Solo Traveler

Solo Traveler I would like to share my experience to those who have the urge to explore the Nature.

I am a SoloTravelar and I would love to share my traveling experience with travel buddies.

07/05/2026

new point.

02/05/2026

28/04/2026

کشمیری وازوان صرف کھانا نہیں، یہ کشمیر کی پہچان ہے… ایک تہذیب اور محبت بھری داستان ہے۔

27/04/2026

زندگی کی دوڑ میں کبھی رک کر اپنے راستے کو بھی محسوس کریں، یہی لمحے اصل خزانہ ہیں

23/04/2026

16/04/2026

زندگی کے خوبصورت لمحات کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔

04/04/2026

کشمیر سے محبت… ایک خوبصورت احساس

کچھ جگہیں اپنی خوبصورتی سے نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کے رویوں سے دل جیت لیتی ہیں…

جموں کشمیر بھی انہی میں سے ایک ہے۔ میں نے ہمیشہ جموں کے لوگوں کو بےحد خوش اخلاق اور محبت کرنے والا پایا ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو، مسکراہٹ، اور مہمان نوازی دل کو چھو جاتی ہے۔

آج صبح کا ناشتہ بھی اسی خلوص کی ایک خوبصورت مثال تھا۔ ہر چیز میں ایک اپنائیت اور سادگی تھی جو دل میں اتر گئی۔

ایسے لمحے یہ احساس دلاتے ہیں کہ
اصل خوبصورتی صرف جگہوں میں نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں ہوتی ہے

03/04/2026

پردیس کے رشتے: ایک خوبصورت سراب؟
شاید میری اس تحریر سے اکثر احباب اتفاق نہ کریں، لیکن یہ چند سطریں کسی فلسفے پر نہیں بلکہ میرے اپنے ذاتی مشاہدات کی تلخ و شیریں حقیقتوں پر مبنی ہیں۔
سچ کہوں تو پردیس کی دوستیاں بھی کمال ہوتی ہیں۔ ہم وطن ہوں یا کسی دوسرے ملک سے آئے مسافر، سب مل کر ایک عارضی سہی پر خوبصورت جہان آباد کر لیتے ہیں۔ ویک اینڈ کی وہ پر رونق محفلیں، فیملیز کا ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹنا، اور تنہائی کے زہر کو مارنے کے لیے کی گئی وہ ‘بیچلر پارٹیاں’... سب کتنا اچھا لگتا ہے۔ ہم اچھے (colleagues) بھی بنتے ہیں اور ایک دوسرے کے محافظ بھی۔ اجنبی چہرے اتنے مانوس ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے ان کے بنا زندگی ادھوری رہ جائے گی، لیکن اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی ایک اپنے دیس کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
جیسے ہی کوئی دوست نوکری ختم کر کے ہمیشہ کے لیے لوٹتا ہے، یا کوئی سالانہ چھٹی پر اپنے وطن جاتا ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے ہم کبھی ملے ہی نہ تھے۔ جدائی کے اس وقفے میں، سوائے چند دوستوں کے، کوئی پلٹ کر حال تک نہیں پوچھتا۔ اگر کبھی یاد دلایا جائے تو جواب ملتا ہے:

“یار! وہاں روز ملتے تو تھے، اب یہاں اپنے وطن آ کر بھی وہی رابطے رکھیں کیا؟” کچھ دوست تو میسج اور کال کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی ہم دوبارہ پردیس کی اسی قیدِ بام و در میں لوٹتے ہیں، وہی سرد مہر دوستیاں پھر سے کھل اٹھتی ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ یہ تعلقات شاید دلوں کے نہیں، بلکہ محض ضرورت اور جغرافیائی مجبوری کے پابند تھے، جو فاصلہ آتے ہی نقش بر آب ہو گئے۔

اب ذرا بات کرتے ہیں ان ‘یارِ غار’ کی جو اپنے ہی وطن میں موجود ہیں۔ وہ دوست جن کے ساتھ زندگی کے کئی موسم گزرے، اب مصروفیت کی دیواروں میں قید نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ ان کا نظریہ بھی پردیسی کے لیے بدل جاتا ہے۔ پوری چھٹیوں میں بمشکل ایک آدھ ملاقات نصیب ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں۔ شکوہ کرو تو کہتے ہیں: “بھائی! تم تو چھٹی پر آئے ہو، فارغ ہو، ہم تو روزگار کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کوئی بات نہیں، اگلی بار آؤ گے تو مل لیں گے۔”

شاید پردیس کا سب سے بڑا سچ یہی ہے…
کہ انسان دو دنیاؤں کے درمیان بٹ جاتا ہے۔ وہاں کے رشتے وقتی لگنے لگتے ہیں، اور یہاں کے رشتے فاصلے مانگنے لگتے ہیں۔

آپ کا اس بارے میں کیا تجربہ ہے؟ کیا پردیس کی دوستیاں واقعی عارضی ضرورت ہوتی ہیں یا آپ کو وہاں کوئی مخلص سچا دوست ملا؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور لکھیے گا، کیونکہ ہر پردیسی کے سینے میں ایک کہانی دفن ہوتی ہے۔

پردیس کے رشتے: ایک خوبصورت سراب؟شاید میری اس تحریر سے اکثر احباب اتفاق نہ کریں، لیکن یہ چند سطریں کسی فلسفے پر نہیں بلکہ...
02/04/2026

پردیس کے رشتے: ایک خوبصورت سراب؟
شاید میری اس تحریر سے اکثر احباب اتفاق نہ کریں، لیکن یہ چند سطریں کسی فلسفے پر نہیں بلکہ میرے اپنے ذاتی مشاہدات کی تلخ و شیریں حقیقتوں پر مبنی ہیں۔
سچ کہوں تو پردیس کی دوستیاں بھی کمال ہوتی ہیں۔ ہم وطن ہوں یا کسی دوسرے ملک سے آئے مسافر، سب مل کر ایک عارضی سہی پر خوبصورت جہان آباد کر لیتے ہیں۔ ویک اینڈ کی وہ پر رونق محفلیں، فیملیز کا ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹنا، اور تنہائی کے زہر کو مارنے کے لیے کی گئی وہ 'بیچلر پارٹیاں'... سب کتنا اچھا لگتا ہے۔ ہم اچھے (colleagues) بھی بنتے ہیں اور ایک دوسرے کے محافظ بھی۔ اجنبی چہرے اتنے مانوس ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے ان کے بنا زندگی ادھوری رہ جائے گی، لیکن اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی ایک اپنے دیس کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
جیسے ہی کوئی دوست نوکری ختم کر کے ہمیشہ کے لیے لوٹتا ہے، یا کوئی سالانہ چھٹی پر اپنے وطن جاتا ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے ہم کبھی ملے ہی نہ تھے۔ جدائی کے اس وقفے میں، سوائے چند دوستوں کے، کوئی پلٹ کر حال تک نہیں پوچھتا۔ اگر کبھی یاد دلایا جائے تو جواب ملتا ہے:

"یار! وہاں روز ملتے تو تھے، اب یہاں اپنے وطن آ کر بھی وہی رابطے رکھیں کیا؟" کچھ دوست تو میسج اور کال کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی ہم دوبارہ پردیس کی اسی قیدِ بام و در میں لوٹتے ہیں، وہی سرد مہر دوستیاں پھر سے کھل اٹھتی ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ یہ تعلقات شاید دلوں کے نہیں، بلکہ محض ضرورت اور جغرافیائی مجبوری کے پابند تھے، جو فاصلہ آتے ہی نقش بر آب ہو گئے۔

اب ذرا بات کرتے ہیں ان 'یارِ غار' کی جو اپنے ہی وطن میں موجود ہیں۔ وہ دوست جن کے ساتھ زندگی کے کئی موسم گزرے، اب مصروفیت کی دیواروں میں قید نظر آتے ہیں۔ افسوس کہ ان کا نظریہ بھی پردیسی کے لیے بدل جاتا ہے۔ پوری چھٹیوں میں بمشکل ایک آدھ ملاقات نصیب ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں۔ شکوہ کرو تو کہتے ہیں: "بھائی! تم تو چھٹی پر آئے ہو، فارغ ہو، ہم تو روزگار کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کوئی بات نہیں، اگلی بار آؤ گے تو مل لیں گے۔"

شاید پردیس کا سب سے بڑا سچ یہی ہے…
کہ انسان دو دنیاؤں کے درمیان بٹ جاتا ہے۔ وہاں کے رشتے وقتی لگنے لگتے ہیں، اور یہاں کے رشتے فاصلے مانگنے لگتے ہیں۔

آپ کا اس بارے میں کیا تجربہ ہے؟ کیا پردیس کی دوستیاں واقعی عارضی ضرورت ہوتی ہیں یا آپ کو وہاں کوئی مخلص سچا دوست ملا؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور لکھیے گا، کیونکہ ہر پردیسی کے سینے میں ایک کہانی دفن ہوتی ہے۔

Address

Jizan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Solo Traveler posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Solo Traveler:

Share