29/07/2024
میں مری میں کیوں ہوں
جیسا کہ اکثر احباب کے علم میں ہے کہ میں پچھلے دو تین ہفتوں سے اپنے بچوں کے ہمراہ مری میں مقیم ہوں آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں مری میں کیوں ہوں اور یہاں میرا تجربہ کیسا جا رہا ہے ۔۔۔۔
گرم موسم کے آغاز میں میں نے سوشل میڈیا پر دوستوں سے یہ مشورہ طلب کیا تھا کہ میں گرمی کا موسم کسی سرد علاقے میں گزارنا چاہتا ہوں تو مجھے تقریباً ایک ہزار کے قریب مشورے موصول ہوئے ان مشوروں میں سب سے کم مشورے مری میں قیام کی حمایت میں تھے ۔۔۔۔ پھر بھی میں نے مری کا انتخاب کرنا مناسب سمجھا ۔۔۔۔ پوچھو کیوں 😜
چلو آپ نہ بھی پوچھیں تو میں بتاتا ہوں
مری میں قیام کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ میرے رہائشی شہر سیالکوٹ اور میرے کاروبار کے شہر لاہور سے یہاں تک رسائی بہت آسان اور کم وقت میں ممکن ہے
دوسری وجہ یہ تھی کہ یہاں انتظامات پر موجودہ صوبائی حکومت نے بہت توجہ دی ہے جس وجہ سے یہاں بنیادی صحت کی سہولیات چوبیس گھنٹے گھر کی دہلیز پر دستیاب ہیں ۔۔۔
تیسری وجہ موبائل سگنلز کی تیز رفتار دستیابی ۔۔۔ چونکہ میرا کاروبار اونلائن ہے تو یہ بھی میری بنیادی ضرورت تھی ۔۔
چوتھی وجہ یہاں بچوں کی دلچسپی کی بہت چیزیں ہیں جیسے مال روڈ کی رونق، پتریاٹہ چئیر لفٹ، کشمیر پوائنٹ پارکس، کوہالہ میں دریا ، ڈونگا گلی تا ایوبیہ پائپ لائن ٹریک، نتھیاگلی اور دیگر بہت سے پوائنٹ
پانچویں وجہ زبان اور کلچر کا پنجابی ماحول سے قریب ترین ہونا تاکہ میری فیملی کا یہ تجربہ آسان ہو ۔۔۔۔
چھٹی وجہ کو پہلے نمبر پر لکھنا چاہیئے تھا وہ ہے یہاں کا شاندار حبس سے پاک سرد موسم جو کہ باقی بھی بہت سے مقامات پر مل سکتا تھا مگر پہلی پانچ وجوہات کی بنیاد پر مری کے سرد موسم کا ہی انتخاب کیا ۔۔۔
مزید مفید معلومات
مری میں ماہانہ ایک لاکھ بیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں دو کمروں کا گھر یا فلیٹ آسانی سے مل جاتا ہے بجلی اور پانی اسی کرائے میں شامل ہوتے ہیں ۔۔۔
میں جس فلیٹ میں راہ رہا ہوں یہاں وائی فائی اور بیسمنٹ میں ایک گاڑی کی پارکنگ بھی کرائے میں شامل ہیں ۔۔۔۔
اشیائے خوردونوش اگر کسی مقامی مستقل جنرل سٹور سے خریدیں تو نہایت مناسب قیمت میں مل جاتی ہیں ۔۔۔۔
سبزی اور فروٹ تھوڑے سے مہنگے ملتے ہیں لیکن آسانی سے ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں ۔۔۔
مقامی لوگوں کا رویہ بہت مناسب ہے صرف بلڈنگ کے مالک نے مری کی روایت پوری کرتے ہوئے کچھ معاملات میں عہد شکنی کرنے کے ساتھ ساتھ کرائے کی طے شدہ رقم میں بھی دس ہزار روپے اضافہ کر دیا ۔۔۔
صاف ستھرے اور پڑھے لکھے لوگ ہماری بلڈنگ کے دیگر فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں جو پنجاب، کراچی (سندھ) اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔ شام سے پہلے بلڈنگ کی چھت پر خواتین اور بچے اور رات کے وقت بلڈنگ میں موجود مرد محفل جماتے ہیں ۔۔۔
ہم اور دیگر سب لوگ کھانا گھر میں ہی بناتے ہیں جس وجہ سے ایک دوسرے سے برتن لینے دینے اور کھانے ایک دوسرے کو بھیجنے کا بہت رواج بنا ہوا ہے ۔۔۔
یہ ساری تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس وسائل موجود ہیں اور فرصت کے لمحات بھی میسر ہیں تو زندگی میں ایک بار یہ تجربہ ضرور کریں آپ کے بچے اور آپ کچھ دن قدرتی خوبصورتی کے درمیان مختلف انداز میں گزار کر بہت سکون محسوس کریں گے ۔۔۔
میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جو اتنی خوبصورت نعمتیں مجھے عطاء کرتا ہے ۔۔۔۔