Discover Khyber

Discover Khyber Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Discover Khyber, Tourist Information Center, Tirah.

خیبر کا پاسبان: وہ آدھا انگریز، آدھا پشتون جس نے بندوق نہیں بلکہ اعتماد سے درۂ خیبر کو سنبھالابرصغیر کی سرحدی تاریخ میں ...
21/06/2026

خیبر کا پاسبان: وہ آدھا انگریز، آدھا پشتون جس نے بندوق نہیں بلکہ اعتماد سے درۂ خیبر کو سنبھالا

برصغیر کی سرحدی تاریخ میں چند ایسے کردار ملتے ہیں جنہیں صرف ایک فوجی افسر، منتظم یا سفارت کار کہنا ان کے مقام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ سر رابرٹ واربرٹن انہی نادر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں درۂ خیبر کے نگہبان بنے جب یہ علاقہ سلطنتِ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان کشمکش کا مرکز تھا، مگر انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو بڑی بڑی فوجیں بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے قبائل کے دل جیتے، ان کی زبان سیکھی، ان کی روایات کو سمجھا اور اعتماد کے ذریعے وہ اثر و رسوخ حاصل کیا جو طاقت کے زور پر ممکن نہ تھا۔

جنگ اور خونریزی کے درمیان جنم لینے والا بچہ
رابرٹ واربرٹن 11 جولائی 1842ء کو افغانستان میں جگدلک اور مک کے درمیان ایک غلزئی قلعے میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی اینگلو افغان جنگ اپنے المناک اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ واربرٹن رائل آرٹلری کے افسر تھے جبکہ والدہ شاہ جہاں بیگم افغان امیر دوست محمد خان کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ شاہ جہاں بیگم دراصل امیر کے بھائی کی بیٹی اور افغان شاہی خاندان کی فرد تھیں۔

رابرٹ واربرٹن کی پیدائش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں جنگ، بدامنی اور سیاسی انتشار اپنے عروج پر تھا۔ کابل میں برطانوی افواج کی تباہی کے بعد ان کی والدہ کئی ماہ تک روپوش رہیں اور سردار محمد اکبر خان کے سپاہیوں سے بچتی پھرتی رہیں۔ بالآخر ستمبر 1842ء میں وہ اپنے شوہر سے دوبارہ مل سکیں۔

ایک ایسے خاندان کی کہانی جس میں برطانیہ اور افغانستان ملتے تھے

واربرٹن کی شخصیت کی اصل بنیاد ان کی دوہری شناخت تھی۔ ان کے والد کا تعلق ایک معروف آئرش برطانوی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا رچرڈ واربرٹن آئرلینڈ کے بااثر زمینداروں میں شمار ہوتے تھے جبکہ پردادا جان واربرٹن برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے تھے۔

دوسری طرف ان کی والدہ افغان اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسی وجہ سے واربرٹن بچپن ہی سے دو مختلف تہذیبوں، زبانوں اور روایات سے واقف ہوئے۔ بعد میں یہی خصوصیت انہیں دوسرے برطانوی افسروں سے ممتاز کرتی رہی۔

مسوری سے وولویچ تک
افغان جنگ کے بعد خاندان ہندوستان منتقل ہوگیا۔ رابرٹ واربرٹن نے ابتدائی تعلیم مسوری میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں انگلستان بھیجا گیا جہاں انہوں نے کینسنگٹن گرامر اسکول، رائل انڈیا ملٹری کالج ایڈیسکومب اور رائل ملٹری اکیڈمی وولویچ میں تعلیم حاصل کی۔

18 دسمبر 1861ء کو انہیں رائل آرٹلری میں کمیشن ملا اور وہ دوبارہ ہندوستان آگئے۔

ان کی زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب 1866ء میں آگرہ اینڈ ماسٹرمینز بینک دیوالیہ ہوگیا اور خاندان کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ والد کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر آگئی۔ یہی حالات انہیں محض فوجی افسر کے بجائے ایک عملی منتظم بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔

ابیسینیا مہم اور غیرمعمولی صلاحیتیں
1867-68ء کی ابیسینیا مہم میں واربرٹن نے حصہ لیا۔ یہ مہم موجودہ ایتھوپیا میں برطانوی کارروائی تھی۔

وہاں انہوں نے مقامی آبادی کے ساتھ معاملات سلجھانے میں غیر معمولی تدبر کا مظاہرہ کیا۔ ان کی یہ صلاحیت اعلیٰ حکام کی نظر میں آئی اور انہیں مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد سرحدی افسر سمجھا جانے لگا۔

خیبر کی جانب سفر
1870ء میں وہ پنجاب کمیشن میں شامل ہوئے اور پشاور ڈویژن میں تعینات ہوئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب درۂ خیبر صرف ایک پہاڑی راستہ نہیں بلکہ برطانوی ہند کی سلامتی کا دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ روسی توسیع پسندی کے خوف اور افغانستان کی سیاسی صورتحال نے اس علاقے کو غیرمعمولی اہمیت دے دی تھی۔

1879ء میں انہیں درۂ خیبر کا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا گیا۔ یہ عہدہ بظاہر انتظامی تھا لیکن حقیقت میں یہ ایک نہایت حساس سیاسی، عسکری اور سفارتی ذمہ داری تھی۔

طاقت کے بجائے اعتماد کی حکمت عملی

واربرٹن جانتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں محض فوجی طاقت دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔

وہ روانی سے پشتو اور فارسی بولتے تھے۔ قبائلی جرگوں میں شرکت کرتے، مقامی رسم و رواج کا احترام کرتے اور پشتون ولی کے اصولوں کو سمجھتے تھے۔

قبائل انہیں بیرونی حکمران کے بجائے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے تھے جو ان کی زبان بولتا اور ان کے مسائل سمجھتا تھا۔

اسی لیے انہیں وہ اعتماد حاصل ہوا جو اکثر فوجی مہمات اور توپ خانے بھی حاصل نہیں کر پاتے۔

وہ برطانوی افسر جو بغیر محافظ کے گھومتا تھا

سرحدی تاریخ کی سب سے حیران کن روایات میں سے ایک یہ ہے کہ واربرٹن اکثر بغیر مسلح حفاظتی دستے کے قبائلی علاقوں کا سفر کرتے تھے۔

ان کے ہاتھ میں صرف ایک چھڑی ہوتی اور وہ قبائلی عمائدین کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو کرتے۔

ان کی حفاظت بندوقیں نہیں بلکہ وہ احترام تھا جو مقامی قبائل ان کے لیے رکھتے تھے۔

یہ کوئی رومانوی داستان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ انہوں نے طاقت سے زیادہ اعتماد میں سرمایہ کاری کی تھی۔

خیبر رائفلز: ایک انقلابی تصور
واربرٹن کی سب سے بڑی کامیابی خیبر رائفلز کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا تھی۔

برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ مقامی آبادی کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں امن کے عمل میں شریک کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔

چنانچہ آفریدی قبائل کے نوجوانوں کو بھرتی کرکے ایک مقامی فورس تشکیل دی گئی۔

یہ ایک غیرمعمولی تصور تھا۔ جو لوگ کل تک سرکاری قافلوں پر حملے کرتے تھے، وہی آج انہی راستوں کے محافظ بن گئے۔

بعد میں یہی فورس سرحدی سلامتی کی ایک اہم اکائی بنی اور آج بھی اس کی روایت پاکستان کے فرنٹیئر کور میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ریٹائرمنٹ اور ایک پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی
واربرٹن نے کئی بار حکومت کو خبردار کیا کہ ان کے بعد ایسے افسر کی ضرورت ہوگی جو مقامی حالات سے واقف ہو۔

انہوں نے ایک تربیت یافتہ جانشین کی تقرری کی سفارش بھی کی مگر حکومت نے اس پر توجہ نہ دی۔

11 جولائی 1897ء کو ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی۔
صرف ایک ماہ بعد آفریدی قبائل کی بغاوت پھوٹ پڑی اور درۂ خیبر میں صورتحال بگڑ گئی۔

یہ وہی خطرہ تھا جس کے بارے میں واربرٹن برسوں سے خبردار کرتے آرہے تھے۔

"ایٹین ایئرز اِن دی خیبر"

ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے تجربات کو کتابی شکل دی۔

"Eighteen Years in the Khyber, 1879–1898" نہ صرف ان کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے بلکہ برطانوی سرحدی پالیسی، قبائلی معاشرت اور درۂ خیبر کی تاریخ کا ایک اہم تاریخی ماخذ بھی ہے۔

اس کتاب میں انہوں نے قبائل، جرگوں، سیاسی مذاکرات اور سرحدی انتظام کے بارے میں ایسی تفصیلات قلم بند کیں جو آج بھی محققین کے لیے قیمتی ہیں۔

آخری ایام
1897-98ء کی تیراہ مہم میں دوبارہ خدمات انجام دینے سے ان کی صحت شدید متاثر ہوئی۔

درۂ خیبر میں پیدا ہونے والی بدامنی اور اس علاقے کی صورتحال نے انہیں ذہنی طور پر بھی متاثر کیا۔

22 اپریل 1899ء کو لندن کے کینسنگٹن میں ان کا انتقال ہوگیا۔
وہ صرف 56 برس کے تھے۔

تاریخ کا فیصلہ
سر رابرٹ واربرٹن ایک نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن سرحدی تاریخ میں ان کی اہمیت اس وجہ سے منفرد ہے کہ انہوں نے قبائل کو صرف طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنے کے تصور کو چیلنج کیا۔

ان کی کامیابی کا راز فوجی قوت نہیں بلکہ زبان، ثقافت، احترام اور اعتماد تھا۔

آج بھی جب درۂ خیبر، آفریدی قبائل اور پاک افغان سرحد کی تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو واربرٹن کا نام ایک ایسے شخص کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے ثابت کیا کہ بعض اوقات دل جیتنا قلعے فتح کرنے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔نوٹ برائے تحقیق: تاریخی اعتبار سے واربرٹن کی خدمات کو دو زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ برطانوی مؤرخ انہیں ایک کامیاب سرحدی منتظم قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض پشتون اور نوآبادیاتی تاریخ کے ناقدین انہیں برطانوی "فارورڈ پالیسی" کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک متوازن تاریخی مطالعہ کے لیے دونوں نقطۂ نظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ # # #

"خیبر کی جرات و غیرت کی تاریخ ہو یا نقشۂ خیبر کی جغرافیائی اہمیت، دونوں خیبر کی عظمت اور شناخت #
16/06/2026

"خیبر کی جرات و غیرت کی تاریخ ہو یا نقشۂ خیبر کی جغرافیائی اہمیت، دونوں خیبر کی عظمت اور شناخت #

سفولا اسٹوپا: خیبر پاس کا تاریخی بدھ مت ورثہسفولا اسٹوپا، جسے مقامی طور پر "خیبر اسٹوپا" بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوب...
16/06/2026

سفولا اسٹوپا: خیبر پاس کا تاریخی بدھ مت ورثہ
سفولا اسٹوپا، جسے مقامی طور پر "خیبر اسٹوپا" بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں واقع ایک انتہائی اہم اور قدیم تاریخی یادگار ہے۔ یہ عظیم الشان اسٹوپا تاریخی درہ خیبر کے وسط میں، علی مسجد اور لنڈی کوتل کے درمیان، زیڑے گاؤں کے قریب ایک اونچی چٹان پر فخر سے سر اٹھائے کھڑا ہے۔
تاریخی پس منظر اور کوشان دورِ حکومت
اس اسٹوپا کی تعمیر غالباً دوسری سے تیسری صدی عیسوی کے درمیان، کوشان سلطنت (Kushan Empire) کے عہدِ زریں میں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب اس خطے میں گندھارا تہذیب (Gandhara Civilization) اپنے عروج پر تھی اور بدھ مت کو سرکاری و عوامی سطح پر بے پناہ مقبولیت حاصل ہو رہی تھی۔ یہ اسٹوپا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ درہ خیبر صرف ایک تجارتی یا عسکری راستہ ہی نہیں تھا، بلکہ مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بھی تھا۔
جغرافیائی اہمیت اور طرزِ تعمیر
سفولا اسٹوپا کو ایک بلند اور وسیع چٹانی پلیٹ فارم پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس تزویراتی (strategic) مقام کے انتخاب کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شاہراہِ ریشم اور درہ خیبر سے گزرنے والے تجارتی قافلے، زائرین اور مسافر دور ہی سے اس مقدس عبادت گاہ کو دیکھ سکیں اور یہاں آ کر آشیرواد یا سکون حاصل کر سکیں۔ اسٹوپا کا مرکزی گنبد (Dome) اگرچہ وقت کے تھپیڑوں اور دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے جزوی طور پر متاثر ہوا ہے، لیکن اس کا شاندار چکور چبوترہ (Plinth) اور گندھارا طرزِ تعمیر کی جھلک آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
آثارِ قدیمہ کی دریافتیں
علاقے کی کھدائی کے دوران یہاں سے بدھ مت کی تاریخ، بدھ مت کے پھیلاؤ اور گندھارا آرٹ کے بہترین شاہکار دریافت ہوئے تھے۔ ان نوادرات میں:
مہاتما بدھ کے خوبصورت سنگی مجسمے (Stucco & Stone Sculptures)
مٹی اور گچ کے بنے ہوئے دیگر مذہبی آثار شامل ہیں۔
یہ تمام قیمتی تاریخی اثاثے اور مجسمے اس وقت پشاور میوزیم (عجائب گھر) میں انتہائی حفاظت کے ساتھ نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جہاں وہ دنیا بھر کے محققین اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
موجودہ حالت اور اہمیت
سفولا اسٹوپا درہ خیبر میں بدھ مت کا آخری بچ جانے والا سب سے بہترین اور مکمل اسٹوپا مانا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے تنوع اور قدیم تاریخ کا امین ہے، بلکہ دنیا بھر کے بدھ مت پیروکاروں کے لیے گہری مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ # # #

۔۔۔وادی تیراہ کا مشہور پہاڑی خود رو پھل۔۔ #غونزہ۔۔ جسے انگریزی میں Hawthron کہتے ھیں یورپ ایشیاء کے چند ممالک شمالی امری...
09/06/2026

۔۔۔وادی تیراہ کا مشہور پہاڑی خود رو پھل۔۔ #غونزہ۔۔ جسے انگریزی میں Hawthron کہتے ھیں یورپ ایشیاء کے چند ممالک شمالی امریکہ شمالی افریقہ کے ممالک میں پایا جانا والا خود رو درخت یہ بیر اور فالسہ (گرگرے) کی طرح ایک گھٹلی رکھتا ھے ۔۔اس پھل میں اللہ نے بےشمار معجزاتی خصوصیات رکھیں ھیں یہ خون کو پتلا کرنے بلڈ پریشر کنٹرول رکھنے اور دل کی رفتار کو متوازن رکھنے کے لیے عالمی شہرت کا حامل ھے ۔۔جرمنی کی ممتاز ھومیو دوا ساز کمپنی ڈاکٹر ولمر شوابے جرمنی کی ریکوگ فرانس کی کمپنی لیہنینگ اور پاکستان کی ممتاز فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کے پھل سے دل کی طاقت اور ھائی بلڈ پریشر کے لیے( Creataegus ) کے نام سے دوائی بنا رھی ھیں جو پوری دنیا میں دل کی بیماریوں بلڈ پریشر اور دل کی طاقت کے لیے مستعمل اور کار آمد ھیں اس پھل سے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جا رھا ھے ۔۔۔باٹنی کے ماھرین نباتات کو اس پر مزید تحقیق کی دعوت دیتا ھوں ۔۔۔اس پھل کے دو سے تین دانے صبح شام کھانا دل اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں یاد رھے کہ اس پھل کو زیادہ مقدار میں ھرگز استعمال نہ کیا جائے اس سے دل اور معدے کی تکالیف پیدا ھو سکتی ھیں محض دو سے تین دانے ھی صبح شام کھائیں اس سے تجاوز نہ کریں اللہ سب مسلمانوں کو صحت کی دولت سے نوازے یہ واقعی سب سے بڑی نعمت ھے ۔۔سب دوستوں کی خیر ۔۔💕 ۔۔۔۔قبائیلی قلم کار ترجمان و ماھر ھومیوپیتھی ۔۔ڈاکٹر صبور آفریدی # # #

باب_خیبر، پشاور Kpk پاکستان 🇵🇰❣️ یہ گیٹ 1964 میں ایوب خان کی فوجی حکومت نے بنایا تھا۔ باب خیبر کو "پاکستان کا قومی گزرگا...
08/06/2026

باب_خیبر، پشاور Kpk پاکستان 🇵🇰❣️
یہ گیٹ 1964 میں ایوب خان کی فوجی حکومت نے بنایا تھا۔ باب خیبر کو "پاکستان کا قومی گزرگاہ" سمجھا جاتا ہے۔ اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کے لیے تجارتی راستے کے طور پر بنایا گیا تھا۔
باب خیبر (پشتو اور اردو: باب خیبر؛ ترجمہ 'خیبر گیٹ') پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں درہ خیبر کے داخلی دروازے پر واقع ایک یادگار ہے۔ یہ دروازہ پشاور کے بالکل مغرب میں واقع ہے، جس کے ساتھ ہی تاریخی جمرود قلعہ واقع ہے۔ یہ گیٹ 1964 میں ایوب خان کی فوجی حکومت نے بنایا تھا۔ باب خیبر کو پاکستان کا قومی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کے لیے تجارتی راستے کے طور پر بنایا گیا تھا۔ # # #

04/06/2026

وادی تیراہ کا وہ جگہ جہاں دو مختلف رنگ کے دریا آپس میں ملتے ہیں 💚🖤❤️
اس جگہ کا نام لوگ دواتوئئ کے نام سے پکارتے ہیں
یعنی دو دریا ❤️ # # #





پشاور کا مشہور "باڑہ کا پانی یہ جملہ آپ سب نے کئی دفعہ سنا یا پڑھا ہوگا کہ پرانے پشاور میں باڑہ کا پانی خاص سرکاری نلکوں...
01/06/2026

پشاور کا مشہور "باڑہ کا پانی
یہ جملہ آپ سب نے کئی دفعہ سنا یا پڑھا ہوگا کہ پرانے پشاور میں باڑہ کا پانی خاص سرکاری نلکوں میں آتا تھا ،جو کہ بہت ہی میٹھا اور ذودہاضم تھا ۔
تو آج جانتے ہیں کہ یہ باڑہ کا پانی کیا تھا ۔
یہ 19ویں صدی کا وہ منصوبہ تھا جو پشاور شہر کے لیے پینے کے صاف پانی کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔
باڑہ کا پانی کیا ہے؟
دریائے باڑہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے تیراہ کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور پشاور کے جنوب مغرب سے گزر کر کابل دریا میں گرتا ہے۔ اس پانی کی شہرت صدیوں پرانی ہے۔
لوگ اسے "افسانوی طاقت اور پاکیزگی" والا پانی کہتے تھے کیونکہ:
- پہاڑی راستے سے آنے کی وجہ سے قدرتی طور پر صاف اور ٹھنڈا ہوتا تھا
- اس کی مٹی اور پانی دونوں زرخیز سمجھے جاتے تھے
- اسی پانی سے اگنے والا "باڑہ چاول" پورے علاقے میں مشہور تھا۔
علی مردان خان مغل شہنشاہ شاہ جہان کے مشہور انجینئر اور گورنر تھے۔ 17ویں صدی میں انہوں نے لاہور میں شالیمار باغ اور پشاور کے آس پاس بھی نہری نظام بہتر کیے۔
علی مردان خان نے باڑہ کے پانی کو نہروں کے ذریعے باغات تک پہنچایا۔ اسی وجہ سے پشاور کے گردونواح میں سرسبز باغات اور پھلوں کے باغ لگے۔ اسی پانی اور سرخ مٹی کی وجہ سے "باڑہ چاول" کا ذائقہ اور خوشبو مشہور ہوئی
انگریزوں کے دور حکومت میں ایک دفعہ پشاور میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ،تو فرنگیوں نے پشاور کے لئے صاف پانی کی تلاش شروع کردی۔
1869 میں، پشاور ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر کیپٹن بلیئر نے دریائے باڑہ کو میدان کے مشرق کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے پشاور کی طرف قدرتی بہاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے سب سے موزوں ذریعہ قرار دیا۔ اس کی رپورٹ نے خطے کے 30 سے 50 فٹ فی میل کے قدرتی میلان کو دیکھتے ہوئے، اوپن کٹ چینل یا پائپ سسٹم کے ذریعے دریا کے بہاؤ کو کشش ثقل کے ذریعے پشاور تک پہنچانے کی فزیبلٹی کو اجاگر کیا۔
قلعہ باڑہ کے قریب دریائے باڑہ کا بیڈ پشاور چھاؤنی کے مغربی سرے سے 305 فٹ بلند ہے اور شہر کے کابلی دروازے سے 433 فٹ بلند ہے، جو پمپ کی ضرورت کے بغیر کشش ثقل کے بہاؤ کو یقینی بناتا ہے۔ یہ دریا 1.6 کلومیٹر زیر زمین سرنگ میں داخل ہوتا ہے، جسے سکھ دور کے باڑہ (کشن گڑھ) قلعے کے قریب پانچ تلچھٹ کے ٹینک بنتے ہیں۔ وہاں سے، زمین کے اوپر اور نیچے دونوں اینٹوں کی نالیاں، مین باڑہ روڈ پر واقع پشتخرہ فلٹریشن بیڈز تک پانی کو 6 کلومیٹر تک لے جاتی ہیں۔
1883 میں، پشاور کے میڈیکل آفیسر نے نوٹ کیا کہ کھلی نالیوں کو تبدیل کرنے اور فلٹریشن کے ذریعے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے لوہے کے پائپ متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر سر گنگا رام نے پشاور شہر کے لیے پانی کی فراہمی اور نکاسی کی پہلی وسیع اسکیم دی جسے بعد میں دوسرے شہروں میں بھی نقل کیا گیا۔ 1898 سینیٹری کمیشن کی رپورٹ نے دریا سے پانی نکالنے، نجاستوں کو حل کرنے، ریت اور شنگلی کی تہوں سے فلٹر کرنے اور بند ذخائر کے اندر پانی کو محفوظ کرنے کے وسیع عمل کو بیان کیا۔ 1918 تک، نظام اچھی طرح سے قائم ہو چکا تھا، صاف اور موثر تقسیم کو یقینی بناتا تھا۔
اس کے کئی اہم حصے تھے
- مین ممبع/سورس: دریائے باڑہ
- فلٹریشن پلانٹ: پشتخرہ فلٹریشن سٹیشن، جو اب بھی مین باڑہ روڈ پر موجود ہے
- پہاڑوں سے پانی کو نہروں اور پائپ لائنز کے ذریعے بغیر پمپ کے گریویٹی سے پشاور تک لایا جاتا تھا
یہ اس زمانے کے لیے انجینئرنگ کا کمال تھا۔ پشاور کا پانی اسی نظام سے پورے شہر میں سپلائی ہوتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 140 سال بعد بھی یہ نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
- پشتخرہ فلٹریشن پلانٹ اب بھی جزوی طور پر چلتا ہے
- لیکن آبادی بڑھنے اور مینٹیننس نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ پشاور کی کل ضرورت کا صرف ایک چھوٹا حصہ پورا کرتا ہے
- زیادہ تر پانی اب ٹیوب ویلز اور دوسرے ذرائع سے آتا ہے

اس لیے لوگ اب بھی "باڑہ کا پانی" کو خالص اور صحت بخش سمجھتے ہیں، اور پرانے پشاوری اس کے ذائقے کو یاد کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ باڑہ کا پانی پشاور کے لیے صرف پانی نہیں، ایک تاریخی ورثہ اور شناخت ہے۔ مغل دور سے لے کر برطانوی راج تک یہ شہر کی ترقی کا بنیادی سبب رہا۔
آپ لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں تو زرا سب سے بانٹئے ۔

یہ تصویر 1920 کی ہے ۔
جس میں قلعہ باڑہ ، دریائے باڑہ اور پانی ذخیرہ کرنے کا تالاب دکھائی دے رہا ۔ # # #

نرے بابا (Naray Baba) – ایک مجذوب صوفی شخصیت۱۔ نام کی وجہ تسمیہ (لقب)پشتو زبان میں لفظ "نرے" (نري) کے معنی دبلے پتلے، نح...
24/05/2026

نرے بابا (Naray Baba) – ایک مجذوب صوفی شخصیت
۱۔ نام کی وجہ تسمیہ (لقب)
پشتو زبان میں لفظ "نرے" (نري) کے معنی دبلے پتلے، نحیف یا کمزور جسم والے کے ہیں۔ یہ ان کا اصل نام نہیں بلکہ ایک لقب تھا، جو انہیں ان کی سخت عبادت، زہد و تقویٰ اور مسلسل روزے رکھنے کی وجہ سے ملا۔ انہی روحانی مشاغل کے باعث ان کا جسم نہایت دبلا پتلا ہو گیا تھا، جس سے یہ لقب مشہور ہو گیا۔
۲۔ قبائلی تعلق اور علاقہ
نرے بابا کا تعلق خیبر کے معروف اور بہادر پشتون قبیلے Afridi کی شاخ Zakha Khel سے تھا۔
وہ ضلع خیبر کے پہاڑی علاقوں میں قیام پذیر رہے، اور ان کا مزار آج بھی زخہ خیل اور سیاہ کے درمیان ایک پُرسکون وادی میں واقع ہے، جہاں مقامی لوگ عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔
۳۔ صوفیانہ مقام (مجذوب بزرگ)
نرے بابا اپنے وقت کے ایک معروف مجذوب صوفی بزرگ تھے۔
انہوں نے دنیاوی آسائشوں، مال و دولت اور آرام دہ زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
ان کی زندگی کا بیشتر حصہ جنگلوں اور پہاڑوں میں عبادت، ذکرِ الٰہی اور تنہائی میں گزرتا تھا۔
مقامی روایات کے مطابق وہ ہر موسم میں نہایت سادہ لباس—اکثر ایک کمبل یا چادر—میں زندگی بسر کرتے تھے۔
۴۔ تصویر کا تاریخی پس منظر
یہ تصویر غالباً 1930ء یا 1940ء کے عشرے کی ہے، یعنی برطانوی راج کے آخری دور یا قیامِ پاکستان کے ابتدائی زمانے کی۔
اس زمانے میں جب کوئی بڑا قبائلی سردار یا انگریز افسر علاقے کا دورہ کرتا، تو وہ روحانی برکت کے حصول کے لیے ایسے صوفی بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔

بالکل! آفریدی قوم کی تاریخ بہت پرانی اور بہادری سے بھری ہوئی ہے۔ یہ پختون قبائل کی ایک بڑی اور مشہور شاخ ہے، اور خیبر پخ...
19/05/2026

بالکل! آفریدی قوم کی تاریخ بہت پرانی اور بہادری سے بھری ہوئی ہے۔ یہ پختون قبائل کی ایک بڑی اور مشہور شاخ ہے، اور خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں رہتی ہے۔

*آفریدی قوم کے بارے میں چند اہم تاریخی باتیں:*

1. *جغرافیائی اہمیت*
آفریدی زیادہ تر خیبر درے کے آس پاس آباد ہیں۔ خیبر درہ صدیوں سے وسطی ایشیا، برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سب سے بڑا تجارتی اور فوجی گزرگاہ رہا ہے۔ اس وجہ سے آفریدی ہمیشہ اس علاقے کے محافظ رہے ہیں۔

2. *بہادری اور جنگجو روایت*
آفریدیوں کو ان کی بہادری، غیرت اور آزادی پسندی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے مغل، سکھ، اور برطانوی سامراج سب کے خلاف مزاحمت کی۔
سب سے مشہور واقعہ *1897 کا تیراہ مہم* ہے، جہاں آفریدی قبائل نے برطانوی فوج کو سخت نقصان پہنچایا اور کئی ہفتوں تک ان کو خیبر درے میں روکے رکھا۔

3. *ثقافت اور روایات*
آفریدی معاشرہ قبائلی نظام پر چلتا ہے، جہاں "جرگہ" فیصلے کرتا ہے۔ ان کی ثقافت میں مہمان نوازی، بدلہ لینا، اور پشتون ولی یعنی پشتون روایتی ضابطہ اخلاق بہت اہم ہے۔
وہ اپنی زبان پشتو بولتے ہیں، اور روایتی لباس، اتنڑ ڈانس اور گھڑ سواری ان کی پہچان ہے۔

4. *تاریخی کردار*
کئی آفریدی سرداروں اور مجاہدوں نے برصغیر کی تاریخ پر اثر ڈالا۔ ان میں حاجی صاحبِ تیراہ، اور بعد میں پاکستان کی تحریک میں شامل ہونے والے آفریدی رہنما شامل ہیں۔

5. *سکے پر لکھا ہوا "افریـدی"*
جو سکہ آپ نے بھیجا ہے، اس پر بیچ میں "افریـدی" لکھا ہے اور گردونوالی تحریر میں "کل ہند آفریدی جرگہ" اور "1450" کا سال نظر آتا ہے۔ یہ غالباً 1897 کے قریب آفریدی جرگے کی طرف سے جاری کردہ یادگاری سکہ ہے، جو برطانوی قبضے کے خلاف اتحاد اور مزاحمت کی علامت تھا۔

آفریدی قوم کو اکثر "پہاڑوں کے محافظ" کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے صدیوں تک اپنے علاقے اور آزادی کا دفاع کیا۔ # # #

Address

Tirah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Discover Khyber posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share