Hundur Yasin - The Windy Valley

Hundur Yasin - The Windy Valley To promote, tourism and culture of Yasin Valley in general and Hundur in particular. Proud son of the Valley is Lalik Jan (Shaheed) Nishan-I-Haider
(1)

إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَانتہائی افسوس ناک اور غمزدہ خبر:تاج الدین بھائی ...
02/09/2026

إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

انتہائی افسوس ناک اور غمزدہ خبر:

تاج الدین بھائی فرزند چیرمین شکرت مرحوم گلگت کے قریب ایک موٹر سائیکل حادثے میں شدید زخمی ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئے اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو اس ناگہانی صدمے پر صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔

ہندور میں ہمارے بھائی خوش باز غمگین کے موبائل شاپ میں اتوار کے رات چوری کا واقعہ پیش آیا۔ چور دکان کا تالہ توڑ کر اور ان...
18/08/2026

ہندور میں ہمارے بھائی خوش باز غمگین کے موبائل شاپ میں اتوار کے رات چوری کا واقعہ پیش آیا۔

چور دکان کا تالہ توڑ کر اور اندر کا شیشہ توڑ کر لاکھوں کے مالیت کا نقدی رقم اور موبائل فونز اپنے ساتھ لے گئے۔

واردات کا اطلاع مقامی پولیس کو دی گئی ہے۔ پولیس تاہم چوروں کے سُراخ لگانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

اس خبر سے علاقے میں گہرا غم و تشویش پایا جاتا ہے۔ پولیس اور عدلیہ سے گزارش ہیکہ وہ چوروں کو جلد از جلد قانون کے گرفت میں لا کر ہمارے بھائی خوش باز کے نقصان کا آزالہ کرے۔

گرتا ہے شہسوار ہی میدان جنگ میں   وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کی بل چلےہندور کے نوجوانوں نے آج طاوس سرکار کے خلاف ایک بہتری...
03/08/2026

گرتا ہے شہسوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کی بل چلے

ہندور کے نوجوانوں نے آج طاوس سرکار کے خلاف ایک بہترین میچ کھیل کر تمام شائقین فٹ بال کے دل جیت لئے۔

اس ٹیم میں آگے جانے کی بہت صلاحیت موجود ہے۔

شاباش ٹیم۔

Result:

Final Score:

Bright Star Academy 1:1 Taous Sarkar.

Sarkar won on penalties.

یاسین کی قربان کی عظیم قربانیاں.ہیروز صرف وہ نہیں ہوتے جن کا ذکر کتابوں یامیڈیا میں ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کئ گمنام ہ...
30/07/2026

یاسین کی قربان کی عظیم قربانیاں.

ہیروز صرف وہ نہیں ہوتے جن کا ذکر کتابوں یامیڈیا میں ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کئ گمنام ہیروز بھی ہیں ۔ جن کا کام بظاہر چھوٹا لگتا ہے لیکن وہ دراصل ایک بہت بڑے کارنامے سے کم نہیں ہوتا اپنے آس پاس ایسے کرداروں کو صرف پہچاننے اور ان کی قدر کرنے کی ضرورت ہے.
یاسین لالک جان شہید نشان حیدر جیسے بہادر لوگوں کی سر زمین ہے۔ لالک جان کا گاوں جہاں ان کا مزار بھی ہے وہ ہندور کہلاتا ہے۔
گاوں ہندور میں ایک خاتون ہے جس کا نام قربان ہے۔ ٢٠٠۵ میں ان کے والدین ایک ساتھ فوت ہوگئے۔ قربان کی چھ بہنیں ہیں وہ سب قربان سے چھوٹی ہیں ان میں سے ایک فرزانہ ہے جوکہ ذہنی معذور ہے۔ قربان کے گھر میں ان کی پھوپی بھی رہتی ہیں جو کہ قوت گویائی سے محروم ہے ۔ جب قربان کے ماں اور باپ چھ مہنے کے وقفے سے ایک ساتھ فوت ہوگئے تو اس وقت قربان نویں جماعت میں پڑھتی تھیں اور یہ اس کے کھیل کود کی عمر تھی۔ لیکن والدین کی وفات کے بعد قربان نے اپنے گھر کی ساری ذمہ داریاں اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھالیں۔ اپنی چھ چھوٹی بہنوں اور ایک پھوپی کی کفالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ان کو اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ انہوں نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بلکہ اپنی طاقت پر بھروسہ کیا۔ محنت مزدوری سے گھر میں خود سیمت ٩ افراد کی کفالت شروع کر دی۔ وقت کا پہیہ چلنے لگا۔ قربان کے پاس کوئی بینک بیلنس یا زمین موجود نہیں تھی اس کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ دن رات محنت کرتی اور اپنی پھوپی اور بہنوں کے کھانے پینے ، کپٹرے ، رہائش اور تعلیم کا بندوبست کرنے لگی۔
اس دوران سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز کو قربان کے گھر کے حالات کا علم ہوا۔ سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز کے چیرمین شیرباز صاحب گلگت سے چلے اور قربان کے گھر یعنی ہندور یاسین پہنچے، انہوں نے ان کی پانچ بہنوں کو سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز شفٹ کیا۔ دو کو سلائی کا ہنر سیکھانے پر لگا دیا اور جب وہ دونوں بڑی ہوئیں تو ان کی شادیوں کا بھی انتظام کیا۔ یوں وہ دونوں بہنیں شادی شدہ ہیں اور اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔
دو چھوٹی بہنوں میں سے ایک اِس وقت الیکٹریکل انجنئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہے جس کو سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز کا ادارہ سکالرشپ دے رہا ہے۔ ایک بچی کراچی میں میڈیا سائنسسز کی تعلیم حاصل کر رہی ہے جس کو ایک مخیر شخص سکالرشپ دے رہا ہے۔
ایک بہن فرزانہ جو کہ ذہنی معذور ہے وہ کچھ سال سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز کے ہاسٹل میں رہنے کے بعد دوبارہ گاوں میں اپنی بڑی بہن قربان کے پاس شفٹ ہوگئ ہے۔ ایک بہن کی پڑھائی کے لئے قربان خود سپورٹ کررہی ہے اور وہ اس وقت نرسنگ میں ڈپلومہ کر رہی ہے۔
اس وقت قربان ، گاوں میں اپنی ذہنی معذور بہن فرزانہ اور قوت گویائی سے محروم پھوپی کے ساتھ رہتی ہے۔ دو بہنوں کی شادی ہوگئ ہے جبکہ تین بہنیں زیر تعلیم ہیں۔ یہ سب بہنیں چھٹیوں میں ملنے اپنی بہن قربان کے پاس جاتی ہیں۔ قربان اپنی بہنوں کو لیکر گذشتہ سترہ سالوں سے بغیر ماں باپ کے ایک چھوٹے سے جھونپڑی نما گھر میں رہتی ہیں۔ سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز دو مقامی مخیر حضرات کی مدد سے ماہانہ قربان کے کیچن کے اخراجات کے لئے دس ہزار روپیے دیتا ہے۔ اس کے علاوہ قربان دن رات محنت مزدوری کر کے اپنی زیر کفالت بہنوں کی مدد کرتی ہے۔
اب تقسیم میں پرانا گھر قربان کے چچا کے حصے میں آیا ہے۔ کافی عرصے سے قربان کو اپنی رہائش گاہ کے چھن جانے کی فکر لاحق تھی۔ ایسے میں چند مخیر حضرات نے ان کی تھوڑی سی مدد کی ہے ، اب قربان اپنے لئے دو کمروں پر مشتمل گھر بنا رہی ہے۔ گھر زیر تعمیر ہے۔ قربان کے وسائل محدود ہیں۔ چار بہنیں اور پھوپی اب بھی ان کی زیر کفالت ہیں۔ قربان نے ہمت نہیں ہاری ہے ۔ وہ تمام مسائل و مشکلات سے لڑنے کے لئے پر عزم ہے۔ قربان نے بہنوں کے لئے نہ صرف اپنی تعلیم کی قربانی دے چکی ہے بلکہ اپنی تمام تر خواہشات و جذبات کی قربانی بھی دے رہی ہے۔ محض اس وجہ سے انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے کہ کہیں ان کی بہنیں بے یارومدد گار نہ رہ جائیں۔ کیونکہ قربان ان بہنوں کی ماں بھی ہیں اور باپ بھی ہیں۔ قربان اس نفسانفسی کے دور میں ایک عظیم الشان قربانی کی ایک زندہ و تابندہ مثال ہے ۔ اپنی تمام خوشیوں اور خواہشات کو چھوٹی عمر سے قربان کر کے اپنی زیر کفالت چھ بہنوں اور پھوپی کو ایک مناسب ذندگی گزارنے کے لئے سبیل بننا ، سینا ہیلتھ اینڈ ویلفئر سروسز کی مدد سے دو بہنوں کو اعلی تعلیم دلانا، اور دو بہنوں کی شادی کرانا اور ایک بہن کو اپنی محنت کی کمائی سے نرسنگ کا ڈپلومہ دلانا جبکہ گھر میں دو معذور خواتین کو سنھبالنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے مناسب رہائش کا بندوبست کرنے کے لئے دن رات محنت کرنے والی قربان کی اس عظیم قربانی سے سارے معاشرے کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ چھوٹی موٹی مشکلات کے باعث ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے لئے قربان ایک رول ماڈل ہیں۔ چھوٹی عمر میں آٹھ افراد کی کفالت کا بوجھ اٹھاکر ان کو کامیاب ذندگی کی طرف گامزن کرنے پر قربان ایواڑ کی مستحق ہیں۔ ہم دل کی اتھاء گہرائیوں سے قربان کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کو معاشرے کے گمنام ہیروز کی فہرست میں شامل کرتے ہیں۔

نوٹ۔ میں گذشتہ دنوں قربان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے محترم شیرباز صاحب اور ان کی ٹیم کے ہمراہ ہندور میں واقع قربان کے گھر گیا تھا۔ قربان سے مل کر مجھے دلی خوشی محسوس ہوئی۔

تحریر۔ اسرارالدین اسرار

آج ہندر یاسین (بلتی یارے) میں Qush Resort & Highland Trout Fish Farm کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں علاقے کی اکابرین...
19/07/2026

آج ہندر یاسین (بلتی یارے) میں Qush Resort & Highland Trout Fish Farm کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں علاقے کی اکابرین اور معزز شخصیت نے شرکت کی۔

یہ خوبصورت مقام دلکش قدرتی مناظر، بہتے ہوئے دریا کے حسین نظارے اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس ٹراؤٹ فش فارم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں مچھلیوں کی افزائش کے لیے قدرتی چشمے کا صاف و شفاف پانی استعمال کیا جاتا ہے، جو اس کی خوبصورتی اور انفرادیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس خوبصورت منصوبے کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔یاسین ہیندور سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے جوان نصرت دوران ڈیوٹی حرکت قلب بند ہونے ک...
18/07/2026

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

یاسین ہیندور سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے جوان نصرت دوران ڈیوٹی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

ان کی جس خاکی کو آج سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں ان کی آبادی گاوں ہندور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اللّہ تعالیٰ شہید کی درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔

یاسین ہندور کے خستہ حال لکڑی کے پل کی فوری تعمیر کا مطالبہ:ایک نظر ادھر بھی۔ یاسین ہندر میں واقع لکڑی کا پل اس وقت انتہا...
10/07/2026

یاسین ہندور کے خستہ حال لکڑی کے پل کی فوری تعمیر کا مطالبہ:

ایک نظر ادھر بھی۔

یاسین ہندر میں واقع لکڑی کا پل اس وقت انتہائی خستہ اور خطرناک حالت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پل رحیم آباد، براکوت اور مومن آباد سمیت تین دیہات کو آپس میں ملانے کا واحد اہم راستہ ہے۔

روزانہ اس پل سے بھاری ٹریکٹر، ہائی ایس گاڑیاں اور دیگر مشینری گزرتی ہے، جس کے باعث اس کی برداشت کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ پل کی لکڑی بھی گل سڑ رہی ہے، جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

اسی پل سے روزانہ اسکول جانے والے معصوم بچے، خواتین، بزرگ اور دیگر لوگ بھی گزرتے ہیں، متعلقہ حکام کی فوری توجہ اس جانب نہایت ضروری ہے۔

ہم اسسٹنٹ کمشنر صاحب، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور دیگر ذمہ دار اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی فنڈ سے فوری طور پر اس منصوبے کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں۔ ایمرجنسی فنڈ کا مقصد ہی ایسے ہنگامی نوعیت کے عوامی مسائل کو بروقت حل کرنا اور قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔

ہم پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر یا ازسرِنو بحالی کے منصوبے پر بلا تاخیر عملی کام کا آغاز کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے پہلے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
طاہر ✍️

10/06/2026

Wind in the windy valley.

07/06/2026

Small victory parade by supporters of Aman Ali Amir at Hundur Yasin.

Address

Yasin

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hundur Yasin - The Windy Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share