22/10/2026
آج ایک عجب واقعہ ہوا مجھے واٹس ایپ پر ایک کال آئی بندہ تھوڑے پنجابی لہجے میں کہنے لگا اور یار یہ ویڈیو مت بنایا کرو ہم ادھر گئے مزا نہیں آیا
میں نے درشت لہجے میں پوچھا کدھر کہتا تاؤ بٹ
نہ دعا نہ سلام نہ ہی طریق کلام بندہ کال کرے اور سیدھا بھڑاس نکالے تو یہ درست طریق نہیں
اچھا میں نے بحث مناسب نہیں سمجھی کال کاٹ دینہ بحث کا وقت اور نہ ہمارے مزاج
پھر بندے نے رنگ کی پھر کاٹی اور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بلاک کر دیا
میں بحث کا قائل نہیں ہوں
اچھا دوستو یہ تصویر دیکھیں میں قسم اٹھاتا ہوں کے میں نے اس میں کوئی کلر نہیں بھر ا یہ ایسا ہی قدرتی منظر ہے
اتنا ہی کلر فل رنگین آسماں سامنے سے بہتا گہرا سبز دریا عین سامنے خزاں کے رنگوں میں ڈھلتے شجر
ایک خوب صورت بل کھاتی سنسان سڑک گہرا سناٹا سرد ہوا کے جھونکے
کیا دنیا میں اس سے زیادہ خوب صورت کوئی منظر ہو سکتا
نیچر اور آخر کس بلا کا نام ہے؟
دیکھیں آپ آتے ہیں صرف دو دن کے لیے بھاگم بھاگ ٹور کرتے ہیں
دن میں سفر کر کے تھک جاتے ہیں
ایک رات قیام کرتے اور چلتے بنتے ہیں
آپ یہاں پر بھی راتوں کو انٹرنیٹ چلاتے ہیں رات کے کھانے میں چکن کھڑاہیاں ڈکارتے ہیں
پھر آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی صبح نیند سے آنکھیں بوجھل اور پھر کیا خاک مزہ آنا؟
آپ یہاں آکر بھی موبائل سے باہر نہیں نکلتے بِزنس کی ٹینشن ساتھ لیئے پھرتے ہیں تو آپ نے کیا نیچر انجوائے کرنا ہے
آپ ایسے ٹور کمپنیوں کے ساتھ ٹور کرنا ہوتا جو چند ہزار میں ٹور کرواتی ہیں اور آپ کو بھگا بھگا کر تھکا تھکا کر ٹور کروا کر چلتی بنتی ہیں
دوستو یہ سیاحت نہیں ہے ابھی
ہمیں سیاحت کے آداب کہاں آتے ہیں
آپ تو تفریح کرنے غل غپاڑا کرنے کڑاہیاں ڈکارنے انٹرنیٹ چلانے صرف تصویریں بنانے چلے آتے ہیں
آہ ایک ہم ہیں
انہی پہاڑوں میں پیدا ہوکر صبح شامیں انہی وادیوں میں گزرتے ہوئے بھی ہر حسین منظر سے جی نہیں بھرتا
ان صبح و شاموں کا متبادل کیا بھلا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے ؟
ان منظروں سے تو روشن دل عالی دماغ فراغ دامنوں والے
ہی خراج پاتے ہیں
ہر خواجہ پا نہیں سکتا مقام خواجگی
ہر کسو نا کس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں
والسلام اشرف نگار