Akan International Tourism

Akan International Tourism Travel All around the World & Perform Umrah with Our best Services. File consultancy Schengen, USA & Australia.

Cheapest Air tickets Domestic & International Destination's.

27/05/2026
Akan International Tourism
25/05/2026

Akan International Tourism

Akan International Tourism
25/05/2026

Akan International Tourism

Akan International Tourism
25/05/2026

Akan International Tourism

چین میں روزگار کی حقیقتہم پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں اور اکثر ٹرینڈز کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے لگ جاتے ہیں۔ ایک مہینہ پہ...
21/05/2026

چین میں روزگار کی حقیقت

ہم پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں اور اکثر ٹرینڈز کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے لگ جاتے ہیں۔ ایک مہینہ پہلے تک لوگ ایران کی کرنسی دھڑا دھڑ خرید رہے تھے اور آج وہی کرنسی تقریباً بے وقعت ہو چکی ہے۔ اسی طرح آج کل ایک نیا رجحان چل پڑا ہے کہ چین جا کر نوکری کی جائے اور بدقسمتی سے ٹریول ایجنٹس ایک بار پھر لوگوں کو جھوٹے خواب دکھا کر لوٹ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ایک برا آئیڈیا کیوں ہے؟

چین جانا اور وہاں جا کر نوکری حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی بے پناہ ترقی کے باوجود وہاں بڑی تعداد میں صرف وہی لوگ جاتے ہیں جو امپورٹ، ٹریڈ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ چین غیر ملکیوں کے لیے کوئی جاب ہیون نہیں بلکہ ایک صنعتی مرکز ہے جہاں زیادہ تر لوگ تجارت، امپورٹ اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق آئیڈیاز حاصل کرنے جاتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ کوئی بھی پلان بنانے سے پہلے یہ حقیقت سمجھ لیں۔

چین ہر سال اتنے یونیورسٹی گریجویٹس پیدا کرتا ہے کہ کئی ممالک کی کل آبادی بھی اتنی نہیں ہوتی۔ پڑھے لکھے، قابلِ اور نسبتاً کم تنخواہ پر کام کرنے والے نوجوان جو ہر سال جاب مارکیٹ میں آتے ہیں۔ وہاں کی حکومت نے سسٹم ہی ایسا بنایا ہے کہ پہلے ان ہی کو جذب کیا جائے۔ آپ کے CV کے پہنچنے سے پہلے ہی سسٹم فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ ترجیح کس کو دینی ہے۔

چینی حکومت اس معاملے میں کوئی لچک نہیں رکھتی۔ غیر ملکیوں کے لیے ورک پرمٹ سخت شرائط کے ساتھ ملتا ہے۔ آپ کے پاس بیچلر ڈگری، کم از کم دو سال متعلقہ تجربہ، صاف ریکارڈ، اور سب سے اہم ایک ایسا چینی ایمپلائر ہونا چاہیے جو آپ کو قانونی طور پر اسپانسر کرنے پر تیار ہو۔ آپ ٹورسٹ ویزا پر شنگھائی جا کر وہاں نوکری نہیں کر سکتے۔ وہاں ایسے نظام نہیں چلتا۔ ریاست پورے عمل کو کنٹرول کرتی ہے اور یہ راستہ جان بوجھ کر محدود رکھا گیا ہے۔

پھر زبان کا مسئلہ ہے۔ لوگ China is the future سن کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بھی اس مستقبل کا حصہ بن جائیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر کارپوریٹ نوکریاں، دفاتر، اور روزمرہ پروفیشنل ماحول Mandarin زبان میں چلتے ہیں، اور چینی بول چال میں کئی سال لگتے ہیں۔ صرف انگلش جاننا بہت کم جگہوں پر کام آتا ہے، لاور وہ بھی مخصوص انڈسٹریز میں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک غیر ملکی کے لیے مواقع چائنہ میں کہاں ہیں؟

سب سے عام راستہ تدریس ہے خاص طور پر انگلش پڑھانا، لیکن اب اس میں بھی کافی سختی آ چکی ہے۔ پہلے صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر تدریسی نوکریاں مل جاتی تھیں مگر اب حقیقی اسناد اور قابلیت ضروری ہے۔

تدریس کے علاوہ اگر آپ انتہائی ماہر انجینئر ہیں، یا renewable energy، electric vehicles، یا advanced technology جیسے شعبوں میں ریسرچ کرتے ہیں تو کچھ مواقع موجود ہیں۔ چین کئی اسٹریٹجک شعبوں میں خود کفالت کی دوڑ میں ہے اور جہاں مقامی مہارت کم پڑتی ہے وہاں غیر ملکی ماہرین کے لیے دروازہ ابھی بھی کھلا رہتا ہے۔ اسی طرح چین میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی بین الاقوامی سطح پر بھرتی کرتی ہیں کیونکہ انہیں ایسے لوگ چاہییں جو چینی آپریشنز اور عالمی مارکیٹس کے درمیان پل بن سکیں اور یہ پروفائل ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔

لیکن یہ سب مخصوص راستے ہیں جہاں ہر بندہ ایڈجسٹ نہیں ہوسکتا۔ اور یہی وہ بات ہے جو اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ وہ چین کی ترقی دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس ترقی ان کے لیے بھی بے شمار مواقع ہیں۔

چین بنیادی طور پر اپنے ہی لیے ترقی کر رہا ہے۔ چین امپورٹ بھی اپنے مفاد کے لیے کرتا ہے اور ایکسپورٹ بھی اپنے مفاد کے لیے۔ ہر پالیسی میں وہ سب سے پہلے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ چین اس بات کو چھپاتا نہیں بلکہ واضح طور پر China First کے اصول پر عمل کرتا ہے۔

جو انفراسٹرکچر بن رہا ہے، جو فیکٹریاں کھل رہی ہیں، اور جو ٹیکنالوجی تیار ہو رہی ہے، وہ سب چینی روزگار، چینی کھپت، اور چینی اسٹریٹجک مفادات کے لیے ہے۔ ایسے ماحول میں ایک غیر ملکی خود بخود اہم نہیں ہوتا۔ ایسے ماحول میں ایک غیر ملکی خود بخود اہم نہیں بن جاتا۔ آپ کو کوئی واقعی نایاب اور منفرد مہارت ساتھ لانی پڑتی ہے۔ تب جا کر آپ کو اس میز پر جگہ ملتی ہے جو اصل میں آپ کے لیے کبھی ترتیب ہی نہیں دی گئی تھی۔

اگر آپ چین کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو نوکری کے بجائے امپورٹ، ٹریڈ، اور مینوفیکچرنگ تعلقات کے زاویے سے سوچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو چائنہ میں باہر سے آنے والوں کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔ جاب مارکیٹ کی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

Akan International Tourism
14/05/2026

Akan International Tourism

Contact Us: 0323 6688339 Akan International Tourism
06/05/2026

Contact Us:
0323 6688339 Akan International Tourism

Address

122 Klopper Street
Rustenburg
0300

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923000113548

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akan International Tourism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akan International Tourism:

Share

Category