Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت

  • Home
  • Pakistan
  • Swat
  • Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت

Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت SWAT..... A view of paradise on earth ,,,,, A place of Hospitality, Beauty, Natural Resources سوات It takes almost 5 hours to cover the distance of 247 km.

Swat valley is one of the major tourist attractions of Pakistan. It is known as the Switzerland of Pakistan, it has one of the oldest civilizations history and one of the beautiful scenery one could ever see. Location: It lies between 34°-40′ to 35° N latitude and 72′ to 74°-6′ E longitude. It is located between the foothills of Hindukush mountain range. It is the part of the North-West Frontier P

rovince of Pakistan. The location of Swat valley has a major strategic importance as it lies in the region where South Asia, Central Asia and China meet. Accessibility: Swat valley can reach through Peshawar, Rawalpindi and Islamabad. The total distance from Peshawar is 151 km and from Rawalapindi via Nuwshera- Mardan and Malakand Pass is 270 km. We can easily find regular flights to Saidu Sharif, the capital city of Swat. When travelling on personal vehicles, the Motorway (M-1) can be used to reach Mardan Interchange from Islamabad which takes approximately 1.5 hours (131km). From Mardan, a distance of 112 km can be covered via Takh-e-Bai, Dargai, Malakand Pass, Batkhella, Chakdara to reach Mingora or Saidu Sharif. The travelling routes are open throughout the year. Nowadays public transport facilities have also improved. Daewoo buses are commonly used for travelling. Attractions: The major attractions of the Swat valley include its archeology, the lush green sites, the history and their art. History of Swat Valley

The history of Swat valley goes back to around 2000 years ago. It was known as Udyana and later the name was changed to Suvastu. The valley was a very peaceful area for living until the 11th century. The game of power led to the disruption the valley and it was first conquered by Mahmud of Ghazni. The ritual of acquiring the lands continued and Swat valley was then taken over by the Yusufzais. In the time period of 19th century, swat valley was under Akhund Sahib who believed in the Muslim law. At this time, the economy of Swat valley flourished due to agriculture and it became one of the significant trading areas for businesses. The population of Swat valley is around 1,257,602 and they have a number of cultural group living in which the most prominent ones are Pakhtuns, Yusufzais, Kohistanis, Gujars and Awans. Swat Valley is known as the “mini Switzerland”. Its landscapes are a proof of natural beauty and it was one of the most visited areas and had a major tourism industry. There were events which led to the downfall of the tourism which was one of the major sources of income of the Swats economy. The conflicts between the Taliban and the Pakistani army have effected the valleys attractions. The whole conflict started in 1990s when Sufi Muhammad, a cleric figure tried to impose the sharia law on the people of swat valley. In 2007, his son in law tried to follow his foot step by imposing the religion with strength of arms. The Pakistan army took control of the situation and in 2008 the war of Swat was put to an end. Another factor that also contributed in diminishing the tourism industry include the floods in 2010 in which most of the infrastructure was destroyed including the roads and bridges leading to difficulties in traveling to Swat valley. Climate
From March till October, Swat has the best season for tourism. The valley welcomes the people through its magnificent mountains, lush green forests, running streams and meadows.

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ھے؟
08/08/2026

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ھے؟

سوات کے نوجوانوں کے لیے فخر کا دن: امتحانی نتائج کا اعلان! 🌸📖​آج وادیِ سوات کے لیے ایک انتہائی خوشی اور فخر کا دن ہے! جم...
05/08/2026

سوات کے نوجوانوں کے لیے فخر کا دن: امتحانی نتائج کا اعلان! 🌸📖
​آج وادیِ سوات کے لیے ایک انتہائی خوشی اور فخر کا دن ہے! جماعت نہم اور دہم کے امتحانی نتائج آ چکے ہیں اور ہمارے بچے ایک بار پھر سرخرو ہوئے ہیں۔ یہ دن ان کی سال بھر کی محنت کا پھل پانے کا دن ہے۔
​پوزیشن ہولڈرز کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! 🎉
​ہم ان تمام باصلاحیت طلباء کو بہت مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے سائنس اور آرٹس گروپ میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں۔ آپ لوگوں نے نہ صرف اپنا، بلکہ اپنے والدین اور پورے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔
​🥇 سائنس گروپ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی سوہانا احمد کو ان کی شاندار کارکردگی پر خصوصی مبارکباد!
🥇 آرٹس گروپ میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی جویریہ شاہ کو بھی ان کی کامیابی پر ڈھیروں مبارکباد!
​ہم مبارکباد دیتے ہیں:
​دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے تمام بچوں کو: روشنی، زلندہ سردار، یسریٰ بی بی، اور نایاب رحمت۔ آپ سب نے کمال کر دکھایا ہے!
​والدین کو: یہ آپ کی قربانیوں، دعاؤں اور بچوں پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ آپ کے سر فخر سے بلند ہیں۔
​اساتذہ کو: آپ کی رہنمائی اور محنت کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔ آپ قوم کے معمار ہیں۔
​لیکن، ایک اہم بات ان والدین اور سرپرستوں کے لیے بھی جن کے بچوں کے نمبر کم آئے ہیں:
​امتحانات صرف نمبروں کا کھیل نہیں ہے! 👇
​نتائج آنے کے بعد اکثر گھروں میں خوشی کا ماحول ہوتا ہے، لیکن کچھ گھروں میں مایوسی کا ڈیرہ جم جاتا ہے۔ ان والدین سے میری مخلصانہ درخواست ہے کہ جن بچوں کے نمبر کم آئے ہیں، ان پر تنقید نہ کریں اور نہ ہی ان کی صلاحیتوں پر شک کریں۔
​یہ یاد رکھیں:
​نمبر واحد معیار نہیں ہیں: کسی بچے کے نمبر اس کی اصل قابلیت، ذہانت یا کردار کا مکمل اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ہر بچے میں ایک منفرد ٹیلنٹ چھپا ہوتا ہے۔
​سب کا ذہنی لیول ایک جیسا نہیں ہوتا: لازمی نہیں کہ ہر بچہ 'جینئیس' ہو یا ریاضی اور سائنس میں ہی بہترین ہو۔ کوئی آرٹ میں اچھا ہو سکتا ہے، کوئی سپورٹس میں، تو کوئی سماجی کاموں میں۔ ہمیں ان کے چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو پہچاننا ہے۔
​موازنہ زہر قاتل ہے: "دوسرے کزن یا دوست کے اتنے نمبر آئے، تمہارے کیوں کم آئے؟" اس قسم کی موازنہ بچوں کی خود اعتمادی کو تباہ کر دیتی ہے۔ چند نمبروں کا فرق کسی بھی بچے کو نالائق ثابت نہیں کرتا۔
​ملامت نہیں، محبت کی ضرورت ہے! 🥰
​پچھلے کچھ سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے ہی دباؤ اور ملامت آمیز رویوں کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت بچوں نے خود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کچھ نے تو اپنی زندگی تک ختم کرنے کا بھیانک فیصلہ کیا۔ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔
​مار نہیں، پیار سے سمجھا دیجئے:
​اگر بچہ ناکام ہوا ہے یا نمبر کم آئے ہیں، تو اسے گلے لگائیں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ اس کی قابلیت ان نمبروں سے کہیں زیادہ ہے۔
​اسے بتائیں کہ زندگی ایک امتحان نہیں، بلکہ سیکھنے کا ایک سفر ہے۔ ناکامی تو کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
​اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی کمزوریوں کو دور کرنے میں اس کی مدد کریں، اور اسے یقین دلائیں کہ آپ ہر حال میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
​بچے آپ کا اثاثہ ہیں، انہیں دباؤ نہیں، بلکہ آپ کی محبت، توجہ، اور اعتماد چاہیے۔ انہیں سمجھائیں کہ کوشش کرنا ضروری ہے، اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
​ایک بار پھر، سوات کے تمام کامیاب بچوں کو مبارکباد! اور ان تمام بچوں کے لیے ڈھیروں دعائیں جو اپنی محنت کے باوجود آج کے نتائج سے خوش نہیں ہیں۔ آپ سب کا مستقبل روشن ہے، ان شاء اللہ!
​ Tipu Shaheed College swat

"اگر گزشتہ نصف صدی کا سب سے بڑا نوحہ کسی نے لکھا ہے، تو وہ پشتون ماؤں کے آنسوؤں نے لکھا ہے، ان بچوں کے خون نے لکھا ہے جو...
03/08/2026

"اگر گزشتہ نصف صدی کا سب سے بڑا نوحہ کسی نے لکھا ہے، تو وہ پشتون ماؤں کے آنسوؤں نے لکھا ہے، ان بچوں کے خون نے لکھا ہے جو کبھی بڑے ہونے کا موقع ہی نہ پا سکے، اور ان وادیوں نے لکھا ہے جن میں بہار سے زیادہ بارود اُگا۔"
— نثار عبداللہ
تاریخ کبھی صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی۔
کبھی تاریخ قبروں کے کتبوں پر لکھی جاتی ہے۔ کبھی یتیم بچوں کی خاموش آنکھوں میں۔ کبھی اُن ماؤں کے چہروں پر جنہوں نے اپنے جوان بیٹوں کو دفن کیا۔ اور کبھی اُن وادیوں میں، جہاں پرندوں کی آوازوں سے زیادہ دھماکوں کی گونج سنی گئی۔
اگر کوئی محقق آئندہ سو سال بعد یہ سوال کرے کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں پاکستان کے پشتون علاقوں کے ساتھ کیا ہوا تھا، تو شاید اسے صرف اعداد و شمار نہ ملیں؛ اسے ٹوٹے ہوئے گھر، ویران بازار، خوف میں پلتی نسلیں، اور ایسے خاندانوں کی داستانیں ملیں گی جنہوں نے اپنے پیاروں کو کبھی واپس آتے نہیں دیکھا۔
کل کا سانحۂ کبل صرف ایک خبر نہیں تھا۔
یہ اس زخم کی یاد دہانی تھا جو برسوں سے پوری طرح بھر نہیں سکا۔
دہشت گردی نے صرف جانیں نہیں لیں، بلکہ اعتماد بھی چھینا، تعلیم کو نقصان پہنچایا، کاروبار متاثر کیے، سیاحت کو دھچکا پہنچایا، اور ایک ایسی نفسیاتی کیفیت پیدا کی جس میں بہت سے لوگ ہر غیر معمولی آواز پر چونک جاتے ہیں۔ یہ نقصان صرف ایک نسل کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سب سے تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف چند دن افسوس کریں گے، پھر اگلی خبر کا انتظار کریں گے؟
کیا شہداء صرف اعداد و شمار ہیں؟ کیا یتیم بچوں کے خواب کسی رپورٹ کا ایک صفحہ بھرنے کے لیے ہیں؟ کیا ماؤں کے آنسو صرف تعزیتی بیانات تک محدود رہ جائیں گے؟
امن صرف بندوقوں سے قائم نہیں ہوتا۔ امن انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی سے مضبوط ہوتا ہے۔ عوام کے اعتماد سے قائم رہتا ہے۔ اور اس وقت پائیدار بنتا ہے جب ہر شہری کی جان کو برابر اہمیت دی جائے۔
آج ضرورت صرف سانحۂ کبل پر افسوس کرنے کی نہیں، بلکہ اس عزم کی ہے کہ ہر بے گناہ جان کے تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے، ہر واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے، اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو آنے والی نسلوں کو خوف کے بجائے امید کا مستقبل دیں۔
قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان پر سانحات آتے ہیں؛ قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب سانحات معمول بن جائیں، اور سوال پوچھنا چھوڑ دیا جائے۔
آئیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، زخمیوں کو شفا دے، متاثرہ خاندانوں کو صبر عطا فرمائے، اور پاکستان کے ہر خطے—خصوصاً ان علاقوں کو جو دہائیوں سے تشدد کا بوجھ اٹھا رہے ہیں—امن، انصاف اور استحکام نصیب فرمائے۔
کاش آنے والی نسلیں ہماری وادیوں کو بارود سے نہیں، علم، خوشحالی اور امن سے پہچانیں۔












#امن

02/08/2026

کیا آپ صوبوں کے مجوزہ تقسیم پر راضی ھے؟ کیا صوبوں کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا چاھئے؟
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ میں ضرور کیجئے

31/07/2026

Cute and funny Babies 🤣🤣

شہریار احمد کا تبادلہ؛ سوات نے ایک بااصول افسر کھو دیا یا کچھ لوگوں کی ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی؟شہریار احمد کا بطور ایڈیش...
31/07/2026

شہریار احمد کا تبادلہ؛ سوات نے ایک بااصول افسر کھو دیا یا کچھ لوگوں کی ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی؟
شہریار احمد کا بطور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، سوات سے تبادلہ کردیا گیا۔
سرکاری افسران کے تبادلے معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایک افسر آج ایک ضلع میں ہوتا ہے اور کل کسی دوسرے ضلع میں اپنی ذمہ داریاں ادا کررہا ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات کسی افسر کا تبادلہ محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے موجود حالات کئی اہم سوالات ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔
شہریار احمد کے معاملے میں بھی کچھ ایسے ہی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
شہریار احمد ایک قابل، محنتی، بااصول اور عوام دوست افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سوات سے پہلے وہ ہری پور میں بطور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں ان کے دور کو آج بھی بہت سے لوگ ایک ایسے افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو عام آدمی، خصوصاً غریب اور کمزور طبقے کی بات سننے اور قانون کے مطابق ان کی مدد کرنے کے لیے دستیاب رہتا تھا۔
لیکن سوات میں آکر شاید ان کے لیے اصل امتحان شروع ہوا۔
سوات میں اصل مسئلہ کیا تھا؟
سوات میں ایک سرکاری افسر کے لیے کام صرف سرکاری فائلوں تک محدود نہیں رہتا۔ یہاں سیاسی، سماجی اور بااثر حلقوں کے مختلف النوع دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
میری معلومات اور ذاتی مشاہدے کے مطابق شہریار احمد نے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں قانون اور میرٹ کو ذاتی تعلقات اور سفارش پر ترجیح دینے کی کوشش کی۔
وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو معاشی طور پر مستحکم اور باعزت ہے۔ انہیں کسی سیاسی شخصیت کی خوشنودی حاصل کرکے اپنی ملازمت یا ذاتی مفاد محفوظ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔
چنانچہ اگر کسی بااثر شخص کی طرف سے کوئی ایسا مطالبہ سامنے آتا جسے وہ قانون کے مطابق درست نہیں سمجھتے تھے تو اسے ماننے کے بجائے انکار کرنا ان کے لیے زیادہ قابلِ قبول تھا۔
اور شاید یہی چیز بعض لوگوں کو ناگوار گزری۔
میری معلومات کے مطابق سوات میں چند بااثر حلقوں سے وابستہ افراد کی طرف سے سفارش، ناجائز مطالبات اور مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا بھی انہیں کرنا پڑا، خصوصاً بعض ایسے مطالبات جنہیں وہ اپنے منصب اور قانون کے خلاف سمجھتے تھے۔
بات یہاں تک پہنچی کہ ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے دفتر کے بعض بااثر لوگوں کے قریب سمجھے جانے والے افراد کے ذریعے بھی کوششیں کی گئیں، حتیٰ کہ ایک موقع پر معاملہ تلخی اور ہاتھا پائی تک پہنچتے پہنچتے رہ گیا۔
لیکن شہریار احمد نے مبینہ طور پر اس دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے طریقۂ کار پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔
پھر ایک متنازعہ واقعہ سامنے آیا
چند ہفتے قبل ایک خاتون کی جانب سے شہریار احمد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔
یہیں سے شہریار احمد کے خلاف ایک ایسی مہم شروع ہوئی جس نے ان کی ساکھ کو نشانہ بنایا۔
لیکن اس معاملے میں جذبات سے زیادہ دستاویزات دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ ہمارے سامنے اب اس واقعے سے متعلق تھانے کا تحریری ریکارڈ اور فریقین کے درمیان باقاعدہ تحریری راضی نامہ موجود ہے۔
اور یہی دستاویزات اس پورے معاملے کو سمجھنے میں انتہائی اہم ہیں۔
دستاویزات کیا بتاتی ہیں؟
دستیاب تھانہ ریکارڈ کے مطابق معاملہ ایک شخص کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق تھا، جس میں متعلقہ خاتون کی شکایت/درخواست کے بعد معاملہ پولیس اور پھر سرکاری انتظامی عمل تک پہنچا۔
شہریار احمد نے اپنے منصب کے مطابق متعلقہ شخص سے ضمانتی مچلکے/ضمانت لے کر اسے چھوڑا۔
اس کے بعد سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ متعلقہ فریقین کے درمیان باقاعدہ تحریری راضی نامہ طے پایا۔
اس راضی نامے میں فریقین کے درمیان معاملہ ختم کرنے، رقم کی ادائیگی اور آئندہ ایک دوسرے کی تصاویر و ویڈیوز کے استعمال سے گریز سمیت باہمی شرائط درج ہیں، جبکہ متعلقہ فریقین کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اب یہاں ایک نہایت بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر شہریار احمد نے اس معاملے میں رشوت لی تھی تو اس کا ثبوت کہاں ہے؟
اگر کسی افسر نے واقعی رشوت وصول کی ہو تو اس کے خلاف محکمانہ انکوائری، پولیس تفتیش یا عدالت میں ثبوت پیش کیے جانے چاہئیں۔
لیکن فریقین کے درمیان ہونے والے ایک باہمی راضی نامے کو، جس میں شہریار احمد بطور فریق موجود نہیں، ان کے خلاف رشوت کا قطعی ثبوت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
الزام اپنی جگہ، ثبوت اپنی جگہ۔
اور یہی فرق سمجھنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا کی عدالت یا قانون کی عدالت؟
کسی شخص پر الزام لگانا بہت آسان ہے۔
ایک ویڈیو بنائی جاسکتی ہے، ایک جذباتی بیان دیا جاسکتا ہے، کسی کے ہاتھ میں قرآن رکھ کر دعویٰ کیا جاسکتا ہے، اور پھر چند لوگ اسے سوشل میڈیا پر اتنا اچھال سکتے ہیں کہ دیکھنے والا بغیر ریکارڈ دیکھے اسے حقیقت سمجھنے لگے۔
لیکن قانون اس طرح کام نہیں کرتا۔
اگر کسی افسر نے رشوت لی ہے تو ثبوت سامنے لائیں۔
اگر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو تحقیقات کرائیں۔
اگر سرکاری منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے تو محکمانہ کارروائی کریں۔
اور اگر الزام جھوٹا ہے تو پھر کسی کی عزت اور کردار کو سوشل میڈیا کے ذریعے تباہ کرنے کا حق بھی کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔
شہریار احمد نے بھی قانونی راستہ اختیار کرنے کی تیاری کی
میرے علم کے مطابق شہریار احمد نے اس مہم کے خلاف قانونی کارروائی، بالخصوص ہتکِ عزت کے نوٹس کے لیے اپنے وکلاء سے مشاورت کی اور متعلقہ شواہد بھی فراہم کیے۔
اگر وہ چاہتے تو معاملہ قانونی طور پر بہت آگے جاسکتا تھا۔
لیکن بعض معززین نے درمیان میں آکر معاملہ مزید نہ بڑھانے کی درخواست کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ قانونی کارروائی کی صورت میں اس پورے معاملے سے وابستہ مزید کردار اور نام سامنے آسکتے ہیں۔
شہریار احمد نے اس موقع پر معاملہ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
یہ خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ الزام درست تھا؛ اور نہ ہی کسی الزام کی تردید صرف خاموشی سے ہوسکتی ہے۔ اصل فیصلہ ریکارڈ اور قانون نے کرنا ہے۔
اور آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے
اب خبر سامنے آئی ہے کہ شہریار احمد کا سوات سے تبادلہ کردیا گیا ہے۔
یہاں پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا یہ محض ایک معمول کا انتظامی تبادلہ ہے؟
یا
کیا اس کے پیچھے وہ تمام واقعات، دباؤ اور تنازعات بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں جن کا سامنا شہریار احمد کو سوات میں کرنا پڑا؟
اس سوال کا جواب متعلقہ حکام ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔
لیکن سوات کے عوام کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ سوال پوچھیں۔
کیونکہ اگر ایک افسر کرپٹ ہے تو اسے ضرور ہٹایا جائے۔
اگر کوئی افسر رشوت لیتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
اگر کوئی افسر عوام کو تنگ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
لیکن اگر ایک افسر کا "جرم" صرف یہ ہے کہ وہ ناجائز سفارش نہیں مانتا، بااثر لوگوں کے سامنے نہیں جھکتا، غیر قانونی مطالبات قبول نہیں کرتا اور قانون کے مطابق کام کرنے پر اصرار کرتا ہے، تو پھر سوال افسر سے نہیں بلکہ اس نظام سے ہونا چاہیے۔
شہریار احمد کو شاید نقصان نہیں ہوا، سوات کو ضرور ہوا ہے
شہریار احمد ایک PMS افسر ہیں۔
آج سوات میں نہیں تو کل کسی دوسرے ضلع میں اپنی خدمات انجام دیں گے۔ ایک افسر کی اصل طاقت کسی مخصوص کرسی یا ضلع میں نہیں بلکہ اس کی قابلیت، تجربے، کردار اور سرکاری حیثیت میں ہوتی ہے۔
اس لیے شہریار احمد کا تبادلہ ان کی شکست نہیں۔
اگر وہ واقعی اصولوں پر قائم رہے تو شاید یہ تبادلہ ان کے لیے ایک نئے ضلع، نئی ذمہ داری اور نئی خدمت کا آغاز ہو۔
لیکن سوات نے یقیناً ایک ایسے افسر کو کھو دیا جس کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ قانون، میرٹ اور عام آدمی کی بات کو اہمیت دیتا تھا۔
اور سوات کو ایسے ہی افسران کی ضرورت ہے۔
آخر میں صرف ایک بات
ہم شہریار احمد کو فرشتہ قرار نہیں دے رہے۔
نہ ہی کسی دوسرے فریق کو صرف اس لیے قصوروار قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس نے الزام لگایا۔
ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ الزام پر نہیں، ثبوت پر ہونا چاہیے۔
اگر شہریار احمد قصوروار ہیں تو مکمل تحقیقات ہوں، ثبوت سامنے آئیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
لیکن اگر ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوتے، اور ان کا اصل "قصور" یہ تھا کہ انہوں نے سفارش، دباؤ اور ناجائز مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، تو پھر سوات کے عوام کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر ایک بااصول افسر کو یہاں کام کرنے کیوں نہیں دیا گیا؟
کیونکہ:
سرکاری کرسی کسی ایم پی اے، کسی خاندان، کسی بااثر شخص یا کسی سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں ہوتی۔
یہ عوام کی امانت ہوتی ہے۔
اور عوام کی امانت پر بیٹھنے والا افسر اگر کسی کا وفادار ہونا چاہیے تو صرف قانون اور عوام کا۔
شہریار احمد جہاں بھی جائیں، اللہ انہیں عزت، کامیابی اور استقامت عطا فرمائے۔
اور سوات کے لیے دعا ہے کہ یہاں آنے والا ہر افسر کسی بااثر فرد کا نہیں بلکہ قانون، ریاست اور عوام کا افسر بن کر آئے۔
سوات کو افسر نہیں، بااصول افسر چاہیے۔
Commissioner Malakand Division
Deputy Commissioner Swat
Deputy Commissioner Malakand
Swat Valley
Ashfaq Tv اشفاق ٹی وی

#سوات
#بابوزئی

#میرٹ



22/07/2026

د اسسٹنٹ کمشنر بابوزئ پہ بارہ د کرپشن الزام اصل حقیقت واورئ، د ھر تصویر دوہ رخہ وی صرف پہ یو رخ کتلو/اوریدلو د چا خلاف دومرہ زر سہ فیصلہ کول ندی پکار، دا د اسلام ھم حکم دے او د اخلاقیاتوں او پختو ھم دھغہ تقاضا دہ۔
مننہ

📝 سوات کی تاریخ کے جھروکوں سے: 1955ء کا ریکارڈ اور یہاں آباد مختلف اقوام و قبائل کا باہمی مروجہ نظام​جب بھی ہمارے ذہن می...
14/06/2026

📝 سوات کی تاریخ کے جھروکوں سے: 1955ء کا ریکارڈ اور یہاں آباد مختلف اقوام و قبائل کا باہمی مروجہ نظام
​جب بھی ہمارے ذہن میں "سوات" کا نام آتا ہے، تو دلکش وادیاں، بہتے جھرنے، شاداب پہاڑ اور دلفریب مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ لیکن سوات کی اصل خوبصورتی صرف اس کے جغرافیے میں نہیں، بلکہ اس کے گلدستے جیسے کلتور (ثقافت) اور ان قبائل میں ہے جنہوں نے صدیوں سے اس دھرتی کو محبت، رواداری اور بھائی چارے سے رونق بخشی ہے۔
​1955ء کے ملاکنڈ اور ریاستِ سوات کے سرکاری ریکارڈ اور تاریخی شواہد کے مطابق، سوات کی سرزمیں پر دس (10) ایسے بڑے، معزز اور ایک دوسرے سے منفرد اقوام اور قبائل آباد ہیں جنہوں نے اس خطے کی تاریخ، معیشت اور معاشرت کو سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
​آئیے تاریخ کے اس دروپچے سے ان 10 اقوام کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں:
​1۔ #گوجر (Gujars)
​گوجر برادری سوات کے پہاڑی سلسلوں اور سرسبز دامنوں میں آباد یہاں کی قدیم ترین اور جفاکش ترین قوموں میں سے ہے۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر دارومدار گلہ بانی، مالداری اور زراعت پر رہا ہے۔ فطرت سے قریب رہنے والے ان لوگوں کی وفاداری، جرات اور مہمان نوازی کی داستانیں آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
​2۔ #یوسفزئی (Yousafzais)
​یوسفزئی قبیلہ سوات کی تاریخ میں ایک حکمران اور سیاسی و سماجی طور پر انتہائی بااثر پشتون قوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ریاستِ سوات کے قیام، اراضی کی منصفانہ تقسیم (بخش بندی) اور پشتونوں کی روایتی ننگ و ناموس کی پاسداری میں یوسفزئی تاریخ کا کردار نہایت درخشاں اور نمایاں ہے۔
​3۔ #کوہستانی (Kohistanis)
​سوات کے بالائی حصوں، جیسے بحرین، مدین اور کالام کی وادیوں میں کوہستانی نسل کے قبائل آباد ہیں۔ ان کا اپنا ایک منفرد، خوبصورت کلتور ہے اور ان کی کلتوری موسیقی اور مخصوص زبانیں (جیسے توروالی اور گاوری) سوات کی مجموعی ثقافت کو ایک دلفریب اور منفرد رنگ عطا کرتی ہیں۔
​4۔ #سواتی (Swatis)
​تاریخی اعتبار سے "سواتی" کہلانے والے قبائل اس وادی کے قدیم ترین باسیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے کئی خاندان دیگر قریبی خطوں (جیسے ہزارہ ڈویژن) کی طرف ہجرت کر گئے، لیکن سوات کی تاریخ اور پرانے نظام میں ان کے نقوش انتہائی گہرے ہیں۔
​5۔ #سیدان / #سادات (Sayyids)
​سادات سوات کا وہ معزز ترین طبقہ ہے جن کا شجرہ نسب رسول اللہ ﷺ سے ملتا ہے۔ وادیِ سوات میں انہیں ہمیشہ سے بے پناہ روحانی اور سماجی احترام حاصل رہا ہے۔ معاشرتی تنازعات کے حل، صلح جوئی اور امن و امان قائم رکھنے میں سادات نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
​6۔ #میاگان یا #اخوندخیل (Miagan / Akhunkhel)
​یہ سوات کے عظیم مصلح، روحانی پیشوا اور ریاستِ سوات کے بانی سیدو بابا (حضرت عبدالغفور اخوند صاحبؒ) کی اولاد اور ان کے معتقدین ہیں۔ معاشرے میں انہیں اعلیٰ مذهبی، تعلیمی اور کلتوری مقام حاصل رہا ہے، اور سوات میں علم و حکمت کی شمع روشن کرنے میں ان کا بڑا حصہ ہے۔
​7۔ #عوان (Awans)
​اعوان برادری بھی سوات کی آبادی، تجارت اور معیشت کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ اپنی بہادری، کاروباری سمجھ بوجھ اور زمینوں کو آباد کرنے کی صلاحیت کی بدولت انہوں نے سوات کے مقامی قبائل کے ساتھ ہمیشہ مکمل ہم آہنگی اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔
​8۔ #مغل (Mughals)
​اگرچہ سوات میں ان کی تعداد دیگر اقوام کے مقابلے میں کم رہی ہے، لیکن مغل برادری تاریخی طور پر اپنی علمی بصیرت، دفتری امور کی مہارت، خوش نویسی (خطاطی) اور نفیس دستکاری کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔
​9۔ #جدون (Jadoons)
​جدون پشتونوں کا ایک اور غیرت مند اور معزز قبیلہ ہے جو سوات کے مخصوص حصوں میں آباد ہے۔ ان کی روایات، رسم و رواج اور طرزِ زندگی بھی پشتونولی کے اعلیٰ اصولوں، غیرت اور مروجہ قوانین کے عین مطابق ہے۔
​10۔ #قسبگر / کسب گر (اہنگر، جولا، ننداپ اور نائی)
​یہ سوات کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا وہ حصہ ہیں جن کے بغیر زندگی کا پہیہ چلنا ناممکن تھا۔ اس محنتی طبقے میں شامل تھے:
​ #انگر / اہنگر (لوہار): لوہے کا کام کرنے والے ماہرین، جو زراعت کے اوزار اور دفاعی آلات بناتے تھے۔
​ #جولا (جولاہے/ بنکر): سوات کی مشہور اونی چادروں (شړۍ) اور گرم کپڑوں کی صنعت کو زندہ رکھنے والے دستکار۔
​ #ننداپ (دھنیا): روئی اور اون کو دھنکنے والے، جو بستر اور رضائیاں تیار کرتے تھے۔
​ #نائی (حجام): یہ صرف بال ہی نہیں بناتے تھے، بلکہ گاؤں میں شادی بیاہ اور غمی کے موقع پر پیغام رسانی اور سماجی انتظام سنبھالنے والے اہم رکن تھے۔
​📌 1955ء کے دفتری ریکارڈ کی اہمیت:
​سوات کا یہ پرانا ریکارڈ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ماضی کی " #ریاستِ_سوات" ایک ایسا خود کفیل اور متوازن نظام رکھتی تھی جہاں خان، کسان، مالدار اور کسب گر—سب کا اپنا ایک معزز مقام اور دائرہ اختیار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سوات امن، خوشحالی اور کلتوری ہم آہنگی کی ایک بے مثال جنت بنا رہا۔
​آپ کا تعلق سوات کے کس علاقے سے ہے اور آپ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں! 👇
​💬 اگر یہ تاریخی اور معلوماتی تحریر آپ کو پسند آئی ہو، تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر (Share) کریں تاکہ سوات کی تاریخ کے یہ خوبصورت رنگ سب تک پہنچ سکیں!

Address

Swat
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zamong Swat Zamong Jannat ، زمونگ سوات زمونگ جنت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share