History of world

History of world history

Permanently closed.
23/09/2024

وارننگ الرٹ 🚨

ذاتی دشمنی ہو یا کوئی رنجش اب دو منٹ میں فیک ID بنے گی تیسرے منٹ کے بعد اسکی جلی ہوئی لاش اور قاتل کو میڈل ملے گا..

ایک انتہائی خطرناک سرگرمی شروع کر دی گئی ہے۔ خدا نہ کرے، اگر ایسا ہوا تو لوگ آپ کو اپنی وضاحت کرنے کا موقع بھی نہیں دیں گے۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرکے یا نیا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر مذہب اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں نفرت انگیز، فحش مواد، اور توہین آمیز مواد کا اشتراک کرنے کا رجحان جاری ہے۔

ایسی صورت حال میں اگر کوئی آپ کو میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کوئی نفرت انگیز یا غیر اخلاقی پوسٹ بھیجتا ہے تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرا بیان ریکارڈ پر رکھا جائے۔

نوٹ: میں اپنی جان قربان کر سکتا ہوں، لیکن میں پیارے آقا حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیتؓ و صحابہ اکرامؓ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا۔. لکھنا تو دور کسی کا کچھ غلط کہا ہوا سہہ بھی نہیں سکتا..

26/08/2024

ٹرپل ایکس فلمیں ایک سازش جس سے مسلمان بے خبر ہیں

آخر یہ کھیل شروع کب ہوا .....؟copi3D

پورن گرافی دور حاضر کا ایک بہت بڑا ناسور ہے ۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق دریافت نہ ہو سکا ۔لوگوں کے رویے اور انداز زندگی اسی کی بدولت جنسی خود غرضی کی بھینٹ چڑھے ہوے ہیں ......!

اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے .....؟
اس کے وجود کے بنیادی محرکات کیا تھے .....؟
آج کی تاریخ میں اس میں کیسی جدتیں لائی جارہی ہیں .....؟

قارئین .....!
تاریخ میں سب سے پہلے پورن گرافی بطور ہتھیار سلطان صلاح الدین ایوبی (1137. 1193) کے دور حکومت میں ہوئی۔ اسے بطور ہتھیار سب سے پہلے صلیبی بادشاہوں نے استعمال کیا۔ کہانی کچھ یوں ہے صلیبی ہر میدان میں مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں شکست فاش سے سخت پریشان تھے ۔ اسلامی افواج صلیبی جمیت اور متحدہ قوتوں پر بھاری ثابت ہورہی تھیں۔ صلیبیوں کی سوچ کا دھارا اس وقت بدلا جب ڈیڑھ لاکھ مسلمان فوج نے بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر پندرہ لاکھ صلیبی جنگجو لاشوں کا ڈھیر کر دیا۔ اس موقع پر متحدہ صلیبی فوج کا بادشاہ رونالڈ پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ آخر ایک بڑی میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔ اس میٹنگ میں مسلم اور صلیبی افواج کا موازنہ کیا گیا ۔ معلوم ہوا مسلمان رات بھر سجدوں میں روتے ہیں۔ اور دن بھر میدانوں کی للکار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جسے وہ ایمان کہتے ہیں ۔ یہیں ایمان انہیں دنیا کے ہر خوف و ڈر اور لذت پرستی سے بہت اوپر، انہیں بہترین جنگجو بنائے رکھتا ہے۔ جبکہ صلیبی فوجی رات بھر زنا کی محفلوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ لہذا دنیا چھوڑ کر ایک نئے جہاں کا خوف انہیں شکست فاش سے دو چار کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوران جنگ مسلمان فوجیوں کی آنکھوں سے جو وحشت ٹپکتی ہے ۔ وہ صلیبی قوتوں پر خوف طاری کر دیتی تھی۔ اسکے ساتھ کی فلک شگاف صدائیں اور مسلمانوں کا اپنی اپنی جگہ پر فولاد بن جانا بھی صلیبیوں کیلئے ایک مسئلہ بن گیا تھا .....!

صلیبیوں کی اس تاریخی میٹنگ میں ہرمن نامی انٹیلی جنس آفیسر بھی موجود تھا ۔یہ وہ شخص ہے جس نے صلیبی تاریخ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہچایا ۔ یہ نہایت شاطر اور ذہین و فطین شخص تھا ۔اس نے مسلمان اور صلیبی نوجوان کی نفسیات پر بات کرتے واضح کیا ۔ میری ساٹھ سالہ زندگی کا تجربہ ہے کہ ایک عیاشی پسند وجود کبھی بھی زندگی کے میدان میں بہترین سپاہی نہیں بن سکتا۔ خصوصا وہ لوگ جو سیکس کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انکی جسمانی و روحانی طاقتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اگر میں مسلم فوج کی بات کروں تو مسلمان فوج میں ایسے نوجوانوں کی اکثریت ہے جو سیکس کی لذت سے یکسر نا آشنا ہیں ۔ان میں سے جو شادی شدہ بھی ہیں وہ بھی اس چیز کو ایک حد تک آزما پاتے ہیں ۔ تصور کی رعنائیاں اور خوبصورت نظارے ہمیشہ ان کی پہنچ سے دور رہے ہیں۔ انہیں مذہب سے آگے اور پیچھے کچھ نہیں دکھائی دیتا ۔ لہذا ہم اگر ان میں جنسی بھوک کو پیدا کر دیں تو ان کی سوچ اور نظریات کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کی ایک مثال وہ مسلمان بادشاہ اور وزرا بھی ہیں جو شروع میں سطان ایوبی کے ساتھ تھے لیکن ہماری خوبصورت لڑکیوں نے جب سے انہیں اپنی حسین اداؤں کا اسیر کیا تب سے وہ خدا اور رسول کو جانتے ہی نہیں ہیں انہیں سلطان ایوبی اپنا سب سے بڑا دشمن نظر آتا ہے۔ ان مسلمان وظیفہ خوروں میں سے وہ جرنیل بھی شامل ہیں جن کی حکمت عملیاں اور بہادریاں میدانوں کے نقشے بدل ڈالا کرتی تھیں ۔ آج وہ صلیبیوں سے نگاہیں جھکا کر بات کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم انکے اندر عورت اور جنسیات کی روح داخل کر چکے ہیں ۔ اگر یہیں حربہ پوری مسلمان فوج پر آزمایا جائے تو یقیناً ہم کامیاب ہونگے ۔ کیونکہ مسلمان نوجوان کیلئے یہ ایک بالکل نئی چیز ہوگی اور وہ اس کیلئے جنونی ہوسکتے ہیں .....!

ہرمن کے اس خیال پر رونالڈ نے نقطہ اٹھایا ۔ اس نے کہا :
" ہم متعدد بار نہایت خوبصورت لڑکیاں مسلمان فوج میں داخل کر چکے ہیں۔ اس کام میں ہمیں شدید تخریب کاری کرنا بھی پڑی تھی۔ لیکن مسلمان فوج ان حسین لڑکیوں کی طرف دیکھنے کا تکلف ہی نہیں کرتی ہے۔اور متعدد لڑکیاں مسلمان فوج کا کردار دیکھ صلیبی حمایت چھوڑ چکی ہیں۔ لہذا تمھارا یہ منصوبہ ناکام ہے .....! "

ہرمن نے فوری جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا :
" حضور جب تک آپ کے اندر کسی چیز کا تصور موجود نہ ہو اسکا ہونا نہ ہونا بے معنی ہوتا ہے ۔ ہمیں مسلم فوج میں جنسی دنیا کا تصور پیدا کرنا ہے ۔ایسا تصور جو ان کی سوچ کی راہداریوں میں برہنہ عورتوں کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے۔ اسکے بعد وہ خود ہماری ثقافت کے حوالے کر دیں گے کیونکہ یہ ہماری ایجاد ہوگی، یہیں واحد طریقہ ہے جس سے ہم مسلمان کو شکست دے سکتے ہیں .....! "

رونالڈ ہرمن کی اس بات پر بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور سرگوشی بھرے لہجے میں بولا :Copi3D

" آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو .....! "

ہرمن نے نہایت شاطرانہ انداز میں تاریخ کا سب سے بھیانک منصوبہ رونالڈ کے سامنے پیش کر دیا ۔ دنیا کے سامنے یہ منصوبہ آرٹ پورن گرافی کے نام سے سامنے آیا۔ اس منصوبے کے ایک سال بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاح ملی کہ فوج کے کچھ نوجوان رات کو غائب پائے جاتے ہیں۔ نوجوانوں میں اکثر جنسی گفتگو بھی سنی گئی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس چیز کو اتنا سنجیدگی سے لیا کہ خود بھیس بدل کر ان نوجوانوں کا پیچھا کیا۔ یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ سلطان ایوبی بذات خود بھیس اور آواز بدلنے کے ماہر تھے۔ تاریخ میں متعدد بار ان کی ایک دوسری شخصیت کے روپ میں دشمن کے ساتھ ملاقات کی روایات موجود ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں شکست کے بعد صلیبی اعلی افسران کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا ۔ سلطان نے ایک افسر سے پوچھا :
" رات جس شخص سے تم نے کہا تھا میں ایوبی کو اسکی سانس کی مہک سے پہچان سکتا ہوں بتاؤ وہ کون تھا ......!"

وہ صلیبی افسر بولا :
" حضور وہ ایک عربی تاجر تھا جس کی غلط بیانی نے ہمیں آپ کے سامنے لا کھڑا کیا .....!'

سلطان ایوبی نے مسکراتے ہوئے کہا :
" وہ میں خود تھا .....! "

وہ حیرت زدہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو تکتا رہ گیا .....

دوستوں فوج کے کچھ نوجوانوں کی پرسرار حرکتوں پر سلطان ایوبی خود انکے پیچھے گئے تو معلوم ہوا فوجی قیام گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک قافلہ رکا ہے ۔ جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے پاس فحش تصاویر کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔ جب سلطان نے وہ تصاویر دیکھیں تو دنگ رہ گئے ۔ ان میں ایسی منظر کشی کی گئی تھی کہ کوئی بھی نوجوان سیکس کیلئے جنونی ہوسکتا تھا ۔اسی دوران سلطان صلاح الدین ایوبی کو دمشق اور مصر کے دیگر شہروں سے اطلاعات ملیں کہ شہر میں فحش تصاویر کے قبہ خانے کھل گئے ہیں ۔ جہاں جنسی اشتعال انگیز تصاویر دکھائی جاتی ہیں ۔ نوجوانوں کو جنسیات کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے ۔ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمان نوجوان بڑی تیزی سے برائی کی طرف مائل ہو رہے ہیں .....!

سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوری اپنی جنگی پیش قدمی روکی اور پورن گرافی کے اس ناسور کے خلاف محاظ کھولا ۔ اس حوالے سطان صلاح الدین ایوبی نے ایک تاریخی تقریر میں کہا تھا :
" ہر قوم کی طاقت اسکا اچھا یا برا کردار ہوا کرتا ہے، دشمن ہماری اصل طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے۔ اب وہ سامنے کی جنگ کبھی نہیں کرے گا ۔ اسی لیے دشمن اب ہمارے قومی کردار پر حملہ آور ہوا ہے، کیونکہ ضروری نہیں جنگ میدانوں میں ہو۔ جنگ سوچ اور رویوں کی بھی ہوتی ہے۔ جو قوم اس پر غالب آجاتی ہے وہ فتح یاب ہوتی ہے .....!

میرے معزز قارئین ....!
صلیبی انٹیلی جنس آفیسر ہرمن ایک نہایت ذہین اور شاطر انسان تھا ۔اگر آپ پوری صلیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ شخص پوری تاریخ میں چھایا ہوا نظر آئے گا ۔ صلیبی جب ہمت ہار چکے تھے تو اس شخص نے ان میں جان ڈال دی ۔ اسی کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دنیا کے مشہور مصور اور منظر نگاروں کو منہ مانگی قیمت پر خریدا گیا۔ان سے ایسی فحش تصویر کشی کروائی گئی کہ دیکھ کر نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا۔ وہ سیکس جس پر لوگ ایک حد تک توجہ دیتے تھے پھر اسے بے حد سوچنے لگے۔ صلیبی بادشاہوں نے جب اپنے اس منصوبے کو سو فیصد کامیاب ہوتے دیکھا تو اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ بڑی شان سے کیا .....!copi3D

اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس زہر کو مارنے کی پوری کوشش کی ۔ لیکن اس مسئلے کا پوری طرح ادراک نہ ہوسکا ۔ کیونکہ اس زہر کے اثر کو دیکھتے ہوئے حسن بن سباح کے فرقے نے اسے بطور ہتھیار اپنایا۔ صلیبیوں سے اس آرٹ گرافی کی نئی جدتوں پر مانگ کی۔ یوں حسن بن سباح کی پہاڑوں میں بنائی ہوئی پرسرار جنت میں ایک اور ہتھیار کا اضافہ ہوا اور اسی دوران سلطان بیت المقدس کی فتح کے بعد چل بسے ۔ صلیبی اپنا دم خم کھو چکے تھے لیکن انکا تیار کردہ زہر پورن گرافی مسلسل فحاشی کے جراثیم پھیلاتا رہا ۔ یوں صدیاں بیت گئیں ۔ زمانے کے رنگ ڈھنگ بدل گئے اور کئی ثقافتیں آئیں اور مٹ گئیں .....!

آخر اٹھارویں صدی کا سورج طلوع ہوا ۔ یہ وہ صدی ہے جب سائنس کے علم میں انقلاب کی فضا پیدا ہونا شروع ہوئی تھی۔ نئی جدتیں اور نئی منزلیں روشن ہو رہیں تھیں ۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں پورن گرافی پر ایک بار پھر نئے انداز میں کام شروع ہوا۔ اس بار پورن گرافی کیلئے لکڑی کا استعمال ہوا ۔ اس کے علاوہ درختوں کو بھی کانٹ چھانٹ کر جنسی عضو کی طرح بنا دیا گیا فرانس میں ہوئے اس تماشے پر لوگوں کا ہجوم لگ گیا ۔ لوگ بے پناہ دلچسپی سے لکڑی کے بنے جنسی سامان اور درختوں پر ہوئی زیادتی دیکھنے جوک در جوک آرہے تھے ۔اس وڈ پورن گرافی پر لوگوں میں جنسی آزاد خیالی پیدا ہوئی ۔ لہذا لوگوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے امریکہ، فرانس اور لنڈن میں وڈ پورن گرافی کے چھوٹے چھوٹے پورن ہاوس کھل گئے، جو ایک چھوٹا سا جنگل ہوتا تھا ۔ جس میں پورن گرافی کے فن پارے درختوں پر عیاں ہوتے تھے .....!

دوستوں ....!
1839 میں کیمرہ ایجاد ہوا ...
اس ایجاد نے جہاں سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا جادو کیا، وہیں یہ بہت جلد پورن گرافی کا اہم ہتھیار بن گیا ... 1855 میں پہلی بار اسے پورن گرافی کیلئے استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس پورن گرافی میں مسئلہ یہ تھا کہ کیمرہ تصویر کی صرف ایک کاپی بناتا تھا ۔ اس تصویر کو بہت زیادہ شیئر نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اسی لیے پورن گرافی کا جن مشکل کا شکار ہوگیا ...
لیکن یہ مسئلہ اس وقت مسئلہ نہ رہا جب 1863 میں پرنٹر ایجاد ہوا ۔ اس ایجاد کے ساتھ ہی سیکس تصاویر سے بھرپُور پلے کارڈز اور جنسی خاکے لوگوں کے ہاتھ میں آچکے تھے ...
1871 میں جنسی تصاویر بلیک اینڈ وائٹ رزلٹ میں پوری شدت کے ساتھ مارکیٹ میں آچکی تھیں ۔ ان مارکیٹوں میں فرانس کی مارکیٹ سب سے آگے رہی ...
دوستوں ...! 1876 ویڈیو کیمرہ ٹیکنالوجی منظر عام پر آئی۔ اس ٹیکنالوجی میں ویڈیو کیمرہ ایک منٹ میں ساٹھ تصاویر کو کیپچر کرتا تھا ۔ پھر ان تصاویر کو چرخا نما مشین پر ایک بڑے رول بنڈل کی صورت چڑھایا جاتا ۔ پھر اس چرخے کو ہاتھ سے چلایا جاتا ۔ اس سے تصویر اس تیزی سے گھومتی تھی مانو ...! ایسے لگتا جیسے ویڈیو پلے ہو رہی ہو۔ اسی طریقہ عمل کو آگے چل کر ٹی وی ٹیکنالوجی میں استعمال کیا گیا ۔ آج جو ہم حرکت کرتی اور زندہ محسوس ہوتی HD ویڈیوز دیکھتے ہیں دراصل یہ ہزاروں تصاویر کا مجموعہ ہوتی ہیں ۔ جو اس تیزی اور صفائی سے پلے ہوتی ہیں کہ ہمیں تصویر حرکت کرتی نظر آتی ہے .....!

دوستو .....! Copi3D
ویڈیو ٹیکنالوجی کے وجود میں آتے ہی یورپی ممالک میں فلم ساز انڈسٹری کا ابتدائی ڈھانچہ بننا شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ پورن انڈسٹری کا آغاز ہوا .....!

پہلی پورن فلم 1895 میں ریلیز ہوئی ۔اسے لومئیر برادرز انڈسٹری نے پہلی بار عوامی نمائش کیلئے فرانس میں پیش کیا ۔اسکے ڈرائکٹر مسٹر البرٹ کرچنر تھے ۔ پہلی پورن فلم سولہ منٹ کی تھی جس میں ایک عورت کو برہنہ انداز میں ہوش ربا ادائیں دکھاتے ہوئے پیش کیا گیا۔ یہ فلم نہایت منافع بخش ریکارڈ کے ساتھ مقبول ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی سیکس کی خواہش ضرورت سے بڑھ کر جنون میں بدل گئی ۔یورپ کے گلی کوچوں میں لوگ بے ہودہ مذاق اور چھیڑ خوانی کرنے لگے۔پھر یہیں چیز آگے چل کر یورپی ثقافت حصہ بن گئی۔۔۔۔۔!


دوستو انیسویں صدی کے آغاز میں کیمرہ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی۔ منظر پہلے سے زیادہ صاف اور معیاری ریکارڈ ہونے لگے۔ اس کے ساتھ ہی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے سرکاری سطح پر پورن تھیٹر کھول دیئے۔ جہاں پورن اداکاروں کی پیداوار کا سلسلہ شروع ہوا .....!

1920 تک یورپی تہذیب پورن گرافی کے اس زہر میں ڈوب چکی تھی ۔ عوام سر عام سڑکوں کو بیڈ روم بنائے اپنا شوق پورا کرنے لگی۔ ساحل سمندر عیاشی کے اڈے بن گئے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے .....!

1970 میں پورن گرافی کا زہر برصغیر میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پہلے پہل یہ صرف تصاویر پر مشتمل تھا۔ اسے ویڈیو دکھانے کیلئے یورپی کمپنیز نے پاکستان و بھارت میں پورن سینما کی اجازت چاہی۔ اس کے جواب میں صرف انکار ہی نہیں کیا گیا بلکہ پورن گرافی کو باقاعدہ ایک جرم قرار دیا گیا .....!

دوسری طرف یورپی ممالک میں سیکس ویڈیوز کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہوئی، کیونکہ ایک ہی سین ہر فلم میں دیکھ کر عوام بور ہونے لگی ۔ دوسرا بذات خود انکا معاشرہ اتنا آزاد ہوچکا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کی ضرورت روز بروز کم ہونے لگی۔اسی صورتحال سے پریشان ہوکر پورن انڈسٹری نے پورن گرافی کی نئے انداز پر کام کرنے کے بارے میں سوچا ۔ یوں پورن کیٹیگری پراجیکٹ کا آغاز ہوا ۔ اس پورن کیٹیگری پراجیکٹ میں سیکس کو کئی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ہر قسم کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا تھا .....!
Copi3D

اگر آج ہم کسی پورن ویب سائٹ کو اوپن کریں تو ہمارے سامنے ایک لسٹ اوپن ہو جاتی ہے ۔ جس میں سیکس کی مختلف کیٹگریز نظر آتی ہیں۔ جب کیٹیگری پراجیکٹ یورپی عوام کے سامنے لایا گیا تو دیکھنے والوں کا ازدھام مچ گیا ۔ کیونکہ اس دفعہ فحاشی کے مناظر روایتی طریقوں سے ہٹ کر ریکارڈ کیے گئے تھے، یہ پراجیکٹ پورن انڈسٹری کیلئے آب حیات کی صورت اختیار کر گیا ۔ کیونکہ اسی کی بدولت ہر شخص کی جنسی نفسیات ابھر کر سامنے آئیں ۔ مثلا ایک شخص دھواں دار جنسی مناظر کے بجائے ریلیکس پورن دیکھنا پسند کرتا ہے، تو اس کیلئے الگ کیٹیگری موجود ہوگی ۔اور یقینا ًپانچ سال بعد بھی وہ ریلیکس پورن دیکھنا ہی پسند کرے گا ۔ یوں ہر شخص کی جنسی خواہش کے مطابق اسے پورن گرافی کا نشہ ملنے لگا .....!

1980 میں وی سی آر ٹیکنالوجی برصغیر میں عام ہوئی ۔ اگرچہ ستر کی دہائی میں کمپیوٹر بھی پاکستان میں اکا دکا جلوہ گر ہوچکے تھے ۔ لیکن عام لوگ اس سے نا آشنا تھے۔ لہذا لوگ پردہ سکرین سے ہٹ کر وی سی آر کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اسی دوران پاکستان فلم انڈسٹری بھی پوری شان سے ابھر کر سامنے آئی۔ یورپی کمپنیز نے جب ایشیائی لوگوں کا وی سی آر کی طرف رجحان دیکھا تو ان کی آنکھوں میں لالچ کی چمک پیدا ہوئی۔ یوں فحش فلمیں پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں بلیک ہوکر بکنے لگیں .....!

1998 میں یورپی پورن انڈسٹری نامعلوم ہاتھوں میں چلی گئی ۔پہلے یہ صرف جنسی کاروبار کے طور پر استعمال ہوتی تھی ۔ لیکن پھر اسے پوری دنیا کو جنسی دہشت گردی کیلئے چنا گیا ۔ پورن انڈسٹری میں ایک ایسا جنسی طریقہ متعارف کروایا گیا ۔ جو براہ راست آتشک ، گھنوریا اور دیگر تباہ کن بیماریوں کا موجب ہے ۔ اس طریقہ کار کو اورل سیکس کہتے ہیں ۔ آپ نے ایک چیز اکثر نوٹ کی ہوگی ۔ پورن فلم کی چاہے کوئی بھی کیٹیگری ویڈیو دیکھ لیں ۔ فلم کے سٹارٹ میں اورل سیکس کا مظاہرہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بھی ایک باقاعدہ جنسی عمل کا حصہ ہے .....!

سائنسی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہمارے جسم میں ایک مادہ منی کے ساتھ خارج ہوتا ہے ۔ جو ڈی این اے میں اکثر خرابی کا باعث بنتا ہے۔ اگر وہ منہ کے ذریعے معدے میں چلا جائے یا دانتوں میں اسکی کوئی باقیات رہ جائیں۔ تو وہ منہ کے خلیات میں p16 پروٹین نامی مادہ پیدا کر دیتا ہے۔ جو منہ کے کینسر اور بلڈ پرابلمز کو جنم دیتا ہے اور یہ وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج یہودی لیبارٹریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ان بیماریوں کی تمام دوائیاں اسرائیلی کمپنیز سے نہایت مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ۔ ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے چہرے بدل جاتے ہیں اور موت سسک سسک کر آتی ہے ۔ لہذا اورل سیکس کے شوقین شوق پورا کرنے سے پہلے چشم تصور میں اپنا انجام بھی سوچ لیں .....!

اورل سیکس دراصل خفیہ یہودی ایجنسیز کا ذریعہ آمدنی ہے ۔ اسی کے ذریعے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں اور انھیں لاکھوں ڈالر لٹاتے ہیں۔ اورل سیکس کے ساتھ سکیٹ ایٹنگ اور پس ڈرنکنگ سیکس کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جو کہ یہودی ایجنسیز کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ان پورن ویڈیوز میں کام کرنے والے اداکاروں کو شوٹنگ کے فوری بعد، ان کے منہ میں مخصوص سپرے کیے جاتے ہیں جو منہ میں گری غلاظت کے تمام جراثیم ختم کر دیتے ہیں ۔ ہمارے عام علماء کا خیال ہے کہ پورن ویڈیوز صرف مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہوتی ہیں۔حقیقتا ایسا نہیں ہے۔ یہودی ایجنسیز کا ٹارگٹ پوری دنیا کے مذاہب ہیں۔ کیونکہ تمام مذاہب ان کے انتہا پسند نظریات کو ہر صورت رد کرتے ہیں .....!Copi3D

یہودی نہایت مہارت سے شاطرانہ چال چلتے ہوئے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔جنھیں ون ورلڈ آرڈر کہتے ہیں ۔ یعنی ایک ایسی دنیا جہاں کسی خدا کا تصور نہ ہو، جہاں کوئی تہذیب نہ ہو، جہاں کوئی قانون نہ ہو۔ بس ایک ہی اصول ہو اور وہ ہے یہودی غلامی، اس مشن کی تفصیلات بہت چشم کشا اور دل آویز ہیں .....!

بس اتنا کہوں گا کہ پوری دنیا پر یہودی راج کیلئے ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا جا رہا ہے جو آج کی تاریخ میں ممکن ہے ۔ لوگوں کو ہر طرف سے جنسی، نفسیاتی، سیاسی، سماجی اور مذہبی غرض ہر طرف سے پھنسایا جا رہا ہے۔ اور ہم لوگ بے خبر پھنس رہے ہیں ۔یہودی ایجنسیز کے خفیہ ہتھکنڈوں پر حقیقت کا چاقو چلانے کیلئے یوٹیوب پر الماس یعقوب نام سے ایک چینل موجود ہے۔ اسکا مطالعہ ضرور کیجئے اور اسے سبسکرائب کیجئے ۔ اس کے ساتھ اس بھائی کا شکریہ بھی ادا کیجئے ۔ جو نہایت محنت سے یہودی ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں .....!

دوستو .....!
بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا ۔ ایشیا میں ابھی دھندلے معیار کی ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ختم نہیں ہوا تھا ۔ جبکہ یورپی ممالک میں HD ٹیکنالوجی منظر عام پر آچکی تھی ۔ ہالی وڈ فلم انڈسٹری بے مثال فلمیں پروڈیوس کر رہی تھی ۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی سے بھی بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے ۔ جبکہ پاکستان میں پہلی بار انٹرنیٹ سروس 1992 میں آئی ۔ اسے ایک یورپی کمپنی برین نیٹ نے پاکستان میں پرائیویٹ طور پر لانچ کیا تھا ۔ اس کے پہلے انجینئر منیر احمد خان تھے ۔ جنھوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ سرور کو کنٹرول کیا ۔ اسکی ابتدائی سپیڈ 128k تھی .....!

1995 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ یعنی پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ آل پاکستان کیلئے خرید لیا، سن 2000 میں انٹرنیٹ پاکستانی عوام میں مقبول ہونا شروع ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی پورن گرافی کا زہر بھی سرحدیں پھلانگتا ہوا داخل ہوا ۔یورپی ممالک میں پہلے پہل پورن گرافی سینما میں دکھا کر یا جنسی تصویروں کے ذریعے پیسہ کمایا جاتا تھا ۔ لیکن انٹر نیٹ نے یہ جھنجھٹ ختم کردیا ۔ انٹر نیٹ نے باقاعدہ خود آن لائن مارکیٹنگ پروسیس کھول کر پورن گرافی کو بطور پراڈکٹ پیش کیا ۔ جسے عوامی طور پر اتنی پزیرائی ملی کہ سب ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ یورپی پورن انڈسٹریز کو سب سے زیادہ آن لائن ٹریفک ایشیا سے ملی .....!

2015 کی گوگل رپورٹ کے مطابق روزانہ نوے لاکھ پاکستانی پورن ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں ۔ جبکہ بھارت سے روزانہ چھ کروڑ لوگ فحش ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں، جس سے پورن انڈسٹری روزانہ کروڑوں ڈالر کا منافع کماتی ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جو ویب سائٹس بلاک ہونے کے باوجود کسی نہ کسی طرح مطلوبہ سائٹس تک پہنچ ہی جاتی ہے ۔ جبکہ گوگل پر پورن تصاویر دیکھنے والوں کی تعداد پاک و بھارت میں کروڑوں میں ہے .....!

دوستو .....! Copi3D
کہتے ہیں ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ لہذا دو صدیوں سے پورن گرافی دیکھنے والی عوام اکتا گئی ۔ کیونکہ پورن فلم میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں نہایت خوبصورت ہوتی ہیں ۔ اور ان کی جنسی پاور بھی زبردست ہوتی ہے۔ لیکن جب لوگ اس فعل کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تو زیادہ تر انھیں اپنے پرانے ساتھی پر گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ جو کہ عرصہ پہلے اپنی جنسی کشش کھو چکا ہوتا ہے۔ نفسیات کے اس دھارے نے پورن انڈسٹری مالکان کو ایک بار پھر سوچ کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ۔ یوں 2014 میں ایک منفرد ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔ اس ٹیکنالوجی کو سلیکون سیکس گرل کہتے ہیں ۔ اس ٹیکنالوجی میں سلیکون دھات سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کا وجود تراشا جاتا ہے۔ پھر اسے اس قدر حقیقی بنایا جاتا ہے کہ اصل وجود اور اس مجسمے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ایسے لگتا ہے جیسے یہ ابھی بول پڑے گی ۔ اس کا جسم اتنا نرم و نازک بنایا جاتا ہے کہ زندہ وجود کی نزاکت کو رد کرتا ہے ۔ ان کی خوبصورتی، جسم کی نرمی اور بناوٹ کا انداز ایسا ہے کہ بس جان ڈالنے کمی رہ گئی ہے ۔ انھیں دیکھ کر آنکھیں بار، بار دھوکہ کھاتی ہیں ۔ ان سلیکون گرلز کو جنسی خواہش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان کے مخصوص اعضا میں ایسے مصالحے استعمال کیے گئے ہیں کہ فحاشی کا سکون تین گنا بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح خواتین کیلئے سلیکون بوائز کے نہایت خوبصورت مجسمے بنائے گئے ۔ ان مجسموں کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ آپ انکی جسمانی لچک کو کسی بھی زاویے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں .....!
لیکن یاد رکھیے ....! ان سلیکون جنسی مجسموں میں کچھ ایسے راز بھی چپکے ہیں جو آپکو دائمی جنسی مریض بنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ تمام سیکس میڈیسن بھی انھیں مجسموں کے خالق بنا رہے ہیں ۔ ایک طرح سے یہ لوگ بیماری لگانے کے بھی پیسے لیتے ہیں۔علاج کے نام پر مستقل گاہک بنا کر بھی لوٹتے ہیں .....!

2015 میں سلیکون مجسموں کو یورپی مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ۔ جیسے ہی یہ مجسمے مارکیٹ میں آئے تو خریداروں کے ہجوم لگ گئے ۔ انہیں مجسموں کی بدولت مرد و عورت کا آپسی جنسی تعلق بھی کمزور ہوگیا ۔ جس سے شرح پیدائش میں واضح کمی واقع ہوئی ۔ اسی کے ساتھ ورچول رئیلٹی ڈیوائس نے رہی سہی کسر پوری کردی .....!copi3D

یورپی ممالک میں شرح پیدائش تو اٹھارویں صدی سے ہی کمزور پڑ گئی تھی ۔ لیکن 2010 کے بعد یہ کمی شدید تر ہوگئی ۔ البتہ مسلم کمیونٹی برابر شرح پیدائش پر برقرار رہی ۔ اسی صورتحال سے گھبرا کر بعض ممالک میں چلڈرن ہاؤس قائم کردئیے گئے ہیں ۔ جہاں عورت و مرد کو بھاری رقم دے کر بچہ پیدا کیا جاتا ہے ۔ بچے کی تمام افزائش چلڈرن ہاؤس کے ذمہ ہوتی ہے ۔ ہالینڈ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت کو دس ہزار ڈالر دیئے جاتے ہیں ۔ جبکہ عورتوں نے انکار کیا تو رقم انکی مرضی پر متعین کی گئی ۔ہمارے علماء حضرات چاہے جو بھی خیال رکھتے ہوں، لیکن یہ سچ ہے پورن گرافی کا زیادہ نقصان خود انہیں کا ہوا جن کی ایجاد تھی .....!

آج اگرچہ مسلمان بھی اسکا شکار ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم اپنے مذہب ،ثقافت اور نسل کو لیے برابر چل رہے ہیں ۔ جبکہ مغربی معاشرہ اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ آرٹیفشل بچے پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے .....!

2013 میں امریکی پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ 2050 تک اسلام کی افرادی پاور پورے یورپ پر حاوی ہو جائے گی ۔ لہذا اسلام کو ہر طرف سے گھیر کر محدود کیا جائے ۔ لوگوں کے دلوں میں اسلام کیلئے نفرت پیدا کر کے انہیں اپنے آزاد معاشرے کا حصہ بنایا جائے .....!

یہی وجہ ہے آج پوری دنیا میں اسلامی شدت پسندی دکھائی جا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ملحد اسلام کو نوچ رہے ہیں ۔ سیاست میں بڑے بڑے لبرل داخل کیے جا رہے ہیں ۔ مقبوضہ علاقوں مسلمانوں کا قتل عام کروایا جارہا ہے ۔ کیونکہ دشمن جان چکا ہے کہ اسکا ہتھیار خود اسکی قوم کو ختم کرچکا ہے لیکن جاتے جاتے مسلمان پر آخری وار ضرور کرتے جاؤ ......!

میرے معزز دوستوں آپ لوگوں کا اپنا قیمتی وقت دے کر اس تحریر کو مطالعہ کرنے کا بےحد شکریہ، بس ایک آخری مہربانی یہ کرتے جائیے کہ جاتے، اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہوگا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو سکتی ہے، اور اسے شیئر کریںCopi3D
یہ معمولی حقیقت اپنے دوستوں تک پہنچا کر نجانے کتنے نادانوں کو رہ راست پر لانے کا سبب بن سکتے ہیں
(ان شاءاللہ تعالٰی)

06/08/2024

‏"شخصیت پرستی ، بت پرستی سے زیادہ خطرناک ھے

کیونکہ بت کا دماغ نہیں ھوتا جو خراب ھو جائے

لیکن جب تم انسان کی پوجا کرتے ھو تو وہ فرعون بن جاتا ھے".

منقول

میانوالی کے ہر  شہر کے لوگ غم کے موقع پہ عطاءاللہ کو سنتے ہیں اور رونے لگتے ہیں ، جبکہ خوشی کے موقع پہ بھی عطاءاللہ کو س...
05/08/2024

میانوالی کے ہر شہر کے لوگ غم کے موقع پہ عطاءاللہ کو سنتے ہیں اور رونے لگتے ہیں ،
جبکہ خوشی کے موقع پہ بھی عطاءاللہ کو سنتے ہیں اور پھر سے رونے لگتے ہیں "

میرا ایک میانوالی کا سرائیکی دوست عطاءاللہ کے گانے سنتے ہوئے رویا کرتا تھا،
جب اس سے پوچھا کہ ۔۔۔مجھے بتاؤ کس لڑکی نے تم سے بے وفائی کی۔۔۔۔؟؟ تو اس نے یہ انکشاف کیا کہ

بےوفائی تو کسی نے نہیں کی حتٰی کہ اُسے تو کبھی محبت بھی نہیں ہوئی، پر پھر بھی لالہ (عطاء اللہ) کے گانا سنتے ہوئے مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے چھوڑ گئی ہے .. "

29/07/2024

مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ
آدھے عرب کے آپ نبی
آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ

اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-

جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :-
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کذاب کے دربار میں" ۔۔

اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں - - - اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے - - ایک صحابی تھے چھابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے جلدی سے اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا :-

" حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا" - -
جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:-
" اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے" - - - بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی " - - -

مسکرا کے کہنے لگے :-
"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ اکبر)

حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا:-
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - -
وہ صحابی عقیدت سے نظریں جھکا کر کہنے لگے:-
" محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں" - - -

صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلے جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,انکا انداز ہی بدل گیا ان کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - - وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے:-
" وہ صحابی جن کا نام" حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا

مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:-
" کون ہو "؟ - - -
آپ غراتے ہوئے فرمانے لگے:_
" تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہیں کہ نبیﷺ والے ہیں ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں" ۔

مسلمہ کہنے لگا:-
" کیسے آٸے ہو" ؟ - - -
بے نیازی سے فرمایا :-
" یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔

بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -" پڑھو " - - جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا :- " تو کذاب ہے" - - -

یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی - - وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:-
" تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے" ۔؟؟
حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے:-
" خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - -

مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" ۔۔

حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:-
" میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا - - - میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر غلامان محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " - -

مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :-
" اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"؟؟؟
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا" - - -

مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:-
" میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے" - -

مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:-
" میں تیری گردن کاٹ دونگا " - -
حبیب بن زید فرمانے لگے:-
" کاٹتا کیوں نہیں" - - -

روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپتے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا :-
" یا رسول اللہ کیا ہوا " - - -
فرمایا :-
"میرا حبیب شہید ہو گیا ہے - - - اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دیئے ہیں" -

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ❤

26/07/2024
20/07/2024

اسلام آباد سے سکردو تقریباً 640 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور تیز رفتار کار بھی تیرہ چودہ گھنٹے لگا دیتی ہے بس پر تو اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے جبکہ اسلام آباد سے سکردو کی فلائٹ یہی سفر صرف ایک گھنٹہ میں طے کر لیتی ہے۔
اگر جیب اجازت دیتی ہو تو سکردو جانے کےلئے سب سے بہتر آپشن فلائٹ ہی ہے۔ اسلام آباد سے سکردو کےلئے پی آئی اے اور آئربلیو کی فلائٹ ہوتی ہے اور ٹکٹ 16000 سے 35000 روپے تک ہے۔ بہت پہلے خرید لی جائے تو سستی مل جاتی ہے جبکہ جانے سے کچھ دن پہلے لیں تو کافی مہنگی ملتی ہے۔
سکردو فلائٹ بلاشبہ دنیا کے بہترین ہوائی سفر میں سے ایک ہے اسلام آباد سے اڑتے ہی مارگلہ کی پہاڑیاں نظر آتی ہیں پھر ٹیکسلا اور خان پور ڈیم کا نظارہ ملتا ہے، کچھ دیر میں ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے اوپر سے گزر کر بالاکوٹ کراس کرتے ہیں اور پھر چند منٹ بعد دائیں ہاتھ جھیل سیف الملوک نظر آتی ہے، موسم صاف ہو تو دوددی پت سر بھی دیکھ سکتے ہیں اور پھر بابوسر ٹاپ کے اوپر سے گزرتے ہیں جہاں چھوٹی چھوٹی بےشمار جھیلیں نظر آتی ہیں۔
کچھ ہی دیر میں دنیا کا سب سے خوبصورت نظارہ نانگاپربت نظر آتا ہے اور پھر دریائے سندھ کے اوپر سے گزرتے ہوئے سکردو میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں پہلے شنگریلا جھیل کا نظارہ ملتا ہے پھر سکردو شہر کے اوپر سے کٹپنا صحرا اور سرفرنگا صحرا نظر آتا ہے اور پھر شیگر وادی کا نظارہ کرتے ہوئے سکردو میں اتر جاتے ہیں۔
اوپر میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب جہاز کے دائیں جانب کھڑکی والی سیٹ سے نظر آتا ہے۔

19/07/2024

کوئ مانے یا نہ مانے‘ اس ملک میں سب سے بڑا جھوٹا‘ سب سے بڑا چور‘ عام آدمی ھے یہ جو عام آدمی ھے ، جس کی جمع عوام ھے ، یہ عام آدمی سیاست میں ھے نہ اسٹیبلشمنٹ میں! یہ نہ بیورو کریٹ ھے ‘ نہ جرنیل! مگر یہ سب سے بڑا فرعون ھے یہ اپنے جیسے دوسرے عام لوگوں کا سب سے بڑا دشمن ھے!
یہ پھل بیچتا ھے تو جان بوجھ کر گندے پھل تھیلے میں ڈال دیتا ھے یہ موٹر سائیکل چلاتا ھے تو پیدل چلنے والوں اور گاڑیاں چلانے والوں کے لیے خدا کا عذاب بنتا ھے ۔ یہ ویگن اور بس چلاتا ھے تو ہلاکت کی علامت بن کر چلاتا ھے لوگ دور بھاگتے ہیں! یہ ٹریکٹر ٹرالی اور ڈمپر چلاتا ھے تو موت کا فرشتہ بن جاتا ھے ۔ ٹریکٹر ٹرالیاں اور ڈمپر‘ بلامبالغہ سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں انسانوں کو کچل چکے ہیں۔
یہ سرکاری دفتر میں کلرک بن کر بیٹھتا ھے تو سانپ کی طرح پھنکارتا ھے اور بِچّھو کی طرح ڈستا ھے یہ دفتر سے نماز کے لیے جاتا ھے تو واپس نہیں آتا۔ سائل انتظار کر کر کے نامراد ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ کهیں چلے جائیے‘ بورڈ لگا ہو گا ''ڈیڑھ بجے نماز کا وقفہ ھے ‘‘۔ یہ وقفہ کب ختم ہو گا؟ کچھ معلوم نہیں!
یہ عام آدمی دکاندار ھے تو گاہکوں کو اپنا غلام اور خود کو ہامان سمجھتا ھے ، صبح جوتے خرید کر شام کو واپس کرنے جائیے، نہیں لے گا۔ واپس کرنا تو دور کی بات ھے تبدیل تک نہیں کرے گا! اس کا گاہک بھی عام آدمی ھے ، وہ دکاندار سے بھی زیادہ فریبی ھے چیز اچھی خاصی استعمال کرکے واپس یا تبدیل کرنے آئے گا۔
ہر شخص جانتا ھے کہ امریکہ وغیرہ میں یہ عام آدمی‘ جو ہم نے یہاں سے بر آمد کیا ھے دھوکہ دیتا ھے ، مہمان آئیں تو وال مارٹ (وہاں کے سپر سٹور) سے نئے گدے (میٹریس) خریدتا ھے ، مہمان چلے جائیں تو جا کر واپس کر آتا ھے (یہ شہادت ثقہ افراد نے دی ھے )۔ یہ عام آدمی انگلستان میں‘ گھر سے باہر نکلے تو وِیل چیئر پر ہوتا ھے گھر کے اندر ہو تو چھلانگیں لگاتا ھے (اس کی بھی مضبوط شہادت ھے )۔
یہ عام آدمی گھر کا کوڑا گلی میں پھینکتا ھے یہ دو کروڑ مکان کی تعمیر پر لگا دیتا ھے مگر پانچ ہزار کی بجری‘ گھر کے سامنے ٹوٹی ہوئی سڑک پر نہیں ڈلوا سکتا۔ یہ عام آدمی گھر بناتا ھے تو گلی کا کچھ حصہ گھر میں شامل کر لیتا ھے ، دکان ڈالتا ھے تو نہ صرف فٹ پاتھ بلکہ آدھی سڑک پر اپنا سامان رکھتا ھے یہ عام آدمی ناجائز تجاوزات کی شکل میں جو فائدہ اٹھا رہا ھے اس کا حساب لگائیے تو شریفوں اور زرداریوں کی مبینہ چوری سے ہزار گنا بڑی چوری ثابت ہو گی!
یہ عام آدمی گیس کے محکمے میں ملازم لگتا ھے تو رشوت لے کر ناجائز‘ چوری چھپے‘ گیس کنکشن دیتا ھے بجلی کے محکمے میں جائے تو گھر بیٹھ کر میٹر ریڈنگ کرتا ھے ٹیلی فون آپریٹر لگے تو فون ہی نہیں اٹھاتا۔ آزما لیجیے۔ آپ کے گردے فیل ہو جائیں گے مگر آپریٹر آپ کی کال نہیں اٹھائے گا۔
یہ عام آدمی ہی ھے جس نے سیاست دانوں کی عادتیں بگاڑی ہیں۔ یہ خوشی سے ان سیاست دانوں کی‘ ان کے بچوں کی‘ ان کے خاندانوں کی غلامی کرتا ھے ۔ یہ ساری زندگی ان کے جلسوں میں دریاں بچھاتا ھے ۔ نعرے لگاتا ھے ۔ ان کی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتا ھے۔ ان کی حمایت میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے جھگڑتا ھے یہاں تک کہ تعلقات توڑ دیتا ھے مگر اپنی اور اپنے کنبے کی حالتِ زار پر رحم کرتا ھے نہ سیاست دانوں سے اپنے حقوق مانگتا ھے ،
غربت نسل در نسل اس کے خاندان میں راج کرے گی مگر یہ فخر سے کہتا رہے گا کہ ہم اتنی نسلوں سے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ یا تحریک انصاف کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی عام آدمی ھے جو سیاست دانوں کے کبیرہ گناہوں کا جواز تراشتا ھے اور ان کی غلطیوں پر غضبناک ہونے کے بجائے ان کا دفاع کرتا ھے ۔
یہ عام آدمی اپنے جیسے عام آدمیوں کو اذیت پہنچاتا ھے ۔ بیٹے کی شادی کرے تو لڑکی والوں سے جہیز مانگتا ھے ۔ بیٹی کی شادی کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ھے کہ نندوں اور ساس کو چلتا کرے یا ان کے اختیارات چھین لے۔
مسجد میں نماز پڑھنا شروع کرتا ھے تو مولوی صاحب کو اپنا ملازم سمجھتا ھے ۔ تجارت کرتا ھے تو کم تولتا ھے ۔کسی کے گھرمیں ملازم ہو تو مالک کے ساتھ مخلص نہیں۔ کسی کو اپنا ملازم رکھے تو اس کے کھانے پینے اور لباس کا خیال نہیں رکھتا۔ پیروں‘ فقیروں کے پیچھے بھاگ کر خوار و زبوں ہوتا ہے مگر گھر میں بیٹھے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا۔
یہ ھے وہ عام آدمی جو چاہتا ھے کہ عمران خان‘ نواز شریف‘ زرداری اور چودھری‘ سب کے سب راتوں رات عمر بن عبد العزیزؒ بن جائیں۔رات دن ان پر تنقید کرتا ھے ۔ اسے پورا یقین ھے کہ اس ملک میں اگر کوئی راہِ راست پر ھے تو صرف وہی ھے اور باقی سب کو اصلاح کی ضرورت ھے ۔ اسے یہ بھی یقین ھے کہ سیاست پر‘ مذہب پر‘ ملکی نظام پر‘ امریکہ پر اس کا کہا حرفِ آخر ھے وہی بلند ترین اتھارٹی ھے وہ بہت خلوص سے کہتا اور سمجھتا ھے کہ اگر ملک کو اس کی تجاویز کے مطابق چلایا جائے تو دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی!
جس دن یہ عام آدمی‘ آدمی سے انسان بن گیا تو مُعاشرے سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک‘ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اور اس کے انسان بننے کی امید نہ ہونے کے برابر ھے🤬😎😠
کاپی

Address

Yazman Mandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when History of world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share