Discover Khyber

Discover Khyber Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Discover Khyber, Tourist Information Center, Tirah.

بالکل! آفریدی قوم کی تاریخ بہت پرانی اور بہادری سے بھری ہوئی ہے۔ یہ پختون قبائل کی ایک بڑی اور مشہور شاخ ہے، اور خیبر پخ...
19/05/2026

بالکل! آفریدی قوم کی تاریخ بہت پرانی اور بہادری سے بھری ہوئی ہے۔ یہ پختون قبائل کی ایک بڑی اور مشہور شاخ ہے، اور خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں رہتی ہے۔

*آفریدی قوم کے بارے میں چند اہم تاریخی باتیں:*

1. *جغرافیائی اہمیت*
آفریدی زیادہ تر خیبر درے کے آس پاس آباد ہیں۔ خیبر درہ صدیوں سے وسطی ایشیا، برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سب سے بڑا تجارتی اور فوجی گزرگاہ رہا ہے۔ اس وجہ سے آفریدی ہمیشہ اس علاقے کے محافظ رہے ہیں۔

2. *بہادری اور جنگجو روایت*
آفریدیوں کو ان کی بہادری، غیرت اور آزادی پسندی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے مغل، سکھ، اور برطانوی سامراج سب کے خلاف مزاحمت کی۔
سب سے مشہور واقعہ *1897 کا تیراہ مہم* ہے، جہاں آفریدی قبائل نے برطانوی فوج کو سخت نقصان پہنچایا اور کئی ہفتوں تک ان کو خیبر درے میں روکے رکھا۔

3. *ثقافت اور روایات*
آفریدی معاشرہ قبائلی نظام پر چلتا ہے، جہاں "جرگہ" فیصلے کرتا ہے۔ ان کی ثقافت میں مہمان نوازی، بدلہ لینا، اور پشتون ولی یعنی پشتون روایتی ضابطہ اخلاق بہت اہم ہے۔
وہ اپنی زبان پشتو بولتے ہیں، اور روایتی لباس، اتنڑ ڈانس اور گھڑ سواری ان کی پہچان ہے۔

4. *تاریخی کردار*
کئی آفریدی سرداروں اور مجاہدوں نے برصغیر کی تاریخ پر اثر ڈالا۔ ان میں حاجی صاحبِ تیراہ، اور بعد میں پاکستان کی تحریک میں شامل ہونے والے آفریدی رہنما شامل ہیں۔

5. *سکے پر لکھا ہوا "افریـدی"*
جو سکہ آپ نے بھیجا ہے، اس پر بیچ میں "افریـدی" لکھا ہے اور گردونوالی تحریر میں "کل ہند آفریدی جرگہ" اور "1450" کا سال نظر آتا ہے۔ یہ غالباً 1897 کے قریب آفریدی جرگے کی طرف سے جاری کردہ یادگاری سکہ ہے، جو برطانوی قبضے کے خلاف اتحاد اور مزاحمت کی علامت تھا۔

آفریدی قوم کو اکثر "پہاڑوں کے محافظ" کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے صدیوں تک اپنے علاقے اور آزادی کا دفاع کیا۔ # # #

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔02درہ آدم خیل پر حملہ کرتے وقت انگریزں نے نہایت رازداری ا...
17/05/2026

انگریزوں کی جارحانہ حکمت عملی اور آدم خیل قبائل
قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔02
درہ آدم خیل پر حملہ کرتے وقت انگریزں نے نہایت رازداری اور احتیاط سے کام لیا اور سامان حرب و ضرب سے آراستہ فرنگی فوج نے 10 فروری 1850 کو درہ آدم خیل پر اچانک حملہ کر کے اخوروال کا محاصرہ کر لیا۔
چونکہ اخوروال اس غیر متوقع حملے کے لیے تیار نہیں تھے لہذا انہوں نے صلح کی بات چیت شروع کی لیکن انگریزوں نے انہیں یکطرفہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا انگریزوں کی اس شرط کو ان کی غیرت و حمیت برداشت نہ کر سکی اور اخروال کی مختصر سی محصور جماعت نے عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہوئے فرسٹ پنجاب انفنٹری پر بھرپور حملہ کیا لیکن جنگی سامان کی کمی کی وجہ سے وہ لوگ اخر میں پسپائی پر مجبور ہو گئے
دوسرے مرحلے میں زرغن خیل سے ٹکر لی۔ زرغن خیل بھی دشمن کے مقابلے میں خالی ہاتھ تھے لیکن پھر بھی دشمن کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا پکٹ اینڈ انٹرمیشنز اس لڑائی کے متعلق لکھتے ہیں دشمن یعنی افریدیون نے پہاڑوں کی چوٹیوں سے ان پر یعنی انگریزوں پر گولیاں برسائیں جس سے انگریزی فوج کی کئی افراد ہلاک و زخمی ہوۓ ۔چونکہ تعداد میں بہت کم تھے اور دشمن کے مقابلے میں ان کا اسلحہ بھی ناقص تھا اس لیے انگریزی فوج کو کامیابی ہوئی۔ زرغن خیل کے مکانات کو منہدم کرنے کے بعد انگریزوں نے پیش قدمی جاری رکھی

کوہی کے مقام پہ درہ کے افریدیوں نے انگریزںفوج کے ساتھ ایک اور جنگ لڑی ۔ مزاحمت اتنی شدید تھی کہ انگریز فوج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ۔ لیکن بستی خیل قوم نے ان کا تعقب جاری رکھا ۔اس لڑائی میں دشمن کے 93 فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہلاک شدہ شدگان میں لیفٹیننٹ سیٹ بھی شامل تھے اس فوجی مہم سے کوئی مثبت نتائج برامد نہیں ہوۓ اور درہ کوہاٹ کی سڑک آمد و رفت کے لیے بند رکھی گئی۔

کتاب : درہ آدم خیل تاریخ کے آئینے میں: # # #

تشکر
سیف اللہ Saif Ullah

خاطر آفریدی:خاطر آفریدی، پشتو زبان کے معروف شاعر تھے۔ 1929ء میں  قبائلی علاقے لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ پاکستان ...
13/05/2026

خاطر آفریدی:
خاطر آفریدی، پشتو زبان کے معروف شاعر تھے۔ 1929ء میں قبائلی علاقے لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔ آپ کا اصل نام مصری خان تھا۔ آپ کے والدین کا تعلق آفریدی قبیلہ میں زکا خیل برادری سے تھا۔ خاطر آفریدی پشتو زبان کے انتہائی معروف شاعر گردانے جاتے ہیں۔
آپ کے صاحبزادے نے تمام ادبی کام جمع کر کے ایک ضحیم کتاب کی شکل میں شائع کروایا۔ خاطر آفریدی کی پیدائش کے کچھ دن بعد ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور ان کی پرورش چچا اور دادا نے کی۔ غربت کی زندگی گزاری اور کبھی مدرس نہ جا سکے۔ اور کم عمری میں خیبر رائفل کیمپ میں ایک باغبان کی نوکری اختیار کی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شاعری میں جتنی شائیستگی اور شعوری اقدار پائے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگوں میں یہ صفت پائی گئی ہے۔ یعنی وہ جو ان پڑھ ہو! مصری خان کو عشق نے شاعری کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور یہی عشق اس کے لیے موت کا پیغام بن کر آئی۔ عشق گر سچا ہو تو پا لینا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح مصری خان نے اپنے عشق کو پائے بغیر اس دنیائے فانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔ لیکن اپنے پیچھے ایسی شاعری چھوڑی،جنہیں*پڑھنے کے بعد انسانی فطرت ضرور اس شخص کے شعوری گہرائی اور ایک سادہ قسم کے عشق کو سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے
خاطر کو شاعری اور دوسرے فنون لطیفہ میں خاصی دلچسپی تھی اور انھوں نے شاعری اور موسیقی (رباب) کی تعلیم ایک مقامی استاد “باغیرم“ سے حاصل کی، جو مالکدین خیل کے رہائشی تھے۔
آپ کا جواں عمری میں ہی انتقال ہو گیا۔ آپ 24 اگست، 1961ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ # # #

چیف آف کوکی خیل ملک ولی خان ولد عبد الجبار کوکی خیل کی ایک یادگار تصویر جمرود ضلع خیبر
07/05/2026

چیف آف کوکی خیل
ملک ولی خان ولد عبد الجبار کوکی خیل
کی ایک یادگار تصویر
جمرود ضلع خیبر

درہ خیبر 1970 ء کی دہائی
06/05/2026

درہ خیبر 1970 ء کی دہائی

1977-78گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1 جمرود بازار دسویں جماعت کی الوداعی تقریب کے موقع پر اساتذہ کرام اور طلباء کا ایک یادگار ا...
04/05/2026

1977-78
گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1 جمرود بازار
دسویں جماعت کی الوداعی تقریب کے موقع پر اساتذہ کرام اور طلباء کا ایک یادگار
اساتذہ صاحبان میں دائیں سے بائیں
جناب عمر شاہ صاحب ۔محمد شریف صاحب ۔محمود خان صاحب ۔سرفراز خان۔سید حبیب صاحب ۔محمد رازق ۔سلطان محمد ۔عبدالحئی صاحب ۔جناب موسم خان صاحب شامل ہیں ۔
جبکہ طلباء میں دائیں سے بائیں
(1)سلیم خان۔نیک داد خان ۔نور حبیب ۔اسراراللہ۔مقبلی شاہ ۔اکبرعلی۔ظمیرشاہ۔۔فدامحمد۔ادت شیر ۔فضل کبیر ۔اورنگزیب۔عبدالمحمد۔
(2)عبدالغفور ۔اعجازعلی۔ظھور خان ۔حسیب علی ۔گوھرخان۔شرافت اللّٰہ ۔حق نواز۔عبدالستار۔ظمیرخان۔جنت گل ۔
(3)زاھد شاہ ۔عبدالقدیر۔عبدالرحیم۔بھادر خان۔اول ماش ۔صفدر خان ۔بادشاہ باز۔اکا خیل ۔سیف الرحمن ۔سردار خان۔ محمد کمال شامل ہیں ۔
جمرود بازار ضلع خیبر # #

1930ء ہندوستان اور افغانستان کا بارڈر۔ یہ پاکستان بننے سے پہلے کی تصویر ہے۔۔۔ ✍️
03/05/2026

1930ء ہندوستان اور افغانستان کا بارڈر۔ یہ پاکستان بننے سے پہلے کی تصویر ہے۔۔۔ ✍️

آفریدیوں کا تاریخی پس منظر:آفریدیوں کا تاریخی پس منظر بہت ہی دلچسپ اور قابل تعریف ہے، اور ان کے بغیر پشتون تاریخ مکمل نہ...
23/03/2026

آفریدیوں کا تاریخی پس منظر:

آفریدیوں کا تاریخی پس منظر بہت ہی دلچسپ اور قابل تعریف ہے، اور ان کے بغیر پشتون تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بہادر جنگجو اور مہمان نواز قوم ہمیشہ سے ہی اپنے تاریخی خدمات کی وجہ سے مشہور رہی ہے۔

**آفریدی قوم کا نسبی تعلق**
آفریدی قوم کا تعلق پشتون قبائل کے کرلاڼی شاخ سے ہے۔ شجرے کے مطابق آفریدیوں کے جدِ امجد کا نام عثمان تھا، جو کہ برہان کے بیٹے اور کرلاڼی کے پوتے تھے۔ ان کے تین بھائی تھے: لقمان، اتمان، اور ځدران۔ لقمان کے اولاد سے خٹک، اتمان سے اتمان خیل، اور ځدران سے ځدران قبیلہ نکلا۔

عثمان کے دو بیٹے تھے، ماپی اور زلنی۔ زلنی کے اولاد کم تھی اور بنگش قبیلے میں شامل ہوئی، جبکہ ماپی کی تین بیویاں تھیں: ترینہ، زرینہ اور فاطمہ۔ آفریدیوں کے آٹھ معروف شاخیں ہیں:
1. ملک دین خیل
2. کوکی خیل
3. اکاخیل
4. کمرخیل
5. قمبرخیل
6. ذخه خیل
7. سه پاي
8. آدم خیل

**رہائشی علاقے**
آفریدی خیبر درہ، اخور درہ، کوہاٹ اور تیراہ کے علاقوں میں آباد ہیں۔ ان کے علاقے کے مشرق میں خٹک، جنوب میں اورکزئی اور بنگش، شمال مغرب میں شینواری، اور شمال مشرق میں مومند واقع ہیں۔ خیبر درہ ان کا سب سے معروف علاقہ ہے، جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی گزرگاہ ہے۔

**تاریخی پس منظر**
یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کے مطابق آفریدی، جو اس وقت "اپریتی" کہلائے جاتے تھے، ان چار قبائل میں سے ایک ہیں جن کا ذکر اس نے کیا۔ اس کے علاوہ سکندرِ اعظم جب ہندوستان کی جانب بڑھ رہا تھا تو خیبر میں ان کے ساتھ آفریدیوں کا مقابلہ ہوا۔
1672 میں آفریدیوں اور مغلوں کے درمیان ایک جنگ ہوئی جس میں آفریدیوں نے اپنے سردار دریا خان آفریدی کی قیادت میں 40 ہزار مغلوں کو شکست دی، بہت سے مالِ غنیمت اور قیدی حاصل کیے۔ انگریزوں کے ساتھ بھی آفریدیوں کی سخت معرکے ہوئے ہیں۔

**آفریدیوں کے معروف شخصیات**
آفریدیوں میں کئی نامور شخصیات پیدا ہوئیں جن عجب خان آفریدی، ملک نصير آفريدی، رحمت شاہ آفریدی، لطیف آفریدی، بھارت کے سابق صدر ذاکر حسین، ، اور دریا خان آفریدی شامل ہیں۔ # # #

آفریدی اقوام کی تاریخ و ثقافت                #عید اور  #کٹامیر ( میر دنگ)آفریدی اقوام ماضی میں مواصلات کی عدم دستیابی جب...
13/03/2026

آفریدی اقوام کی تاریخ و ثقافت
#عید اور #کٹامیر ( میر دنگ)
آفریدی اقوام ماضی میں مواصلات کی عدم دستیابی جب ریڈیو بھی علاقے میں نھیں پہنچا تھا عید کی اطلاع دور دراز علاقوں میں پہنچانے کے لیے فائرنگ اور کٹا میر سے مدد لیتے تھے چاند رات پر باغ ملک دین خیل میں معززین اکابرین اور علماء اکھٹے بیٹھتے اور شھادتوں کا انتظار کرتے شھادتیں مکمل ھونے پر عید کا اعلان بم دھماکوں اور فائرنگ سے کرتے جو تمام علاقوں تک پھیل جاتے پہاڑ کی چوٹیوں پر کٹا میر جو گیلی سوکھی لکڑیوں کا ایک ڈھیر بنایا جاتا اسے آگ لگا دی جاتی جس کا دھواں دور دور تک عید کی نوید بن کر پھیل جاتا تھا سب سے مشھور کٹا میر غلام علی کا تھا جو سب سے بلند پہاڑی چوٹی پر چند جوانوں کے ساتھ جا کر کٹا میر کو آگ لگاتا جو بھت دور سے بھی نظر آتا اس سے پھلے کسی علاقے میں بھی کٹا میر کو آگ لگانے کی اجازت نھیں تھی بعد میں اس چوٹی کا نام غلام علی کے نام سے موسوم ھوا جو آج بھی ھے حیران کن طور ایک ایسے دور میں جب خبر پھنچانے کا کوئی زریعہ نہ تھا اپنی سھولت کے لیے کیسے کیسے طریقے رائج کیے کہ اج بھی بندہ دنگ رہ جاتا ھے آفریدی اقوام کی عظمت اور تدبر کو سلام
وہ دن گزر گئے کہ پسینہ گلاب تھا
اب عطر بھی ملے تو محبت کی بو نھیں
تاریخ سے ایک خوشہ چینی ڈاکٹر صبور آفریدی سے
#کٹامیر

بابائے غزل امیر حمزہ خان شینواری پشتون قوم کا مشہور شاعر مصنف ادیب صوفی ڈرامہ نگار امیر حمزہ حان شنواری 1907ء میں  بازمی...
10/03/2026

بابائے غزل امیر حمزہ خان شینواری
پشتون قوم کا مشہور شاعر مصنف ادیب صوفی ڈرامہ نگار امیر حمزہ حان شنواری 1907ء میں بازمیر خان کے گھر پیدا ہوے
خیبر ایجنسی لوراگئی لنڈی کوتل سے تعلوق تھا اپنا آبائی علاقہ بھی یہی تھا
وہ پشتو زبان کا مشہور شاعر مصنف اور ادیب تھے
وہ بابائے غزل کے نام سے بھی جانے جاتے ہے
پشتو زبان کے ساتھ ساتھ ان کو اردو پے بھی کافی عبور حاصل تھا اور اس وجہ سے شاعری کی شروعات اردو شاعری سے کی
لیکن
بعد میں اپنے استاذ مخترم سید عبدالستار بادشاہ کے کہنے پے اردو کے بجاے پشتو میں شاعری شروع کی
اور
وہاں سے اپنے زبان کی حدمت کا اغاز کیا اپنا ابتدائی تعلیم اپنےگاوں کے سکول سے شروع کی
لیکن اس نے ایک چھوٹی غلطی کی اس وقت اس کا عمر تقریباً 7 سال تھا
اور اس کو اپنے استاذ نے اتنا سزا دیا کہ اس کا دل تعلیم حاصل کرنے سے اٹھ گیا اور دل برداشتہ ہوگیا اور مجبورا وہ سکول چھوڑ دیا
بعد میں پھر 8 سال کے عمر میں اسلامیہ کالجیٹ ہائی سکول سے میں داخلہ لیا
اور میٹرک تک تعلیم وہاں حاصل کی تعلیم کے بعد ریلوے میں ملازمت کر لی
لیکن
1930ء میں والد کے انتقال پر سرکاری ملازمت کو خیرآباد کہا
اور
روحانی پیشوا سید عبدالستار بادشاہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور انہی کی ہدایت پر اردو میں فکر سخن چھوڑ کر
پشتو شاعری شروع کی
ہم عصر شاعروں کے ساتھ مل کر بزم ادب قائم کی جس کا نام پشتو ادبی ٹولنہ تھا
جس کی جناب سے عظیم شاعررحمان بابا کا عرس منایا جانے لگا
1950ء میں اس بزم کو اولسی ادبی جرگہ میں ضم کر دیا گیا
جس کے صدر امیر حمزہ منتخب ہوئے۔ رفیق غزنوی نے پشتو فلم سازی کی ابتدا کی تو پہلی پشتو فلم لیلیٰ مجنوں کے گانے اور مکالمے انہوں نے لکھے
ریڈیو پاکستان کے لیے بہت سے معاشرتی اور اصلاحی ڈرامے لکھے۔ پشتو غزل کو جدید رجحانات سے روشناس کرایا
پشتو نثر میں بھی بہت کچھ لکھا حمزہ بابا نے شاعری اور عزل کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سارے ڈرامے بھی لکھے
جو تقریباً 200 کے قریب
اور اس میں زیادہ اس وقت پشاور ریڈیو سٹیشن کی طرف سے پیش کیے گیے تھے
تقریبا 1300 سے زیادہ غزل لکھے ہے اور ایسے جدید دور کے عجیب غزل لکھے اور اس پے اتنا عبور حاصل تھا
کہ
اس کو ایسی وجہ سے بابائے غزل کا نام دیا گیااس کے ساتھ ساتھ اس نے کئی کتابوں کے ترجمے بھی کیے
اس میں ایک جو نجھل البلاغہ کے نام سے جس میں علی رضی اللہ تعالی عنہ کے تقاریر اور اقوال تھے اس کو ترجمہ کیا اور پبلیش بھی کردیا
حمزہ بابا نے تقریبا 20 کے سے زیادہ پشتو اور 10 کے قریب اردو زبان میں کتاب لکھے
جس میں کئی کے نام یہ ہے ان کی معروف تصانیف میں مندرجہ ذیل تصانیف شامل ہے
د زړه آواز
يون
بهير
پري وونی
سپرلی په آينه کې
د خيبر وږمې
ژوند او يون
د کابل سفرنامه
د حجاز په لور
د ليلا مجنون فلم او د فلم کيسه
مږې څپې
د کارل مارکس اصول د عقل په نظر
د حمزه ژوندليک
غزونې
تجليات
د خوشحال بابا يو شعر
تذکرة الستارية
انساني رڼا او پوهه
د حمزه ليکونه
غزليات (اردو)
انسان او زنده گي
د رحمان بابا د ديوان ژباړه په اردو نظم
د علامه اقبال د جاوېد نامې منظومه ژباړه
د ارمغان حجاز منظومه ژباړه
پټهان اور توهمات
قبايل کې رسم او رواج
ژور فکرونه
ډرامې
د حمزه کليات (پينځه ټوکه) اس کے علاوہ جاوید نامہ اور ارمغان حجاز کا پشتو ترجمہ بھی کیا خمزہ بابا 1994 فروری کے مہینے
اور
18 تاريخ کو اس دنیا سے آحرت کی طرف چلے گیے وہ ادب فن کے بہت قدر کرتے تھے
وہ ایک بہت ایماندار نیک انسان سادہ انسان تھے اپنی زندگی اصولوں پے گزاری اور ساری زندگی اپنے قوم اور پشتو زبان کی حدمت میں گزاری
اس کا ایک مشہور غزل جس کا ایک حصہ جس میں اس نے اپنی زندگی کی داستان اس طرح سے لکھی

ستا پہ اننګو کې د حمزہ د وینو سره دي
تہ شوې د پښتو غزله ځوان زہ دې بابا کړم
#

📜 *ملتان خان آفریدی — ایک عظیم مجاہد آزادی*ملتان خان آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کی مشہور پشتون قبیلے *ذُخہ خیل آفریدی* س...
06/03/2026

📜 *ملتان خان آفریدی — ایک عظیم مجاہد آزادی*

ملتان خان آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کی مشہور پشتون قبیلے *ذُخہ خیل آفریدی* سے تھا۔ وہ ایک نڈر، غیرتمند، اور بہادر مجاہد تھے جنہوں نے انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی۔
🔹 ابتدائی زندگی:
انہوں نے ابتدا میں برٹش انڈین آرمی (پنجاب رجمنٹ) میں ملازمت کی اور وہاں سے فوجی تربیت حاصل کی، لیکن جلد ہی انگریزوں کے مظالم دیکھ کر استعفیٰ دے دیا۔

🔹 جدوجہد کا آغاز:
1902 سے 1909 تک انہوں نے *خیبر، تیراہ، پشاور* اور گرد و نواح میں انگریزوں کی چوکیاں، قافلے اور پولیس اسٹیشنز پر متعدد حملے کیے۔
ان کی کارروائیاں اتنی مؤثر تھیں کہ انگریز حکومت کو شدید نقصان ہوا اور وہ ملتان خان سے سخت خوفزدہ ہوگئے۔

🔹 جلاوطنی اور واپسی:
1904 میں انگریزوں نے انہیں افغانستان جلاوطن کیا، مگر وہ خفیہ طور پر واپس آ کر دوبارہ آزادی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔

🔹 شہادت:
1909 میں ایک غدار ساتھی *"شیر غلام"* کی مخبری پر انگریزوں نے انہیں گھیر کر شہید کر دیا۔
ان کے ساتھی گرفتار ہوئے، اور *ملتان خان کو پشاور سینٹرل جیل میں دفن کیا گیا*۔ آج تک ان کی قبر وہیں موجود ہے۔

---

🕊️ یادگار:
آج بھی آفریدی قوم اور خصوصاً ذخہ خیل قبیلہ انہیں عزت و فخر سے یاد کرتا ہے اور ان کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہے۔ # #

Address

Tirah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Discover Khyber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share