K2 PAKISTAN

Call Directions Website Contact the business

K2 PAKISTAN "MOUNTAINS ARE CALLING AND I MUST GO" Our name is our introduction.

Every time you come with us, we take it as an opportunity to share our knowledge, experience and enthusiasm at such level that you might volunteer to become lifetime ambassadors of our beautiful mountains and amazing country PAKISTAN!

21/10/2026

Fresh snow on Laila Peak! ❄️🏔️The mountains are calling, and the Karakoram is waiting for your next adventure.Dreaming o...
12/10/2026

Fresh snow on Laila Peak! ❄️🏔️

The mountains are calling, and the Karakoram is waiting for your next adventure.

Dreaming of trekking, exploring remote valleys, and getting closer to Pakistan’s mighty peaks? Let K2 Pakistan help you plan your next mountain journey.

📩 Get in touch with us to start planning your adventure!

[email protected]
www.k2pakistan.com

10/10/2026
28/09/2026

اسلام آباد کی سڑک پر کھانے کا آرڈر پہنچانے والا یہ نوجوان جب موٹر سائیکل سے اترتا ہے تو لوگ رک کر اسے دیکھنے لگتے ہیں کیونکہ حمزہ علی کے پاس دونوں ٹانگیں نہیں ہیں۔

مگر اسے لوگوں کی نظریں پریشان نہیں کرتیں۔

28 سالہ حمزہ علی حادثے سے پہلے بھی فوڈ پانڈا کے لیے ڈلیوری رائیڈر تھا۔ پانچ سال قبل وہ ایک بس میں سفر کررہا تھا کہ بس ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔

اس حادثے نے حمزہ سے اس کی دونوں ٹانگیں چھین لیں۔

زندگی اچانک دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

ایک حادثے سے پہلے کی زندگی ۔۔ اور دوسری وہ زندگی جس میں بستر سے اٹھنا، گھر سے نکلنا اور معمولی سا کام کرنا بھی ایک نیا امتحان تھا۔

پہلے چھ ماہ انتہائی مشکل تھے۔

پھر ایک دن حمزہ نے خود سے کہا:

“علی، تمہیں اپنے لیے کچھ کرنا ہوگا۔”

یہ ایک جملہ کہنا آسان تھا مگر اسے حقیقت بنانا بہت مشکل۔

حمزہ نے اپنے آبائی شہر ملتان میں تقریباً تین سال ملازمت تلاش کی۔ وہ جس دروازے پر جاتا، لوگ اس کی قابلیت دیکھنے سے پہلے اس کی وہیل چیئر یا جسمانی معذوری دیکھ لیتے۔

جواب تقریباً ایک ہی ہوتا کہ تم یہ کام نہیں کرسکتے۔

حمزہ نے شہر کے لوگوں کا فیصلہ قبول نہیں کیا اور شہر بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔

2023 میں ایک دوست کے مشورے پر وہ اسلام آباد منتقل ہوگیا، جہاں نسبتاً کشادہ سڑکوں پر خصوصی موٹر سائیکل چلانا آسان تھا۔

اس نے اپنی جمع پونجی سے موٹر سائیکل میں تبدیلی کروائی۔ پاؤں کے ذریعے استعمال ہونے والے controls ہاتھوں سے چلنے کے قابل بنائے اور فوڈ پانڈا سے اپنا پرانا rider account دوبارہ فعال کرنے کی درخواست کردی۔

کمپنی نے صرف ایک سوال پوچھا:

کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ کام کرسکتے ہو؟

حمزہ نے جواب دیا:

ہاں۔

اس ایک “ہاں” کے بعد زندگی دوبارہ چل پڑی۔

آج وہ اسی موٹر سائیکل پر اسلام آباد کی سڑکوں، ٹریفک اور گرمی کے درمیان کھانے کے آرڈرز پہنچاتا ہے۔ ساتھیوں کے مطابق دوبارہ کام شروع کرنے کے بعد وہ بہترین کارکردگی دکھانے والے riders میں شامل ہوگیا۔

لوگ کبھی اس کی تصویر بناتے ہیں کبھی پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔

مگر حمزہ کو خیرات نہیں چاہیے۔

اس کا کہنا ہے کہ میں کبھی کسی سے پیسے نہیں مانگتا۔ میں اپنی روزی خود کما سکتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ معذور انسان کسی کام کا نہیں ہوتا۔

اس سفر میں اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی ماں بنی۔ وہ ماں جس نے بیٹے کو یہ نہیں بتایا کہ اس سے کیا چھن گیا ہے، بلکہ یہ سمجھایا کہ اس کے لیے اب بھی کیا ممکن ہے۔

حمزہ کی کہانی غربت کو خوبصورت بناکر پیش کرنے کی کہانی نہیں یہ ہمارے رویوں پر ایک سوال ہے۔

حادثے نے اس کی ٹانگیں لے لیں لیکن ملازمت دینے والوں نے اس کے تین سال کیوں چھین لیے؟

آخر ہم کسی انسان کی صلاحیت اس کے ہاتھ، پاؤں اور جسم سے کیوں ناپتے ہیں؟

حمزہ علی روز صرف کھانے کا آرڈر نہیں پہنچاتا۔

وہ ہر دروازے پر یہ پیغام بھی پہنچاتا ہے کہ جسم کا کوئی حصہ چلے جانے سے انسان ناکارہ نہیں ہوجاتا۔

وہ موٹر سائیکل ہاتھوں سے چلاتا ہے، گھر اپنی محنت سے اور زندگی اپنی شرائط پر گزار رہا ہے۔

لوگ اسے معذور کہتے ہوں مگر شاید معذور وہ معاشرہ ہے جو حمزہ جیسے انسان کی ہمت دیکھنے سے پہلے اس کی وہیل چیئر دیکھ لیتا ہے۔

21/09/2026

مسجد الحرام کے موذن شیخ ابراہیم المدنی پیر کی صبح وفات پا گئے ہیں۔ اسلام کی سب سے مقدس مسجد میں پیر کی صبح فجر کی پہلی اذان ان کی آخری اذان تھی۔

16/09/2026

ایک افسوسناک کراس کنٹری فلائٹ حادثہ: اسباب اور اسباق

10 ستمبر 2026ء کو صبح 10 بج کر 30 منٹ پر ہم چھ پیراگلائیڈر پائلٹوں نے زانی پاس سے کراس کنٹری فلائٹ کے لیے ٹیک آف کیا۔ ٹیک آف کے وقت موسم خوشگوار تھا۔

ہم میں سے ایک جونیئر پائلٹ نے سیدھا بونی کی طرف پرواز کی اور قاقلشٹ میں لینڈنگ کی، جبکہ ایک اور مہمان پائلٹ نے بھی کچھ وقت ہوا میں گزارنے کے بعد لینڈنگ کا رخ کیا۔ اس کے برعکس ہم دو مقامی پائلٹوں اور دو مہمان پائلٹوں نے جنوب مغرب کی جانب اپنا سفر جاری رکھا اور تقریباً 15 کلومیٹر سفر کے بعد گہکیر گاؤں کے پہاڑوں کے اوپر پہنچ گئے۔

دوپہر 12 بجے کے قریب ہم چاروں پائلٹ ایک ہی علاقے میں پرواز کر رہے تھے اور مزید بلندی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ شمال مغرب کی جانب موسم تبدیل ہو رہا ہے اور بادل پھیلتے جا رہے ہیں۔ میں نے ساجد شیرازی کو ریڈیو سیٹ پر پیغام دیا کہ محتاط رہیں، موسم میں تبدیلی آ رہی ہے۔

اسی موقع پر میں نے مرحوم آصف بھائی کو کافی نیچے پرواز کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے بار بار انہیں مخاطب کر کے کہا کہ وہ لینڈنگ کی طرف نکلیں، کیونکہ ان کے پاس مناسب بلندی نہیں تھی۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا اور وہ بدستور اپنی پرواز میں مصروف رہے۔ وہاں میری زیادہ سے زیادہ بلندی 4900 میٹر تھی۔ اسی بلندی کے ساتھ لوٹ اویر والی طویل وادی کو کراس کرنا مناسب نہیں سمجھا اور آگے بھی موسمی صورتِ حال سفر جاری رکھنے کے لیے مناسب نہیں پائی۔

لہٰذا میں نے تمام پائلٹوں سے کہا کہ واپس بونی کی طرف چلیں۔ سب نے مثبت جواب دیتے ہوئے اپنے گلائیڈر مشرق کی طرف موڑ لیے، لیکن آصف بھائی نے جواب نہیں دیا اور بدستور اسی جگہ بلندی لینے کی کوشش میں مصروف رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید میرا ریڈیو پیغام آصف بھائی کو نہیں پہنچ رہا ہے۔ شاید وہ ہم تینوں پائلٹوں کو واپس جاتے ہوئے دیکھ کر ہماری پیروی کریں گے، لیکن آصف بھائی نے شاید چترال جانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ ہم تینوں پائلٹوں نے مختلف جگہوں پر لینڈنگ کی اور دوپہر 2 بجے سے پہلے بونی پہنچ گئے۔

بونی پہنچنے پر شیرازی نے بتایا کہ آصف بھائی کا پیغام آیا تھا کہ وہ 4000 میٹر کی بلندی پر اڑ رہے ہیں اور چترال کی طرف پرواز کر رہے ہیں۔ پھر ان سے ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا اور اسی دوران ان کا حادثہ ہو چکا تھا۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون)

میرے خیال میں آصف بھائی کے حادثے کی وجوہات درج ذیل ہیں۔

محفوظ کراس کنٹری فلائٹ کے لیے سب سے بنیادی اصول مناسب بلندی برقرار رکھنا ہے، کیونکہ آپ زمین سے جتنے دور ہوں گے اتنے محفوظ ہوں گے اور جتنے قریب ہوں گے اتنے غیر محفوظ۔ خصوصاً جب کسی بلند پہاڑی، گہری وادی یا لمبی وادی کو کراس کرنا ہو تو مناسب بلندی برقرار رکھ کر پرواز جاری رکھنا لازمی اور محفوظ ہوتا ہے۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے وہاں کے موسم کو اچھی طرح جانچنا اور پرکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ پیراگلائیڈر کے پاس ہوائی جہاز کی طرح کوئی اضافی پاور نہیں ہوتی۔ یہ صرف ایروڈائنامک اصولوں کے تحت پرواز کرتا ہے، اس لیے موسم کا بہتر ہونا، نرم اور وسیع تھرمل اور ہوا کا مناسب دباؤ لازمی ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں چترال کی طرف سفر کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ اچھی بلندی تھی اور نہ اچھا موسم۔ لہٰذا کم بلندی پر پرواز کر کے لوٹ اوور وادی کو کراس کرنا اور سامنے کی بلند پہاڑیوں کو زیر کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔

اس بات کو مزید عام فہم بنانے کے لیے میں نے نقشے کے ذریعے اس علاقے کو آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ نقشے میں نیلی لائن اس روٹ کو واضح کرتی ہے جہاں سے ہم اکثر چترال کی طرف پرواز کرتے ہیں، اور سرخ لائن آصف بھائی کی پرواز کو واضح کرتی ہے، جو کم بلندی پر مختلف رکاوٹوں کو عبور کر کے نکلتی ہے۔

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ آصف بھائی کے ساتھ کیا ہوا، جو ان کے حادثے کا سبب بنا۔ جونہی کم بلندی پر آصف بھائی نے وادی کراس کرنے کی کوشش کی، لوٹ اویر اور پھاستی گاؤں کے درمیان بلند پہاڑ ان کے راستے میں رکاوٹ بن گیا۔ میرے اندازے کے مطابق جب وہ اس پہاڑی کو کراس کر رہے تھے تو ان کی بلندی 4300 میٹر سے اوپر نہ تھی۔ جونہی انہوں نے کم بلندی میں اس پہاڑی کو کراس کیا، جنوب مغرب سے چلنے والی تیز ہواؤں سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔

دوسری بات یہ کہ دن 1 بجے سے 2 بجے کے دوران اس پہاڑی کے دوسری جانب سورج کی شعاعیں براہِ راست اس علاقے پر پڑتی ہیں اور وہاں مضبوط تھرمل بنتے ہیں، جو تیز ہواؤں کے ساتھ مل کر مضبوط ٹربولینس اور روٹر پیدا کرتے ہیں۔ جونہی گلائیڈر اس علاقے میں داخل ہوتا ہے تو توازن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

تیسری بات یہ کہ آصف بھائی اس بار ENCوینگ ساتھ لیکر چترال آئے تھے۔یہ وینگ ڈائنامک اور تیز رفتار ہونے کی وجہ سے بہتر گلائیڈ ریشو دیتا ہے لیکن چترال جیسے علاقے میں اس وینگ کو کنٹرول کرنا کوئی اسان کام نہیں۔ کولیپس پڑنے کی صورت میں وینگ کو دوبارہ فلائینگ پوزیشن میں بحال رکھنے کیلئے زیادہ تجروبے کی ضرورت پڑتی ہے۔

چوتھی بات یہ کہ زمین سے کم فاصلے کی وجہ سے جونہی ان کا گلائیڈر اپنا توازن کھو بیٹھا تو انہیں سیفٹی پیراشوٹ ڈیپلائے کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ یوں پائلٹ اسپائرل یا اسپن کی حالت میں نیچے زمین سے ٹکرا گئے۔ اس طرح ہماری پیراگلائیڈنگ کمیونٹی کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

یہ حادثہ ہمارے لیے یہ سبق چھوڑتا ہے کہ کراس کنٹری فلائٹ میں مناسب بلندی، موسم کی درست پیش گوئی، ریڈیو رابطے کی مسلسل نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی کتنی اہم ہے۔ اگر موسم یا بلندی سازگار نہ ہو تو سفر جاری رکھنے کے بجائے محفوظ لینڈنگ کو ترجیح دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم آصف بھائی کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
Deputy Commissioner Upper Chitral KP-CTA-Tourist Information Centre, Chitral Sajid Ur Rahman Shah Fourman Raees Chitrali Pakistan Hang Gliding & Paragliding Association

Address

Skardu
16000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when K2 PAKISTAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to K2 PAKISTAN:

Shortcuts

Share

Category