15/03/2026
شہادت سے پہلے علی لاریجانی اور رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے درمیان ایک مبینہ گفتگو
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی ایک سرد رپورٹ لے کر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس آئے مگر ان کا دل سرد نہیں تھا۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے کہا:
“میرے رہبر… اس بار خطرہ صرف دباؤ کا ایک وقتی پیغام نہیں ہے۔ ایک فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ دشمن آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے، چاہے آسمان میزائلوں سے کیوں نہ جل اٹھے۔ ہم نے ایک محفوظ مقام تیار کیا ہے، ایک ایسی جگہ جو مضبوط قلعہ بندی کے ساتھ ہر نظر سے پوشیدہ ہے ایسی جگہ جہاں بم آسانی سے نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی طیارے حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ چھپنا نہیں ہے میرے رہبر… بلکہ طوفان گزرنے تک ایک عارضی غائب ہونا ہے۔”
رہبر نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے کھڑے ہو گئے گویا تاریخ خود اٹھ کھڑی ہوئی ہو۔
وہ آگے بڑھے اور پرسکون لہجے میں پوچھا
“اور جب تم میرے پاس آئے… تو تمہیں کس جواب کی توقع تھی؟”
لاریجانی نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا:
“مجھے توقع تھی کہ آپ انکار کریں گے۔ مگر میرے رہبر، قوم کو آپ کی ضرورت ہے اور جنگ کو اپنے کمانڈر کی ضرورت ہے۔”
رہبر مسکرائے ایک ایسی مسکراہٹ جس میں غم بھی تھا اور حکمت بھی۔
تم ریاستوں کے حساب اور سیکیورٹی کی کتابوں کے مطابق درست کہتے ہو۔ مگر آؤ کچھ لمحے سیاست سے پرانی زبان میں بات کریں۔
میں کسی سپاہی سے کیسے کہوں کہ وہ موت کا سامنا کرے اگر اس کا کمانڈر خود غائب ہو جائے؟
میں لوگوں سے کیسے کہوں کہ وہ ثابت قدم رہیں… اگر خطرے کے میدان سے سب سے پہلے میں ہی نکل جاؤں؟”
وہ کچھ دیر رکے، گویا ان کے دل کے اندر کربلا کا ایک دروازہ کھل گیا ہو۔
ہم اس شخص کے بیٹے ہیں جس کا نام حسین اب علی تھا وہ امام جسے اپنے انجام کا علم تھا اور پھر بھی وہ اس کی طرف یوں بڑھے جیسے کوئی خدا کے وعدے کی طرف بڑھتا ہے۔ انہوں نے اس لیے غائب ہونا قبول نہیں کیا کہ ان کی فوج کم تھی کیونکہ آسمانوں میں ان کی ایک بڑی فوج موجود تھی۔”
لاریجانی نے کہا:
“مگر میرے رہبر، تاریخ صرف ایک صفحہ نہیں۔ ہمارے پاس ایک محمد المھدی بھی ہیں جن کی غیبت نے ہمیں سکھایا کہ کبھی کبھی غائب ہونا حکمت ہوتا ہے، خوف نہیں۔”
رہبر نے گہری سانس لی اور جواب دیا:
“فرق یہ ہے مسٹر لاریجانی کہ جب امام غائب ہوئے تو ان کے پاس نہ کوئی فوج تھی اور نہ ایسی قوم جو حق کا دفاع کر سکتی۔ مگر ہم… میں کیسے غائب ہو جاؤں جبکہ میری قوم لڑ رہی ہے؟ میں کیسے نظروں سے اوجھل ہو جاؤں جبکہ میرے سپاہی آگ کے نیچے کھڑے ہیں؟
جب ایک رہبر اکیلا ہو کر غائب ہوتا ہے تو شاید وہ حکمت ہو۔
مگر جب ایک پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہو تو اس کا غائب ہونا تاریخ کے ضمیر پر ایک بھاری سوال بن سکتا ہے۔
لاریجانی خاموش ہو گئے، ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
رہبر نے ان کا ہاتھ تھاما اور ان کی فکر مندی پر شکریہ ادا کیا۔ لاریجانی کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کو جمع کیا اور انہیں اس تجویز کے بارے میں بتایا ایک محفوظ جگہ جہاں وہ جنگ ختم ہونے تک جا سکتے تھے۔
انہوں نے اپنے رہبر کی طرف اس طرح دیکھا جیسے بچے عزت اور وقار کے معنی کو دیکھتے ہیں، اور سادہ الفاظ میں کہا:
ہم وہیں ہوں گے جہاں آپ ہوں گے۔
اور یوں وہ شخص وہیں ٹھہر گیا جہاں وہ تھا اس لیے نہیں کہ وہ خطرے سے بے خبر تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک گہری حقیقت جانتا تھا
کچھ رہنما اگر موت سے بچنے کے لیے غائب ہو جائیں، تو ممکن ہے وہ اپنی قوم کی یادوں سے بھی غائب ہو جائیں۔