13/08/2025
منی مرگ استور سے تاؤبٹ روڈ — خواب سے حقیقت تک کا سفر
منی مرگ گلگت بلتستان کی ایک دلکش وادی ہے، جو برف پوش چوٹیوں، شفاف جھیلوں اور سبز چراگاہوں کے درمیان چھپی ہوئی ہے۔ یہ وادی برسوں سے سیاحوں کے دل میں ایک خواب کی طرح بسی ہوئی تھی، مگر رسائی کے مشکل راستے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں رکاوٹ تھے۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔
کامری ٹاپ سے تاؤبٹ تک نئی سڑک کی تعمیر اسی خواب کو حقیقت کا روپ دے رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایک جغرافیائی ربط ہے بلکہ دو خطوں — استور اور آزاد کشمیر — کو مزید قریب لانے کا ذریعہ بھی ہے۔
تعمیراتی کام عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ استور کی طرف سے تقریباً پانچ کلو میٹر سڑک مکمل ہو چکی ہے جبکہ کشمیر کی سمت سے بھی بھرپور رفتار کے ساتھ کام جاری ہے۔ منصوبے میں بعض دشوار گزار مقامات پر ٹنل کی تعمیر کی تجویز زیر غور ہے، خاص طور پر دومیل بالا کے قریب، تاکہ موسم سرما میں بھی یہ راستہ کھلا رہے۔
اس سڑک کی تکمیل مقامی آبادی کے لیے زندگی بدلنے والی ہوگی۔ سفر کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی، صحت، تعلیم اور تجارت تک رسائی آسان ہو گی، اور سیاحت کے مواقع میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ منی مرگ کے قدرتی حسن، چراگاہوں اور جھیلوں تک رسائی اب محض ماہر ٹریکرز تک محدود نہیں رہے گی۔
تاہم اس ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔ جنگلات، چراگاہیں اور پہاڑی ندی نالے اس خطے کا قدرتی سرمایہ ہیں جن کی حفاظت ترقی کے ہر مرحلے میں مقدم ہونی چاہیے۔
یوں، منی مرگ سے تاؤبٹ تک کا یہ سفر اب محض نقشوں اور خوابوں میں نہیں بلکہ حقیقت کے دھارے میں بہتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر منصوبہ وقت پر مکمل ہوا تو یہ راستہ نہ صرف دو خطوں کو جوڑے گا بلکہ سیاحت اور معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔