15/11/2022
Romania 🇷🇴 Workpermits
ایمبیسیڈر آف پاکستان اور انکے عملے کی رومانیہ کی تعصب اور بدنیتی پر مبنی رپورٹس نے پوری دنیا بالخصوص رومانیہ میں پاکستان کا نام بدنام کر دیا ہے ، جن کمپنیوں کو موصوف نے جعلی قرار دیا ہے یہ کمپنیاں سینکڑوں پاکستانی ورکرز اور سینکڑوں دیگر ایشیائی ورکز کو ورک پرمٹس جاری کر چکی اور سینکڑوں ورکرز ان کمپنیوں میں جا بھی چکے اور کام بھی کر رہے ، مزکورہ بالا کمپنیوں میں دو تین ایسی بھی کمپنیاں ہیں جو رومانیہ کی بہت بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہیں ، پاکستان میں ویزہ ریجیکشن کی سب سے بڑی وجہ بھی شاید یہی ہو سکتی ہے کیونکہ کسی اور ملک میں تو ریجیکشن نہیں ہو رہی حالانکہ پاکستان کی نسبت انڈیا اور بنگلہ دیش کے ورکرز زیادہ بھاگتے ہیں شینجن زون کی طرف ، مگر مجال ہے انکے ایمبیسیڈر یا ایمبیسی کے دیگر عملے نے اپنے ملک کے باشندوں کے خلاف ایک لفظ بھی لکھا ہو یا جن کمپنیوں میں وہ جا رہے ہوں انکے خلاف ایک لفظ بھی لکھا ہو انکو ایک ہی چیز سے کنسرن ہے کہ ورک پرمٹس نکلنے چاہئیں اور ورکرز جانے چاہئیں کیونکہ ورکرز کے جانے سے انکے ملکوں کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور ہمارے پروموٹرز نے محنت کر کے بالخصوص اجسا انٹرنیشنل ریکروٹر اور ہیپی ہوم نے جس طرح مشکلات ک سامنا کرتے ہوئے یہ سیکٹر کھلوایا اسکی مثال بہت کم دی کا سکتی وہاں پاکستانی پروموٹرز نے کروڑوں روپے انویسٹ کر رکھے ہیں
اگر یہ کام اتنا ہی برا ہے تو معزز ایمبیسی کا عملہ اور انکے رشتے دار اور مبینہ طور پر ایمبیسیڈر صاحب کے سگے بھائی اور بھانجے بھتیجے بھی بغیر لائسنس کے اس کام کو غیر قانونی طور پر کر کے ساری حاصل کی ہوئی ڈیمانڈز انڈیا اور بنگلہ دیش کے پروموٹرز اور ایجنٹوں کو دیکر کروڑوں روپے کما رہے اور پاکستانی پروموٹرز کے خلاف لکھ لکھ کر انکو مشکلات میں ڈال رہے ، بیورو آف امیگریشن پاکستان سے حاصل کئے گئے ریکارڈ کے مطابق کوئی بھی ایسی رومانیہ کی کمپنی نہیں جس کے خلاف موصوف ایمبیسیڈر نے نا لکھا ہو ، ان کمپنیوں کی بدقسمتی یہ ہے یہ جب ان کے خلاف حسب معمول تعصب پر مبنی رپورٹس آرہی تھی اسوقت بیورو آف امیگریشن کے نئے ڈی جی آ چکے تھے جو اچانک اس طرح کی رپورٹس دیکھ کر گھبرا گئے اور انہوں نے ان کمپنیوں کی پرمیشنز کینسل کر دیں حالانکہ انکے پیشرو پہلے ڈی جی کاشف احمد نور صاحب نے کبھی ایمبیسیڈر کی نیگیٹو رپورٹس کو در خود اعتنا نہیں سمجھا اور ہر اس کمپنی کو پرمیشن ملتی رہی جس کے ورک پرمٹ آجاتے تھے ، ورک پرمٹس آنے کا مطلب کمپنی اصل ہے ، اسکے کاغذات اصل ہیں جن پر ورک پرمٹس ایشو ہوئے اب نئے ڈی جی صاحب ، فیڈرل منسٹر صاحب اور دیگر افسران سب کھیل سمجھ چکے اب وہ نئی پرمیشن والی کمپنیوں کی پرمیشنز کینسل نہیں کر رہے ،
امید ہے کہ منسٹر صاحب کے رومانیہ اور دیگر یورپ کے دورے کے بعد ریجیکشن بھی کم ہو جائیگی اور ایمبیسی کی چیرہ دستیوں سے پاکستانی پروموٹرز کو بھی نجات مل جائیگی