Naqshe Haram

Call Directions Contact the business

Naqshe Haram Ziyarat Madina and Makka

16/10/2026

یہ شہر مدینہ

16/10/2026

‏صلى الله عليه وآله وأصحابه وسلم
🕋📚🕌🌹

﴿ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴾اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔And ...
12/10/2026

﴿ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴾
اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔
And We have not sent you (O Muhammad ﷺ) except as a mercy to all the worlds.

📍 سورۃ الأنبیاء — آیت 107

11/10/2026

🌿 زیاراتِ غزوۂ بدر — قسط 32

📍 دربُ الانبیاء | مصلّائے رسول ﷺ، رویثہ

صرف 12 سال کی عمر، ہاتھ میں تلوار اور دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت! ⚔️❤️یہ ہیں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، جنہوں نے کم...
10/10/2026

صرف 12 سال کی عمر، ہاتھ میں تلوار اور دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت! ⚔️❤️
یہ ہیں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، جنہوں نے کم عمری ہی میں ایسی جرأت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے روشن ہوگیا۔
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی، رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور آپ ﷺ کے حواری تھے۔ آپ کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں، جبکہ آپ کے والد کا نام عوام بن خویلد تھا۔

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ان کی کم عمری، بہادری اور رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک دن مکہ مکرمہ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول اللہ ﷺ کو پکڑ لیا گیا ہے۔

یہ خبر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ کی عمر صرف بارہ سال تھی۔ آپ نے یہ خبر سنی تو فوراً تلوار اٹھائی اور رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکل پڑے۔

ذرا تصور کیجیے! ایک کم عمر لڑکا، ہاتھ میں تلوار، دل میں اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت اور آپ کی حفاظت کا جذبہ لیے تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔

نہ اپنی کم عمری کی پروا، نہ کسی خطرے کا خوف؛ بس ایک ہی فکر کہ میرے آقا ﷺ کے ساتھ کیا ہوا ہے!

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تلوار لیے رسول اللہ ﷺ کی تلاش کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے کی طرف پہنچے، جہاں آپ ﷺ موجود تھے۔

بالآخر آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔

رسول اللہ ﷺ نے آپ کو تلوار لیے دیکھا تو دریافت فرمایا:

’’اے زبیر! کیا بات ہے؟‘‘

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

’’مجھے خبر ملی تھی کہ آپ کو پکڑ لیا گیا ہے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا:

’’اگر ایسا ہوتا تو تم کیا کرتے؟‘‘

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ اپنی تلوار سے اس شخص پر حملہ کرتے جس نے رسول اللہ ﷺ کو پکڑا ہوتا۔

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے اس جواب پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا فرمائی۔

اللہ اکبر! ❤️

یہ تھا وہ جذبۂ محبت اور شجاعت جو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں نمایاں تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کم عمری ہی میں رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت اور وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا۔

🌹 حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا مقام

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ان عظیم صحابۂ کرام میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی خصوصی قربت حاصل تھی۔ آپ عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں، یعنی ان دس صحابۂ کرام میں سے ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی۔

آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی شجاعت، وفاداری، ایثار اور دینِ اسلام کے لیے قربانیوں سے عبارت ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت محض زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات سے وابستگی، آپ کے دین سے وفاداری اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔

📚 حوالہ:
امام ذہبیؒ، سیر أعلام النبلاء، جلد 1، ترجمۂ حضرت زبیر بن عوام

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت عطا فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲

نگاہوں کا سکون، دل کی دھڑکن… گنبدِ خضرا شریف!صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ وسلم🕋🌹🕌📚9اکتوبر 2026
09/10/2026

نگاہوں کا سکون،
دل کی دھڑکن…
گنبدِ خضرا شریف!
صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و اصحابہ وسلم
🕋🌹🕌📚
9اکتوبر 2026

09/10/2026

زیارات غزوہ بدر درب الانبیاء قسط 31
پتھر پر لکھی مکمل سورۃ فاتحہ
#جمعةمباركة 🕋🕌🌹

🌿 زیاراتِ مدینہ منورہ سلسلہ آبار مدینہ منورہ— قسط نمبر 36بئرِ عثمانؓ — بئرِ رومہمدینہ منورہ کے تاریخی مقامات میں ایک عظی...
08/10/2026

🌿 زیاراتِ مدینہ منورہ سلسلہ آبار مدینہ منورہ— قسط نمبر 36
بئرِ عثمانؓ — بئرِ رومہ

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات میں ایک عظیم اور بابرکت مقام بئرِ رومہ ہے، جسے آج بئرِ عثمان رضی اللہ عنہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ وہی کنواں ہے جسے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس وقف کو تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کی یاد اور اس کا فیض آج بھی قائم ہے۔

بئرِ رومہ کا قدیم پس منظر

یہ کنواں زمانۂ جاہلیت سے موجود تھا۔ تاریخی معلومات کے مطابق اسے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے کھودا تھا، پھر یہ رومہ الغفاری کی ملکیت میں آیا اور اسی نسبت سے یہ بئرِ رومہ کے نام سے مشہور ہوا۔ بعد میں یہ ایک یہودی کی ملکیت میں بھی رہا، جو اس کے پانی سے لوگوں کو پانی فراہم کرتا تھا۔

مدینہ منورہ میں اس کنویں کا پانی اپنی شیرینی اور عمدگی کے لیے مشہور تھا۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو بئرِ رومہ ان اہم مقامات میں سے تھا جہاں سے لوگ پانی حاصل کرتے تھے۔ اس وقت اس پانی کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔

رسول اللہ ﷺ کی ترغیب

جب مسلمانوں کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو رسول اللہ ﷺ نے بئرِ رومہ کے بارے میں ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:

“کون بئرِ رومہ خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے عام کر دے، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر بدلہ ہے۔”

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے یہ عظیم فضیلت سنی تو فوراً اس نیکی کے لیے آگے بڑھے ، اپنی ذاتی مال سے بئرِ رومہ خریدی اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

مشہور تاریخی تفصیل کے مطابق حضرت عثمانؓ نے پہلے کنویں کا نصف حصہ خریدا۔ اس طرح ایک دن حضرت عثمانؓ کے حصے کا پانی مسلمانوں کو ملتا اور دوسرے دن دوسرے مالک کے حصے کا۔

جب حضرت عثمانؓ کے حصے کا دن آتا تو مسلمان اتنا پانی حاصل کر لیتے کہ ان کے لیے اگلے دن کی ضرورت بھی پوری ہو جاتی۔ اس طرح دوسرے مالک کے دن پانی لینے والے کم ہوگئے۔

بالآخر حضرت عثمانؓ نے کنویں کا دوسرا حصہ بھی خرید لیا اور پورا کنواں مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ سعودی سرکاری ماخذ کے مطابق پہلے نصف کی قیمت بارہ ہزار درہم اور دوسرے نصف کی قیمت آٹھ ہزار درہم بیان کی گئی ہے۔

یوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کنواں نہیں خریدا، بلکہ اسے صدقۂ جاریہ بنا دیا۔

حضرت عثمانؓ کے لیے جنت کی بشارت

یہی وہ واقعہ ہے جس کی وجہ سے بئرِ رومہ کا نام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے عام کرنے والے کے لیے جنت میں بہتر بدلے کی بشارت دی، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس نیکی کو اپنے عمل سے پورا فرمایا۔

اسی لیے بئرِ رومہ آج بئرِ عثمان بھی کہلاتا ہے۔

یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت، ایثار اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ایک عظیم یادگار ہے۔

⸻

📍 بئرِ عثمانؓ کہاں واقع ہے؟

بئرِ رومہ مدینہ منورہ کے شمال مغربی حصے میں، وادیِ عقیق کے قریب واقع ہے۔

یہ مسجدِ قبلتین کے مغربی جانب کے علاقے میں واقع ہے اور مسجد نبوی ﷺ سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ علاقہ کھجوروں کے باغات اور زرعی زمین کے حوالے سے بھی معروف ہے۔

⸻

📏 کنویں کی گہرائی اور قطر

سعودی سرکاری معلومات کے مطابق:

کنویں کی گہرائی: تقریباً 37 میٹر
قطر: تقریباً 4 میٹر
پانی کی سطح: تقریباً 29 میٹر

یعنی یہ ایک خاصا گہرا تاریخی کنواں ہے جس کی ساخت قدیم طرز پر پتھروں سے بنائی گئی ہے۔

⸻

💧 کیا آج بھی اس میں پانی موجود ہے؟

جی ہاں۔

سعودی سرکاری ذرائع کے مطابق بئرِ عثمان کا پانی آج بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کنواں مدینہ کے لوگوں، اس کے باغات اور کھجوروں کے لیے پانی کا ذریعہ رہا ہے۔ سرکاری اوقاف کے مطابق حضرت عثمانؓ کے اس وقف کو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا سلسلہ آج تک قائم ہے۔

البتہ آج کنویں کے اصل دہانے کو بند کر دیا گیا ہے اور پانی ایک دوسرے دہانے کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔

⸻

🌴 بئرِ عثمانؓ کے ساتھ باغ

یہ مقام صرف ایک کنویں تک محدود نہیں۔

بئرِ عثمان کے گرد ایک بڑا زرعی علاقہ اور کھجوروں کا باغ بھی ہے۔ سعودی سرکاری معلومات کے مطابق اس علاقے میں 15,500 سے زیادہ کھجور کے درخت لگائے گئے اور زرعی رقبہ تقریباً 100,000 مربع میٹر تک بتایا گیا ہے۔ ان کھجوروں میں عجوہ بھی شامل ہے۔

اس باغ کی پیداوار بھی وقف کے مقصد کے مطابق لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے، اور سرکاری معلومات میں ضرورت مندوں کو کھجوریں تقسیم کرنے کا بھی ذکر ہے۔

⸻

🌿 ایک ہزار چار سو سال بعد بھی باقی صدقۂ جاریہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جس وقت یہ کنواں مسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا، شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہ نیکی صدیوں تک قائم رہے گی۔

زمانہ بدل گیا، مدینہ منورہ پھیل گیا، آس پاس کی آبادیاں اور راستے تبدیل ہوگئے، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ صدقۂ جاریہ آج بھی بئرِ رومہ، بئرِ عثمان کے نام سے زندہ ہے۔

آج جب کوئی اس مقام کو دیکھتا ہے تو اسے صرف ایک پرانا کنواں نظر نہیں آتا، بلکہ اسے ایک عظیم صحابیؓ کی وہ قربانی یاد آتی ہے جس کا فائدہ مسلمانوں کو نسل در نسل پہنچتا رہا۔

یہی وقف کی خوبصورتی ہے: انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، لیکن اللہ کی رضا کے لیے کیا ہوا نیک عمل باقی رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ صدقۂ جاریہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲

نقشِ حرم | NaqsheHaram






🌿 زیاراتِ مدینہ منورہسلسلۂ آباریِ مدینہ منورہ — قسط نمبر 35بئرِ حاء — بَیْرُحَاءذرا دل کو مدینے کی ان گلیوں میں لے جائی...
06/10/2026

🌿 زیاراتِ مدینہ منورہ
سلسلۂ آباریِ مدینہ منورہ — قسط نمبر 35
بئرِ حاء — بَیْرُحَاء
ذرا دل کو مدینے کی ان گلیوں میں لے جائیے…
جہاں کبھی رحمتِ عالم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف فرما تھے۔
تصور کیجیے، ایک ایسا باغ جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لے جاتے، اس کے سائے میں بیٹھتے اور اسی کے کنویں سے پانی نوش فرماتے تھے۔
مدینہ منورہ میں بئرِ حاء جسے بَیْرُحَاء بھی کہا جاتا ہے، حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں ایک باغ تھا۔ یہ باغ مسجدِ نبوی ﷺ کے سامنے واقع تھا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبَّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ۔

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے انصار میں کھجوروں کے باغات کے اعتبار سے بہت مالدار تھے، اور ان کا سب سے محبوب مال بَیْرُحَاء تھا۔ یہ مسجد کے سامنے واقع تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کے عمدہ پانی سے نوش فرماتے تھے۔

پھر ایک موقع پر قرآنِ کریم کی یہ عظیم آیت نازل ہوئی:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ۔
﴿آلِ عمران: 92﴾

“تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ خرچ کرو، بے شک اللہ اسے خوب جانتا ہے۔”

یہ آیت سنتے ہی حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ، أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ۔

“یا رسول اللہ! میرا سب سے محبوب مال بَیْرُحَاء ہے۔ میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، اس کے اجر اور اللہ کے ہاں اپنے لیے ذخیرے کی امید رکھتا ہوں۔ آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں، خرچ فرما دیں۔”

رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس قربانی کو سراہتے ہوئے فرمایا:

بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ۔

“واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے۔”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ۔

“میرا خیال ہے کہ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔”

چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بَیْرُحَاء اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔

📍 موجودہ مقام

آج بَیْرُحَاء مسجدِ نبوی ﷺ کے موجودہ احاطے کے اندر واقع ہے۔ سعودی سرکاری معلومات کے مطابق یہ بابِ ملک فہد سے مسجدِ نبوی ﷺ میں داخل ہونے والے کے بائیں جانب موجود ہے۔

یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں کبھی رسول اللہ ﷺ تشریف لے جاتے اور اس کے پانی سے نوش فرماتے تھے۔

بئرِ حاء صرف ایک تاریخی کنواں نہیں؛ یہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک یاد اور حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی اس عظیم قربانی کی نشانی ہے، جس میں انہوں نے اپنا سب سے محبوب مال اللہ کی راہ میں پیش کر دیا۔

📚 حوالہ جات

صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث 1461
صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ آل عمران
سورۃ آل عمران: 92
رسالة الحرمين — بَیْرُحَاء

⸻

نقشِ حرم

ایمل خان سواتی | Aimal Khan Swati






زیارات مدینہ منورہ — سلسلۂ آبار قسط نمبر 34بئر أبي عِنَبَةغزوۂ بدر کی روانگی کا تاریخی پڑاؤمدینہ منورہ کے قریب ایک ایسا...
04/10/2026

زیارات مدینہ منورہ — سلسلۂ آبار قسط نمبر 34
بئر أبي عِنَبَة
غزوۂ بدر کی روانگی کا تاریخی پڑاؤ

مدینہ منورہ کے قریب ایک ایسا تاریخی مقام جہاں رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے لیے روانگی کے موقع پر قیام فرمایا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا معائنہ کیا اور کم عمر صحابہ کو واپس فرمایا۔

بئر أبي عِنَبَة مدینہ منورہ کے تاریخی کنوؤں میں شمار ہوتا ہے۔ سیرت و تاریخ کی روایات میں اس مقام کا تعلق خصوصاً غزوۂ بدر کی تیاری اور روانگی سے بیان ہوا ہے۔

غزوۂ بدر سے پہلے یہاں قیام

رسول اللہ ﷺ جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے تو اس مقام پر قیام فرمایا۔ یہاں آپ ﷺ نے لشکر کا جائزہ لیا اور صحابۂ کرام کی عمروں اور حالات کا معائنہ فرمایا۔

جو صحابہ کم عمر تھے، انہیں واپس فرما دیا گیا۔ بعض کم سن صحابہ رضی اللہ عنہم بدر میں شرکت کے بے حد خواہش مند تھے، مگر کم عمری کی وجہ سے ابتدا میں انہیں اجازت نہ ملی۔

ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت براء بن عازب، حضرت اسامہ بن زید، حضرت رافع بن خدیج، حضرت زید بن ثابت، حضرت زید بن ارقم اور حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام سیرت کی روایات میں آتے ہیں۔

خصوصاً حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا واقعہ انتہائی ایمان افروز ہے۔ کم سنی کی وجہ سے جب انہیں واپس کیا جانے لگا تو وہ رونے لگے۔ بالآخر رسول اللہ ﷺ نے انہیں شرکت کی اجازت عطا فرمائی، اور وہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے اور شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔

لشکر کی تعداد معلوم کرنا

غزوۂ بدر کے سفر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت قیس بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی تعداد شمار کرنے کی ذمہ داری بھی دی۔ انہوں نے لشکر کی تعداد شمار کی اور رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔

یہ واقعہ اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ بئر أبي عِنَبَة صرف راستے کا ایک عام پڑاؤ نہیں تھا بلکہ لشکرِ اسلام کی تنظیم، معائنہ اور تیاری کے اہم مراحل میں سے ایک مقام تھا۔

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا نائب بنانا

غزوۂ بدر کے لیے روانگی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو لبابہ بشیر بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔

یعنی رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے انتظام کی ذمہ داری ان کے سپرد فرمائی اور وہ مدینہ میں آپ ﷺ کے نائب کی حیثیت سے رہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں رہنا

اسی سفر میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ ﷺ کے حکم سے مدینہ منورہ میں رہے، کیونکہ ان کی زوجہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی بدر میں شریک ہونے والے مجاہد کا اجر اور حصہ مقرر فرمایا۔

بئر أبي عِنَبَة کا میٹھا پانی

قدیم مدنی روایات میں بئر أبي عِنَبَة کے پانی کے میٹھا اور خوش ذائقہ ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اہلِ تاریخ نے اسے مدینہ کے ان کنوؤں میں شمار کیا ہے جن کا پانی پینے کے لیے پسند کیا جاتا تھا۔

یہ پہلو بھی اس تاریخی مقام کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے کہ یہ صرف ایک پڑاؤ ہی نہیں بلکہ مدینہ کے قدیم آبی ذخائر میں سے بھی ایک معروف کنواں تھا۔

غزوۂ اُحد کے بعد بھی تعلق

بئر أبي عِنَبَة کا تعلق صرف غزوۂ بدر کی روانگی تک محدود نہیں۔ غزوۂ اُحد کے بعد حمراءُ الأسد کی طرف رسول اللہ ﷺ کی روانگی کے واقعات میں بھی اس علاقے کا ذکر ملتا ہے۔

اس طرح یہ مقام غزواتِ نبوی ﷺ اور مدینہ منورہ کے تاریخی جغرافیے میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

آج کا بئر أبي عِنَبَة

آج بھی بئر أبي عِنَبَة مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات میں معروف ہے۔ اس مقام کا نام اسی قدیم نسبت کے ساتھ محفوظ ہے اور زائرین کے لیے مدینہ منورہ کے تاریخی جغرافیے کا ایک اہم حصہ ہے۔

یہاں کھڑے ہو کر انسان تصور کر سکتا ہے کہ تقریباً چودہ سو سال پہلے اسی سرزمین سے رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ غزوۂ بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

ایک طرف کم عمر صحابہ کو واپس کیے جانے کا منظر، دوسری طرف بدر میں شرکت کا شوق رکھنے والے نوجوان صحابہ کا جذبۂ ایمان، اور پھر لشکرِ اسلام کا مدینہ سے نکل کر تاریخِ اسلام کے عظیم معرکے کی طرف بڑھنا—یہ سب بئر أبي عِنَبَة کو سیرتِ نبوی ﷺ کے ایک نہایت یادگار مقام کے طور پر سامنے لاتا ہے -

یہ تاریخی کنواں طریق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر بئر السقیا کے بعد ترکی ریلوے اسٹیشن کی چار دیواری کے اندر موجود ہے -

حوالہ جات

السيرة النبوية لابن هشام — غزوۂ بدر کے واقعات
الطبقات الكبرى لابن سعد — غزوۂ بدر میں شریک صحابہ کے حالات
وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى — السمهودي — مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات اور آبار
معجم البلدان — ياقوت الحموي — بئر أبي عِنَبَة کا جغرافیائی تعارف
تاريخ المدينة — ابن شَبّة — مدینہ کے قدیم مقامات اور آبار






Address

Madina, Saudia Arabia
Medina
ARABIC

Telephone

+966591438416

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naqshe Haram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Naqshe Haram:

Shortcuts

Share

Category