Wah travel and tourism services

Wah travel and tourism services we arrange tour in all over Pakistan with a guide and full facilities

Permanently closed.
منی مرگ استور سے تاؤبٹ روڈ — خواب سے حقیقت تک کا سفرمنی مرگ گلگت بلتستان کی ایک دلکش وادی ہے، جو برف پوش چوٹیوں، شفاف جھ...
13/08/2025

منی مرگ استور سے تاؤبٹ روڈ — خواب سے حقیقت تک کا سفر

منی مرگ گلگت بلتستان کی ایک دلکش وادی ہے، جو برف پوش چوٹیوں، شفاف جھیلوں اور سبز چراگاہوں کے درمیان چھپی ہوئی ہے۔ یہ وادی برسوں سے سیاحوں کے دل میں ایک خواب کی طرح بسی ہوئی تھی، مگر رسائی کے مشکل راستے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں رکاوٹ تھے۔ اب حالات بدل رہے ہیں۔

کامری ٹاپ سے تاؤبٹ تک نئی سڑک کی تعمیر اسی خواب کو حقیقت کا روپ دے رہی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایک جغرافیائی ربط ہے بلکہ دو خطوں — استور اور آزاد کشمیر — کو مزید قریب لانے کا ذریعہ بھی ہے۔

تعمیراتی کام عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ استور کی طرف سے تقریباً پانچ کلو میٹر سڑک مکمل ہو چکی ہے جبکہ کشمیر کی سمت سے بھی بھرپور رفتار کے ساتھ کام جاری ہے۔ منصوبے میں بعض دشوار گزار مقامات پر ٹنل کی تعمیر کی تجویز زیر غور ہے، خاص طور پر دومیل بالا کے قریب، تاکہ موسم سرما میں بھی یہ راستہ کھلا رہے۔

اس سڑک کی تکمیل مقامی آبادی کے لیے زندگی بدلنے والی ہوگی۔ سفر کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی، صحت، تعلیم اور تجارت تک رسائی آسان ہو گی، اور سیاحت کے مواقع میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ منی مرگ کے قدرتی حسن، چراگاہوں اور جھیلوں تک رسائی اب محض ماہر ٹریکرز تک محدود نہیں رہے گی۔

تاہم اس ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کا خیال رکھنا ناگزیر ہے۔ جنگلات، چراگاہیں اور پہاڑی ندی نالے اس خطے کا قدرتی سرمایہ ہیں جن کی حفاظت ترقی کے ہر مرحلے میں مقدم ہونی چاہیے۔

یوں، منی مرگ سے تاؤبٹ تک کا یہ سفر اب محض نقشوں اور خوابوں میں نہیں بلکہ حقیقت کے دھارے میں بہتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر منصوبہ وقت پر مکمل ہوا تو یہ راستہ نہ صرف دو خطوں کو جوڑے گا بلکہ سیاحت اور معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔

13/06/2025
ہوائی جہاز کی اقسامہوائی جہاز آج کی دنیا میں نقل و حمل، جنگ، زراعت، اور تفریح کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ مختلف ...
09/06/2025

ہوائی جہاز کی اقسام

ہوائی جہاز آج کی دنیا میں نقل و حمل، جنگ، زراعت، اور تفریح کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ مختلف اقسام کے ہوتے ہیں، جن کا استعمال ان کے مقصد کے مطابق کیا جاتا ہے۔ آئیے ان کی اہم اقسام پر نظر ڈالیں:

1. *ایئر لائنر (Airliner)*
یہ مسافر طیارے ہیں جو لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال عام طور پر کمرشل فلائٹس میں ہوتا ہے۔

2. *فائٹر جیٹ (Fighter Jet)*
یہ جنگی طیارے ہیں جو فضائی جنگ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ تیز رفتار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں۔

3. *کارگو طیارہ (Cargo Plane)*
یہ طیارے سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ جگہ اور وزن اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

4. *پرائیویٹ جیٹ (Private Jet)*
یہ چھوٹے طیارے عام طور پر امیر افراد یا کارپوریٹ استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ ذاتی اور آرام دہ سفر کے لیے مشہور ہیں۔

5. *زرعی ہوائی جہاز (Agricultural Aircraft)*
یہ ہوائی جہاز زراعت میں کھاد یا کیڑے مار ادویات چھڑکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

6. *سی پلین (Seaplane)*
یہ ایسے طیارے ہیں جو پانی پر اترنے اور اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ جزی*ہوائی جہاز کی اقسام:*

08/06/2025

یہ تصویریں فیرِی لینڈ (Ferryland)، نیو فاؤنڈ لینڈ، کینیڈا کی ہیں، جہاں ایک بہت بڑا آئس برگ — اندازاً 150 فٹ بلند — سمندر میں تیرتا ہوا ساحل کے بہت قریب آ گیا ہے۔ یہ مقام دنیا بھر میں اس لیے مشہور ہے کہ یہاں ہر سال موسم بہار میں برفانی تودے (icebergs) شمالی بحر اوقیانوس (North Atlantic Ocean) سے بہتے ہوئے گزرتے ہیں، جسے "آئسبرگ ایلی" (Iceberg Alley) کہا جاتا ہے۔

آئسبرگ ایلی کیا ہے؟

آئسبرگ ایلی بحر اوقیانوس کا وہ علاقہ ہے جہاں ہر سال ہزاروں آئس برگ گرین لینڈ کے گلیشیئرز سے ٹوٹ کر بہتے ہوئے نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبراڈور کے ساحلوں کے قریب آتے ہیں۔ یہ سلسلہ اپریل سے جون تک زیادہ فعال ہوتا ہے۔

فیرِی لینڈ کی اہمیت۔

سیاحتی مقام: فیرِی لینڈ ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ ہے لیکن جب ایسے بڑے آئس برگ نمودار ہوتے ہیں تو دنیا بھر سے سیاح انہیں دیکھنے یہاں آتے ہیں۔

مقامی معیشت: یہ آئس برگ مقامی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں کیونکہ سیاحت کو فروغ ملتا ہے۔

حیرت انگیز مناظر: آئس برگ ساحل کے اتنے قریب آجاتے ہیں کہ وہ گھروں اور سڑکوں کے پیچھے بڑے پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

سائنسی پہلو
آئس برگ عام طور پر سمندر کی سطح سے تقریباً 10% نظر آتے ہیں اور باقی 90% پانی کے اندر چھپے ہوتے ہیں۔
بعض اوقات یہ آئس برگ خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں اگر یہ ساحلی ڈھانچے سے ٹکرا جائیں یا اچانک پگھل کر ٹوٹ جائیں۔

دلچسپ حقیقت۔
اسی علاقے میں 1912 میں مشہور مسافر بردار جہاز "ٹائیٹینک" بھی ایک آئس برگ سے ٹکرا کر ڈوبا تھا۔ وہ بھی آئسبرگ ایلی کے راستے میں ہی سفر کر رہا تھا۔

07/06/2025

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

07/06/2025

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

کمراٹ آنے والے دوستوں کو واہ ٹریول اینڈ ٹورزم کی جانب سے چند معلوماتہمیں امید ہے کوہستان دیر کی خوبصورت وادیاں آپ کو مای...
07/06/2025

کمراٹ آنے والے دوستوں کو واہ ٹریول اینڈ ٹورزم کی جانب سے چند معلومات
ہمیں امید ہے کوہستان دیر کی خوبصورت وادیاں آپ کو مایوس نہیں کریگی۔۔

🌲: سب سے پہلے تو یہ بات کہ دیر کی طرف سے تھل تک آپ اپنی کار وغیرہ پر آسکتے ہیں، مردان سے لے کر شرینگل تک اے ون روڈ ہے، شرینگل سے آگے کبھی غم کبھی خوشی یعنی آدھا کچا اور آدھا پکا روڈ ہے جس پر کار وغیرہ آرام سے تھل تک آ سکتی ہے۔۔۔

🌲: مردان؛ تیمرگرہ سے روزانہ تھل تک لوکل گاڑی بھی جاتی ہے اس لئے آپ لوکل گاڑی میں بھی آرام سے آسکتے ہیں۔۔۔

🌲: آپ رات کو بھی سفر کرسکتے ہیں، خطرے کی کوئی بات نہیں ۔۔۔

🌲: تھل کے قدیم تاریخی مسجد میں آپ تصاویر لے سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔۔۔

🌲: باڈگوئی ٹاپ کھل گیا ہے آپ کالام تک کار کے زریعے آسکتے ہے، آگے جیپ کا ٹریک ہے۔۔۔ اگر روڈ کھل گیا اور آپ کے پاس وقت ہے تو پھر یہ راستہ سب سے بہتر ہے، آپ مدین، بحرین، کالام ،اتروڑ کے مست نظارے دیکھ کر دشت لیلیٰ باڈگوئی ٹاپ کو پار کرکے تھل پہنچیں گے۔۔۔

🌲: آپ کے پاس اگر موٹر سائیکل ہے تو وہ سب سے بہتر ہے، کمراٹ کے دوجنگا تک آپ موٹرسائیکل پر جاسکتے ہو۔۔۔

🌲: اپنے ساتھ گرم کپڑے اور ٹیلی نار، وارد یا جاز کی سم لانی ہوگی۔ باقی سب کچھ ادھر ملتا ہے۔ تھل کے آس پاس وارد تھری جی اور فورجی کی سروس بھی ہے۔۔۔۔

🌲: ہوٹلز وغیرہ کےایڈوانس میں بکنگ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ یہ ذاتی مشورہ ہے۔۔۔

🌲: یہ ایک پر امن اور پر سکون علاقہ ہے اس لئے آپ اپنی فمیلی کے ساتھ بے فکر ہوکر آسکتے ہیں۔ مقامی سیدھے سادھے مہمان نواز لوگ ہیں۔۔۔

🌲: تھل سے کمراٹ فور بائی فور کا راستہ ہے اس لئے اپنی کار پر بھی رحم کیجئے اور ہم پر بھی، آپ اگر کار میں آتے ہیں تو کمراٹ کے روڈ پر وہ چلتی کم اور قیلولہ زیادہ کرتی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ اس لئے مہرابانی ہوگی تھل سے آگے سوزکی اور کار وغیرہ میں جانے سے گریز کیجئے۔۔۔

🌲 : کمراٹ ہم سب کا ہے، اسے صاف رکھنے کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے، اس لئے کچرا پھیلانے کے بجائے کچرا سمیٹنے کی کوشش کیجئے، درخت کے نیچے ہانڈی پکانے کے بعد کچرہ بیگز میں بھر کر قریب کسی ہوٹل کے ڈسٹ بن میں ڈالیئے، اگر کوئی کچرہ پھیلاتے ہوئے نظر آیا تو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے سمجھائیں۔۔۔

🌲: مقامی جو بھی ہوٹلز وغیرہ ہیں وہاں سب سے پہلے ڈسٹ بین دیکھ لیجئے اگر مل گیا تو سہی ورنہ اسے سمجھائیں کہ یہ غلط ہے، اگر آپ ہوٹل کی تصویر لے کر ہوٹل والے کو خالی یہ دھمکی بھی دیں کہ بھائی یہ آپ غلط کر رہے ہیں، ہم شہر جا کر آپ کے ہوٹل پر لکھے گا تو وہ سمجھ جائے گا، اس سال اگر 100 بندوں نے بھی ایسا کیا تو اگلے سال سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ ان لوگوں کا روزگار آپ لوگوں سے چلتا ہے، آپ لوگ بائیکاٹ کریں گے تو یہ لوگ لائن پر آئیں گے۔۔۔

🌲 : دریائے پنجکوڑہ میں جال سے مچھلی کے شکار پر مکمل پابندی ہے، اگر آپ پکڑے گئے یا پھر کسی ہوٹل والے نے آپ کےلئے جال والے یا جال کا بندوبست کیا اور وہ پکڑا گیا تو ذمہ دار آپ ہوں گے، مچھلی سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ یہ صرف شغل ہوتا ہے اس لئے کنڈے سے پکڑو جہاں مرضی ہے لیکن جال سے پکڑنے کی کوشش مت کیجئے۔۔۔

🌲 : کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی مقامی کے دروازے پر دستک دیں۔ آپ کی بھر پور مدد کی جائے گی۔ اگر آپ بانال یعنی جنگل میں ہوں تو آس پاس ڈیکیر یعنی چھونپڑی نما گھر دیکھیں جہاں ہم لوگ 8 مہینے اپنے مال مویشیوں کے ساتھ رہتے ہیں، یہاں سے آپ کو ہر قسم کی مدد ملے گی۔۔۔

🌲: آپ لوگ یہاں آتے ہیں تو یہاں کے بچے آپ کے استقبال کے لئے باہر نکلتے ہیں، سپیشل بانال میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ راستے پر کوئی بھی نظر آیا تو سلام دعا کےلئے نکلنا ہوتا ہے، آپ لوگ بدلے میں ہمارے بچوں کو نقدی وغیرہ دیتے ہیں۔ ہم لوگ آپ کے خلوص، محبت اور پیار کا تہی دل سے مشکور ہیں لیکن اس وجہ سے ہمارے بچے گداگری کی طرف مائل ہورہے ہیں، لہذا یہ سلسلہ بند کیجئے، اگر ان کے پیار کا بدلہ دینا ضروری بھی ہے تو ان کی ایک پیاری سی تصویر لے کر ان کے بچپن کے کچھ لمحے ہمیشہ کےلئے محفوظ کیجئے، یہ سب سے بہتر ہے۔۔۔

سائنس دانوں نے بحرالکاہل کے نیچے 4000 میٹر کی گہرائی میں ایک حیرت انگیز اور پراسرار مظہر دریافت کیا ہے، جسے "ڈارک آکسیجن...
29/05/2025

سائنس دانوں نے بحرالکاہل کے نیچے 4000 میٹر کی گہرائی میں ایک حیرت انگیز اور پراسرار مظہر دریافت کیا ہے، جسے "ڈارک آکسیجن" (اندھیرا/سیاہ آکسیجن) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ کلاریون-کلیپرٹن زون (CCZ) کہلاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں سورج کی روشنی کے بغیر آکسیجن پیدا ہو رہی ہے، جو اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے کہ زمین پر آکسیجن کی پیداوار صرف فوٹو سنتھیسس (نباتاتی روشنی کیمیائی عمل) کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ آکسیجن سمندر کی تہہ میں موجود "کثیر معدنی گانٹھوں" سے پیدا ہو رہی ہے۔ یہ گانٹھیں نکل اور کوبالٹ جیسے قیمتی دھاتوں سے بھرپور ہوتی ہیں اور نظر آتی ہیں جیسے "جیولوجیکل بیٹریاں" ہوں۔ ان میں قدرتی طور پر تقریباً 0.95 وولٹ کا برقی دباؤ پایا جاتا ہے، جو سمندری پانی کو تحلیل کرکے ہائیڈروجن اور آکسیجن پیدا کرتا ہے۔
یہ حیرت انگیز دریافت نہ صرف زمین پر ہوادار (ایروبک) زندگی کے آغاز کے بارے میں ہمارے فہم کو بدل سکتی ہے، بلکہ گہرے سمندری علاقوں میں ہونے والی معدنی کان کنی کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے بارے میں شدید خدشات بھی پیدا کرتی ہے۔

1945 میں جونہی ایٹم بم پھٹا تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں شہر کا درجہ حرارت 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا ...
02/05/2025

1945 میں جونہی ایٹم بم پھٹا تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں شہر کا درجہ حرارت 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا
یہ درجہ حرارت رھا تو چند لمحوں کے لیے تھا لیکن پورا ھیروشیما شہر اور مُضافات میں تمام جاندار جل کر خاکسترھو گئے حتی کہ عمارتیں تک پِگھل گئیں 😢
بم پھٹنے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر تقریباً ایک لاکھ اِنسان بھاپ اور دُھواں بن کر ھوا میں تحلیل ھو گئے، کوئی جاندار زندہ نہیں بچا- ھیروشیما پر بسنے والے اِنسان صفحہ ھستی سے مٹ گئے- جو بچ گئے وہ مرنے کی خواہش کر رھے تھے

پورے ملک سے رابطہ ختم ھو گیا تھا

جو ایٹم بم ھیروشیما پر پھینکا گیا تھا اُس سے 4000 ڈگری سیلسیس کی حرارت خارج ھوئی تھی لیکن
اِسوقت پاکستان اور بھارت کے پاس جو نیوکلیئر بم موجود ھیں وہ 25000 سے 40000 ڈگری سیلسیس کی گرمی خارج کرنے کی قوت رکھتے ھیں-

یہ گیم محض چند سیکنڈز کی ھوگی اور کرہ ارض کے میدانوں میں صحراؤں میں جنگلوں میں پہاڑوں میں، سمندروں یا دریاوں کے پانی کی روانی میں کوئی جاندار زندہ نہیں بچے گا 😢

کُچھ دِکھانے کے لئے کوئی بریکنگ نیوز نہیں ھوگی اور نہ ھی کوئی دیکھنے والا....

منقول

02/05/2025

کل رات انڈیا رات ڈھائی بجے ہوائی حملہ عرف سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھا تھا ۔ مگر قدرتاً موسم اتنا خراب ہو گیا کہ سارا پلان ٹھپ ہو گیا ، دوسری وجہ پاکستانی سٹلائیٹ سسٹم اس قدر ایڈوانس ہے کہ بھارت کے تقریباً سارے اسٹرائیکنگ ائیرپورٹس اس طرح پاکستانی نظروں کے سامنے ہیں جس طرح انسان اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہے ۔ انڈیا کا جہاز ہینگر سے بھی نکلتا ہے تو ادھر خبر ہو جاتی ہے ۔ انبالہ ائیرپورٹ سے اڑنے والے رافیل طیارے جن میزائیلز کو لے کر اڑتے ہیں ان کا رینج دو سو کلومیٹر ہے ، جوں جوں وہ جہاز بارڈر کی طرف آتے ہیں تو یہ دو سو کلومیٹر کا رینج ٹارچ کی روشنی کی طرح آگے آگے چلتا ہے ، طیارے انڈین بارڈر کے اندر ہوتے ہیں مگر رینج پاکستانی حدود میں داخل ہو جاتی ہے اس پر پاکستان بھی اپنی بارڈر کے اندر رہتے ہوئے جوابی طور پر جو ممکن ہے وہ کرتا ہے مثلاً چار رافیل طیاروں کو پاکستان نے انڈین بارڈر کے اندر ہی چار منٹس تک مکمل طور پر جام کر دیا تھا ، نہ تو ان کا رابطہ انبالہ ایئرپورٹ سے ہو رہا تھا اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ ۔ یہ صرف چار پانچ منٹس کی بات تھی ،انڈین پائلٹس کو یقین ہو گیا کہ ان کو لاک کر لیا گیا لہذا وہ اپنے متعلقہ ائیرپورٹ کی طرف جانے کی بجائے فورا سرینگر ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کر گئے ۔۔۔

بشکریہ محمد حنیف ڈار

16/04/2025

Naran is going to open in few days

Address

Wah Cantt

Telephone

+923345231216

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wah travel and tourism services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category