01/09/2026
سندھ طاس معاہدہ: منصور عثمان اعوان کا مضبوط مؤقف
پاکستان کے آبی حقوق اور سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر جاری قانونی جدوجہد میں پاکستان کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ **31 اگست 2026 کو دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کر سکتا۔**
اس اہم بین الاقوامی مقدمے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، پاکستان کے قانونی نمائندے کی حیثیت سے ملک کی نمائندگی کرتے رہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان کے بعد منصور عثمان اعوان نے واضح قانونی مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک پر بدستور لازم ہے اور بھارت یکطرفہ اقدام کے ذریعے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
پاکستان نے یہی مؤقف باقاعدہ طور پر **ثالثی عدالت** کے سامنے بھی پیش کیا۔ پاکستان کی جون 2025 میں جمع کرائی گئی قانونی دستاویزات میں عدالت سے واضح طور پر استدعا کی گئی کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو **’’زیرِ التوا‘‘** رکھنے کا اعلان نہ تو سندھ طاس معاہدے کو ختم کرتا ہے اور نہ ہی اس معاہدے کے تحت قائم قانونی طریقہ کار اور جاری کارروائیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
فروری 2026 میں دی ہیگ میں ہونے والی اہم سماعت میں منصور عثمان اعوان نے **پاکستان کے قانونی نمائندے اور اٹارنی جنرل آف پاکستان** کی حیثیت سے **پاکستان کی قانونی ٹیم** کی قیادت کرتے ہوئے ملک کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان نے بالخصوص دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے زیرِ تعمیر آبی بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن کو سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود کے اندر رکھنے کے لیے اپنا قانونی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔
اب **ثالثی عدالت کے 31 اگست 2026 کے فیصلے** نے اس بنیادی مؤقف کی توثیق کر دی ہے کہ **سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔** عدالت نے رَتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق بعض تعمیراتی اقدامات پر بھی عبوری پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس اصول کی بھی اہم توثیق ہے کہ **بین الاقوامی معاہدوں سے کوئی ریاست محض یکطرفہ اعلان کے ذریعے دستبردار نہیں ہو سکتی۔**
**پاکستان کے قومی مفادات اور آبی حقوق کے دفاع میں ایک اہم قانونی پیش رفت — جہاں دلیل، بین الاقوامی قانون اور مسلسل قانونی پیروی نے پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔**
تحریر - محمد عثمان اعوان