08/10/2026
🌿 زیاراتِ مدینہ منورہ سلسلہ آبار مدینہ منورہ— قسط نمبر 36
بئرِ عثمانؓ — بئرِ رومہ
مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات میں ایک عظیم اور بابرکت مقام بئرِ رومہ ہے، جسے آج بئرِ عثمان رضی اللہ عنہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ وہی کنواں ہے جسے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس وقف کو تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کی یاد اور اس کا فیض آج بھی قائم ہے۔
بئرِ رومہ کا قدیم پس منظر
یہ کنواں زمانۂ جاہلیت سے موجود تھا۔ تاریخی معلومات کے مطابق اسے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے کھودا تھا، پھر یہ رومہ الغفاری کی ملکیت میں آیا اور اسی نسبت سے یہ بئرِ رومہ کے نام سے مشہور ہوا۔ بعد میں یہ ایک یہودی کی ملکیت میں بھی رہا، جو اس کے پانی سے لوگوں کو پانی فراہم کرتا تھا۔
مدینہ منورہ میں اس کنویں کا پانی اپنی شیرینی اور عمدگی کے لیے مشہور تھا۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو بئرِ رومہ ان اہم مقامات میں سے تھا جہاں سے لوگ پانی حاصل کرتے تھے۔ اس وقت اس پانی کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی ترغیب
جب مسلمانوں کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو رسول اللہ ﷺ نے بئرِ رومہ کے بارے میں ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
“کون بئرِ رومہ خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے عام کر دے، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر بدلہ ہے۔”
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے یہ عظیم فضیلت سنی تو فوراً اس نیکی کے لیے آگے بڑھے ، اپنی ذاتی مال سے بئرِ رومہ خریدی اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
مشہور تاریخی تفصیل کے مطابق حضرت عثمانؓ نے پہلے کنویں کا نصف حصہ خریدا۔ اس طرح ایک دن حضرت عثمانؓ کے حصے کا پانی مسلمانوں کو ملتا اور دوسرے دن دوسرے مالک کے حصے کا۔
جب حضرت عثمانؓ کے حصے کا دن آتا تو مسلمان اتنا پانی حاصل کر لیتے کہ ان کے لیے اگلے دن کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی۔ اس طرح دوسرے مالک کے دن پانی لینے والے کم ہوگئے۔
بالآخر حضرت عثمانؓ نے کنویں کا دوسرا حصہ بھی خرید لیا اور پورا کنواں مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ سعودی سرکاری ماخذ کے مطابق پہلے نصف کی قیمت بارہ ہزار درہم اور دوسرے نصف کی قیمت آٹھ ہزار درہم بیان کی گئی ہے۔
یوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کنواں نہیں خریدا، بلکہ اسے صدقۂ جاریہ بنا دیا۔
حضرت عثمانؓ کے لیے جنت کی بشارت
یہی وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے بئرِ رومہ کا نام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے عام کرنے والے کے لیے جنت میں بہتر بدلے کی بشارت دی، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس نیکی کو اپنے عمل سے پورا فرمایا۔
اسی لیے بئرِ رومہ آج بئرِ عثمان بھی کہلاتا ہے۔
یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت، ایثار اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ایک عظیم یادگار ہے۔
⸻
📍 بئرِ عثمانؓ کہاں واقع ہے؟
بئرِ رومہ مدینہ منورہ کے شمال مغربی حصے میں، وادیِ عقیق کے قریب واقع ہے۔
یہ مسجدِ قبلتین کے مغربی جانب کے علاقے میں واقع ہے اور مسجد نبوی ﷺ سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ علاقہ کھجوروں کے باغات اور زرعی زمین کے حوالے سے بھی معروف ہے۔
⸻
📏 کنویں کی گہرائی اور قطر
سعودی سرکاری معلومات کے مطابق:
کنویں کی گہرائی: تقریباً 37 میٹر
قطر: تقریباً 4 میٹر
پانی کی سطح: تقریباً 29 میٹر
یعنی یہ ایک خاصا گہرا تاریخی کنواں ہے جس کی ساخت قدیم طرز پر پتھروں سے بنائی گئی ہے۔
⸻
💧 کیا آج بھی اس میں پانی موجود ہے؟
جی ہاں۔
سعودی سرکاری ذرائع کے مطابق بئرِ عثمان کا پانی آج بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کنواں مدینہ کے لوگوں، اس کے باغات اور کھجوروں کے لیے پانی کا ذریعہ رہا ہے۔ سرکاری اوقاف کے مطابق حضرت عثمانؓ کے اس وقف کو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا سلسلہ آج تک قائم ہے۔
البتہ آج کنویں کے اصل دہانے کو بند کر دیا گیا ہے اور پانی ایک دوسرے دہانے کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔
⸻
🌴 بئرِ عثمانؓ کے ساتھ باغ
یہ مقام صرف ایک کنویں تک محدود نہیں۔
بئرِ عثمان کے گرد ایک بڑا زرعی علاقہ اور کھجوروں کا باغ بھی ہے۔ سعودی سرکاری معلومات کے مطابق اس علاقے میں 15,500 سے زیادہ کھجور کے درخت لگائے گئے اور زرعی رقبہ تقریباً 100,000 مربع میٹر تک بتایا گیا ہے۔ ان کھجوروں میں عجوہ بھی شامل ہے۔
اس باغ کی پیداوار بھی وقف کے مقصد کے مطابق لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے، اور سرکاری معلومات میں ضرورت مندوں کو کھجوریں تقسیم کرنے کا بھی ذکر ہے۔
⸻
🌿 ایک ہزار چار سو سال بعد بھی باقی صدقۂ جاریہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس وقت یہ کنواں مسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا، شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہ نیکی صدیوں تک قائم رہے گی۔
زمانہ بدل گیا، مدینہ منورہ پھیل گیا، آس پاس کی آبادیاں اور راستے تبدیل ہوگئے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ صدقۂ جاریہ آج بھی بئرِ رومہ، بئرِ عثمان کے نام سے زندہ ہے۔
آج جب کوئی اس مقام کو دیکھتا ہے تو اسے صرف ایک پرانا کنواں نظر نہیں آتا، بلکہ اسے ایک عظیم صحابیؓ کی وہ قربانی یاد آتی ہے جس کا فائدہ مسلمانوں کو نسل در نسل پہنچتا رہا۔
یہی وقف کی خوبصورتی ہے: انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، لیکن اللہ کی رضا کے لیے کیا ہوا نیک عمل باقی رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ صدقۂ جاریہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲
نقشِ حرم | NaqsheHaram