04/09/2019
یہ شخص اگر یہاں کافر ملک میں ہوتا تو اس کو ہر ہفتے خرچہ ملتا اور مفت علاج ملتا اور اس کے ساتھ رہنے والے کو بھی ہر ہفتے کا خرچہ پوری زندگی ملتا. مگر یہ شخص مسلمان ملک میں تھا لہذا مار دیا گیا. یہ شخص تشدد کی تکلیف سے مرا, اور مرنے سے پہلے ریاست مدینہ کے سپاہی سے پوچھ رہا تھا کہ اگر اور نہ مارو تو ایک بات پوچھوں, اے ریاست مدینہ کے سپاہی تُو نے تشدد کرنا کہاں سے سیکھا؟
اگر اصل ریاست مدینہ ہوتی تو حضرت عمر پورے تھانے کی گردنیں اڑا دیتے.
میں پوچھتا ہوں کہ اے عمران تیری اس ریاست مدینہ کا تخت کیوں نہ لرزا؟
تیری ریاست ریاست مدینہ ہرگز نہیں. ریاست مدینہ ہوتی تو تُو اس ذہنی اپاہج کی موت کے شدت غم سے باقی کی زندگی رو رو کر اپنی مغفرت کی دعاؤں میں گزار دیتا, کیونکہ اس وقت تُو حاکم ہے.
چلو جہاں ساہیوال ہوا وہاں یہ بھی سہی.
مگر لکھنے والوں نے یہ سانحہ بھی لکھ لیا, یوم آخرت کے لئے