D-Y Utraa Law Associates

D-Y Utraa Law Associates Expertise Meets Experience

Legal Solutions for Life's Challenges

23/05/2026
💥 شادی سے پہلے صرف ظاہری معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے قانونی اور خاندانی تصدیق کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان میں آپ...
20/05/2026

💥 شادی سے پہلے صرف ظاہری معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے قانونی اور خاندانی تصدیق کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان میں آپ چند قانونی اور محفوظ طریقوں سے لڑکے یا لڑکی کا کرمنل ریکارڈ اور فیملی ٹری چیک کر سکتے ہیں۔

👈1۔ فیملی ٹری (خاندانی ریکارڈ) چیک کرنے کا طریقہ
پاکستان میں فیملی ٹری کی تصدیق عام طور پر National Database and Registration Authority کے ذریعے ہوتی ہے۔
آپ یہ کام ان طریقوں سے کر سکتے ہیں:
متعلقہ خاندان سے ان کا Family Registration Certificate (FRC) طلب کریں۔
FRC میں والدین، بہن بھائی، شریک حیات اور بچوں کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔
اگر شک ہو تو دونوں خاندان ایک ساتھ NADRA دفتر جا کر تصدیق کرا سکتے ہیں۔
بعض اوقات شناختی کارڈ پر مستقل پتہ اور خاندان کی معلومات بھی کافی چیزیں واضح کر دیتی ہیں۔
مزید معلومات:
nadra.gov.pk⁠
👈2۔ کرمنل ریکارڈ چیک کرنے کا طریقہ
عام شہری کسی کا مکمل خفیہ پولیس ریکارڈ براہِ راست نہیں نکال سکتے، لیکن چند قانونی راستے موجود ہیں:
متعلقہ فرد سے Police Character Certificate طلب کریں۔
یہ سرٹیفکیٹ ضلعی پولیس یا پولیس خدمت مرکز سے جاری ہوتا ہے۔
اس میں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص کے خلاف ریکارڈ موجود ہے یا نہیں۔
پنجاب میں یہ سہولت Punjab Police کے خدمت مراکز اور آن لائن سسٹم کے ذریعے دستیاب ہے۔
pkm.punjab.gov.pk⁠
👈3۔ مقامی تصدیق بہت اہم ہوتی ہے
صرف دستاویزات کافی نہیں ہوتیں۔ یہ چیزیں بھی ضرور دیکھیں:
محلے داروں سے خاموشی سے معلومات لیں۔
مسجد کے امام، مقامی کونسلر یا جاننے والوں سے رائے لیں۔
سوشل میڈیا رویہ بھی کافی کچھ ظاہر کرتا ہے۔
جلد بازی میں رشتہ طے نہ کریں۔
👈4۔ عدالت یا مقدمات کی معلومات
اگر کسی پر بڑا مقدمہ ہو تو بعض اوقات معلومات:
وکیل کے ذریعے
متعلقہ تھانے
یا عدالتی ریکارڈ سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر! پنجاب حکومت...
20/05/2026

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!

پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
03337103360
Your Trusted Tax Partner

18/05/2026

کیا کسی کو بار بار کال یا میسج کرنا ہراسگی بن سکتا ہے؟

پاکستانی قانون کے مطابق اگر کوئی شخص مسلسل کالز، میسجز یا آن لائن رابطے کے ذریعے کسی کو ذہنی دباؤ، خوف یا پریشانی میں مبتلا کرے تو یہ ہراسگی (Harassment) شمار ہو سکتی ہے۔
خاص طور پر جب سامنے والا شخص رابطہ بند کرنے کا واضح کہہ چکا ہو۔
Prevention of Electronic Crimes Act 2016 کے تحت آن لائن ہراسگی، مسلسل تنگ کرنا اور دھمکی آمیز رابطہ قابلِ سزا جرم ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیں! بار بار غیر ضروری رابطہ بھی بعض اوقات قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔

دعائے کمیل کا امید بھرا جملہ!
14/05/2026

دعائے کمیل کا امید بھرا جملہ!

13/05/2026

An accused confesses before media but denies before court. Can conviction follow?

♦️ *خواتین کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی:*♦️ ⚖️   *1۔   2018 LHC 371 حکم*  *"محترمہ بختاور بمقابلہ صوبہ پنجاب"* کیس میں ل...
13/05/2026

♦️ *خواتین کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی:*♦️ ⚖️

*1۔ 2018 LHC 371 حکم*
*"محترمہ بختاور بمقابلہ صوبہ پنجاب"* کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے خواتین ملزمان کے ساتھ سلوک کے بارے میں ایک قطعی موقف فراہم کیا۔
♦️*Women shall not be Handcuffed:*♦️ ⚖️

📍*2018 LHC 371* ⚖️
📌*Police Rules 1934*

*1. The 2018 LHC 371 Ruling*
In the case of *"Mst. Bakhtawar vs. Province of Punjab,"* the Lahore High Court provided a definitive stance on the treatment of female accused individuals.
*The Mandate:*
The court held that a woman should not be handcuffed unless she is a desperate criminal, involved in a heinous crime, or there is a serious apprehension that she will escape or commit self-harm.
*The Philosophy:*
The ruling emphasizes Article 14 of the Constitution of Pakistan, which guarantees the "Inviolability of dignity of man" (and woman). Handcuffing a woman unnecessarily is seen as an act of humiliation and a violation of fundamental rights.
*Judicial Oversight:*
If the police deem handcuffs necessary, they must record the specific reasons in the Zimni (case diary) and justify it before a magistrate.

* # # 2. Police Rules, 1934*

The *Police Rules of 1934* (specifically Chapter XXVI) provide the operational guidelines for arrests. While these rules were drafted in the colonial era, they are interpreted today through the lens of modern human rights.
*Rule 26.2:*
General principles state that handcuffs should only be used if there is a reasonable expectation of violence or escape.
*Rule 26.7:*
Explicitly addresses the "Handcuffing of females." It mandates that women should not be handcuffed unless they are charged with a non-bailable offense and have a history of violent behavior or escape. Even then, the officer must show that no other means of restraint (like a female police es**rt) would suffice.

* # # 3. Key Legal Protections for Women*

Beyond handcuffs, the law provides several other protections during the arrest of a woman:

*Summary Note Conclusion* The law treats handcuffing as an exception, not the rule. For women, the threshold for this exception is significantly higher. Any police officer violating these protocols can be held liable for "misconduct" and "contempt of court" under the guidelines set by the 2018 LHC judgment.
✏️📚

Happy Mother's Day
10/05/2026

Happy Mother's Day

Importance of an Advocate in your life....⚖️😂
10/05/2026

Importance of an Advocate in your life....⚖️😂

07/05/2026

JUSTICE FOR LAWYERS | ظلم کے خلاف آواز ⚖️👊

​The brutalization of our colleague by the C-Section Police in Sukkur is an attack on the entire legal fraternity. While criminals roam free and drug peddlers enjoy protection, the police are busy harassing professional lawyers, doctors, and teachers.

​We will not be silenced. We will not be intimidated.

Keep your SIM registered in your own name, your SIM is your responsibility.
06/05/2026

Keep your SIM registered in your own name, your SIM is your responsibility.

Address

Sector 3
Sukkur
65200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when D-Y Utraa Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share