Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت

  • Home
  • Pakistan
  • Swat
  • Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت

Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت SWAT..... A view of paradise on earth ,,,,, A place of Hospitality, Beauty, Natural Resources سوات It takes almost 5 hours to cover the distance of 247 km.

Swat valley is one of the major tourist attractions of Pakistan. It is known as the Switzerland of Pakistan, it has one of the oldest civilizations history and one of the beautiful scenery one could ever see. Location: It lies between 34°-40′ to 35° N latitude and 72′ to 74°-6′ E longitude. It is located between the foothills of Hindukush mountain range. It is the part of the North-West Frontier P

rovince of Pakistan. The location of Swat valley has a major strategic importance as it lies in the region where South Asia, Central Asia and China meet. Accessibility: Swat valley can reach through Peshawar, Rawalpindi and Islamabad. The total distance from Peshawar is 151 km and from Rawalapindi via Nuwshera- Mardan and Malakand Pass is 270 km. We can easily find regular flights to Saidu Sharif, the capital city of Swat. When travelling on personal vehicles, the Motorway (M-1) can be used to reach Mardan Interchange from Islamabad which takes approximately 1.5 hours (131km). From Mardan, a distance of 112 km can be covered via Takh-e-Bai, Dargai, Malakand Pass, Batkhella, Chakdara to reach Mingora or Saidu Sharif. The travelling routes are open throughout the year. Nowadays public transport facilities have also improved. Daewoo buses are commonly used for travelling. Attractions: The major attractions of the Swat valley include its archeology, the lush green sites, the history and their art. History of Swat Valley

The history of Swat valley goes back to around 2000 years ago. It was known as Udyana and later the name was changed to Suvastu. The valley was a very peaceful area for living until the 11th century. The game of power led to the disruption the valley and it was first conquered by Mahmud of Ghazni. The ritual of acquiring the lands continued and Swat valley was then taken over by the Yusufzais. In the time period of 19th century, swat valley was under Akhund Sahib who believed in the Muslim law. At this time, the economy of Swat valley flourished due to agriculture and it became one of the significant trading areas for businesses. The population of Swat valley is around 1,257,602 and they have a number of cultural group living in which the most prominent ones are Pakhtuns, Yusufzais, Kohistanis, Gujars and Awans. Swat Valley is known as the “mini Switzerland”. Its landscapes are a proof of natural beauty and it was one of the most visited areas and had a major tourism industry. There were events which led to the downfall of the tourism which was one of the major sources of income of the Swats economy. The conflicts between the Taliban and the Pakistani army have effected the valleys attractions. The whole conflict started in 1990s when Sufi Muhammad, a cleric figure tried to impose the sharia law on the people of swat valley. In 2007, his son in law tried to follow his foot step by imposing the religion with strength of arms. The Pakistan army took control of the situation and in 2008 the war of Swat was put to an end. Another factor that also contributed in diminishing the tourism industry include the floods in 2010 in which most of the infrastructure was destroyed including the roads and bridges leading to difficulties in traveling to Swat valley. Climate
From March till October, Swat has the best season for tourism. The valley welcomes the people through its magnificent mountains, lush green forests, running streams and meadows.

13/05/2026

د سوات او خاص کر د تحصیل کبل فخر "جناب محمد ہلال صاحب" تہ پہ تمغہ امتیاز میلاویدلو مبارکباد وایو۔
Muhammad Hilal

جذبات کے سوداگر اور عقل کے اندھے​سیالکوٹ کے اس لرزہ خیز واقعے کا مرکزی کردار 'لقمان' آج ایک پوڈ کاسٹ میں اپنی مظلومیت کا...
17/04/2026

جذبات کے سوداگر اور عقل کے اندھے
​سیالکوٹ کے اس لرزہ خیز واقعے کا مرکزی کردار 'لقمان' آج ایک پوڈ کاسٹ میں اپنی مظلومیت کا رونا رو رہا ہے۔ وہی لقمان، جس نے چند سال قبل ایک غیر ملکی شہری کو بے دردی سے قتل کرنے اور اس کی لاش کی بے حرمتی کرنے کو اپنی 'جنت کا ٹکٹ' سمجھا تھا۔ لیکن آج جب 25 سال قید کی سلاخیں سامنے ہیں، تو وہ 'عشق' کہاں گیا؟ وہ 'بہادری' کہاں غائب ہو گئی؟
​ہینڈلرز کا کردار: جذبات کی دلال اور سیاسی دکانیں
​ان جیسے سادہ لوح اور عقل سے پیدل نوجوانوں کے پیچھے وہ 'سیاسی دلال' اور 'مذہبی ہینڈلرز' ہوتے ہیں جن کا اپنا کوئی بچہ کبھی جیل نہیں جاتا، نہ کبھی سڑکوں پر پتھراؤ کرتا ہے۔ ان کا طریقہ واردات انتہائی سادہ مگر ہولناک ہے:
​خوف اور نفرت کا بیانیہ: یہ ہینڈلرز ختم نبوت اور ناموسِ رسالت جیسے مقدس نعروں کو اپنی سیاست کے لیے ڈھال بناتے ہیں۔
​جنت کی جھوٹی نوید: کم پڑھے لکھے نوجوانوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ کسی کو موت کے گھاٹ اتار دینا ہی بخشش کا واحد راستہ ہے۔
​پشت پناہی کا جھوٹ: اشتعال دلاتے وقت یہ لیڈر کہتے ہیں کہ 'ہم تمہارے ساتھ ہیں'، لیکن جب قانون کا شکنجہ کستا ہے، تو یہی ہینڈلرز اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر لاتعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔
​دوعملی کا تماشا: غازی سے قیدی تک
​تاریخ گواہ ہے کہ مشعل خان کا قتل ہو یا سلمان تاثیر کا واقعہ، ان جذباتی ہجوم کا انجام ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔
​سرِ عام فخر: جرم کرتے وقت یہ ویڈیوز بناتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور خود کو 'مجاہد' کہلواتے ہیں۔
​عدالت میں مکر جانا: جیسے ہی جج کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، ان کا تمام 'عشق' ہوا ہو جاتا ہے۔ یہ اپنے فعل سے مکر جاتے ہیں، رحم کی اپیلیں کرتے ہیں اور معافی کے لیے تڑپتے ہیں۔
​ہیرو ازم کی فیکٹری: اگر کوئی اتفاق سے بچ جائے تو اسے 'غازی' بنا کر دوبارہ مارکیٹ کیا جاتا ہے، اور اگر پھانسی ہو جائے تو اسے 'ولی' قرار دے کر جذباتی لوگوں کی جیبوں سے چندہ بٹورا جاتا ہے۔ یہ ایک پورا 'دھندہ' ہے جو انسانی خون پر چل رہا ہے۔
​پرمغز نصیحت: اسلام امن ہے، انتہا پسندی نہیں
​ہمارا ایمان تب تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ہمیں رسول اللہ ﷺ اپنی جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر عزیز نہ ہوں۔ ان کی ختمِ نبوت پر پہرہ دینا ہر مسلمان کا فرض ہے، لیکن کیا یہ پہرہ 'قتل و غارت' اور 'جلاؤ گھیراؤ' سے دیا جائے گا؟
​تعلیماتِ نبوی ﷺ کا مذاق نہ اڑائیں: وہ رسول ﷺ جو اپنے دشمنوں کے لیے بھی سراپا رحمت تھے، کیا وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ محض شک کی بنیاد پر انسانوں کو زندہ جلا دیا جائے؟
​ریاست کے اندر ریاست مت بنیں: اسلام قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر ہر شخص اپنی عدالت لگائے گا، تو یہ معاشرہ نہیں بلکہ ایک جنگل بن جائے گا۔
​ہوش کے ناخن لیں: یاد رکھیں، جذباتی نعروں پر بہک کر کسی کی جان لینا آپ کو 'غازی' نہیں بلکہ 'قاتل' بناتا ہے۔ کل اگر آپ بھی لقمان کی طرح سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، تو وہ لیڈر جو آج آپ کو ورغلا رہے ہیں، آپ کی شناخت تک سے انکار کر دیں گے۔
​فیصلہ آپ کا ہے: آپ نے رحمت اللعالمین ﷺ کا سچا پیروکار بننا ہے یا ان سیاسی دکانداروں کا آلہ کار بن کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کرنی ہیں؟

25/03/2026

ترجمة عربي سے اردو کا ہے ۔۔۔

وہ راز جو متحدہ عرب امارات کے بارے میں کوئی نہیں جانتا:

کوئی نہیں جانتا کہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک، رقبے میں چھوٹا (75,000 کلومیٹر سے کم) اور مقامی آبادی کے ساتھ جو ابھی تک 800,000 (ایک ملین سے کم) سے زیادہ نہیں ہے، اتنی تیز رفتار ترقی کیسے دیکھ سکتا ہے!

متحدہ عرب امارات کی کوئی سیاسی تاریخ نہیں، آزادی کی کوئی تحریک نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ثقافتی یا فکری ادارہ ہے۔
کیا شیخ زاید نے صرف اس میں زندگی کا سانس لیا، اسے راتوں رات ایک ترقی پزیر تعمیر و ترقی کے مرکز میں تبدیل کر دیا، جو مغربی ایشیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے؟!

حقیقت یہ ہے کہ: "یو اے ای پروجیکٹ" کی تخلیق کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ مغرب کے دولت مند یہودیوں نے سیاسی اور دیگر وجوہات کی بناء پر "مادر ملک" سے نمٹنے کی ضرورت کے بغیر مالی مفادات اور تجارت کے انتظام کے لیے مشرق وسطیٰ میں یہودی آباد کاری کے قیام کا تصور پیش کیا۔ 1971 کے بعد سے، اس کے قیام کے سال، مغرب نے امارات کو چھ، پھر سات، امارات، ہر ایک کے اپنے امیر، فوج، پولیس، سیکورٹی فورسز وغیرہ میں تقسیم کرنے کو یقینی بنایا۔

دریں اثنا، ابوظہبی کی امارت کل رقبے کے تین چوتھائی سے زیادہ پر قابض ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے متحدہ ریاست کی تشکیل کو روکنا آسان ہو گیا ہے۔

اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ مان بھی لیں کہ امارات کی آبادی 750,000 ہے، تو یہ امارات میں مقیم غیر ملکیوں کی تعداد کے مقابلے میں کیا برابر ہے، جو کہ 200 قومیتوں اور 150 نسلی گروہوں کے 9 ملین افراد پر مشتمل ہے؟!

اگر پوری آبادی انٹیلی جنس، سیکورٹی اور ملٹری فورس بن جائے تب بھی وہ اپنے ملک کی حفاظت نہیں کر پائیں گے!

یو اے ای کے بارے میں حیران کن بات یہ ہے کہ داخل ہونے پر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی یورپی ملک یا ترقی یافتہ ایشیائی ممالک میں داخل ہو گئے ہیں، اس کے پیچیدہ نظام، پیشہ ورانہ طرز عمل، اعلیٰ درجے کے نظم و ضبط اور خوبصورت، صاف ستھری سڑکوں کے ساتھ۔
لیکن "آبائی" شہری تلاش کرنا مشکل ہے۔ ہوائی اڈے سے لے کر رہائش تک تمام لین دین "غیر ملکیوں" کے ہاتھ میں ہے۔ مختلف ممالک سے عرب ہیں، اور اس کے ہوائی اڈوں کے ذریعے پروازوں کی بڑی تعداد — جو کہ صلاحیت اور خدمات میں دنیا کے سب سے بڑے حریف ہیں — اور اس کی بندرگاہوں میں بحری جہازوں اور جہازوں کی تعداد حیران کن ہے!

کیا یہ بات قابل فہم ہے کہ یہ "اماراتی" اپنی سادہ سوچ اور محدود خواہشات کے ساتھ اس پیچیدہ مشین یا نظام کو سنبھال سکے گا؟!

عام طور پر متحدہ عرب امارات، اور خاص طور پر ابوظہبی، دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند افراد پر فخر کرتا ہے، جس کا تخمینہ 75,000 کروڑ پتی ہے، جس میں امیر یہودیوں کا سب سے بڑا تناسب ہے۔

اس کا ترجمہ اس وسیع مالیاتی ذخائر کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

اس لیے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جس نے محمد بن زاید کی "اسرائیل" کی طرف رہنمائی کی وہ یہودی کروڑ پتی ہیم سبان تھا۔ متحدہ عرب امارات محض فلک بوس عمارتیں، خوبصورت سڑکیں، ہلچل سے بھرپور تجارت، اور اب فیکٹریاں اور ورکشاپس نہیں ہیں۔

*یہ قوم کے خلاف سازش کرنے کا تصفیہ ہے* اہم سوال:

متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں پر خرچ کرنے والا پانچواں بڑا ملک بننے کی ضرورت کیوں ہے؟

اس کی فوج کہاں ہے؟

اور کن سرحدوں کا دفاع کرتا ہے؟

جواب:

یہ تمام ہتھیار خواہ وہ سودے سرکاری ہوں یا نجی، خطے کے ممالک کے خلاف سازش کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ خطے میں ایک بھی عرب یا اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے متحدہ عرب امارات کے اقتصادی، سیاسی یا سیکیورٹی منصوبوں کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو، جس سے اس کے اندر افراتفری پیدا ہو۔ سوڈان میں اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کی تازہ مثال ہے اور 2016 میں ترکی میں جو کچھ ہوا وہ اس بات کو ثابت کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ:
کیا الزاید خاندان ان تمام پیچیدہ مسائل کو سنبھالنے کی عقل رکھتا ہے؟

کیا متحدہ عرب امارات کے شیخوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور ممالک کے معاملات میں اس طرح کی مداخلت کرتے رہیں؟

سوال یہ ہے کہ:
سرمائے کے مالکان ان بدو شخصیات اور ان کے پراکسیوں کے بجائے براہ راست متحدہ عرب امارات پر حکومت کیوں نہیں کرتے؟ اس سوال کا جواب 1921 میں فورڈ موٹر کمپنی کے بانی ہنری فورڈ کی کتاب "دی انٹرنیشنل جیو" میں دیا گیا ہے، جہاں وہ کہتے ہیں:

"یہودی پیچھے سے دنیا کی قیادت کرنا پسند کرتے ہیں۔"

ایک اور سوال: انہوں نے دارالحکومت کو متحرک کرنے کے لیے "UAE" کے بجائے "اسرائیل" کا انتخاب کیوں نہیں کیا، خاص طور پر چونکہ فلسطین زمین سے مالا مال ہے، اپنے قدرتی مناظر میں خوبصورت ہے، اور اس کا جغرافیائی محل وقوع اور سمندر تک رسائی ہے؟

جواب: "اسرائیل" سرمایہ کاری کے لیے نامناسب ہے کیونکہ یہ ایک "فوجی بفر" ہے، جسے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور اس کے ساتھ تجارتی لین دین خطے میں ناپسندیدہ ہے۔

دوسرے لفظوں میں، یہ "غیر مستحکم" ہے اور وہاں کاروبار کا محاذ یہودی ہے!

آخر میں: "UAE" بنیادی طور پر 1971 سے ایک اسرائیلی بستی ہے... آخر میں: دنیا کا سب سے بڑا میسونک لاج متحدہ عرب امارات میں واقع ہے۔ یہ بین الاقوامی نظام کا عملی مرکز ہے... اس رپورٹ کے بعد کیا اب آپ سمجھ گئے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کون ہے؟

ریاست سوات او والیزم​میجر ډبلیو آر هې (Major W.R. Hay) په نظر کې - 1934​🗺️ د سوات انتظامي وېش​سوات خاص (اصلي سوات):​دا س...
03/12/2025

ریاست سوات او والیزم
​میجر ډبلیو آر هې (Major W.R. Hay) په نظر کې - 1934
​🗺️ د سوات انتظامي وېش
​سوات خاص (اصلي سوات):
​دا سیمه مستقیماً د مرکزي حکومتي چارواکو لاندې وه، چې د ریاست په مرکز سیدو کې اوسېدل.
​دا سیمه په یولسو (11) تحصیلونو وېشل شوې وه.
​نهه (9) تحصیلونه: دا د اکوزیو د بېلابېلو وړو قبیلو په نومونو وو او د وادۍ په دننه کې یې له همغو قبایلي سیمو سره مطابقت درلود.
​پاتې دوه (2) تحصیلونه:
​چرارئي: دا له هغو څو کلیو جوړه وه چې سادات پکې اوسېدل، او د کوهستان یوه برخه یې هم پکې شامله وه.
​براڼیال: دا د پاتې کوهستان د سیمې اداري مرکز و.
​بونېر:
​دا سیمه پنځو (5) تحصیلونو باندې ولاړه وه، چې د قبایلي وېش پراساس جوړې شوې وې.
​د بونېر انتظام د یوه حاکم (ګورنر) په لاس کې و، چې په ګاګره کې اوسېده.
​مندانړ:
​دا درې سیمې – چمله، سوري اتمانزئي او خدود خېل پکې شاملې وې.
​هر یو په خپله یو جلا تحصیل و.
​د دې سیمې ګورنر په وروستۍ یادې شوې سیمې یعنې خدود خېل په طوطالئي کې اوسېده.
​د سوات او سیند سیند تر منځ سیمه:
​په دې سیمه کې اووه (7) تحصیلونه وو، چې نه د قبیلې په اساس، بلکې د جغرافیا په اساس وېشل شوې وې.
​شپږ (6) تحصیلونه: دا د یوه ګورنر لاندې وې، چې په چکېسر کې اوسېده.
​کانا تحصیل: د ځانګړو دلایلو پر بنسټ، دا مستقیمه د سیدو له مرکزي حکومتي چارواکو لخوا اداره کېده.
​هر ضلعي ګورنر د هماغه تحصیل انتظام هم چلاوه، چې پکې اوسېده.
​نور تحصیلونه د تحصیلدارانو په لاس کې وې، چې یا یې ګورنر ته ځواب ورکاوه، یا یې په مستقیمه د سیدو مرکزي چارواکو ته، لکه څنګه چې اړتیا وه.
​👑 د ریاست انتظام (د والي حکومت)
​ټوله ریاست والي په مطلق العنان (ټولو اختیاراتو سره) ډول چلاوله.
​د هغه لوی زوی وليعهد (والیِ عهد)، وزیر، او سپه سالار (لوی قوماندان) ورسره مرسته کوله.
​وليعهد: ډېری مالي چارې به یې مخته وړلې.
​وزیر: سیاسي او عدالتي (قضايي) چارې یې سمبالولې.
​سپه سالار: د پوځ (لښکر) پر نظام یې څارنه کوله.
​والي: هغه په خپله بېسواده و، خو د هرې مهمې پرېکړې حکم یې د ټېلیفون له لارې په شفاهي (خوله) ډول کاوه.
​مالي سرچینې:
​د ریاست د عاید (پیسو) لویې سرچینې دا وې:
​عُشر: په غلو او نورو پیداوارو باندې اخیستل کېده.
​ټېکسونه: په وارداتو (راوړل) او صادراتو (وړل) باندې اخیستل کېده.
​عُشر ډېر په غله/غنمو کې اخیستل کېده، او د ریاست کارکوونکو ته یې معاشونه هم ډېر په غنمو کې ورکول کېدل.
​د ریاست اوسط کلنی عاید شاوخوا 12 لکه روپۍ و (چې په هغه وخت کې یې تقريباً 90 زره پاونډ جوړېدل).
​مالي چارې په ډېر احتياط سره پر مخ وړل کېدې او لګښتونه تر عایداتو نه زیاتېدل.
​عدالتي نظام:
​عدالت پر قبایلي رواج (دود) ولاړ و.
​کله چې به والي په نوې سیمه قبضه وکړه، نو هلته به یې سیمه‌ییزو مشرانو ته حکم کاوه، چې خپل قبایلي رواج ولیکي، کوم چې وروسته د ځایي پرېکړو اساس جوړاوه.
​هغه مقدمې چې د ریاست خلاف جنایت (جرم) وي یا د عامه نظم او امن اړوند وي (لکه پر لویو لارو غلاوې)، ډېری به والي په خپل صوابدید (ځانګړي اختیار) حل کولې.
​🛡️ پوځي نظام
​تر هغه وخته چې والي خپله واکمني پخه کړې نه وه، هر قبایلي وګړی وسله وال و او اړ و چې د اړتیا په وخت کې د والي یا قبیلې مرستې ته ورشي.
​خو کله چې والي قوي شو، نو یې له خپلو ټولو رعیتو څخه په بشپړه توګه وسلې واخیستلې، یوازې په هغه سیمو کې چې د بهرني برید خطر و.
​هغه وسلې چې ډېرې ګټورې وې، والي په سمدستي توګه په منتخب کسانو کې د ریاست د ملکیت په توګه بیا ووېشلې، او په دې توګه یې د قبایلي لښکر پر ځای خپل منظم پوځ جوړ کړ. (قبایلي لښکر منظم او په وفادارۍ کې پاتې نه و).
​د ریاست پوځ ته په غنمو کې معاش ورکول کېده او په دوه برخو وېشل شوی و:
​لومړۍ برخه: دا د ریاست په بېشماره قلاګانو کې ځای پر ځای وو، چې په ټوله سیمه کې وې. (یو ډول کانسټېبلري و).
​دویمه برخه: دا د متحرک پوځ (Field Force) په څېر کار کاوه؛ دوی به په خپلو کلیو کې اوسېدل او د اړتیا په وخت کې به ميدان ته راتلو ته هر وخت تیار وو.
​📈 د والي کارنامې او پرمختګ
​د والي د قوي خو رعیت پروره حکومت لاندې هغه پرمختګ چې هېواد کړی و، حیرانونکی و.
​تر ټولو لرې پرتو او سختو غرنیو سیمو کې هم امن او امان ټینګ و او تجارت ډېر ښه روان و.
​په سیدو کې:
​یو لوی ښوونځی و، چې شاوخوا 500 هلکان پکې زده کړې کولې.
​یو ښه چلېدونکی روغتون (هسپتال) و.
​د څارویو لپاره یوه ویټرنري ډسپنسري هم جوړه شوې وه.
​والي او د هغه د لوی زوی لپاره شاندارې استوګنځایونه (کورونه) جوړ شوي وو.
​په نورو بهرنیو سیمو کې هم څو ښوونځي پرانستل شوي وو.
​د کلي څو وتلیو خانانو او ملکانو هم د جدید طرز لوی کورونه جوړ کړي وو، چې ټین (Tin) چتونه یې درلودل.
​نورې اصلاحات:
​والي د وېش (Vishes) پخوانی نظام ختم کړ، چې په دې کې به وخت په وخت ځمکې بيا وېشل کېدې، یوازې د سوات په وادۍ کې د شالیو ځمکو پرته، چې د سیند د بدلون له کبله دا نظام هلته تر یوه حده روا و. (په پخوا وختونو کې په سوات کې لږ تر لږه یوه قبیله وه، چې ټول کلي به یې په څو کالو کې له یوه خاوند څخه بل خاوند ته بدلېدل).
​د پام وړ پرمختګ:
​تر ټولو د پام وړ پرمختګ په سړکونو او ټېلیفونونو کې شوی و. والي د قبیلې انتظام لپاره د دواړو په اهمیت ښه پوهېده.
​سړکونه:
​په سوات کې اوس شاوخوا 150 ميله د موټر چلولو وړ سړکونه جوړ شوي وو.
​دا سړکونه د مرکزي سیند د دواړو غاړو په اوږدو کې تر شمال ته چرارئي پورې تللي وو، او څو وړو واديو ته هم غځېدلي وو.
​په بونېر او چمله کې هم د تحصیل مرکزونو د نښلولو لپاره ښه سړکونه جوړ شوي وو، خو تر هغه چې د کړاکړ کوتل (Karakar Pass) سړک بشپړ شوی نه و، موټرونه دې سیمو ته نه شوای رسېدلای.
​په دې سړک ډېرې پیسې مصرف شوې وې، خو د اوسنۍ مالي ستونزې له کبله والي د هغه بشپړولو لپاره اړینې پیسې نه شوای ورکولای.
​د سیند سیند غاړې غرنۍ سیمې: دلته د غونډیو او پرې شوو غرونو له کبله د موټرو سړکونه جوړول ډېر ګران کار و.
​په دې ټولو سیمو کې ټول تحصیل مرکزونه د ښو اسپ‌تېز لارو په ذریعه یو بل سره نښلول شوي وو.
​ټېلیفون نظام: په ټوله ریاست کې یو ډېر مفصل او بشپړ ټېلیفون نظام جوړ شوی و، چې والي کولای شوای په هره شېبه کې له خپلو تر ټولو لرې چارواکو سره اړیکه ونیسي.
​🦸 د میانګل ګل شاهزاده عبدالودود شخصیت
​یوازې هغه خلک د یوه شخص دا کارنامه په بشپړه توګه درک کولای شي، چې په دې سرحدي غرنیو سیمو کې یې د خپل ځان لپاره داسې یو منظم او پیاوړی ملک جوړ کړی، کوم چې د دې قبیلو له خوی او د دې سیمې له سختو شرایطو خبر وي.
​میانګل ګل شاهزاده سر عبدالودود، والي سوات، په هغه وخت کې یو پنځوس (51) کلن و او په جسمي ځواک کې هم هغومره پیاوړی و، لکه څومره چې یې اراده پخه وه.
​هغه خپله ورځ سهار وختي په منظم ورزش پیلوله، چې عموماً د زر (1000) فوټو په لوړه ختلو باندې ولاړه وه.
​د هغه ژوند ډېر ساده او سپما والا و.
​هغه د لوړې درجې ښکاري و او ډېر فارغ وخت یې په ښکار کې تېراوه.
​هغه ډېر ښه اخلاق لرونکی مېلمه پال و او په مېلمه پالنه کې یې بخل نه کاوه، او له خپلو ملګرو سره د ښکار وېشلو څخه یې بل هېڅ شی ډېر نه خوښېده.
​وليعهد:
​وليعهد مهذب، باصلاحیته و او پوره امید و چې د خپل پلار ښایسته ځای ناستی به ثابت شي.
​الله دې وکړي چې د میانګل ګل شاهزاده لخوا جوړه شوې دا ریاست پرمختګ کوي او د راتلونکو ډېرو کلونو لپاره دې زموږ د دې بې ارامه سرحد لپاره د امن زانګو وي.


Commissioner Malakand Division
Deputy Commissioner Malakand
Deputy Commissioner Swat
سرسینی سوات

 ہسپتال کے تقریبا تمام ڈاکٹرز حضرات کے نمبر بمعہ سپیشیلٹی
08/11/2025


ہسپتال کے تقریبا تمام ڈاکٹرز حضرات کے نمبر بمعہ سپیشیلٹی

31/08/2025
17/08/2025

گبین جبہ میں کلاؤڈ برسٹ کے وجہ سے دریائے سوات میں سیلاب کا خدشہ ہے دریا سوات کے کنارے گھروں والے اپنے حفاظت کریں
Deputy Commissioner Malakand

16/08/2025

افسوسناک اور دل دہلا دینے والی خبر!
خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب پر ایک دل سوز تحریر
گزشتہ دنوں سوات، بونیر اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی۔ اس آفت میں تقریباً 200 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں بزرگ، خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ یہ دل دہلا دینے والا منظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ بہت سے لوگ اسے اللہ کا عذاب قرار دے رہے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی اس تباہی کی اصل وجوہات پر غور کیا ہے؟

کیا آپ نے سوچا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس سے بھی زیادہ بارشیں ہوتی ہیں لیکن وہاں ایسے تباہ کن سیلاب کیوں نہیں آتے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنی غفلت اور لاپرواہی ہے۔ ہم نے قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کو پامال کیا ہے اور اب اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

تباہی کی اصل وجوہات:

* جنگلات کی بے دریغ کٹائی: ہمارے پہاڑ جو کبھی گھنے جنگلات سے ڈھکے ہوئے تھے، اب ویران نظر آتے ہیں۔ درخت پانی کو جذب کرتے ہیں اور سیلاب کے بہاؤ کو روکتے ہیں۔ جب درخت نہیں رہیں گے تو پانی تیزی سے نیچے آئے گا اور سیلاب کا باعث بنے گا۔

* دریاؤں اور ندی نالوں کے راستوں پر تجاوزات: ہم نے دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی گزرگاہوں پر قبضے کرکے مکانات، مارکیٹیں اور ہوٹل بنا لیے ہیں۔ یہ علاقے پانی کے قدرتی راستے ہیں، اور جب ہم انہیں بند کر دیں گے تو پانی کہاں سے گزرے گا؟ ملاکنڈ ڈویژن میں تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہزاروں آبی گزرگاہوں کو بند کرکے لوگوں نے وہاں گھر اور دکانیں بنا لی ہیں۔ جب یہ گزرگاہیں بند ہوں گی تو پانی اپنا راستہ خود بنائے گا اور ہر چیز کو بہا لے جائے گا۔

* زرعی مقاصد کے لیے گزرگاہوں کو بند کرنا: بہت سے لوگ اپنی دریاؤں کے کنارے کھیتوں کا رقبہ بڑھانے کیلئےقدرتی آبی گزرگاہوں پر عارضی بند باندھ دیتے ہیں اور پانی کے بہاو کا راستہ حتی المقدور تنگ یا بند کردیتے ہیں۔ اس سے پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے اور جب پانی کا دباؤ بڑھتا ہے تو یہ بند ٹوٹ جاتا ہے، جس سے اچانک اور خطرناک سیلاب آجاتا ہے۔

قدرت کا انتقام بھیانک ہوتا ہے۔ اگر ہم نے قدرت کے بنائے ہوئے نظام کا احترام نہ کیا اور اسی طرح اپنی غلطیوں کو دہراتے رہے تو یہ تباہی صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟

* دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں سے تمام تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔

* جنگلات کی کٹائی پر سخت ترین پابندی لگائی جائے۔

* قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔

آئیں، ہم سب مل کر ایک ذمہ دار قوم بنیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور پرسکون پاکستان دیں۔
#سیلاب #خیبرپختونخوا #سوات #پاکستان

سیلاب سے متعلق وضاحت سوات منگورہ سٹی سے وادی کالام اور آگے مہوڈنڈ جھیل تک مرکزی سڑک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مکمل محفو...
16/08/2025

سیلاب سے متعلق وضاحت
سوات منگورہ سٹی سے وادی کالام اور آگے مہوڈنڈ جھیل تک مرکزی سڑک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مکمل محفوظ ہے۔ دریائے سوات میں سیلابی صورتحال نہیں ہے۔ منگورہ سٹی کے اردگرد برساتی ندی نالوں میں سیلابی ریلے آئے ہیں۔ وادی کالام کے اندر موجود سیاحوں اور ان کے عزیز و اقارب کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بارش تھم چکی ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔

15/08/2025

Address

Swat
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share