو بچا کر جنت سے ایک دنبہ وہاں رکھ دیا اور ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو ابد تک کے لیے امر کر دیا۔اس کے بعد باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم سے کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں (سورہ البقرہ: 127)۔
جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اللہ نے حکم دیا: "اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کر دو" (سورہ الحج: 27)۔
حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ "یا اللہ! اس ویران ریگستان میں میری آواز کون سنے گا؟"
تو پروردگار نے فرمایا: "ابراہیم! تمہارا کام صرف آواز دینا ہے، اور کائنات کے ذرے ذرے اور روحوں تک اس آواز کو پہنچانا میرا کام ہے"۔
یہی وجہ ہے کہ اس دن جس جس روح نے لبیک کہا، وہ آج بھی مکہ کی طرف کھینچی چلی آتی ہے۔ پھر سنہ 632 عیسوی میں، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے آخری خطبے (حجۃ الوداع) کے موقع پر اس حج کے مناسک کو آخری اور مکمل شکل دی اور فرمایا:
"جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور گناہوں سے بچا، وہ ایسے پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو" (صحیح بخاری: 1521)۔
حج صرف ایک سفر نہیں، یہ رب کی رضا کے سامنے خود کو مٹا دینے کا نام ہے۔ اگر اس واقعے نے آپ کے دل کو چھوا ہو، تو کمنٹ میں "سبحان اللہ" لکھیں اور اسے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں۔
#حجر ゚ #حج

ہمارا وقت کیسا بھی رہےخون میں ہمیشہ وفاداری ہی رہتی ہے💫
21/05/2026

ہمارا وقت کیسا بھی رہے
خون میں ہمیشہ وفاداری ہی رہتی ہے💫

Address

Sialkot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Naveed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mian Naveed:

Share