30/08/2026
زیاراتِ مدینہ منورہ — سلسلۂ مساجد
قسط نمبر 28 — مسجدِ سبق
یہ سامنے جو جگہ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تاریخی مسجدِ سبق موجود تھی۔
مسجدِ سبق کی نسبت اس علاقے سے ہے جہاں عہدِ نبوی ﷺ میں گھوڑوں کی دوڑ کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود گھوڑوں کی دوڑ کا اہتمام فرمایا، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی ان مقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیار کیے گئے گھوڑوں کے درمیان حَفیا سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، جبکہ غیر مُضَمَّر گھوڑوں کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجدِ بنی زُریق تک دوڑ کرائی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس مقابلے میں شریک تھے۔
عربی میں “السَّبَق” سبقت حاصل کرنے اور مقابلے میں آگے نکلنے کے مفہوم میں آتا ہے، اور گھوڑوں کی دوڑ کے انعام کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی تاریخی نسبت کی وجہ سے اس مقام سے منسوب مسجد کو مسجدِ سبق کہا جاتا ہے۔
📍 آج اس مقام پر جو عمارت نظر آ رہی تھی، اسے منہدم کیا جا رہا ہے۔ مقامی طور پر یہ بات سننے میں آ رہی ہے کہ یہاں دوبارہ مسجدِ سبق تعمیر کی جائے گی۔ تاہم اس بات کی ہم تصدیق نہیں کرتے، بلکہ صرف سنی ہوئی بات کے طور پر ذکر کر رہے ہیں۔
مدینہ منورہ کی یہ تاریخی جگہ ہمیں عہدِ نبوی ﷺ میں گھوڑوں کی تربیت، تیاری اور مقابلوں کی ایک اہم یاد دلاتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب