Usman Awan - Soon Valley

Usman Awan - Soon Valley Muhammad Usman Awan | Soon Valley
IT Expert & Professional Trainer
Empowering Youth with Digital & AI Skills
Trained 20,000+ Students Across Pakistan

Soon Valley skaser khushab Starts from padhrar village and ends in skaser salt range.the highest peak having beautiful lakes like UCHALI ,KHABEKI and KANHATTI.it has very rich and fertile land and people of this area are really brave and strong.The mojer cast of soon valley is AWAN( MALIK). the main villages are KHOORA , MUSTAFA ABAD , NOSHEHRA , CHAMNAKI , SURRAKI , MARD WALL , KHABEKI , UCHALI , POTHY , UGALI AND etc..............

سندھ طاس معاہدہ: منصور عثمان اعوان کا مضبوط مؤقفپاکستان کے آبی حقوق اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح ...
01/09/2026

سندھ طاس معاہدہ: منصور عثمان اعوان کا مضبوط مؤقف

پاکستان کے آبی حقوق اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر جاری قانونی جدوجہد میں پاکستان کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ **31 اگست 2026 کو دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کر سکتا۔**

اس اہم بین الاقوامی مقدمے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، پاکستان کے قانونی نمائندے کی حیثیت سے ملک کی نمائندگی کرتے رہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان کے بعد منصور عثمان اعوان نے واضح قانونی مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک پر بدستور لازم ہے اور بھارت یکطرفہ اقدام کے ذریعے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔

پاکستان نے یہی مؤقف باقاعدہ طور پر **ثالثی عدالت** کے سامنے بھی پیش کیا۔ پاکستان کی جون 2025 میں جمع کرائی گئی قانونی دستاویزات میں عدالت سے واضح طور پر استدعا کی گئی کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو **’’زیرِ التوا‘‘** رکھنے کا اعلان نہ تو سندھ طاس معاہدے کو ختم کرتا ہے اور نہ ہی اس معاہدے کے تحت قائم قانونی طریقہ کار اور جاری کارروائیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

فروری 2026 میں دی ہیگ میں ہونے والی اہم سماعت میں منصور عثمان اعوان نے **پاکستان کے قانونی نمائندے اور اٹارنی جنرل آف پاکستان** کی حیثیت سے **پاکستان کی قانونی ٹیم** کی قیادت کرتے ہوئے ملک کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان نے بالخصوص دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے زیرِ تعمیر آبی بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کو سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود کے اندر رکھنے کے لیے اپنا قانونی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔

اب **ثالثی عدالت کے 31 اگست 2026 کے فیصلے** نے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کر دی ہے کہ **سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔** عدالت نے رَتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق بعض تعمیراتی اقدامات پر بھی عبوری پابندیاں عائد کی ہیں۔

یہ پیش رفت پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس اصول کی بھی اہم توثیق ہے کہ **بین الاقوامی معاہدوں سے کوئی ریاست محض یکطرفہ اعلان کے ذریعے دستبردار نہیں ہو سکتی۔**

**پاکستان کے قومی مفادات اور آبی حقوق کے دفاع میں ایک اہم قانونی پیش رفت — جہاں دلیل، بین الاقوامی قانون اور مسلسل قانونی پیروی نے پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔**

تحریر - محمد عثمان اعوان

فاروق اعوان جو میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر ہیں, ان کا تعلق پوٹھے وادی سون سے ہے، پاکستان کے ترقیاتی شعبے کے ایک معروف رہن...
01/09/2026

فاروق اعوان جو میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر ہیں, ان کا تعلق پوٹھے وادی سون سے ہے، پاکستان کے ترقیاتی شعبے کے ایک معروف رہنما ہیں۔

وہ پبلک ہیلتھ کے ماہر اور آسٹریلیا میں قائم معروف غیر سرکاری تنظیم دی فریڈ ہولوز فاؤنڈیشن (The Fred Hollows Foundation) کے پاکستان میں سربراہ ہیں۔ یہ ادارہ قابلِ تدارک نابینائی کی روک تھام اور آنکھوں کی صحت کے شعبے میں کام کرتا ہے۔

فاروق اعوان نے پاکستان میں آنکھوں کی صحت کے حوالے سے کئی اہم اور مؤثر منصوبوں کی قیادت کی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان ٹریکوما خاتمہ منصوبے (Pakistan Trachoma Elimination Project) کی قیادت کی، جس کا مقصد ملک سے ٹریکوما کا خاتمہ تھا۔

یہ ایک تاریخی کامیابی تھی اور 2024 میں پاکستان کو ٹریکوما کے خاتمے کے حوالے سے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ملک قرار دیا گیا۔ اس کامیابی کی تقریبات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئیں۔

گزشتہ ہفتے آسٹریلیا کے دورے کے دوران فاروق اعوان نے آسٹریلیا اور پاکستان کی حکومتوں کے مختلف حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں آنکھوں کی صحت کے شعبے میں حاصل ہونے والی اس اہم کامیابی کو اجاگر کرنا اور پاکستان ٹریکوما پروگرام کے لیے آسٹریلوی اور پاکستانی حکومتوں کی جانب سے ملنے والے تعاون اور حمایت کو سراہنا تھا۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے خصوصی طور پر آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر، محترم عرفان شوکت صاحب سے ملاقات کی اور اپنی تنظیم اور ان کمیونٹیز کی جانب سے انہیں اظہارِ تشکر کے طور پر یادگاری شیلڈ پیش کی۔ انہوں نے پاکستانی قونصل جنرل، جناب قمر زمان صاحب سے بھی ملاقات کی۔

فاروق اعوان کا یہ دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا، جس کے دوران انہوں نے آسٹریلوی اور پاکستانی حکام کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا پاکستان ایسوسی ایشن کے نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں آنکھوں کی صحت کے شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت اور کامیابیوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

ہم فاروق اعوان کو پاکستان میں آنکھوں کی صحت کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات، مؤثر قیادت اور پاکستان کی نمائندگی کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی کاوشیں نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا باعث بنی ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے ایک مثبت اور کامیاب تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

خود کو چائے پہ بلائیں کوئی بات کریں اپنے  ضمیر  سے  ایک  ملاقات  کریں ـ
30/08/2026

خود کو چائے پہ بلائیں کوئی بات کریں
اپنے ضمیر سے ایک ملاقات کریں ـ

مجھے اجڑے گھروں سے خود آتا ہے نہ جانے ہم کتنی خواہشوں اور خوابوں کے ساتھ گھر بساتے ہیں۔ سالوں کی جمع پونجی لگا کر ایک ای...
30/08/2026

مجھے اجڑے گھروں سے خود آتا ہے

نہ جانے ہم کتنی خواہشوں اور خوابوں کے ساتھ گھر بساتے ہیں۔ سالوں کی جمع پونجی لگا کر ایک ایک اینٹ جوڑتے ہیں، تعمیر میں خود شریک ہوتے ہیں، ہماری عورتیں مزدوروں کے لیے کھانا بناتی ہیں، گاؤں کی عورتیں مٹھائی لے کر مبارک باد دینے آتی ہیں۔

پھر اسی گھر میں اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کے خواب دیکھتے ہیں، مگر کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ایک دن یہی گھر ویران ہو سکتا ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے کہ دروازے بند ہو جاتے ہیں، صحن خالی ہو جاتے ہیں، چیزوں پر برسوں کی دھول جم جاتی ہے اور کبھی ان لوگوں کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہتا۔

میں ایسے گھروں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ جس نے یہ گھر بنایا ہوگا، اس نے کتنے خواب دیکھے ہوں گے؟ میرے اللہ کو کیا منظور تھا؟ اولاد دیارِ غیر چلی گئی یا نسل ہی باقی نہ رہی؟

میں چونکہ وادی سون سے ہوں، اس لیے ایسے سینکڑوں گھر دیکھتا ہوں۔ ان خاموش دیواروں میں مجھے ماضی کی ایک عجیب سی وحشت محسوس ہوتی ہے؛ جیسے یہاں کبھی ہنسی، رونے، خوشیوں اور زندگی کی ہزاروں آوازیں گونجی ہوں۔ پھر سوچتا ہوں، انسان خواب کچھ اور دیکھتا ہے، مگر آخر میں ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔

شاہراہِ منصور نہیں، شاہراہِ وادیِ سون - منصور عثمان اعوانوادیٔ سون میں ایک اہم سڑک کی تعمیر کے بعد اہلِ علاقہ نے محبت، ع...
28/08/2026

شاہراہِ منصور نہیں، شاہراہِ وادیِ سون - منصور عثمان اعوان

وادیٔ سون میں ایک اہم سڑک کی تعمیر کے بعد اہلِ علاقہ نے محبت، عقیدت اور اپنے پن کے اظہار کے طور پر اسے "شاہراہِ منصور" کہنا شروع کر دیا۔

اس حوالے سے منصور عثمان اعوان کا کہنا ہے کہ وہ اہلِ علاقہ کی اس محبت، خلوص اور جذبات کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ نام کسی ذاتی مفاد کے تحت نہیں بلکہ ان کی محبت اور اپنے علاقے کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر رکھا گیا ہے۔

تاہم منصور عثمان اعوان نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ:

"یہ سڑک میری نہیں، وادیٔ سون کے عوام کی ہے۔ اس کی تعمیر پر خرچ ہونے والا پیسہ بھی کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا پیسہ اور حکومت کے وسائل ہیں۔ میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ان وسائل کو اپنے لوگوں کی بہتری، سہولت اور علاقے کی مثبت ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔"

منصور عثمان اعوان کے مطابق کسی عوامی منصوبے کو اپنے نام سے منسوب کروانا ان کے لیے کامیابی نہیں۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک سڑک بنے تو لوگوں کا سفر آسان ہو، ایک منصوبہ مکمل ہو تو عوام کو سہولت ملے اور حکومتی وسائل حقیقی معنوں میں عوام کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ "شاہراہِ منصور" کے نام میں لوگوں کی محبت ضرور شامل ہے اور وہ اس محبت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ اس شاہراہ کا نام "شاہراہِ وادیِ سون" رکھا جائے، کیونکہ یہ وادیٔ سون کے عوام کی ملکیت اور ان کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔

منصور عثمان اعوان کا مؤقف ہے کہ عوامی خدمت کا مقصد نام، تختی یا ذاتی تشہیر حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ جو اختیار اور وسائل عوام کی طرف سے ملیں، انہیں عوام ہی کی بہتری پر خرچ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔

**یہ سون سکیسر کا وہ بیٹا ہے جو اپنے ہر کام کو فرض اور ذمہ داری سمجھ کر ادا کرنا چاہتا ہے؛ جو بدلے میں اپنے نام کی شہرت یا عزت کی تختیاں نہیں چاہتا، بلکہ اپنے لوگوں کے مسائل حل ہوتے، ان کی زندگی بہتر ہوتے اور اپنی وادی کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہے۔**

اس کے لیے سب سے بڑی پہچان کسی شاہراہ پر اپنا نام نہیں، بلکہ **اپنے لوگوں کی دعائیں، ان کی آسانیاں اور وادیٔ سون کی ترقی ہے۔**

**شاہراہِ منصور نہیں —
شاہراہِ وادیِ سون۔**

بلال مصطفیٰ کا شمار اُن چند لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ ایک بڑے بھائی کا احساس ہوتا ہے۔شاید بہت کم لوگ جا...
27/08/2026

بلال مصطفیٰ کا شمار اُن چند لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ ایک بڑے بھائی کا احساس ہوتا ہے۔

شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ مجھے سون ویلی کی ذمہ داری سونپنے والوں میں میری ذاتی دلچسپی اور خواہش کے ساتھ اگر کسی ایک شخص کا سب سے نمایاں کردار تھا تو وہ بلال بھائی تھے۔ انہوں نے نہ صرف مجھ پر اعتماد کیا بلکہ ہمیشہ خلوص، محبت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ میرا ساتھ دیا۔

نہایت مخلص، دوستوں کے دوست، راست گو، اور دوسروں کو اہمیت دینے اور آگے بڑھنے کا موقع دینے والے بلال بھائی جیسے لوگ واقعی کم ملتے ہیں۔ بہت کم وقت میں ان کے ساتھ عزت، محبت اور اپنائیت کا جو رشتہ قائم ہوا، شاید ہی کسی اور کے ساتھ اتنی جلدی بن سکا ہو۔

منصور صاحب کی ٹیم میں اور اُن کے مشن کو آگے بڑھانے میں بلال بھائی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اُن کی بے لوث محنت، خلوص اور خدمت کا جذبہ اُنہیں اُن لوگوں میں شامل کرتا ہے جن پر انسان فخر بھی کرتا ہے اور دل سے اعتماد بھی۔

گزشتہ دنوں بلال بھائی عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس آئے تو اُن کے گھر جا کر ملاقات کا موقع ملا۔ اس ملاقات میں بھی وہی محبت، اپنائیت اور خلوص محسوس ہوا جو ہمیشہ ان کی شخصیت کا خاصہ رہا ہے۔

یہ ہے ہمارا سون سکیسر
24/08/2026

یہ ہے ہمارا سون سکیسر

24/08/2026

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان صاحب کی سرپرستی میں شروع کیے گئے AI اور I.T ٹریننگ پروگرام کا شاندار اثر!

خوشاب سے تعلق رکھنے والے ایک خصوصی (Disable) بچے نے محض دو ماہ کی تربیت کے بعد نہ صرف آن لائن آرننگ شروع کی، بلکہ اب تک 2 پروجیکٹس کامیابی سے مکمل کر کے تیسرے پر کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اگر صحیح رہنمائی ملے تو یہ ٹریننگ طالب علموں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کانٹوں کی کیا غلطی، پاؤں تو ہم خود رکھتے ہیں۔ زندگی میں ہر تکلیف کے لیے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا ضروری نہیں۔ کچھ راس...
23/08/2026

کانٹوں کی کیا غلطی، پاؤں تو ہم خود رکھتے ہیں۔

زندگی میں ہر تکلیف کے لیے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا ضروری نہیں۔ کچھ راستے ہم خود چنتے ہیں، کچھ فیصلے ہم خود کرتے ہیں اور پھر انہی فیصلوں کے نتائج ہمیں برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ شاید یہی احساس انسان کو مضبوط بھی بناتا ہے اور سمجھدار بھی۔

کبھی کسی شخص پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا، کبھی کسی رشتے کو اپنی ذات سے بڑھ کر اہمیت دی، کبھی کسی ایسے راستے پر چل پڑے جہاں منزل سے زیادہ زخم ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ مگر ہر زخم ایک سبق چھوڑ جاتا ہے، اور ہر درد ہمیں اپنے آپ کو پہلے سے بہتر سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔
کانٹوں کا کیا قصور، پاؤں تو میں نے رکھا تھا۔

شاید یہی جملہ زندگی کی ایک بڑی حقیقت ہے کہ ہر بار دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے کبھی اپنے قدموں کا بھی حساب کرنا چاہیے۔

بزرگوں کا احترام اور ان کی بات توجہ سے سننا اعلیٰ تربیت کی علامت ہے۔ منصور عثمان اعوان صاحب کے چہرے کی یہ سنجیدگی بتاتی ...
22/08/2026

بزرگوں کا احترام اور ان کی بات توجہ سے سننا اعلیٰ تربیت کی علامت ہے۔ منصور عثمان اعوان صاحب کے چہرے کی یہ سنجیدگی بتاتی ہے کہ ان کے لیے اپنے لوگوں اور خاص طور پر اپنے بزرگوں کے مسائل کی کیا اہمیت ہے۔ اپنوں کے دکھ درد کو دل سے محسوس کرنا ہی سچی قیادت کا اصل حسن ہے۔

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman Awan - Soon Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Usman Awan - Soon Valley:

Shortcuts

Share

Category