21/06/2026
خیبر کا پاسبان: وہ آدھا انگریز، آدھا پشتون جس نے بندوق نہیں بلکہ اعتماد سے درۂ خیبر کو سنبھالا
برصغیر کی سرحدی تاریخ میں چند ایسے کردار ملتے ہیں جنہیں صرف ایک فوجی افسر، منتظم یا سفارت کار کہنا ان کے مقام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ سر رابرٹ واربرٹن انہی نادر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں درۂ خیبر کے نگہبان بنے جب یہ علاقہ سلطنتِ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان کشمکش کا مرکز تھا، مگر انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو بڑی بڑی فوجیں بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے قبائل کے دل جیتے، ان کی زبان سیکھی، ان کی روایات کو سمجھا اور اعتماد کے ذریعے وہ اثر و رسوخ حاصل کیا جو طاقت کے زور پر ممکن نہ تھا۔
جنگ اور خونریزی کے درمیان جنم لینے والا بچہ
رابرٹ واربرٹن 11 جولائی 1842ء کو افغانستان میں جگدلک اور مک کے درمیان ایک غلزئی قلعے میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی اینگلو افغان جنگ اپنے المناک اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔
ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ واربرٹن رائل آرٹلری کے افسر تھے جبکہ والدہ شاہ جہاں بیگم افغان امیر دوست محمد خان کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ شاہ جہاں بیگم دراصل امیر کے بھائی کی بیٹی اور افغان شاہی خاندان کی فرد تھیں۔
رابرٹ واربرٹن کی پیدائش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں جنگ، بدامنی اور سیاسی انتشار اپنے عروج پر تھا۔ کابل میں برطانوی افواج کی تباہی کے بعد ان کی والدہ کئی ماہ تک روپوش رہیں اور سردار محمد اکبر خان کے سپاہیوں سے بچتی پھرتی رہیں۔ بالآخر ستمبر 1842ء میں وہ اپنے شوہر سے دوبارہ مل سکیں۔
ایک ایسے خاندان کی کہانی جس میں برطانیہ اور افغانستان ملتے تھے
واربرٹن کی شخصیت کی اصل بنیاد ان کی دوہری شناخت تھی۔ ان کے والد کا تعلق ایک معروف آئرش برطانوی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا رچرڈ واربرٹن آئرلینڈ کے بااثر زمینداروں میں شمار ہوتے تھے جبکہ پردادا جان واربرٹن برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے تھے۔
دوسری طرف ان کی والدہ افغان اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسی وجہ سے واربرٹن بچپن ہی سے دو مختلف تہذیبوں، زبانوں اور روایات سے واقف ہوئے۔ بعد میں یہی خصوصیت انہیں دوسرے برطانوی افسروں سے ممتاز کرتی رہی۔
مسوری سے وولویچ تک
افغان جنگ کے بعد خاندان ہندوستان منتقل ہوگیا۔ رابرٹ واربرٹن نے ابتدائی تعلیم مسوری میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں انگلستان بھیجا گیا جہاں انہوں نے کینسنگٹن گرامر اسکول، رائل انڈیا ملٹری کالج ایڈیسکومب اور رائل ملٹری اکیڈمی وولویچ میں تعلیم حاصل کی۔
18 دسمبر 1861ء کو انہیں رائل آرٹلری میں کمیشن ملا اور وہ دوبارہ ہندوستان آگئے۔
ان کی زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب 1866ء میں آگرہ اینڈ ماسٹرمینز بینک دیوالیہ ہوگیا اور خاندان کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر آگئی۔ یہی حالات انہیں محض فوجی افسر کے بجائے ایک عملی منتظم بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔
ابیسینیا مہم اور غیرمعمولی صلاحیتیں
1867-68ء کی ابیسینیا مہم میں واربرٹن نے حصہ لیا۔ یہ مہم موجودہ ایتھوپیا میں برطانوی کارروائی تھی۔
وہاں انہوں نے مقامی آبادی کے ساتھ معاملات سلجھانے میں غیر معمولی تدبر کا مظاہرہ کیا۔ ان کی یہ صلاحیت اعلیٰ حکام کی نظر میں آئی اور انہیں مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد سرحدی افسر سمجھا جانے لگا۔
خیبر کی جانب سفر
1870ء میں وہ پنجاب کمیشن میں شامل ہوئے اور پشاور ڈویژن میں تعینات ہوئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب درۂ خیبر صرف ایک پہاڑی راستہ نہیں بلکہ برطانوی ہند کی سلامتی کا دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ روسی توسیع پسندی کے خوف اور افغانستان کی سیاسی صورتحال نے اس علاقے کو غیرمعمولی اہمیت دے دی تھی۔
1879ء میں انہیں درۂ خیبر کا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا گیا۔ یہ عہدہ بظاہر انتظامی تھا لیکن حقیقت میں یہ ایک نہایت حساس سیاسی، عسکری اور سفارتی ذمہ داری تھی۔
طاقت کے بجائے اعتماد کی حکمت عملی
واربرٹن جانتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں محض فوجی طاقت دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔
وہ روانی سے پشتو اور فارسی بولتے تھے۔ قبائلی جرگوں میں شرکت کرتے، مقامی رسم و رواج کا احترام کرتے اور پشتون ولی کے اصولوں کو سمجھتے تھے۔
قبائل انہیں بیرونی حکمران کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے تھے جو ان کی زبان بولتا اور ان کے مسائل سمجھتا تھا۔
اسی لیے انہیں وہ اعتماد حاصل ہوا جو اکثر فوجی مہمات اور توپ خانے بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
وہ برطانوی افسر جو بغیر محافظ کے گھومتا تھا
سرحدی تاریخ کی سب سے حیران کن روایات میں سے ایک یہ ہے کہ واربرٹن اکثر بغیر مسلح حفاظتی دستے کے قبائلی علاقوں کا سفر کرتے تھے۔
ان کے ہاتھ میں صرف ایک چھڑی ہوتی اور وہ قبائلی عمائدین کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو کرتے۔
ان کی حفاظت بندوقیں نہیں بلکہ وہ احترام تھا جو مقامی قبائل ان کے لیے رکھتے تھے۔
یہ کوئی رومانوی داستان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ انہوں نے طاقت سے زیادہ اعتماد میں سرمایہ کاری کی تھی۔
خیبر رائفلز: ایک انقلابی تصور
واربرٹن کی سب سے بڑی کامیابی خیبر رائفلز کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا تھی۔
برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ مقامی آبادی کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں امن کے عمل میں شریک کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔
چنانچہ آفریدی قبائل کے نوجوانوں کو بھرتی کرکے ایک مقامی فورس تشکیل دی گئی۔
یہ ایک غیرمعمولی تصور تھا۔ جو لوگ کل تک سرکاری قافلوں پر حملے کرتے تھے، وہی آج انہی راستوں کے محافظ بن گئے۔
بعد میں یہی فورس سرحدی سلامتی کی ایک اہم اکائی بنی اور آج بھی اس کی روایت پاکستان کے فرنٹیئر کور میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ریٹائرمنٹ اور ایک پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی
واربرٹن نے کئی بار حکومت کو خبردار کیا کہ ان کے بعد ایسے افسر کی ضرورت ہوگی جو مقامی حالات سے واقف ہو۔
انہوں نے ایک تربیت یافتہ جانشین کی تقرری کی سفارش بھی کی مگر حکومت نے اس پر توجہ نہ دی۔
11 جولائی 1897ء کو ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔
صرف ایک ماہ بعد آفریدی قبائل کی بغاوت پھوٹ پڑی اور درۂ خیبر میں صورتحال بگڑ گئی۔
یہ وہی خطرہ تھا جس کے بارے میں واربرٹن برسوں سے خبردار کرتے آرہے تھے۔
"ایٹین ایئرز اِن دی خیبر"
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے تجربات کو کتابی شکل دی۔
"Eighteen Years in the Khyber, 1879–1898" نہ صرف ان کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے بلکہ برطانوی سرحدی پالیسی، قبائلی معاشرت اور درۂ خیبر کی تاریخ کا ایک اہم تاریخی ماخذ بھی ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے قبائل، جرگوں، سیاسی مذاکرات اور سرحدی انتظام کے بارے میں ایسی تفصیلات قلم بند کیں جو آج بھی محققین کے لیے قیمتی ہیں۔
آخری ایام
1897-98ء کی تیراہ مہم میں دوبارہ خدمات انجام دینے سے ان کی صحت شدید متاثر ہوئی۔
درۂ خیبر میں پیدا ہونے والی بدامنی اور اس علاقے کی صورتحال نے انہیں ذہنی طور پر بھی متاثر کیا۔
22 اپریل 1899ء کو لندن کے کینسنگٹن میں ان کا انتقال ہوگیا۔
وہ صرف 56 برس کے تھے۔
تاریخ کا فیصلہ
سر رابرٹ واربرٹن ایک نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن سرحدی تاریخ میں ان کی اہمیت اس وجہ سے منفرد ہے کہ انہوں نے قبائل کو صرف طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنے کے تصور کو چیلنج کیا۔
ان کی کامیابی کا راز فوجی قوت نہیں بلکہ زبان، ثقافت، احترام اور اعتماد تھا۔
آج بھی جب درۂ خیبر، آفریدی قبائل اور پاک افغان سرحد کی تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو واربرٹن کا نام ایک ایسے شخص کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے ثابت کیا کہ بعض اوقات دل جیتنا قلعے فتح کرنے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔نوٹ برائے تحقیق: تاریخی اعتبار سے واربرٹن کی خدمات کو دو زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ برطانوی مؤرخ انہیں ایک کامیاب سرحدی منتظم قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض پشتون اور نوآبادیاتی تاریخ کے ناقدین انہیں برطانوی "فارورڈ پالیسی" کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک متوازن تاریخی مطالعہ کے لیے دونوں نقطۂ نظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ # # #