D-Y Utraa Law Associates

D-Y Utraa Law Associates Expertise Meets Experience

Legal Solutions for Life's Challenges

ابراہیم، گل محمد اور سمیرا بی بی ہنڈا کار میں لاہور سے اسلام آباد کی طرف براستہ موٹروے جا رہے تھے کہ پنڈی بھٹیاں انٹرچین...
03/08/2026

ابراہیم، گل محمد اور سمیرا بی بی ہنڈا کار میں لاہور سے اسلام آباد کی طرف براستہ موٹروے جا رہے تھے کہ پنڈی بھٹیاں انٹرچینج پر پولیس نے ناکے پر انہیں روکا۔ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اسلام آباد کا اور اسے ابراہیم چلا رہا تھا۔ پولیس نے گاڑی کی تلاشی لی تو ابراہیم کے پاؤں کے قریب سے چرس کے 13 کلو وزنی 11 پیکٹ برآمد ہوئے۔ ابراہیم (ڈرائیور) کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر گل محمد بیٹھا ہوا تھا، اسکے پاؤں رکھنے کی جگہ کے قریب سے چرس کے 12 کلو وزنی 10 پیکٹ برآمد ہوئے۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سمیرا بیٹھی ہوئی تھی۔ اسکی تلاشی لیڈی کانسٹیبل نے لی تو صرف ایک موبائل برآمد ہوا۔

یہ 21 مئی 2017 کا دن تھا۔ ملزمان کو گرفتار کرکے FIR درج کی گئی، جس میں مرد ملزمان پر منشیات رکھنے اور منتقل کرنے، جبکہ خاتون ملزمہ پر انکی مدد و اعانتِ جرم کا الزام لگایا گیا۔ ضبط شدہ منشیات میں سے نمونے فرانزک کیلئے بھجوائے گئے۔ پنڈی بھٹیاں کی عدالت میں مقدمہ چلا۔ ناکے پر روکنے والے سب انسپکٹر افضل حسین اس دوران انتقال کر گئے، اس لیے وہ بطور گواہ پیش نہ ہو سکے۔ البتہ بقیہ پولیس ٹیم عدالت میں پیش ہوئی۔ عدالت نے 26 ستمبر 2018 کو فیصلہ سنایا، جس میں مرد ملزمان کو عمر قید و جرمانہ، اور خاتون کو سولہ سال، آٹھ ماہ قید و جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں۔

ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جو 12 مئی 2023 کو خارج ہوگئی، جس پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں تین رکنی بنچ نے جون 2025 میں کیس کی سماعت کی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے فیصلہ تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ابراہیم (ڈرائیور) اور گل محمد دونوں کے پاؤں کے قریب سے منشیات کی برآمدگی ٹھوس شواہد سے ثابت ہوئی۔ گواہان نے ثابت کیا کہ منشیات کے نمونے موقع سے لے کر تھانے اور پھر فرانزک ایجنسی تک بحفاظت پہنچائے گئے اور فرانزک رپورٹ بھی مثبت آئی۔ پولیس گواہان پر کی گئی جرح میں انکی کوئی بدنیتی یا پرانی دشمنی ثابت نہیں ہوئی، اس لیے انکی گواہی کو محض پولیس اہلکار ہونے کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا ان دونوں کی حد تک نچلی عدالتوں کا فیصلے بالکل درست ہیں۔

البتہ سمیرا کا کردار باقی دو ملزمان سے بالکل مختلف تھا، کیونکہ وہ صرف گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی تھی۔ اسکے قبضے سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئیں۔ پولیس ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی جس سے ظاہر ہو کہ سمیرا کو اگلی نشستوں کے نیچے رکھی منشیات کا علم تھا۔ قانون کے مطابق "قبضے" کا مطلب صرف کسی چیز کے قریب ہونا نہیں، بلکہ اس پر شعوری اور ارادی کنٹرول ہونا ہے۔

سمیرا بی بی پر FIR میں جرم میں مدد کرنے کا الزام تھا، لیکن پولیس نے اسکی منصوبہ بندی یا جرم میں عملی شرکت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ نہ ہی یہ ثابت ہوا کہ منشیات کھلے عام پڑی تھیں اور اسے نظر آ رہی تھیں۔ شک کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، وہ ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا، اور شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملنا چاہیے۔ گاڑی میں محض موجودگی سزا کیلئے کافی نہیں۔

سپریم کورٹ نے ابراہیم اور گل محمد کی عمر قید و دیگر سزائیں برقرار رکھیں اور سمیرا بی بی کی سزا ختم کر کے اسے بری کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ ممکن ہے سمیرا کو اس وجہ سے سوار کیا گیا ہو کہ فیملی سمجھ کر پولیس تلاشی نہ لے۔ بہرحال، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے جیل میں آٹھ سال گزارنے پڑ گئے۔ فری کے چکر میں گاڑیوں میں لفٹ لینے کے شوقین حضرات یہ فیصلہ ضرور پڑھیں۔

30/07/2026

اگر ایک جُڑے ہوئے (Conjoined) جڑواں بچے ہوں، تو کیا دونوں کو باپ کی وراثت میں الگ الگ حصہ ملے گا؟ 🤔

28/07/2026

ایک وکیل کے خلاف قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست زیرِ سماعت ہے۔ مخالف فریق کا مؤقف ہے کہ وکیل مقامی بار کا بااثر رکن ہے اور اسے جان کا خطرہ ہے۔ کیا سیشن جج ضمانت کی درخواست دوسری عدالت منتقل کر سکتا ہے؟

28/07/2026

لاہور ہائیکورٹ نے نادراشناختی کارڈ اورشہریت کیس کا فیصلہ سنا دیا،عدالت نے مشکوک شہریت کیسز میں سول عدالتوں کا دائرۂ اختیار ختم کردیا۔

نجی ٹی وی چینل’’ دنیا نیوز‘‘ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نادرافیصلوں کے خلاف براہ راست سول سوٹ یا رٹ پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوگی۔
فیصلے میں مشکوک شہریت کیسز میں نادراویری فیکشن بورڈ اور وفاقی حکومت سے رجوع لازمی قراردیدیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سول عدالت اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے نادرا کی اپیل منظورکرلی۔
فیصلے میں کہا گیا ہےکہ متبادل قانونی فورسز مکمل ہونے تک سول عدالت دعویٰ نہیں سن سکتی،جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی سول نظرثانی درخواست پرفیصلہ جاری کیا،والد یا دادا کی 1979سے قبل پاکستان میں رہائش کے ثبوت پیش کرنالازمی قراردیدیا گیا۔

وہ یکم فروری 2026 کا منحوس دن تھا، جب مجھے زندگی کی سب سے بڑی تکلیف اُٹھانا پڑی۔ یکم فروری کی شام میری ساڑھے چھ سالہ بیٹ...
22/07/2026

وہ یکم فروری 2026 کا منحوس دن تھا، جب مجھے زندگی کی سب سے بڑی تکلیف اُٹھانا پڑی۔ یکم فروری کی شام میری ساڑھے چھ سالہ بیٹی عِزّہ نوید سرگودھا کی آٹھ سالہ ننھی شہید منتہٰی نامی بچی کی مانند گلی کی نُکّر پر بَرلبِ سڑک تھانہ روڈ تلمبہ ' ملک کریانہ سٹور ' پر صابن لینے گئی۔ دکان پر موجود شاہزیب نامی درندے نے میری بیٹی کا ہاتھ پکڑا اور مٹھی میں بند پچاس روپے لے کر اسے چھت پر لے گیا، کہ " تجھے کھلونے دوں گا اور صابن بھی وہیں رکھا ہے"۔) چھت پر اس درندے نے میری معصوم بیٹی کو نوچنے کے ارادے سے برہنہ کرنا شروع کیا تو میری بیٹی نے حواس باختہ ہو کر چیخنا چِلانا شروع کر دیا.۔۔۔ اللہ کی طرف سے معجزہ ہوا کہ میری بیٹی کسی طرح چھت سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی، روتے ہوئے نیچے اتر آئی اور گھر کی طرف چل پڑی. یہ درندہ بچی کے پیچھے گلی میں گھر تک آیا اور میری معصوم بیٹی کو ڈرانے بہلانے لگا کہ گھر کچھ نہیں بتانا، میری بیٹی کے رونے کی آواز سن کر میرا چھوٹا بھائی کامران، کزن آصف باہر نکلے اور ماجرا جاننے کی کوشش کی، اسی دوران میری بیگم جو دروازے کے پَٹ پیچھے کھڑی سب سُن دیکھ رہی تھی نے مجھے فون کیا اور فوراً گھر آنے کا کہا مَیں بھی موقع پر پہنچ گیا۔۔۔ درندگی کی کوشش ناکام بنانے کے بعد میری ساڑھے چھ سالہ بیٹی کے خوف سے کانپتے وجود نے مجھے غم و غصے میں رونے پر مجبور کر دیا اور مَیں دھاڑیں مار کر رویا۔۔۔۔ درندے شاہزیب کے ورثاء کو فون کیا اور ساتھ ہی مَیں نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر دی چند منٹوں بعد پولیس کی وَین مع نفری میرے گھر کے باہر موجود تھی، مَیں نے درندے شاہزیب کو پولیس افسران کی تحویل میں دے دیا۔۔۔۔
اسی شام سابقہ DPO خانیوال محترم اسماعیل الرحمٰن کھاڑک قریبی شہر عبدالحکیم میں بارہ سالہ زَین اوڈ نامی بچے کے جنازے میں شرکت کےلیے آئے تھے، وہ بچہ بھی شاید جنسی درندگی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
قریب رات ساڑھے دس بجے SHO تھانہ تلمبہ کے حکم کے بعد درندے شاہزیب پر ایف آئی آر دے دی گئی۔ میرا کیس محمد حبیب نامی سب انسپکٹر کے سپرد کر دیا گیا۔ میرے ساتھ تمام پولیس افسران نے خلافِ معمول اچھا رویہ رکھا۔ اس ناکام مگر سنگین ترین جرم کی کوشش پر پولیس افسران بھی افسردہ دکھائی دیے۔۔۔ مُجھے مجرم ملزم پکڑ دھکڑ سے زیادہ اپنی بیٹی پر لِپٹے خوف کے غلاف سے سخت فکر لاحق ہو رہی تھی کہ اس کے معصوم ذہن سے یہ ہولناک حادثہ کیسے مٹایا جائے اور اسے کیسے نارمل کیا جائے۔۔۔۔ شدید رنج و الم مختلف وسوسوں اور طرح طرح کے خیالات نے مجھ سے میری نارمل زندگی کا چلن چھین لیا۔ مَیں اس رات سے آج رات تک چَین سے نہیں سویا، خواب آور دوا لینے کے بعد بھی نیند میری آنکھوں سے سَو کوس دُور رہتی ہے۔ اگر یہ درندہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتا تو اس نے اپنا جرم چھپانے کی خاطر منتہٰی کی مانند اگلا قدم یہ ہی اٹھانا تھا کہ یہ میری معصوم بیٹی کو جان سے مار دیتا اور معصوم لاش کی بے حُرمتی کرتا۔۔۔ مجھے ایسے ہی خیالوں نے اندر سے بیمار کر دیا۔ پھر مجھے یہ دکھ کھانے لگا کہ اگر یہ درندہ صفت رہا ہوکر آگیا تو پھر اِسی دکان پر بیٹھے گا۔ میری بیٹی بھی روز اسی گلی سے گزرے گی۔۔۔ تب اس کے دل و دماغ پر کیا گزرے گی ۔۔ دوسری جانب میری بیوی کو شدتِ غم سے ہسٹریا ٹائپ دَورے پڑنے لگے۔
درندرہ شاہزیب تفتیش میں اقرارِ جرم کر کے تھانے سے جوڈیشل ہوگیا۔۔۔۔
اسی دوران مجھ سے صلح صفائی معافی تلافی کے بابت بہت سارے لوگوں نے رابطے کیے، میرے والد، میرے بھائی، میرے رشتہ داروں میری والدہ تک رسائی حاصل کی گئی۔ میری والدہ جو کہ بہت نرم مزاج خاتون ہے، مجھے کہنے لگی کہ " بیٹا تم اسے معاف کر دو اللہ نے تری بیٹی صحیح سلامت واپس بھیج دی ہے " مزید دشمنیاں پیدا مت کر کیونکہ میری ماں جزا سزا سے بڑھ کر مجھے محفوظ دیکھنا چاہتی ہے کہ تم دو بھائی ہو، تمہیں کچھ نہ ہو" وغیرہ وغیرہ .. مزید ستم یہ کہ درندے شاہزیب کے ورثا کی جانب سے مجھ پر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ یہ دکان ہتھیانا چاہتا ہے، یہ بیس پچاس چالیس سو لاکھ مانگتا ہے، حتی کہ میرے مخالف بھی جانتے ہیں کہ مجھے کوئی خرید نہیں سکتا، میری قیمت نہیں لگ سکتی، اور پھر ساڑھے چھ سالہ بیٹی کو بھی کوئی یوں ذلیل کرتا ہے۔۔ میں اگر یہاں سفارشیوں کے نام لکھنے لگ جاؤں تو ایک الگ تحریر بن جائے گی۔
اصلی ذہنی کرب اور اذیت کا سفر تب شروع ہوا جب مجھے چند دن بعد بسلسلہِ تعمیل حکم نامہِ عدالت تھانے سے کال موصول ہوئی کہ "صبح آپ نے عدالت پہنچنا ہے" ۔۔۔ مَیں اور میری معصوم بیٹی محترم جج ظفر اقبال صاحب کی عدالت پہنچے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی خاطر محترم جسٹس نے میری بیٹی سے سوال کیا کہ اس دن کیا ہوا تھا، اس سوال کے بعد مَیں نے کمرہِ عدالت میں چینخنا چاہا مگر اپنے مُنھ پر ہاتھ رکھ لیا کہ کہیں توہینِ عدالت کا مرتکب نہ ہو جاوں، وہ سوالات کے چند منٹ مجھ پر قیامت کی طرح بھاری گزرے کہ " مَیں جس ہولناک واقعے کو اپنی معصوم بیٹی کے ذہن سے مٹانا چاہتا ہوں وہ پھر تازہ ہو گیا"
مَیں نے فقط اپنی بیٹی کو وقوعہ کی غلیظ یاداشتوں سے دُور کرنے کی خاطر وہیں عدالت میں جج صاحب کو عرض کی کہ " یہ سانحہ 100% سچا ہے، بس گزارش ہے کہ میری معصوم بیٹی کو دوبارہ نہ بلایا جائے میری بَلا سے اس درندے کو سزا دو یا چھوڑ دو مجھے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔۔۔ بس ہم اس حادثے، وقوعہ اور صدمے سے نکلنا چاہتے ہیں،
وَیسے وکیل کسی کا بھی کیس لے سکتا ہے مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسا کیس کوئی بھی زندہ ضمیر وکیل نہیں لیتا، سَچّل کی ساڑھے چھ سالہ معصوم بیٹی متاثرہ ہے یہ جاننے کے بعد تلمبہ کے چار پانچ وکلاء نے درندے شاہزیب کا کیس لینے سے ہی انکار کر دیا، پھر میرے شہر کے ایک معتبر وکیل نے وکیلِ دفاع کا ایگریمینٹ سائن کیا، مَیں نے اسی معتبر وکیل دوست کو اسی دن وہیں عدالت میں کہا کہ " نہ مَیں اپنے بیان بدلوں گا نہ جھوٹا حلف قران اٹھاؤں گا " بس میری معصوم بیٹی کو عدالت میں نہ آنا پڑے اور دوبارہ کوئی اس سے سوال نہ کرے "
میں نے اس غلیظ مکروہ کیس سے نکلنے کی خاطر اور اپنی بیٹی کی ذہنی صحت کی خاطر جلدی میں اک کاغذ پر سائن انگوٹھے لگائے اور کسی وحشت زدہ ڈرے ہوئے انسان کی مانند اپنی بیٹی کو اٹھایا اور عدالت سے سَر پَٹ نکل آیا ۔۔۔
مجھے قطعاً اندازہ نہ تھا کہ قانون کا اپنا ایک الگ پیمانہ ہے، مجھے چند دن بعد ہمراہ بیٹی محترم جج ذوالفقار احمد کی عدالت میں بلایا گیا، میری معصوم بیٹی سے وہی سوالات ہوئے، مَیں نے پھر بےبسی میں یہاں تک کہا کہ درندے کو چھوڑو یا نہ چھوڑو ہمیں چھوڑ دو،
چند دن بعد مجھے صبح چھ بجے پولیس اہلکار کا فون آیا کہ آپ کو ملتان ہائیکورٹ کا پابند کیا گیا ہے کہ وہاں جسٹس لاہور ہائیکورٹ سر طارق سلیم شیخ صاحب کی عدالت میں آج نو بجے تک بیٹی کو لے کر لازمی پہنچنا ہے، اس دن مَیں کبیروالا انٹرچینج تک پہنچا تھا کہ میری بائیک کا ٹائر بلاسٹ ہوگیا، میرے پہنچنے تک عدالت برخاست ہوچکی تھی۔
چند دن بعد اگلی پیشی پھر ملتان ہائیکورٹ بنچ میں جسٹس جناب جواد ظفر صاحب کی عدالت میں تھی، یہاں میرا دفعہ 164 کا بیان لگا ہوا تھا ایسا بیان جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا کہ " وقوعہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا ہے وغیرہ وغیرہ " جسٹس جواد ظفر صاحب نے جب مجھ سے میرے ملزم کے وکیل کی جانب سے پیش کیے گئے انحرافی بیان بارے پوچھا تو مَیں نے صاف بتا دیا کہ " جب میں نے ابھی تک کوئی وکیل ہی نہیں کیا تو میرا بیان کیسے آگیا؟؟ ہاں وکیل صاحب نے مجھ سے سیشن کورٹ میانچنوں میں اک کاغذ پر سائن ضرور کرائے تھے"
جسٹس صاحب نے اگلی تاریخ پر ہائیکورٹ کا وکیل کھڑا کرنے کا حکم دے کر مجھے بھیج دیا. ہائیکورٹ کے وکیل بڑی عدالت کے حساب سے فیس بھی بڑی لیتے ہیں، خیر یہاں یہ کارِ خیر میرے کلاس فیلو میاں نثار حیدر تھہیم ایڈووکیٹ نے انجام دیا ۔۔۔ مَیں نے نثار حیدر ایڈووکیٹ کو 6 ہندسوں میں فیس کی رقم بھیجی، محترم نثار حیدر نے وہی رقم یہ کہہ کر واپس میرے اکاونٹ میں بھیج دی کہ " یہ کیس سمجھو میری بیٹی کا ہے، میں اس کیس میں ایک روپیہ بھی نہیں لوں گا "
اس کے بعد پھر اگلی بار ہائیکورٹ ملتان بینچ جسٹس جناب طارق سلیم شیخ صاحب کے روبرو پیش ہونا پڑا، اس بار محترم جسٹس نے ملزم کی ضمانت کی اپیل رد کر دی اور کیس واپس سیشن کورٹ میانچنوں بھیج دیا۔۔۔۔
مَیں مدعی ہوں متاثرہ بچی کا باپ ہوں اور اب تک محترمہ میمونہ لاشاری، جسٹس جناب ظفر اقبال، جسٹس جناب ذوالفقار احمد، جسٹس جناب اختر عباس، جسٹس لاہور ہائیکورٹ بینچ محترم طارق سلیم شیخ صاحب، جسٹس لاہور ہائیکورٹ محترم جواد ظفر صاحب، جسٹس جناب ریاض احمد صاحب، کُل ملا کر سات ججز کی عدالتوں میں متعدد بار جا چکا ہوں۔۔۔۔ ابھی مزید اندھے صحرا میں کتنا سفر باقی ہے مجھے کوئی ادراک نہیں ۔۔۔۔ ہاں مگر!!! مجھے یہ ادراک ضرور ہوا کہ انصاف کے ترازو کی چھاؤں تلے آپ کے جذبات کی حیثیت متروک کرنسی جتنی بھی نہیں ہے۔ سسٹم کو اس امر سے کوئی غرض نہیں ہے کہ اک باپ اور اس کی ساڑھے چھ سالہ معصوم بیٹی پر بار بار مختلف عدالتوں میں ایک ہی طرز کے سوالات کیسا نفسیاتی اثر ڈال رہے ہیں۔۔؟؟؟
ان چھ ماہ کے دوران مَیں راتوں کو یہ ہی سوچتا رہا ہوِ کہ معصوم بچوں کو جنسی درندوں سے کیسے بچایا جائے، جو نکات میرے ذہن میں آتے وہ میں لکھتا رہتا تھا، مگر سب بیکار!!!! آخر مَیں اس نتیجے پر پہنچا کہ " بچے پیدا کرنا ہی بند کر دیں تو مسئلے کا حل ممکن ہے، کیونکہ حکومت سوائے مار دھاڑ کے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی درندگی کے سانحات پر کوئی سنجیدہ لائحہِ عمل تیار کرنے کے حق میں نہیں ہے۔۔ مَیں مایوس ہو کر لکھ رہا ہوں " اگر منتہٰی کی مانند میری بیٹی درندگی کا شکار ہونے کے بعد موت کی نیند سُلا دی جاتی تو گزرے کل 13/07/26 میرا مخالف وکیل میری ساڑھے چھ سالہ بیٹی سے جرح نہ کر رہا ہوتا پھر سسٹم سیمت سب کو یقین آ جاتا کہ واقعی ہی غلط ہوا ہے "
اس سانحے کے صدمے اور غم نے مجھ سے میری مسکراہٹ کے ساتھ بینائی بھی چھین لی ہے، مَیں نے کتابیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں، لوگوں سے میل ملاپ کم کر دیا ہے، سوشل میڈیا کی سرگرمیاں بند کر دی ہیں، شدتِ غم، ڈپریشن، بےبسی نے میری آنکھوں کو شدید متاثر کیا ہے اب مجھے دھندلا دکھائی دیتا ہے، میرے مزاج میں تلخی آگئی ہے میرے اکثر قریبی دوست اس تبدیلی کا ذکر شکوے کی صورت میں کرتے ہیں۔۔۔ مَیں شدید مایوس ہوں، مَیں اپنے روزمرہ کے سب کام اس سانحے سے پہلے کی مانند کرنے کی بھرپور اداکاری کر رہا ہوں، مگر مَن چاہتا تھا کہ کاشششش کبھی ایسا ہو کہ کسی صبح میری آنکھ کھلے اور مَیں اپنے بچوں کو ایسی دھرتی پر پاؤُں جہاں وہ بالکل محفوظ ہَوں کوئی درندہ ان کو چیرنے پھاڑنے کےلیے موجود نہ ہو ۔۔۔
سَچل

21/07/2026

جيڪڏهن ڪو ماڻهو وياج (انٽريسٽ) ڏيندو رهيو هجي پر اصل رقم ادا نه ڪري سگهيو هجي ته 🤔👁️⚖️😲!

قانون ڇا چوي ٿو؟
جيڪڏهن ڪنهن شخص ڪنهن کان وياج تي قرض ورتو هجي ۽ هو هر مهيني اصل رقم کان علاوه صرف وياج ادا ڪندو رهيو هجي، ته اهڙي صورت ۾ عدالت سان رجوع ڪرڻ تي عدالت Sindh Prohibition of Interest on Private Loans Act, 2023 جي سيڪشن 10 تحت حڪم ڏئي سگهي ٿي
ته اڄ تائين جيڪا به رقم وياج جي نالي ۾ ادا ڪئي وئي آهي ان کي اصل رقم (Principal Amount) ۾ شمار ڪيو وڃي ۽ قرض ڏيندڙ جي دعويٰ ڪيل اصل رقم مان اها رقم ڪاٽي وڃي.....

نوٽ✍️

قانون موجب ڪنهن به شخص کي وياج وٺڻ جو حق حاصل ناهي. عدالت ڪنهن به صورت ۾ وڌيڪ وياج ڏيڻ جو حڪم نٿي ڏئي جيڪو به وياج اڳ ۾ ادا ڪيو ويو هوندو ان کي اصل رقم ۾ شمار ڪري اصل رقم مان گهٽايو ويندو ۽ قرض ڏيندڙ وڌيڪ وياج جي دعويٰ نٿو ڪري سگهي....!
جيڪڏهن توهان به وياج جي آزار کان پريشان آهيو ته عدالت سان رجوع ڪريو⚖️📞

عدالت توهان کي قانوني تحفظ فراهم ڪري سگهي ٿي ۽ وياج وٺندڙ شخص خلاف قانون موجب ڪارروائي به ٿي سگهي ٿي...
پنهنجن قانوني حقن کان واقف ٿيو....

ٽيم عباسي لا ايسوسيئيٽس هميشه توهان کي قانوني سهائتا فراهم ڪرڻ لاءِ تيار آهي...

ايڊووڪيٽ
محسن سجاد
قانوني صلاح لاءِ روزانو شام 6:00 کان 8:00 وڳي تائين واٽس ايپ يا ڪال ذريعي رابطو ڪريو:
03337103360
🙅✍️⚖️













’’پہلے بھی کہا تھا یہ جج نہیں ایک منفی سوچ کا انسان ہے‘‘ حافظ طاہر اشرفی کا مونال کیس فیصلے کے بعد قاضی فائز پر تبصرہ
13/07/2026

’’پہلے بھی کہا تھا یہ جج نہیں ایک منفی سوچ کا انسان ہے‘‘ حافظ طاہر اشرفی کا مونال کیس فیصلے کے بعد قاضی فائز پر تبصرہ

*⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا طلاقِ فقہ جعفریہ پر تاریخی فیصلہ! (2026 CLC 1) 📜**​کیا صرف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجنے سے فقہ...
30/06/2026

*⚖️ اسلام آباد ہائی کورٹ کا طلاقِ فقہ جعفریہ پر تاریخی فیصلہ! (2026 CLC 1) 📜*

*​کیا صرف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجنے سے فقہ جعفریہ (شیعہ مسلک) میں طلاق ہو جاتی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح اور بڑا فیصلہ سنا دیا! 🛑*
`​کیس کی کہانی:`
*بشریٰ حسین بنام چیئرمین ثالثی کونسل کیس میں شوہر نے طلاق کے کاغذات تو بھیجے لیکن صیغہ طلاق نہیں پڑھا تھا، پھر بھی یونین کونسل نے طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ ہائی کورٹ نے اس سرکاری سرٹیفکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا!*
*`​⚡ عدالت نے طلاقِ جعفریہ کے لیے 4 لازمی شرطیں طے کر دیں:`*

*1️⃣ طلاق صرف شوہر کی اپنی آزاد مرضی سے ہو۔ (غصے یا زبردستی کی طلاق قابلِ قبول نہیں)۔*

*2️⃣ شوہر خود یا اس کا مجاز وکیل طلاق دے۔*

*3️⃣ عربی الفاظ (صیغہ طلاق) زبان سے ادا کرنا فرض ہے۔*

*4️⃣ صیغہ پڑھتے وقت کم از کم 2 عادل مسلمان مرد گواہ موقع پر موجود ہوں۔*
*​💡 عدالت کا بڑا رولنگ (Ratio Decidendi):*
*قانون میں لکھا لفظ "May" (کر سکتا ہے) یہاں اختیاری نہیں بلکہ "Must" (لازمی) ہے۔ جب تک گواہوں کے سامنے زبانی عربی صیغہ نہیں پڑھا جائے گا، تب تک طلاق مؤثر (Effective) نہیں ہوگی، چاہے کتنے ہی کاغذی نوٹس بھیج دیے جائیں!*

*"​آئندہ کوئی بھی یونین کونسل عربی صیغے اور گواہوں کی تصدیق کے بغیر شیعہ فریقین کو طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتی۔ ⚖️✨"*
آگے شیئر کریں
Copied

*⚖️ Islamabad High Court's Landmark Judgment on Divorce under Ja'fari Fiqh! (2026 CLC 1) 📜*

*Can a divorce under Ja'fari Fiqh (Shia school of thought) become valid merely by sending written divorce papers? The Islamabad High Court has delivered a clear and significant ruling: No. 🛑*

`Case Summary:`

*In the case of Bushra Hussain v. Chairman Arbitration Council, the husband sent written divorce documents but did not pronounce the Arabic formula of divorce (Ṣīghah al-Ṭalāq). Despite this, the Union Council issued a divorce certificate. The High Court declared the certificate unlawful and set it aside.*

*⚡ The Court laid down four essential conditions for a valid divorce under Ja'fari Fiqh:*

*1️⃣ The divorce must be pronounced by the husband of his own free will (not under coercion or compulsion).*

*2️⃣ The divorce must be pronounced either by the husband himself or by his duly authorized representative.*

*3️⃣ The Arabic formula of divorce (Ṣīghah al-Ṭalāq) must be verbally pronounced.*

*4️⃣ At the time of pronouncement, at least two just (ʿādil) Muslim male witnesses must be present.*

*💡 Key Legal Ruling (Ratio Decidendi):*

*"The Court held that the word "may" in the relevant law is mandatory in this context and must be interpreted as "must." Therefore, unless the Arabic formula of divorce is verbally pronounced in the presence of the required witnesses, the divorce does not become legally effective, regardless of any written notices or documents."*

*Accordingly, Union Councils cannot issue divorce certificates for Shia parties without verification that the Arabic formula was pronounced before the required witnesses. ⚖️✨*

27/06/2026

سپریم کورٹ نے منشیات مقدمہ میں گاڑی ڈرائیور جس کے گاڑی کے خفیہ خانوں* #12کلوہیروئن برآمدگی میں عمر قید کی سزا کالعدم کرتے ہوئے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ* نموناجات ،مال مقدمہ کے پارسل ہائے
*چین آف کسٹڈی ٹوٹ گئی - 12 کلو منشیات کا کیس میں عمر قید کی سزا کالعدم/ختم! ثبوت مشکوک ہونے پر ملزم بری*ANF کی تفتیش پر سوالیہ نشان: 12 کلو ہیروئن کیس میں بڑی غفلت*
# # #*12 کلو ہیروئن پکڑی گئی، پھر شک و شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری! عدالت نے وجہ بتا دی*
# #فی پیکٹ 1 کلو ہیروئن تھا، عدالت میں مال مقدمہ کے پیکٹ وزن کرنے پر صرف 669 گرام نکلا - کیس عدم ثبوت پر ختم*
# #*منشیات سمگلر کو نا گرفتار کیا گیا؟*
*رجسٹر میں اندراج نہیں = عمر قید ختم! سپریم کورٹ کا فیصلہ*
# # # *قانونی نکتہ ہائی لائٹ*
9. *منشیات کیس کا سنہری اصول: چین آف کسٹڈی ٹوٹے تو سزا نہیں*
*FSL رپورٹ کی کوئی ویلیو نہیں اگر سیمپل کی حفاظت ثابت نہ ہو*
*اصل سمگلر کو ملزم نہ بنایا - کیس کمزور ہو گیا*

*جسٹس اشتیاق ابراہیم، جے:* استغاثہ کا مقدمہ، مختصراً، FIR نمبر 117 مورخہ 31.08.2019 کے مطابق، جو تھانہ ANF پشاور میں کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 کی دفعہ 9(c) کے تحت درج ہوئی، یہ ہے کہ:
خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کہ ایک بدنام سمگلر عمر گل اپنے مبینہ ایجنٹ، درخواست گزار صدام شاہ کے ذریعے ٹویوٹا کرولا نمبر EA-402 پر پشاور سے اسلام آباد منشیات اسمگل کر رہا ہے، ہارون رشید انسپکٹر ANF (PW.3) دیگر اہلکاروں کے ہمراہ موٹر وے ٹول پلازہ پشاور پر گاڑیوں کی چیکنگ کے لیے پہنچے۔ رات 2 بجے کے قریب مذکورہ گاڑی، جو مبینہ طور پر درخواست گزار چلا رہا تھا، روکی گئی۔ تلاشی پر گاڑی کی پچھلی سیٹ کے نیچے فیول ٹینک میں بنے خفیہ خانے سے 12 پیکٹ ہیروئن برآمد ہوئی، کل وزن 12 کلو۔ ہر پیکٹ سے 10 گرام سیمپل کیمیکل تجزیہ کے لیے FSL کو بھیجنے کے لیے الگ کر کے سیل کر دیے گئے۔ باقی مال بھی الگ سیل کر کے برآمدگی میمو Exh.PW.3 3/1 کے ذریعے قبضے میں لیا گیا۔ درخواست گزار کی ذاتی تلاشی پر اصل CNIC، گاڑی کا رجسٹریشن بک، 2 سم والا موبائل، کچھ چابیاں اور 6000 روپے نقد بھی اسی میمو سے قبضے میں لیے گئے۔ اس کے بعد انسپکٹر ہارون رشید نے مسیلہ Exh.PW.3 3/2 تیار کر کے کانسٹیبل شہاب علی کے ذریعے تھانے بھیجا، جہاں FIR درج ہوئی۔ اس نے سائٹ پلان Exh.PW.3/3، گرفتاری کارڈ Exh.PW.3/4، سیمپل کیمیکل جانچ کی درخواست Exh.PW.3/5، گاڑی کا انوینٹری Exh.PW.3/6 بھی بنایا اور 161 ض ف کے تحت گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ تھانے واپس آ کر درخواست گزار کو محر کے حوالے کر کے لاک اپ میں بند کیا، جبکہ مال مقدمہ بشمول سیل شدہ پارسل مہتمم مال خانہ کے پاس محفوظ تحویل میں دیا گیا۔

*2.* تفتیش مکمل ہونے پر دفعہ 173 ض ف کی رپورٹ خصوصی عدالت CNS پشاور "ٹرائل کورٹ" میں پیش ہوئی۔ مکمل سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ نے 15.05.2023 کے فیصلے سے درخواست گزار کو دفعہ 9(c) ایکٹ 1997 کے تحت عمر قید + 10 لاکھ جرمانہ کی سزا دی، عدم ادائیگی پر 3 سال سادہ قید مزید۔ دفعہ 382-B ض ف کا فائدہ بھی دیا گیا۔

*3.* درخواست گزار کی اپیل پشاور ہائی کورٹ نے 16.04.2024 کو مسترد کر دی اور سزا برقرار رکھی۔ اس سے نالاں ہو کر درخواست گزار نے اجازت اپیل کی درخواست دائر کی۔

*4.* ہم نے درخواست گزار کے وکیل اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل خیبر پختونخوا کو سنا اور ریکارڈ، شہادت اور زیریں عدالتوں کے فیصلے غور سے پڑھے۔

*5.* شروع سے استغاثہ کا کیس خفیہ اطلاع پر تھا کہ بدنام سمگلر عمر گل اپنے ایجنٹ صدام شاہ کے ذریعے منشیات اسمگل کرے گا۔ ریکارڈ خاموش ہے کہ PW ہارون رشید انسپکٹر، جو برآمدگی افسر اور تفتیشی افسر بھی تھے، نے عمر گل کو ملزم نامزد کرنے یا اس کے خلاف ض ف کی دفعات 87، 88، 204 کے تحت کارروائی کرنے کی کوئی کوش کی ہو۔ عمر گل کو چالان میں مفرور ملزم کے کالم میں بھی نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی استغاثہ نے اس غفلت کی وضاحت دی۔ تسلیم شدہ ہے کہ گاڑی درخواست گزار کی ملکیت نہیں تھی بلکہ موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت اللہ خان کے نام رجسٹرڈ تھی، جسے نہ ملزم بنایا گیا نہ گواہ پیش کیا گیا۔ بلاشبہ ANF کا فرض ملک سے منشیات اسمگلنگ ختم کرنا ہے، لہذا ان کی اس کمزور تفتیش کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

*6.* PW ہارون رشید انسپکٹر کے جرح کے دوران پارسل نمبر 13 جس میں مبینہ مال مقدمہ ہیروئن تھی، ٹرائل کورٹ کے سامنے کھول کر تولا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے ہر پیکٹ کا وزن یوں نوٹ کیا: پیکٹ 1-949 گرام، 2-971 گرام، 3-961 گرام، 4-669 گرام، 5-965 گرام، 6-984 گرام، 7-922 گرام، 8-968 گرام، 9-958 گرام، 10-996 گرام، 11-965 گرام، 12-972 گرام۔ استغاثہ کے اپنے کیس کے مطابق ہر پیکٹ 1 کلو تھا اور 10 گرام سیمپل FSL کے لیے الگ کیا گیا تھا، تو ہر پیکٹ کا بقیہ وزن 990 گرام ہونا چاہیے تھا۔ لیکن تولنے پر کوئی پیکٹ بھی 990 گرام کا نہیں نکلا۔ یہ مادی تضاد استغاثہ کے ورژن کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ برآمد شدہ چیز برآمدگی افسر کے ورژن سے مطابقت نہیں رکھتی۔

*7.* استغاثہ تھانے سے FSL تک ہیروئن کے سیمپل کی محفوظ تحویل اور ترسیل بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ جرح میں PW ہارون رشید انسپکٹر نے رجسٹر نمبر 19 کے سامنے تسلیم کیا کہ اس رجسٹر میں سیمپل FSL بھیجنے کا کوئی اندراج نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ بات رجسٹر 21 اور کانسٹیبل ساجد خان کے بیان میں لکھی ہے، لیکن مانا کہ روزنامچہ میں 02.09.2019 کو کانسٹیبل کے تھانے سے روانگی/واپسی کا اندراج موجود نہیں۔ عابد خان کاکڑ PW.5 نے کہا کہ 11.08.2019 کو انسپکٹر سے پارسل لے کر مال خانہ میں رکھے اور 02.09.2019 کو ساجد خان CT کو FSL بھیجنے کے لیے دیے۔ لیکن اس نے بھی مانا کہ رجسٹر 19 میں ساجد خان کو سیمپل دینے کا اندراج نہیں۔ اسی طرح ساجد خان CT PW.2 نے جرح میں تسلیم کیا کہ 02.09.2019 کی ڈیلی ڈائری میں سیمپل لے کر جانے/واپس آنے کا کوئی اندراج نہیں اور نہ ہی اس کا نام رجسٹر 19 میں مہتمم مال خانہ سے سیمپل لینے والے کے طور پر ہے۔ ان تمام اعترافات کا نتیجہ یہ ہے کہ استغاثہ تھانے سے FSL تک سیمپل کی محفوظ ترسیل کی مسلسل چین ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

یہ طے شدہ ہے کہ منشیات کے کیس، جہاں سزا سخت ہے، استغاثہ کو برآمدگی، سیمپل بنانے، محفوظ تحویل اور FSL ترسیل کا ہر مرحلہ ناقابل تردید شہادت سے ثابت کرنا ہو گا۔ اس عدالت کے مستقل فیصلوں _جاوید اقبال v. ریاست 2023 SCMR 139_، _قضیر خان 2021 SCMR 363_، _سکینہ رمضان 2021 SCMR 451_، _زبیر خان 2021 SCMR 492_، _آصف علی 2024 SCMR 1408_ میں واضح کیا گیا کہ چین آف کسٹڈی کا کوئی لنک ٹوٹ جائے تو کیس مشکوک ہو جاتا ہے۔ _جاوید اقبال_ میں کہا گیا کہ اگر کوئی لنک مسنگ ہے تو اس کا فائدہ ملزم کو جائے گا۔ چین آف کسٹڈی کی حرمت ہی منشیات کے مقدمات میں شہادت کی بنیاد ہے۔ جہاں استغاثہ ہر مرحلے پر سیمپل کی محفوظ نقل و حرکت ثابت نہ کر سکے، وہاں کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کی شہادتی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ _عبدالغنی v. ریاست PLJ 2019 SC (Cr.C) 462_ میں عدالت نے صرف اسی بنیاد پر سزا ختم کر دی تھی کہ سیمپل کی محفوظ ترسیل ثابت نہیں ہوئی۔

*8.* مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ استغاثہ درخواست گزار کے خلاف معقول، قابل اعتماد شہادت سے کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ زیریں عدالتوں کے نتائج ریکارڈ کی غلط فہمی اور نظر اندازی پر مبنی ہیں اور برقرار نہیں رہ سکتے۔ لہذا یہ درخواست اپیل میں تبدیل کر کے منظور کی جاتی ہے۔ زیریں عدالتوں کی سزا اور قید ختم کی جاتی ہے اور درخواست گزار کو اس کیس کے الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ وہ فوری رہا کیا جائے، بشرطیکہ کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہو۔)
**THE SUPREME COURT OF PAKISTAN**
**(Appellate Jurisdiction)**
**PRESENT:**
Mr. Justice Muhammad Hashim Khan Kakar
Mr. Justice Salahuddin Panhwar
Mr. Justice Ishtiaq Ibrahim
**Criminal Petition No.120-P/2024**
(On appeal against the Judgment dated 16.04.2024 passed by the Peshawar High Court, Peshawar in Crl.A.No. 1034-P/2023)
Saddam Shah
VERSUS
| ...Petitioner(s)
The State through Prosecutor General, ANF
| ...Respondent(s)
**For the Petitioner(s):** Ms. Farhana Naz Marwat, ASC
**For the State:** Mr. Muhammad Tariq Khan Kakar, ASC/Special Prosecutor, ANF
**Date of hearing:** 22.04.2026
# # # JUDGMENT
**ISHTIAQ IBRAHIM, J.-** The prosecution case, in brief, as set out in FIR No.117 dated 31.08.2019, registered under Section 9(c) of the Control of Narcotic Substances Act, 1997 (the "Act of 1997") at Police Station ANF, Peshawar, is that on the basis of spy information regarding trafficking of narcotics by a notorious smuggler, Umar Gul, through his alleged agent, the petitioner Saddam Shah, via a Toyota Corolla bearing registration No.EA-402 from Peshawar to Islamabad, Haroon Rasheed Inspector ANF (PW.3) along with other ANF officials, proceeded to the motorway toll plaza, Peshawar, and commenced checking of vehicles. At about 0200 hours, the aforesaid vehicle, allegedly driven by the petitioner, was intercepted. Upon search, 12 packets of he**in, weighing in aggregate 12 kilograms, were allegedly recovered from secret cavity in the fuel tank beneath the rear seat of the vehicle. Ten grams from each packet were separated as samples for chemical analysis by the FSL and sealed in parcels. The remaining bulk was also sealed separately and then were taken into possession through recovery memo Exh.PW.3 3/1 by the Seizing Officer. On personal search of the petitioner, his original CNIC, registration book of the vehicle, a mobile phone with two SIMs, certain keys, and cash amounting to Rs.6000/- were also recovered and taken into possession through the same memo. Thereafter, Inspector Haroon Rasheed prepared murasila Exh.PW.3 3/2 and sent the same through Constable Shahab Ali to the Police Station, whereupon the FIR was formally registered. He also prepared the site plan (Exh.PW.3/3), arrest card (Exh.PW.3/4), drafted application for chemical examination of the samples (Exh.PW.3/5), inventory of the vehicle (Exh.PW.3/6), and recorded statements of witnesses under Section 161 Cr.P.C. Upon return to the Police Station, he handed over the petitioner to the Moharrir for confinement in the lock-up, while the case property, including sealed parcels and articles recovered, was deposited with the Incharge Malkhana for safe custody.
2. Upon completion of the investigation, a report under Section 173 Cr.P.C. was submitted against the petitioner before the learned Judge, Special Court (CNS), Peshawar (the "Trial Court"). After a full-dressed trial, the learned Trial Court, vide judgment dated 15.05.2023, convicted the petitioner under Section 9(c) of the Act of 1997 and sentenced him to rigorous imprisonment for life with a fine of Rs.1,000,000/-, and in default thereof, to further undergo simple imprisonment for three years. Benefit of Section 382-B Cr.P.C. was also extended to him.
3. The appeal preferred by the petitioner was dismissed by the Peshawar High Court, vide judgment dated 16.04.2024, whereby the conviction and sentence recorded by the Trial Court were maintained. Feeling aggrieved, the petitioner has filed the instant petition for leave to appeal.
4. We have heard the learned counsel for the petitioner as well as the learned Additional Prosecutor General, Khyber Pakhtunkhwa, and have carefully gone through the record, the evidence produced, and the judgments rendered by the Courts below.
5. From the very inception, the prosecution case rested on alleged spy information that a notorious smuggler, namely Umar Gul, would traffic narcotics through his purported agent, the petitioner Saddam Shah. The record, however, is conspicuously silent regarding any effort on the part of PW Haroon Rasheed Inspector, who is the Seizing Officer and Investigating Officer of the case, to trace and nominated the said Umar Gul as an accused, or even to initiate proceedings against him under the relevant provisions of the Code of Criminal Procedure, including Sections 87, 88, or 204 Cr.P.C. The said Umar Gul was even not shown in the challan in the column of absconding accused, and no explanation for this omission has been furnished by the prosecution. Admittedly, the said motorcar was not the ownership of the petitioner; rather, as per report of Motor Registration Authority, it was registered in the name of one Hidayat Ullah Khan, who was also neither arrayed as an accused nor cited as a prosecution witness. Undeniably, the sole duty of the Anti-Narcotics Force is the elimination of the smuggling of narcotics in the country, therefore, such weak type of investigation on their part is highly deplorable.
6. During the cross-examination of PW Haroon Rasheed, Inspector, parcel No. 13 containing the alleged case property (he**in) was produced before the learned Trial Court, desealed, and subjected to weighment. The Trial Court observed the weight of each packet as: packet No.1-949 grams, packet No.2-971 grams, packet No.3-961 grams, packet No.4-669 grams, packet No. 5-965 grams, packet No.6-984 grams, packet No.7-922 grams, packet No.8-968 grams, packet No.9-958 grams, packet No.10-996 grams, packet No.11-965 grams, and packet No.12-972 grams. Admittedly, as per the prosecution's own case, each packet initially contained one kilogram of he**in, and 10 grams was allegedly separated from each packet for the purpose of chemical analysis by the FSL. In such circumstances, the residual weight of each packet ought to have been 990 grams. However, none of the packets, upon weighment, was found to conform to the said expected weight. This material discrepancy renders the prosecution's version highly doubtful, as the recovered substance does not corroborate the version furnished by the seizing officer.
7. The prosecution has further failed to establish the safe custody and secure transmission of the representative samples of the alleged recovered he**in, particularly from the Police Station to the Forensic Science Laboratory. During cross-examination, PW Haroon Rasheed Inspector, when confronted with Register No.19, candidly admitted that the said register does not contain any entry regarding the dispatch of samples to the FSL through ANF officials. Although he volunteered that such fact was recorded in Register No.21 and in the statement of Sajid Khan, CT, he conceded that no daily diary entry reflecting the departure of the said constable from the Police Station for onward transmission of samples to the FSL is available on record. Abid Khan Kakar (PW.5), deposed that the parcels containing the samples and case property were handed over to him on 11.08.2019 by Inspector Haroon Rasheed which he kept in the Malkhana being Incharge of the Malkhana, and that on 02.09.2019 he handed over the sample parcels to Sajid Khan, CT, for transmission to the FSL. However, he too admitted that Register No.19 (Exh. PW.3/16) does not reflect any such handing over of samples to the said constable. Likewise, Sajid Khan CT (PW.2), in his cross-examination, admitted that no daily diary entry dated 02.09.2019 is available to show either his departure from the Police Station with the samples or his return thereto. He further conceded that his name does not appear in Register No.19 as the recipient of the samples from the Malkhana in-charge. The cumulative effect of the above admissions is that the prosecution has failed to prove an unbroken chain of custody with regard to the safe transmission of the samples from the Police Station to the FSL. It is by now well settled that in narcotics cases, where the severity of punishment demands the highest degree of proof, the prosecution must establish, through reliable and unimpeachable evidence, each link in the chain of custody, from the point of recovery, preparation of samples, their safe custody, and onward transmission to the forensic laboratory. This Court in a consistent line of authorities, including Javed Iqbal v. The State (2023 SCMR 139), Qaiser Khan v. The State (2021 SCMR 363), Mst. Sakina Ramzan v. The State (2021 SCMR 451), Zubair Khan v. The State (2021 SCMR 492), and Asif Ali and another v. The State (2024 SCMR 1408), has emphasized that any break or missing link in the chain of custody renders the prosecution case doubtful. In Javed Iqbal's case (supra), it was categorically held by this Court that the prosecution is duty-bound to establish each and every step in the process, and if any link is missing, the benefit thereof must accrue to the accused. The sanctity of the chain of custody serves as the linchpin of evidentiary reliability in such prosecutions. Where the prosecution fails to conclusively demonstrate the safe handling and movement of the samples at every stage, the report of the chemical examiner loses its evidentiary worth. In Abdul Ghani and others v. The State and others (PLJ 2019 SC (Cr.C) 462), this Court, even without dilating upon the merits of the case, set aside the concurrent findings of conviction solely on the ground that the prosecution had failed to prove the safe transmission of samples and had not produced the relevant witnesses in whose custody the samples remained.
8. The cumulative effect of the foregoing discussion is that the prosecution has failed to establish its case against the petitioner through cogent, reliable, and confidence-inspiring evidence. The findings recorded by the learned Courts below, therefore, suffer from misreading and non-reading of the material available on record and cannot be sustained. Consequently, this petition is converted into an appeal and is allowed. The conviction and sentence awarded to the appellant by the learned Courts below are set aside, and he is acquitted of the charge in the instant case. He shall be released forthwith, if not required to be detained in any other case.
**4-5-2026**
Peshawar the
22nd April, 2026
'NOT APPROVED FOR REPORTING'
M.Siraj Afridi SPS

Address

Sector 3
Sukkur
65200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when D-Y Utraa Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share